نظام اور عقیدے کا باہمی تعلق: اسلام

اور

سرمایہ داریت

تحریر : محمد ابوبکر صدیق

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ابتداء میں یہ دو باتیں ذہن نشین رہیں

۔1۔ اسلام ایک پورا الگ نظام حیات ہے اور کامل و اکمل ہے۔

 ۔ 2۔ کیپیٹل ازم ایک الگ نظام حیات ہے

ہم اس وقت تقریبا ساری دنیا کے مسلمان ایسے نظام پر ہیں جس میں اسلام کم اور کیپیٹل ازم زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے رویوں میں سرمایہ داریت کا رویہ زیادہ اور اسلامی رویہ بہت کم ہے۔ یوں کہئے ہمارے رویوں میں بھی سرمایہ داریت اور اسلام اسی تناسب میں ہیں جس تناسب سے یہ دونوں اس وقت مخلوط نظام میں ہیں۔ یاد رکھیں ۔۔۔ کسی بھی نظام کے دو پہلو ہوتے ہیں اور ان کا آپس میں انتہائی گہرا تعلق اور ایک دوسرے پر گہرا اثر ہوتا ہے

۔1۔عقیدہ : کسی بھی نظام کی یہ پہلی بنیاد ہے۔ اس میں یہ ذہن سازی ہوتی ہے۔ انسان کیا ہے ؟ کیوں یے؟ اسے کس نے پیدا کیا؟ کسی اور نے پیدا کیا یا انسان خود ہی خالق ہے؟ اس زمین و کائنات میں اس کی حیثیت کیا ہے؟ اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟ وغیرہ

۔2۔ عمل: کسی بھی نظام کی یہ دوسری بنیاد ہے۔ اس میں قانون اور احکام ہوتے ہیں۔ حیات کیسے گزارنی ہے۔ فلاں کام کا قانون، طریقہ کیا ہوگا۔ فلاں کام کب ، کیسے کیا جائے گا وغیرہ

عقیدہ کیوں ضروری ہے ؟؟؟؟

نظام معاشروں کو منظم کرنے اور منظم رکھنے کے لئے دیا جاتا ہے۔ تاکہ معاشرہ منظم رہے اور فساد کا شکار نہ ہو۔ انسان کے عقیدے کا اس کے عمل پر گہرا اثر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مکی زندگی کے 10 سال تک قرآن کا نزول صرف لوگوں کی عقائد کی درستگی پر اترتا رہا۔ نماز روزہ حج زکواة اور دیگر احکام شریعت وغیرہ کے عملی اقدامات مکی زندگی میں نہیں دئے جب تک کہ ان کے عقائد ٹھیک نہیں کردئے۔ کیونکہ عقیدے کے بغیر احکام پر عمل ممکن ہی نہیں تھا اور حکمت کے خلاف تھا۔ کسی حکم کی حقانیت کا عقیدہ ہی نہ ہو تو انسان وہ کیوں کرے گا اور اگر کرے گا تو کس بے دلی سے کرے گا یہ واضح۔

لہذا ہر نظام کے پیچھے کچھ ایسے بنیادی عقائد ہوتے ہیں جنہیں ان سے الگ کردیا جائے تو وہ نظام اپنی اصل پر باقی نہیں رہ سکتا۔ جیسے تصور توحید یا تصور ختم نبوت کے بغیر اسلام کا کوئی وجود نہیں۔ اسلام وہی ہے جو توحید، رسالت، ملائکہ، آسمانی کتب، حیات بعد الموت، آخرت اور اللہ کی تقدیر جیسے بنیادی کا عقائد کا مجموعہ ہے۔

کیا نظم اور امن کا یہ قیام از خود مقصود حیات ہے؟

اسلامی پیراڈائیم میں تو اس کا جواب نہیں میں ہے۔ اسلامی تناظر میں یہ نظم اور امن در اصل انسانی تخلیق کے بنیادی مقصد کی تکمیل کا ذریعہ قرار پاتے ہیں۔ اور وہ یہ ہے کہ انسان آزادی اور اختیار سے اپنے کریم رب کی بندگی کرے اور اپنے معاشرے پر اللہ کے احکامات کا نفاذ کرے تاکہ مرنے کے بعد وہ اپنے رب کے سامنے سرخرو ہوجائے ۔ اگر ناکام ہوا تو آخرت میں جوابدہی کا سامنا ہوگا۔ یہ آخرت میں جوابدہی کا عقیدہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ کیونکہ انسانی رویوں اور اعمال پر اس کا بہت ہی گہرا اثر ہے۔
ایک انسان وہ ہے جس کا حیات بعد موت اور آخرت کا سرے سے ایمان ہی نہیں ہے۔ اس کا عقیدہ ہی یہ ہے کہ بس یہی زندگی ہے جو کرنا ہے کر لو۔ تو سوچئے اس کا عمل کس حد تک اور کتنا خطرناک ہوسکتا ہے۔

ایک انسان وہ ہے جو اخروی زندگی پر یقین تو رکھتا ہے لیکن عقیدہ ہی یہ ہے کہ میرے سارے گناہ عیسی علیہ السلام اپنے کندھوں پر اٹھا کر لے گئے۔ یا ہم تو اللہ کے بڑے چہیتے ہیں اور جنت ہماری ہے۔ تو وہاں آخرت میں جوابدہی کی اہمیت ختم ہوکر رہ جاتی ہے۔ اس لئے اس دنیا میں رہتے ہوئے اس کے اعمال انتہائی مفسدانہ، ظالمانہ اور راہ اعتدال سے ہٹے ہونگے۔ کیونکہ اسے تو آخرت کا خوف ہی نہیں۔

جبکہ اسلامی پیراڈائم میں ایسا نہیں ہے۔ وہاں جوابدہی کا خوف ہے حتی کہ اس کے ماننے والے عشرہ مبشرہ ہوکر بھی آخرت میں جوابدہی کا خیال آنے پر خوف سے بے ہوش جایا کرتے تھے۔ خلیفہ کو اسی احساس جوابدہی کی وجہ سے رات کو بستر پر سکون نہیں آتا تھا وہ رات کو اٹھ کر شہر میں گشت کرتا اور لوگوں کی حاجات کا پتہ لگاتا تھا۔
۔ جن کے بعد جاکر وہ عملی احکامات دیتا ہے اور اس کے لئے عملی اقدامات بھی مہیا کرتا ہے۔
یہ واضح ہوجانے کے بعد کہ عقیدہ کی کیا اہمیت ہے اور انسانی عمل پر اس کا کتنا گہرا اثر ہے۔اب آتے ہیں اس سوال کی جانب کہ کیپیٹل ازم میں عقیدہ اور عمل کا کیا تصور ہے؟

کوئی بھی نظام خود بخود پیدا نہیں ہوتا بلکہ اسے وضع کیا جاتا ہے۔ جیسے اسلام کا نظام اللہ کا پیدا کردہ ہے۔ بالکل اسی طرح کیپیٹل ازم بھی کسی کا پیدا کردہ نظام ہے۔ یہ کہنا خام خیالی ہے کہ یہ ایک فطری نظام ہے۔ یہ خود فریبی کے سوا کچھ بھی نہیں۔
کسی بھی معاشرے پر کسی بھی نظام کو نافذ کرنے سے پہلے اس معاشرے کو تیار کیا جاتا ہے ۔ ذہن سازی کی جاتی ہے۔ وہ ذہن سازی عقیدے کی ترویج کی صورت میں ہوتی ہے ۔ لوگ جب اس نظام کے موافق عقیدے کو قبول کرلیں گے تو نظام بھی نافذ ہوجائے گا۔ ورنہ نہیں ہوگا۔ جیسا کہ اسلام میں سب سے پہلے عقائد پر توجہ دی گئی بعد میں نظام دیا گیا۔ کیپیٹل ازم بھی ایک نظام ہے۔ لیکن اس نظام کے نفاذ سے پہلے ذہن سازی ہوئی ہے۔ لوگوں کو فکری بنیادوں پر تیار کیا گیا۔ ان کے عقائد بدلے گئے نئے عقائد قبول کروائے گئے۔ اور یہ کام زبردستی نہین ہوا۔ بلکہ لگاتار تحریکی کوششوں سے ہوا۔

کیپیٹل ازم کی بنیاد کس نے رکھی ؟

کیپیٹل ازم ” مین میڈ سسٹم” ہے۔ جو ایک دن میں نہیں بنا، کسی ایک انسان نے نہیں بنایا، کسی ایک ملک میں نہیں بنا۔ بلکہ مختلف جغرافیے کے ہم خیال انسانوں نے ترتیب دیا وہ انسان جو پہلے کسی عقیدے پر متفق ہوئے اور یہ اتفاق ان کی تحریروں سے جھلکتا ہے۔ لہذا اس نظام کی بنیاد میں مغرب کے فلسفیوں اور مفکروں کی تحریریں اور تبلیغ ہے۔
کیپیٹل ازم کے بنیادی عقائد کی ترویج کے تین زمانے ہیں پہلا زمانہ : پندرہویں اور سولویں صدی۔  دوسرا زمانہ:  سترہویں اور اٹھارویں صدی۔ تیسرا زمانہ : انیسویں صدی

پہلا زمانہ
پندرہویں اور سولہویں صدی کے مغربی مفکرین نے باقاعدہ طور پر مذہب کے خلاف لکھنے، بولنے پر سارا زور لگایا۔ یہ انہی کی فکر کا اثر تھا کہ عیسائیت کی دنیا کے پادری یعنی مذہبی آدمی مارٹن لوتھر (10 نومبر 1483 – 18 فروری 1546)کو مذہب کے خلاف لا کر کھڑا دیا۔ اس نے کیتھولک کو شیطان قرار دیا۔ چونکہ مذہبی بندہ تھا اس لئے مذہب سے انکار تو نہ کیا اور مذہب کے ساتھ برائے نام جڑے رہنے کا تصور دیا اور ایک نئے عیسائی فرقے پروٹسٹنٹ کی بنیاد رکھی۔ مغرب میں تحریک کی سطح پر مذہب کے خلاف یہ پہلی منظم تحریک تھی جو کامیاب ہوئی۔ مغربی معاشرے کا مذہب کے خلاف بغاوت کا یہ پہلا قدم تھا جو مارٹن لوتھر نے اٹھایا اگرچہ دوسرا قدم مذہب میں ہی رکھا لیکن معاشرے کو مذہب کے خلاف اٹھنے کی جستجو دے دی۔ اس بغاوت میں مارٹن لوتھر کے ساتھ سب سے زیادہ نوجوان تھے۔ جن پر مذہب کی گرفت پہلے کی نسبت کم ہوگئی۔ مارٹن لوتھر سمجھ رہا تھا کہ شاید اس نے درست مذہبی فکر کی بنیاد رکھی ہے حالانکہ لاعلمی میں وہ اپنے بعد آنے والے الحادی مفکرین کے لئے راستہ ہموار کرگیا تھا اور لوگوں کے ذہن تیار کر گیا تھا کہ اگر کوئی اور نئی فکر اٹھے تو اسے قبول کرلینا۔

دوسرا زمانہ

 سترہوین صدی میں اہم نام ’ڈیکارٹ (1556-1650)‘ کا آتا ہے۔ مغرب کے ذہن کو مسخ کرنے کی ذمہ داری جتنی اس پر ہے شاید اتنی کسی ایک فرد پر نہیں۔ فرانس کے ایک رومن کیتھلک مصنف نے تو یہاں تک کہا ہے کہ فرانس نے خدا کے خلاف جو سب سے بڑا گناہ کیا ہے وہ یہ ہے کہ ڈیکارٹ کو پیدا کیا۔ ڈیکارٹ کا سب سے بدترین جرم یہ تھا کہ مغرب کی دنیا میں ’روح اور روحانیت‘‘ کی اہمیت کو ہی ختم کردیا۔ اس نے انسان کی نفس کو روح قرار دیا گویا انسان کا جسم روح یعنی نفس کا خادم ہے ‘ کا تصور دیا۔
اس کے بعد نیوٹن (1642-1727) سائنس میں اس کا سب سے بڑا کارنامہ ’’کششِ ثقل کے قانون‘‘ کی دریافت ہے۔ لیکن مغربی ذہن پر اس کا اثر بہت گہرا پڑا ہے۔ یہ قانون معلوم کر کے اس نے گویا یہ دکھا دیا کہ کائنات کا نظام چند واضح قوانین کے ذریعے چل رہا ہے۔ اگر انسان اپنی عقل [جزوی] کی مدد سے یہ قوانین دریافت کر لے تو کائنات اور فطرت پر پورا قابو حاصل کرسکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ اس طرح دیگر فلسفی بھی آئے اور مغربی ذہن کو مذہب سے آہستہ آہستہ دور کرتے چلے گئے۔

اٹھارہویں صدی میں جان لاک (1632- 1704ء), روسو (1712ء – 1778ء), ایڈم سمتھ،(1723ء – 1790ء), امانوئل کانٹ (1714ء – 1804ء), اور ڈیوڈ ریکارڈو (1772-1823) یہ وہ مفکر ہیں جنہوں نے مغرب میں انسانی زندگی سے مذہب کا کردار نکالنے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہی وہ صدی ہے جس میں مغرب کا معاشرہ مذہب بیزار اور مذہب آزاد ہوچکا تھا۔ اور یہی وہ صدی ہے جس میں  ہیومنزم کا تصور اپنے جوبن پر ابھر کر نکلا۔ اس نظرئے نے تین عقائد پیش کئے۔

اول: ’’ کانٹ‘‘ نے  کہہ کر یہ تصور دیا کہ ’’ انسان اٹانومس ہے یعنی اپنا خدا خود ہے‘‘ وہ اپنی مرضی میں کسی بھی دوسری طاقت کا پابند نہیں ہے۔ وہ کسی کے سامنے جوابدہ نہیں۔
Absolute Freedomدوم: انسان اپنے معاملات میں ’’مطلق آزاد ہے ‘‘  کا تصور یعنی میں جو چاہوں میں مکمل آزاد ہوں۔
تیسرا:  اچھائی اور برائی یعنی خیر و شر کا فیصلہ ہر انسان خود کرنے میں آزاد ہے۔ اسے جو پسند ہو وہ اس کے لئے خیر ہے اور اسے جو برا لگے اس کے لئے وہ شر ہے۔
(ابھی ہم اس بحث میں نہیں جارہے کہ اسلامی نقطہ نظر سے یہ کتنے گمراہ کن عقائد ہیں)
معاشرے کے عام افراد تو اس مکمل بااختیاری پر تو بہت خوش ہوئے لیکن انہیں یہ پتہ نہیں تھا کہ اس خوش نما نظریے کو قبول کرنے کے بعد جو ان کے ساتھ ہونے والا ہے وہ کتنا بھیانک اور خطرناک ہے۔
اس کے علاوہ اسی صدی میں مذہب سے آزاد ’’ ریاست ‘‘ کا مغربی تصور ابھرا۔ ہمارے ہاں جس کی تبلیغ غامدی صاحب کرتے ہیں کہ ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ نیز ریاست ایسی ہوگی جو ہیومن رائٹس کو تحفظ دے گی۔ ہیومن رائٹس کیا ہیں اس کا اجمال اور مختصر بیان اوپر کے تین نکات ہیں۔

انہی صدیوں میں مغربی دنیا میں ہونے والی ایجادات نے بھی مذہب کا کردار ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ابھی انیسویں صدی اس لحاظ سے بہت اہم ہے ۔ کیپیٹل ازم کے نظام کی ۔ترویج میں یہ بحث بہت ضروری ہے۔ جیسے اسلام کی تکمیل میں مکی دور اہم ہے۔ ( ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری صاحب اور ڈاکٹر زاہد صدیق مغل صاحب کی کتب سے بھی استفادہ کیا گیا ہے )

اٹھارہویں صدی میں ایڈم سمتھ،(1723ء – 1790ء) نے  ‘دولتِ اقوام’  کے نام سے مشہور کتاب لکھی جو 1776 میں چھپی تھی۔ یہ وہ پہلی کتاب تھی جس نے مغرب میں اکنامکس کو بطور  مضمون  متعارف کرایا۔جب بھی کوئی انسان کتاب لکھتا ہے تو وہ کتاب اس کی فکر و نظریے کی عکاس ہوتی ہے۔ آدم سمتھ چونکہ نظریاتی طور پر جان لاک سے زیادہ متاثر تھا۔ ایڈم سمتھ اگرچہ مذہب سے کچھ نہ کچھ جڑا ہوا تھا لیکن اس نے اکنامکس کے پودے کی آبیاری میں مذہب کے چشمے کو ہی بند کردیا۔ صاف ظاہر ہے جب وہ پودا درخت بنا اس کی شاخیں بنیں اور پھل دئے تو اس میں لادینیت و الحاد کا ذائقہ ہی پیدا ہونا تھا۔ اکنامکس کی پہلی کتاب یعنی بائبل آف اکنامکس جو مذہب بریدہ تھی تو آگے پوری تبلیغ معاشیات میں الحادی فکر پروموٹ ہوئی۔ مغرب کا معاشرہ جو پہلے ہی الحاد کی زد میں تھا۔ اکنامکس کے نئے علمی تصور نے الحادی آگ کو مزید ہوا دی اور یوں کیپیٹل ازم نے مذہب کو متبادل بیانیے کے طور پر ری پلیس کیا۔

مذہب کا کام ہوتا ہے کہ وہ انسان کو مقصد دے اور اس مقصد کے حصول کے طریقے بتائے۔ کیپیٹل ازم نے یہ کام کچھ یوں کیا کہ عقیدے اور معاشی مفروضوں کو اس انداز میں سمو دیا کہ عام ذہن کے لئے اندازہ لگانا مشکل ہے کہ وہ انہیں معاشی مفروضہ سمجھے یا عقیدہ گردانے۔
۔1۔معاشی فیصلوں میں مذہب کا کوئی کردار نہیں۔( اور یہ کام انہوں عملا کیا۔ یعنی تحریروں میں مذہب یا اس کے کسی بھی اخلاقی اصول کو اہمیت دیتے ہوئے جگہ ہی نہیں دی لیکن بظاہر انکار بھی نہیں کیا تاکہ اہل مذہب کی مخالفت سے بچا جاسکے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ معیشت سے مذہب کا کردار ہی نکل گیا )۔

Self interest is preferred۔2۔ اکنامک ایجنٹ ( پروڈیوسر ، کنزیومر اور حکومت) خود غرض ہیں۔  یعنی سب سے پہلے میں اور صرف میں۔

profit maximization۔3۔ زیادہ سے منافع، مفادات، افادہ (یوٹیلیٹی ) کا حصول مقصد (حیات) ہے۔
لیکن منافع کمانے کا یہ تصور جب پہلے دو مفروضوں کے تناظر میں دیکھیں گے تو بہت ہی بھیانک ہوجاتا ہے۔ یعنی پھر جملہ یوں بن جاتا ہے۔
Profit maximization at any costاردو میں اسکا مطلب ہے “” کوئی جئے یا مرے میرے دو روپے کھرے””۔
یہ ہیں وہ تین بنیادی مفروضے جن پر پوری معاشیات کی عمارت کھڑی کی گئی تھی۔ صاف ظاہر ہے کسی بھی معاشی نظام کو نافذ کرنے کے لئے معاشرے میں قوت و طاقت چاھیے۔ لہذا یہاں سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ اس ابلیسی  نظام کا نفاذ کیسے ہوگا؟

اس کے لئے جمہوریت کا نظام سب سے بہتر موافق نظام تھا۔ کیونکہ جمہوریت کا نظام بھی مذہب بریدہ تھا۔ ایسا نظام تھا جس پر سرمایہ دار افراد کا پہلے ہی راج تھا۔ جدید معاشیات دولت دوگنی چوگنی کرنے کا ذریعہ تھی تو جمہوریت اسی دولت کو حکمرانی کے منصب پر بٹھانے کا نظام تھا۔ گویا “” تو مجھے قبول میں تجھے قبول اس بات کا گواہ سرمایہ دار”” والا کام ہوا۔جمہوریت و معیشت کا یہ ملاپ بتدریج ” من و تو ” سے نکل کر ” من تو شدم، تو من شدی” تک پہنچ گیا۔فرق ہی ختم ہوگیا۔ بات یہاں تک آپہنچی کہ جمہوریت کے بغیر کیپیٹل ازم نہیں چل سکتا اور کیپیٹل ازم کے بغیر جمہوریت ناکام ہے۔ اس بیانیے نے اٹھارویں اور انیسویں صدی تک پورے مغرب و یورپ کے بیشتر حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ہیومن رائٹس اور این جی اوزجیسی دوسری جونکیں بعد میں ایجاد ہوئیں۔

 

تاہم اس سارے ابلیسی بیانیے کے سامنے اگر کوئی طاقت بند باندھے کھڑی تھی تو وہ تھی “ترک عثمانی خلافت” جو آدھی سے زیادہ دنیا پر اسلامی بیانیے کو قائم کئے کھڑی تھی۔ کیونکہ ہندوستان تو پہلے ہی ابلیسی قید میں آچکا تھا۔ غدار کیسے پیدا کئے گئے؟ کن انعامات سے نوازا گیا؟ کن مقاصد کے لئے گورے برطانیہ سے سات سمندر پار یہاں آ دھمکے وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ وہ سب مقاصد اوپر بیان ہوچکے۔

ترک خلافت کے خلاف سازشیں اگرچہ پہلے سے تھیں لیکن ایک دم سے کفر کا اتفاق امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس سب خلافت عثمانیہ کے خلاف متحد ہوگئے اور ان سب کی سازشوں کا 30 سال تک جس شخص نے اپنی اعلی ذہانت سے مقابلہ کیا وہ سلطان عبدالحمید ثانی تھا۔ 

بالآخر اندرونی غداروں نے ہی اس عظیم خلافت کے خون سے اپنے ہاتھ رنگے۔ ان ساری چالوں میں جو چال مغربی ابلیس نے چلی وہ تھی “” جمہوریت کا مطالبہ “”۔ بے وقوف نوجوانوں کو یہ کہہ کر خلافت کے خلاف اٹھایا کہ کیا حکومت صرف ایک ہی خاندان کا حق ہے؟؟؟ عام بندہ کیوں نہیں حکمران بن سکتا؟ یہ جمہوریت ہے جو عام بندے کو بھی یہ موقع اور آزادی دیتی ہے کہ وہ حاکم بنے۔ بظاہر یہ نعرہ تو دلفریب تھا۔ نائی،موچی اور میراثی کا بھی دل للچایا کہ ہاں یہ جمہوریت تو واقعی نعمت ہے۔ بس پھر کیا تھا تحریک زور پکڑ گئی ۔ خلیفہ عبدالحمید ثانی نے مجبورا پارلیمنٹ بنائی جس میں ووٹ کے ذریعے پارلیمنٹ تک وہ پہنچے جو سرمایہ دار تھے۔ ایک بھی غریب یا عام بندہ نہیں تھا۔ دشمن کو تو صرف پاوں رکھنے کی جگہ چاھئے تھی۔ پھر اسی پارلیمنٹ نے عثمانی خلافت کا خاتمہ کیا اور یوں آدھی دنیا پر حکومت کرنے والے ترک نادانوں نے ایک اسلامی قومی سلطنت کو 50 قومی مملکتوں میں تقسیم کروادیا۔ حکمرانی کا خواب دیکھ کر خلافت کے خلاف اٹھے بے وقوفوں کو بعد میں پتہ چلا کہ ان کے ہاتھ تو آیا ہی کچھ نہیں ۔ جیسے وہ پہلے محکوم تھے اب بھی محکوم ہیں۔ بلکہ پہلے اسلامی شعائر میں بھی آزاد تھے۔ اب تو کمال اتاترک نے نماز قرآن پر بھی پابندی لگادی۔ مگر اب وقت نکل چکا تھا۔ پچھتاوا کرتا بھی تو کیا۔ ہندوستان میں بیٹھے قلندر نے آہ بھری اور بول اٹھا

قافلے دیکھ اور اُن کی برق رفتاری بھی دیکھ
رہروِ درماندہ کی منزل سے بیزاری بھی دیکھ
دیکھ کر تجھ کو اُفُق پر ہم لُٹاتے تھے گُہر
اے تہی ساغر! ہماری آج ناداری بھی دیکھ
چاک کر دی تُرکِ ناداں نے خلافت کی قبا
سادگی مسلم کی دیکھ، اَوروں کی عیّاری بھی دیکھ

 

یہ مضمون ابھی جاری ہے

…………………………………………………

نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں اور سبسکرائب کریں ۔

اسلامی معلومات ، روایتی معاشیات ، اسلامی معاشیات اور اسلامی بینکاری سے متعلق یو ٹیوب چینل
https://www.youtube.com/user/wasifkhansb?sub_confirmation=1

سرمایہ داریت کا بنیادی فلسفہ کیا ہے؟

تحریر : محمد ابوبکر صدیق

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیپیٹل ازم ایک ایسا کھیل ہے جس میں فرد کو اس کی خواہشات کے پیچھے دوڑایا جاتا ہے جبکہ اس کی دوڑ کا سارا  بڑا ثمر سرمایہ دار لے جاتا ہے اور فرد کے ہاتھ صرف اس قدرآتا ہے کہ جس کو استعمال میں لا کر وہ دوبارہ اس دوڑ میں شامل ہوسکےاور یہ سلسلہ نسل در نسل چلتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امیر کی دولت بڑھتی رہتی ہے اور غریب نسل در نسل غربت کی دلدل میں دھنستا رہتا ہے۔  

مائیکرو اکنامکس، میکرو اکنامکس ،مانیٹری وغیرہ یہ سب بعد کی باتیں ہیں۔ سرمایہ داریت کے نظام کے پیچھے پہلے نظریاتی اور فکری اور فلسفیانہ بحث ہے جس میں 5 اہم سوالات ہیں۔ سرمایہ داریت والے ان 5 سوالوں کے جواب دیں۔ ۔۔۔۔ تاہم سرمایہ داریت کی روشنی میں ہم اپنے جوابات دئے دیتے ہیں۔

۔1۔کنزیومر کیا خریدے یعنی ڈیمانڈ کیا ہے؟؟؟ یہ اسے کون بتائے گا؟ یعنی ڈیمانڈ کا تعین کون کرے گا؟

جواب : انسان کی ضرورت

۔2۔ فلاں چیز بندے کی ضرورت ہے ۔ یہ اسے کون بتائے گا ؟؟؟

جواب: اس کی عقل

۔3۔ عقل میں یہ بات کون ڈالے گا کہ فلاں چیز اس کی ضرورت ہے؟؟

جواب: اس کا نفس یعنی خواہش

۔4۔ یہ فیصلہ کون کرے گا کہ فلاں خواہش جائز ہے یا ناجائز ، حلال ہے یا حرام ؟؟؟؟

اس سوال کا جواب ایک اور اہم سوال کے جواب میں پوشیدہ ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ

۔5۔ خیر و شر کا تعین کون کرے گا ؟؟؟؟ انسانی عقل (خواہش نفس) یا خدا ؟؟؟

جواب: کیپیٹل ازم میں اس کا جواب سوائے اس کے کچھ نہیں کہ انسانی عقل خود ہی فیصلہ کرے گی کہ اس کے لئے کیا خیر ہے اور کیا شر ، کیا اچھا ہے اور کیا برا۔ لہذا انسانی عقل خواہش نفس کی روشنی میں فیصلہ کرے گی کہ فلاں چیز اس کے لئے خیر ہے۔ اس لئے وہ اس کی ڈیمانڈ کرے گا۔ اور وہ اس کے لئے قانونا جائز ہوگی۔ اس بارے میں خدائی مذہب کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

گویا کیپیٹل ازم میں “”انسان اپنی خواہشات کا بندہ ہے””۔ اسلام یہیں سے کیپیٹل ازم سے الگ ہوجاتا ہے۔ کیونکہ اسلام کے پیراڈائیم میں خیر و شر کا حتمی تعین اللہ تعالی کرتا ہے۔ انسانی خواہش کے حلال و حرام کا فیصلہ خدا کرتا ہے۔ نیز جائز خواہشات میں بھی اسلام خواہشات نفس کی مخالفت کی ترغیب دیتا ہے۔ جبکہ اسلام میں انسان خدائی احکام کا پابند ہے۔اب آگے کی ساری اکنامکس کی بحث اس کے بعد شروع ہوتی ہے۔

what to produce ? How much to produce ?

کیپیٹل ازم کے حامی سمجھتے اکنامکس شروع ہی ان سوالوں سے ہوتی ہے بھائی اس سے پہلے والے اوپر کے سوالات جوابات متعین کرتے ہیں کہ معاشیات کیسے چلے گی۔

دنیا کا جو ملک بھی اٹھا لیں خاص طور پر سرمایہ دار ممالک

۔1۔ وہاں انسان کو سیکس سیٹیسفیکشن کے لئے سیکس ٹولز کی خواہش ہوئی تو سیکس ٹولز خیر اور اچھے قرار پائے لہذا ڈیمانڈ پیدا ہوئی۔ ڈیمانڈ پوری کرنے کے لئے سپلائی فورس حرکت میں آئی اور سیکس ٹولز کی باقاعدہ انڈسٹری قائم ہوئی جس کو قانونی جواز بھی مل گیا۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ہے کیپیٹل ازم

۔2۔ وہاں شراب، پورک کی ڈیمانڈ ہوئی۔ سپلائی فورس نے وائن اور پورک انڈسٹری قائم کردی ۔۔۔۔۔۔۔ یہ ہے کیپیٹل ازم

۔3۔ ہوموسیکس یعنی لواطت یعنی ہم جنس پرستی کی خواہش لوگوں کو ہوئی تو اسے قانونی جواز دے دیا گیا۔ بلکہ اب تو اقوام متحدہ کا ادارہ تمام ممالک سے اسے جواز دینے کا مطالبہ بھی کر رہا ہے۔ کیونکہ یہ انسان کی آزادی اور حق کی بات۔ یہ ہیومنزم کا تصور ہے جو کیپیٹل ازم کی چھتری تلے پروان چڑھا

۔4۔ کیپیٹل ازم ہی ہے جو اخلاقی سطح کی ہر گندی حرکت اور ہر حرام چیز کو پروڈکٹ قرار دیتا ہے پرائس مقرر کرتا ہے اور مارکیٹ تک لاتا ہے۔ کیونکہ اس سب کے پیچھے “”خواہش نفس””” کا حکم کھڑا ہے۔

ہر انسان اپنی خواہش میں آزاد ہے یہ بنیاد ہے اس نظام کی۔

اکنامکس کی کتابوں میں شراب، پورک برگر جیسی مثالیں عام ہیں۔ حالانکہ عیسائیت یہودیت جیسے مذاہب میں بھی یہ سب اشیاء حرام ہیں۔ اس کے باوجود کیپیٹل ازم میں یہ سب ہورہا ہے۔ کیوں ؟؟؟؟

کیونکہ کیپیٹل ازم میں مذہب کو مداخلت کی اجازت ہی نہیں۔ کیپیٹل ازم کہتا ہے مذہب کون ہوتا ہے یہ فیصلہ کرنے والا کہ میں کیا کروں اور کیا نہ کروں ۔ یہ فیصلہ فرد خود کرے گا۔ کیپیٹل ازم کی سلطنت کے تین بنیادی ستون ہیں

۔1۔ لبرل ازم یعنی مذہب کا کوئی کردار نہیں۔

۔2۔ ہیومنزم یعنی انسان اپنے اچھے برے کا فیصلہ خود کرسکتا ہے۔ خدائی احکام کی ضرورت نہیں۔

۔3۔ جمہوریت

ان تین ستونوں کے بغیر کوئی بھی قوم کیپیٹل ازم پر چلے گی تو اس کے ثمرات حاصل نہیں کر پائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی ممالک اس نظام کو اپنا کر ناکام ہیں کیونکہ یہ نظام اسلامی بنیادی عقائد کے ہی خلاف ہے۔ مسلمان بھی رہوں اور سود بھی کھاوں کیسے ممکن ہے ؟ مسلمان بھی رہوں مگر حکم اپنی خواہش نفس کا مانوں یہ کیسے ہوسکتا ہے؟؟

اگر کسی کو اختلاف ہے تو بھائی آپ اپنے تصوراتی کیپیٹل ازم کی روشنی میں اوپر کے 5 سوالوں کے جواب اپنے ذہنوں میں سوچیں اور ان پر غور کریں۔ جس نظام کے خواب آپ دیکھ رہے وہ یا تو کیپیٹل ازم ہی نہیں یا پھر آپ کو پتہ ہی نہیں کہ کیپیٹل ازم کیا ہے۔ مائیکرو، میکرو، مانیٹری ، آجانے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کیپیٹل ازم سمجھ گئے۔ کیپیٹل ازم کے لئے فادر آف اکنامکس ایڈم سمتھ، ڈیوڈ ریکارڈو اور ان کے روحانی باپ جان لاک کو پڑھئے کہ اس نظام معیشت کے قائم کرنے کے پیچھے کیا عقائد تھے۔ پھر اس کے بعد کیونکہ سرمایہ داریت متعارف کرانے سے پہلے معاشرے کو فکری طور پر تیار کیا گیا۔ اس لئے پہلے اس فکر کو سمجھیں۔ کیپیٹل ازم یہی ہی ہے ۔۔۔ باقی جس میں آپ ہیں وہ دھوکہ ہے۔

 

…………………………………………………

نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں اور سبسکرائب کریں ۔

اسلامی معلومات ، روایتی معاشیات ، اسلامی معاشیات اور اسلامی بینکاری سے متعلق یو ٹیوب چینل
https://www.youtube.com/user/wasifkhansb?sub_confirmation=1

 انسانی رویوں پر سرمایہ دارانہ نظام کے اثرات

Behavioral Impact of Capitalism

تحریر : محمد ابوبکر صدیق

…………………………………….

پندرھویں اور سولہویں صدی سرمایہ دارانہ نظام کی فکری ترویج کی صدیاں کہلاتی ہیں ۔ اس زمانے میں مغربی مفکرین  کا سارا زور اپنے معاشرے کو مذہب سے آزاد کرنے میں صرف ہوا۔ سترہویں صدی میں مغرب نے مارٹن لوتھر کی قیادت میں چرچ سے آزادی حاصل کی۔ بظاہر تو وہ بھی مذہب کا نمائندہ رہا اور پروٹسٹنٹ عیسائیت کی بنیاد رکھی۔ لیکن مغربی معاشرے کو لادینیت کی طرف دھکیلنے کا بنیادی کردار اسی کا ہے۔ کیونکہ چرچ کے خلاف بغاوت کا پہلا قدم اٹھانے کی ہمت اس نے پیدا کی اور لادینیت کی جانب ایک اور قدم بڑھانے میں اس معاشرے کو کوئی جھجھک نہیں ہوئی۔ رہی سہی کسر دہریت کے علم بردار مفکرین نے پوری کر دی۔ ان دو صدیوں میں جو فکر پروان چڑھی اس میں اہم نکات یہ ہیں۔

۔1۔ مذہب کو ہماری زندگیوں میں مداخلت کی اجازت نہیں۔

۔2۔ اپنے فیصلوں میں انسان مطلق آزاد ہے۔

۔3۔ انسان اپنی خواہش میں آزاد ہے۔ وہ جو چاھنا چاھے اس میں وہ خود مختار ہے۔ اور اس چاہ کو پورا کرنا اس کا حق ہے۔

۔4۔ خیر و شر کے فیصلے کا اختیار انسان کو ہے۔

۔5۔ انسان مطلق آزاد ہے۔

یہ وہ نظریات تھے جنہوں نے مغربی معاشرے کو الحاد کی گہرائی میں دھکیل دیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ’’ خدا مرا چکا ہے‘‘ نظریات مقبول ہوئے۔ بالآخر انسان کو ’’ ہیومن بی ئنگ ‘‘ کے منصب پر براجمان کردیا گیا۔ یعنی انسان اپنے ہونے میں کسی کا محتاج نہیں ہے۔ وہ اپنا خدا خود ہے۔ وہ تمام امور کے فیصلے خود کرتا ہے۔ وہ جو چاہے کرے یعنی ہر چاہت کے چاھنے کا حق اسی کا ہے۔ بقول ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری صاحب ان دونوں نظاموں کا کلمہ ایک ہے : لا الہ الا الانسان۔ یہی وجہ تھی کہ ان نظریات کے اثرات اس معاشرے میں وجود میں آنے والے ہر نظام سیاسی ، معاشی ، معاشرتی سطح پر کافی شدت سے مرتب ہوئے۔ حقوق کی بات آئی تو ہیومن رائٹس کا تصور ابھرا ۔ انسان چونکہ اپنی خواہشات میں آزاد ہے۔ اس لئے جو وہ چاہے اسے ملنا لازمی ہے۔چنانچہ مغربی ممالک نے پارلیمنٹ میں ہیومن رائٹس کی مد میں جو قوانین بنائے ان میں سے 3 یہ ہیں ورنہ فہرست طویل ہے۔

۔ جس انسان کی خواہش ہو کہ وہ ہم جنس کے ساتھ شہوانی خواہش پوری کرے یہ اس کا بنیادی حق ہے۔

۔ انسان اگر اپنی شہوانی خواہش کو شہوانی کھلونوں (سیکس ٹول) سے پورا کرنا چاھتا ہے تو یہ اس کا حق ہے۔

۔ مرد و عورت اپنی شہوانی جذبات کی تسکین کے لئے بغیر نکاح یا شادی کے ایک دوسرے سے تعلق استوار کرنے کا حق رکھتے ہیں۔

۔ اسقاط حمل ہر عورت کا حق ہے۔ یہ اس کی مرضی ہے چاہے تو وہ بچہ جنے چاہے تو نہ جنے۔ حتی کہ اسے یہ بھی حق حاصل ہے کہ اپنے پیٹ میں موجود بچے کو کسی بھی سٹیج پر قتل کرنا چاھے تو کردے۔

اٹھارویں صدی میں ایڈم سمتھ آتا ہے اور سرمایہ دارانہ معاشیات کا باقاعدہ تولد ہوتا ہے۔ اکنامکس کی ام الکتاب ” قومی دولت ” ویلتھ آف نیشن تحریر کرتا ہے۔ اس کے بعد علم معاشیات کے مختلف مفکرین آئے۔یہ  سارے معاشی مفکرین کلاسیکل ہوں یا کینیزین یا ان کی گود سے نکلنے ” نیو ” فرقے خواہ سرمایہ داریت ہو یا اشتراکیت سب کے سب چونکہ ایک ہی خاص معاشرتی فکر سے نکل کر آئے تھے اس لئے ان سب نے مل کر جو اکنامکس مرتب کی  اس کا مقصود ایک ہی تھا۔

سرمایہ داریت اور اشتراکیت میں اختلاف  کیا ہے؟

ان دونوں نظاموں کے اہداف میں عمومی طور پر کوئی فرق نہیں۔ یہ دونوں نظام ایک مقصد کے حصول کی جد و جہد کرتے ہیں البتہ اس مقصود کے حصول میں طریقہ کار میں فرق ہے۔

وہ مقصد واحد کیا ہے؟؟

انسان کی خواہشات کی تسکین وتکمیل  زندگی کا بنیادی مقصد ہے۔

یہ دونوں نظام باہم دست و گریباں نظر آتے ہیں۔ کیونکہ ایک نظام سرمایہ دار انسان کی خواہشات پر زور دیتا ہے تو دوسرا مزدور کی خواہشات کا علم لے کر اٹھتا ہے۔ لیکن دونوں میں خدائی کا منصب انسانی خواہشات کے پاس ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک سرمایہ داریت کا حامل ہو یا اشتراکیت کا  لیکن ان سب ممالک میں  ہیومن رائٹس  مشترک ہیں ۔ جس کی ایک مثال ہم جنس پرستی کا قانونی جواز ہے۔

معاشی مسئلہ:

یہ دونوں معاشی نظام ایک ہی  معاشی مسئلے کے گرد طواف کرتے ہیں  اور وہ ہے ’’ خواہشات لامحدود ہیں جبکہ وسائل محدود اور کم ہیں‘‘۔ اس مسئلے سے نمٹنا کیسے ہے۔ اس کے لئے ان دونوں معاشی نظاموں کےدرج ذیل  تین بنیادی مفروضے ہیں:

1۔ اکنامکس میں مذہب کا کوئی کردار نہیں۔

2۔ اکنامک ایجنٹ ( پروڈیوسر ، کنزیومر اور حکومت) خود غرض ہیں۔ Self interest

3۔ زیادہ سے منافع، مفادات، افادہ (یوٹیلیٹی )   کا حصول مقصد (حیات) ہے۔

اگر غور کریں تو واضح ہوجائے گا کہ موجودہ اکنامکس کے معاشی مسئلے اور تین مفروضات پر پندرھویں اور سولہویں صدی کے مفکرین کی فکر کتنا گہرا اثر پڑا ہے۔یہ تین مفروضے مجموعی طور پر انسان کے رویوں پر کیا اثرات مرتب کرتے ہیں کسی ذی شعور کے لئے  مشکل نہیں ہے۔ مذہب کا دخل نہیں کا مطلب یہ ہے کہ دنیا و آ خرت میں احتساب کا کوئی تصور ہی نہیں تو پھراسے کس بات کا ڈر ہو کہ وہ کوئی گناہ نہ کرے ۔ اکنامک ایجنٹ خود غرض ہے ۔ اُسے صرف اپنی ذات سے غرض ہے اور بس  اور اسے ایک خوش نما اصطلاح دے دی ’’ سیلف انٹرسٹ‘‘ ۔ اس پر طرفہ یہ کہ منافع ، مفادات ، افادہ کے زیادہ سے زیادہ حصول کو  زندگی کا مقصد بنا دیا  ۔  جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان اس مقصد کے لئے کسی بھی حد تک گر سکتا ہے اور جا سکتا ہے۔ کیونکہ اخلاقی سطح پرانسان  سے احتساب کا خوف تو چھین لیا پھر وہ کس سے ڈرے ؟ بڑی حد تک کہا جا سکتا ہے کہ اسے ملکی قانون کا ڈر ہو گا ۔ تو اس پر عرض ہے کہ مغربی ممالک میں جرائم کے اعداد و شمار دیکھ لی جیے  یہ اور بات  کہ بہت سے جرائم تو اب قانونی ہیں ۔

یہ بحث تو  مختلف الجہات ہے اور کافی وسیع ہے۔ اختصار کے طور پر میں یہاں صرف  ’’ہیومن رائٹس اور اکنامکس ‘‘ کے  باہم ملاپ سے وجود میں آنے والی معاشرت و معیشت پر عرض کرونگا۔

مغربی ہیومن رائٹس اور اکنامکس نے ملکر جو معیشت کا تصور دیا ہے وہ کیسا ہو سکتا ہے؟

مندرجہ بالا ہیومن رائٹس اور اس جیسے دیگر رائٹس متعین ہوئے تو  ان کو  پورا کرنے کے لئے  ان  کی سپلائی کا مسئلہ پیدا ہوا۔ تو یہاں اس معاشرت سے جنم لینے والے معاشی نظام نے قدم بڑھائے اور  سیکس ٹولز انڈسٹری، جوا خانے ، پورن انڈسٹری، قحبہ خانے سمیت سب ابلیسی  اعمال کو باقاعدہ انڈسٹری کی حیثیت دے دی ۔ یہ انڈسٹری سپلائی فراہم کرے گی ۔ جس کی ڈیمانڈ پہلے ہی معاشرے میں موجود تھی۔ یوں یہ بزنس چل نکلا جسے باقاعدہ قانونی سند بھی فراہم کردی گئی۔ (معاشرت میں آسمانی خدا کا دخل نہیں تھا اس لیے وہ بھی جائز ۔ معیشت میں بھی خدا کا کوئی کردار نہیں اس لیے یہاں بھی یہ امور جائز )۔

(یہ ہیں مغربی دنیا کے ہیومن رائٹس اور معیشت کا وہ ’’امتزاج یا کمبی نیشن ‘‘  جس کے اطلاق کا مطالبہ اب اسلامی ممالک میں بھی گنتی کے چند لبرل گروہوں کی  جانب سے ہونے لگا ہے)۔اب تو اقوام متحدہ کے باقاعدہ مقاصد میں شامل ہے کہ ہم جنس پرستی  سمیت ان تمام ابلیسی کاروباروں کو پوری دنیا میں قانونا جائز تسلیم کیا جائے۔گویا مغرب کا کہنا یہ ہے کہ :  اس میں  کسی آسمانی خدا کو کیا اجازت ہے کہ وہ انسان کی خواہشات پر قدغن لگائے۔

انوسٹمنٹ  سے کیا مراد ہے ؟

سرمایہ دار کا کسی بھی کاروبار میں نفع کمانے کی غرض سے پیسہ لگانا انوسٹمنٹ کہلاتا ہے۔ چنانچہ سرمایہ دار نے مندرجہ بالا سب ابلیسی کاموں میں پیسہ لگانے کو بھی  “انوسٹمنٹ” کا نام دیا۔ اور اس پر نفع کمانا جائز ٹھہرا۔ سرمایہ داریت کی یہ ایک ہلکی سی جھلک ہے۔ورنہ حقائق تو

ہوش ربا ہیں۔ صاف ظاہر ہے قحبہ خانے چلانے کے لئے عورتیں درکار ہیں (سپلائی )۔ ڈیمانڈ پوری کرنے کے لئے سپلائی کہاں سے ہوگی؟ اس کے لئے ہیومن ٹریفکنگ کے اعداد و شمار گوگل کر کے دیکھ لی جیے  سب واضح ہوجائے گا ۔

کوئی بھی  نظام کب کا میاب ہوتا ہے ؟

ہر نظام اپنے کچھ مفروضات اور مقاصد رکھتا ہے جن کے بغیر وہ نظام ایک بانجھ درخت مانند ہوتا ہے۔ سرمایہ داریت و اشتراکیت بھی اپنے اساسی ستونوں کے بغیر ایک بانجھ درخت ہیں بلکہ الٹا نقصان دہ نتائج کا سبب بنتے ہیں۔ سرمایہ داریت و استراکیت کے مشترکہ اساسی ستونوں میں لبرل ازم (مذہب آزاد)، ہیومن رائٹس، جمہوریت، قوم پرستی وغیرھا شامل ہیں۔ لہذا  یہ دونوں نظام ان ستونوں کے بغیر کوئی فائدہ نہیں دے سکتے ۔

مغربی ممالک سرمایہ دارانہ نظام اور اشتراکیت سے فوائد لے رہے ہیں لیکن مسلم ممالک ان کے ثمرات سے کیوں محروم ہیں؟

اول تو اس وقت کوئی بھی مسلم ملک نہ تو خالصتا ً سرمایہ داریت پر مبنی ہے اور نہ ہی اشتراکیت پر اور نہ ہی مکمل طور پر اسلامی نظام کا حامل ہے۔ تقریباً تمام اسلامی ممالک  میں اس وقت تینوں نظاموں  کے مشترکہ چربے سے وجود میں آنے والے نظام کی  کوئی نہ کوئی صورت مروج ہے البتہ اس میں غالب رنگ سرمایہ داریت کا ہی ہے۔

 کوئی بھی اسلامی ملک اگر کلیتا ً سرمایہ داریت اپنا لے یا اشتراکیت کو گلے لگا لے وہ کبھی بھی اپنے ہاں ترقی و خوشحالی نہیں لاسکتے۔ کیونکہ اسلامی معاشرے  کے افراد کے لئے ان نظاموں کی اساس کو اپنانا ممکن ہی نہیں۔ اس کے لئے انہیں اپنے ایمان کی قربانی دینا پڑے گی اور وہ یہ کرنے سے رہے۔ کیونکہ ان کے اساسی ستون قرآن و سنت سے متصادم ہیں۔ لبرل ازم ، قوم پرستی،  ہیومن رائٹس جیسی بکواسیات کا اسلام میں کوئی تصور ممکن ہی نہیں)۔

فی الوقت ہوکیا رہا ہے ؟

مسلمان عقائد تو اسلامی رکھنا چاھتے ہیں لیکن معاشی نظام سیاسی نظام دوسرے رکھنا چاھتے ہیں۔تو اس صورت حال میں مسلمان کی وہی صورت سامنے آتی ہے جو اس وقت دیکھنے کو مل رہی ہے۔ایسے میں دین پر کاربند مسلمان بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ آخر اس نے بھی اسی نظام میں آنکھ کھولی ہے۔ اپنے اردگرد کے ماحول سے وہ بھی متاثر ہوجاتا ہے۔ البتہ ان کے متاثر ہونے کی شرح معاشرے کے دیگر طبقات کی نسبت کم ہے۔  تاہم مجموعی طور پر اسلامی ملک کے معاشرے کی جو صورت سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ  ایک طرف آفات کا سامنا ہو اور لوگ مصیبت میں مبتلا ہوں تو اس پر منافع خوری  کی حرص سوار ہو جاتی ہے۔ چند روپے ماسک ذخیرہ کر لیا جائے تاکہ بعد میں زیادہ منافع پر فروخت کریں ۔ ایکسپائر میڈیسن پر  نئی تاریخ کا لیبل چسپاں کر کے فروخت کردیا جائے تاکہ چند سو روپے بچائے جا سکیں بھلے میڈیسن سے مریض کی جان چلی جائے  ’’ کوئی جئے یا مرے ، میرے دو روپے کھرے‘‘۔ اشیاء میں ملاوٹ کر کے فروخت کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ دولت کما لی جائے ۔ دھوکے فراڈ کی ایسی نئی سے نئی شکلیں اورایسے  طرق ہائے ورادات سامنے آ رہے کہ ابلیس بھی شرما جائے۔ مسلم معاشروں میں لڑکیوں کی عصمت داری کے بڑھتے واقعات ، بچوں بچیوں سے زیادتی کے بعد قتل کے پے در پے بڑھتے  ہوش ربا اور دل دہلا دینے والے واقعات یہ سب اس بات کی عکاسی کر تے ہیں کہ کلمہ پڑھنے والے معاشرے میں ان ساری ابلیسی حرکات کا محرک آخر کیا ہے ! وہ ہے ملکی سطح پر اسلامی نظریہ حیات سے دوری ۔ ریاست معیشت و معاشرت ، عدالت سب کچھ مغربی فکر پر چلانا چاہ رہی ہے لیکن ملک کے باشندے اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان کے حامل ہیں۔ راستہ ناہموار بناو گے تو گاڑی کیسے سکون سے چلے۔

اس سب کا   عملی نتیجہ یہ نکلا  ہے کہ  مسلم معاشرے کسی بھی نظام  کے ثمرات  نہیں لے پا رہے۔ بلکہ صورت حال مزید بد سے بد تر ہوتی جارہی ہے۔ مسلم ممالک بین الاقوا می قرضوں تلے دن بدن دبتے چے جارہے ہیں۔ مسلم معاشروں کی مجموعی صورت حال کو دیکھ لیں ۔ خاندانی نظام تقریبا ً تباہ ہوچکا ہے۔  معاشرتی سطح پر تعلقات آلودہ ہو چکے ہیں۔ معاشی صورت حال کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ نام کے مسلماں تو ہیں لیکن مساجد اب گرجا گھروں کی مانند صرف مخصوص دن جیسے جمعہ کو ہی بھری نظر آتی ہیں۔ اس صورت حال میں مسلم ممالک نے پایا کم کھویا زیادہ ہے۔ اس صورت حال میں موجودہ معاشرے کا مسلمان نہ تو  اچھا  مسلمان بن پایا اور  نہ ہی سرمایہ دار یا اشتراکی ۔ کامیابی   ملتی بھی تو کیونکر  کہ ذلت کےراستے پر چلنے سے عزتیں کہاں ملا کرتی ہیں۔

 قرآن مجید نے معاشرے کے اپنائے ہوئے موجودہ روش اور رویے کو گمراہی اور ذلت کا سبب قرار دیا ہے۔

مُّذَبْذَبِينَ بَيْنَ ذَٰلِكَ لَا إِلَىٰ هَٰؤُلَاءِ وَلَا إِلَىٰ هَٰؤُلَاءِ ۚ وَمَن يُضْلِلِ اللَّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُ سَبِيلًا (143) النساء                                                                                    

 (وہ اس (کفر اور ایمان) کے درمیان تذبذب میں ہیں نہ ان (کافروں) کی طرف ہیں اور نہ ان (مؤمنوں) کی طرف ہیں، اورجسے اللہ گمراہ ٹھہرا دے تو آپ ہرگز اس کے لئے کوئی (ہدایت کی) راہ نہ پائیں گے)۔

یعنی دھوبی کا کتا نہ گھر کا رہا نہ گھاٹ کا۔ کیوں نہ پھراسلام کے دامن میں پناہ لی جائے۔

                                                                                                                                         لوٹ جا عہد نبی ﷺ کی سمت اے رفتار جہاں                                                                                                                                               

                                                                                                                                              پھر میری پسماندگی کو ارتقاء درکار ہے                                                                                                                                                    

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں اور سبسکرائب کریں ۔

اسلامی معلومات ، روایتی معاشیات ، اسلامی معاشیات اور اسلامی بینکاری سے متعلق یو ٹیوب چینل
https://www.youtube.com/user/wasifkhansb?sub_confirmation=1

 سرمایہ داریت کا طلب و رسد کا مادی نظریہ

Supply and Demand: Materialistic Theory of Capitalism

تحریر : محمد ابوبکر صدیق

…………………………………….

 کلاسیکی معیشت دان کے بانی آدم سمتھ نے بینتھم کے نظریہ ٔ افادہ سے طلب و رسد کا نظریہ کشید کیا، جس کے مطابق ہر شخص اپنی لذات کو زیادہ سے زیادہ پورا کرنا اور ان میں اضافہ کرنا چاہتا ہے مگر اس کی خواہشات میں وہ مسائل رکاوٹ ہیں جن کی وجہ سے فرد اپنی خواہشات پوری نہیں کرسکتا ہے۔ آپ اچھے سے اچھا گھر’ گاڑی اور پر آسائش اشیاءخریدنا چاہتے ہیں مگر آپ کے پاس یہ سب خریدنے کی طاقت نہیں ہے، بالفاظ دیگر آمدن اور قیمت وہ دو بنیادی رکاوٹیں ہیں جو آپ کی خواہشات کی تکمیل میں مانع ہیں۔آپ کم قیمت کی صورت میں زیادہ اشیاء اور زیادہ قیمت کی صورت میں کم اشیاءطلب کرسکتے ہیں۔ اس طرح سے اُس نے نظریہ طلب کو ثابت کیا، کہ قیمتوں اور طلب میں منفی رجحان ہے۔یہ نظریہ طلب نظریہ افادہ سے نکلا ہے۔ یہ کوئی آفاقی قانون نہیں ہے۔ نظریہ طلب صرف اُن معاشروں میں کارفرما ہوتا ہے جہاں فرد کا مطمع نظر اور مقصود حیات صرف اور صرف خواہشات اور لذات ِانسانی میں اضافہ ہوتا ہے۔ کیونکہ جہاں فرد کا مقصود اپنے خالق حقیقی کی بندگی ہو تو آپ حرام شے کا کبھی مطالبہ نہیں کریں گےخواہ آپ کو اس کی کتنی ہی خواہش کیوں نہ ہو اور وہ کتنی سستی ہی کیوں نہ ہو۔ایک انسان میں موجودنفس امارہ کسی برائی کی خواہش تو کرسکتا ہے لیکن اپنے رب کی بندگی پرمائل انسان پھر اپنے نفس امارہ کی بجائے اپنے رب کی سنتا ہے اور حرام کی طلب سے منہ موڑلیتا ہے۔لیکن جہاں خواہشات ہی معبود قرار پائیں توپھر وہاں حرام وحلال کاتعین انسانی عقل و نفس کرتاتے ہیں اور اس طرح وہاں صرف طلب ہی طلب کا آوازہ ہوتا ہے۔ ایسے تصور کا بھی ہونا لازمی تھا جو اِس طلب کو پوراکرے۔چنانچہ رسدکاتصور بھی ساتھ ہی پیدا ہوا۔اس طرح جائز و ناجائز کی تفریق کیے بغیر دولت کمانے کی منہ زور خواہش رکھنے والوں کے لئےکمائی کا ایک باب کھل گیا۔حتی کہ دولت کی اس ہوس نے یہ نظریہ تک پیش کردیا کہ ‘‘تم رسد پیدا کرو اس کی طلب خود بخود پید اہوجائے گی’’۔ یعنی جو چیزیں ابھی تک انسان کی خواہش نہیں بنیں تم انہیں بھی انسان کی خواہش بناکرپیش کرو، اس طرح وہ خود بخود طلب بن جائے گی۔گویا خواہشات کو ایجاد کرنے کا نیا فن متعارف ہوگیا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں اور سبسکرائب کریں ۔

اسلامی معلومات ، روایتی معاشیات ، اسلامی معاشیات اور اسلامی بینکاری سے متعلق یو ٹیوب چینل
https://www.youtube.com/user/wasifkhansb?sub_confirmation=1

عالمی استعمار، عالم اسلام اور فری ٹریڈ 

Global colonialism, the Islamic world and Free Trade

تحریر : محمد ابوبکر صدیق

…………………………………….

 سرمایہ داریت اور مغرب کے بڑھتے اثرو رسوخ کے تناظر میں یہ تحریر درحقیقت کچھ مقالات سے ماخوذ ہے۔ اس حوالے سے ’’ تھامس رائٹ کا آرٹیکل : دی نیو ورلڈ ڈوائیڈ‘‘ بھی اہم ہے۔

گلوبلائزیشن کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ دنیا کو تین  طبقات میں تقسیم کیا جائے۔

۔1۔ اے کلاس جس میں امریکہ اور یورپی اقوام ہوں۔ جن کے ہاتھ میں تمام دنیا کی طاقت ہو۔

۔2۔ بی کلاس جس میں چین اور روس اور اے کلاس کے ہمنوا غیر مسلم ممالک

۔3۔ سی کلاس میں عالم اسلام رہے۔

سی کلاس لیبر کلاس ہو جو اپنے اخراجات پر مختلف فنون پر اعلی افراد تیار کرے جن میں سے کچھ بعد میں اپنا ملک چھوڑ کر اے کلاس اور بی کلاس خدمات دینے پہنچ جائے۔ اور سی کلاس پھر سے افراد سازی میں لگ جائے۔ اور جو افراد تیار ہو کر اپنے ملک میں ہی رہیں ان سے کام لینے کے لیے انڈسٹری وہیں منتقل کرلیں۔ ان کی سستی لیبر انہی کا خام مال اونے پونے لے کر ویلیو ایڈ کریں اور کئی گنا دام کے ساتھ انہی کو فروخت کرکے سرمایہ اے کلاس و بی کلاس کو پہنچائیں۔

بی کلاس ممالک درمیانے درجے کی انڈسٹری لگائے گی اور سی کلاس سے خام مال اور سستی لیبر لے گی۔

 اےکلاس اعلی درجے کی انڈسٹری پر قابض رہے گی اور بی کلاس اور سی کلاس اے کلاس کے مرہون منت ہونگیں۔ (اس ساری گیم کو فری ٹریڈ کے لبادے میں پیش کیا جاتا ہے۔ فری ٹریڈ میں ہمیشہ معاشی طاقتوروں کا پلہ  بھاری رہتا ہے۔ کمزور معیشت والے صرف اس پر ہی خوش ہوتے ہیں کہ چیز تو انہوں نے بنائی تھی)۔

فی زمانہ بی کلاس ابھی تک اے کلاس سے بظاہر برسرپیکار ہے۔ تاہم امریکہ کی مسلسل کوشش انہیں رام کرنے میں ہے۔ لیکن عالم اسلام کے بارے میں گلوبلائزیشن کا ایجنڈا کسی حد تک کامیاب ہوچکا ہے۔

باہر سے سرمایہ آرہا ہے ‘‘ درحقیقت ایک بھیانک ایجنڈے کی تکمیل کا دلربا سلوگن ہے۔ اور ہماری عوام سے لے کر حکمران اسے اپنی ترقی کی ضمانت سمجھتے ہیں ۔ باہر سے سرمایہ تمہارے پاس ہمیشہ رہنے کے لئے نہیں آرہا بلکہ تمہارے خام مال اور وسائل کو استعمال کرکے پیداوار کریں گے پھر تمہیں ہی مہنگے داموں فروخت کرکے اپنا سرمایہ کئی گنا بڑھا کر واپس لے جائیں گے ۔ سرمایہ سرمائے کو کھینچتا ہے کی کہاوت تو سنی ہوگی آپ نے۔ ہمارے حکمران ہمیں بیماری کے اسباب کو علاج کے نسخے پر دوائی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اور ہم بغلیں بجانے لگتے ہیں۔ہماری اشرافیہ   بیماری کے اسباب کو علاج  کے طور پر پیش کرتی ہے۔ اور ہم بغلیں بجانے لگتے ہیں۔

گویا فری ٹریڈ  کا مطلب ہے ’’ طاقتور ملک کمزور ملک کے وسائل کیسے لوٹے اور اسے اپنا دست نگر بنائے کی پلاننگ کرنا‘‘۔ 

 

حضرت اقبال علیہ الرحمہ نے تصویر درد میں کہا تھا۔ آخری شعر میں تبدیلی پر معذرت کے ساتھ۔

وطن کی فکر کر ناداں! مصیبت آنے والی ہے

بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں

ذرا دیکھ اس کو جو کچھ ہو رہا ہے، ہونے والا ہے

دھرا کیا ہے بھلا عہدِ کُہن کی داستانوں میں

یہ خاموشی کہاں تک؟ لذّتِ فریاد پیدا کر

زمیں پر تُو ہو اور تیری صدا ہو آسمانوں میں

نہ سمجھو گے تو مِٹ جاؤ گے اے اسلام والو!

تمھاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں

اس سب کے باوجود جو امید کی شمع ہے وہ اس امت کے افراد کی گنبد خضراء سے وابستگی ہے۔ یہی شرر ان شاء اللہ آگ بھڑکائے گا۔ اور مسلمان کو مسلمان کرے گا۔ ہم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر یقین رکھنے والے لوگ ہیں اس لیے ناامید نہیں ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں اور سبسکرائب کریں ۔

اسلامی معلومات ، روایتی معاشیات ، اسلامی معاشیات اور اسلامی بینکاری سے متعلق یو ٹیوب چینل
https://www.youtube.com/user/wasifkhansb?sub_confirmation=1

1 Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Post comment