الحمد للّٰہ علیٰ إحسانہ!
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے یہ کتاب اب مارکیٹ میں دستیاب ہے۔
اس کتاب کا مطالعہ کن کے لیے ضروری ہے؟
یہ کتاب ہر اُس قاری کے لیے اہم اور مفید ہے جو جدید معاشی و مالی مسائل، کرنسی، مالی معاملات، اسلامی فقہ اور معاصر اقتصادی مباحث کو علمی اور شرعی زاویے سے سمجھنا چاہتا ہے۔ خواہ قاری کا تعلق دینی علوم سے ہو، اسلامی معاشیات و مالیات سے، تدریس و تحقیق سے، بینکاری کے شعبے سے، یا وہ محض جدید مالی مسائل کو بہتر طور پر سمجھنے کا خواہش مند ہو، اس کتاب میں اس کے لیے قابلِ استفادہ علمی مواد موجود ہے۔ بالخصوص موجودہ دور میں جب کرنسی، ڈیجیٹل اثاثوں، کرپٹو کرنسی اور نئے مالی معاملات سے متعلق سوالات عام ہوتے جا رہے ہیں، یہ کتاب ان مسائل کی بنیادی فقہی و معاشی جہات کو سمجھنے میں رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
جدید مالی مسائل اور اعلیٰ حضرتؒ کی فقہی بصیرت
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلویؒ نے نوآبادیاتی دور میں سامنے آنے والی کاغذی کرنسی کی نئی صورت کے بارے میں محض روایتی انداز میں حکم بیان کرنے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ مالیت، ثمنیت، عرف، تعامل، عمومی قبولیت، حکومتی اعتماد، قبضہ، ادخار، انتقالِ ملکیت اور مالی نظم جیسے بنیادی فقہی و معاشی اصولوں کی روشنی میں اس کی جامع فقہی تکییف فرمائی۔
ان کے بیان کردہ یہی اصول آج ڈیجیٹل کرنسی، کرپٹو اثاثوں، بٹ کوائن، مستحکم ڈیجیٹل سکوں اور ٹوکنائزیشن جیسے جدید مسائل کو سمجھنے اور ان کا شرعی تجزیہ کرنے میں بھی بنیادی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
خصوصی تحقیقی ضمیمہ
کتاب کے آخر میں ایک مستقل تحقیقی ضمیمہ شامل کیا گیا ہے:
’’ڈیجیٹل کرنسیوں کی شرعی حیثیت: اعلیٰ حضرت کی فکر میں ایک مطالعہ‘‘
اس تحقیق میں اعلیٰ حضرتؒ کے فتوے سے کسی چیز کے کرنسی بننے سے متعلق بنیادی اصول اخذ کیے گئے ہیں، اور پھر انہی اصولوں کی روشنی میں بٹ کوائن، کرپٹو اثاثوں، ڈیجیٹل کرنسیوں اور ٹوکنائزیشن سمیت عصرِ حاضر کے متعدد مسائل کا فقہی و معاشی جائزہ لیا گیا ہے۔
زیرِ بحث اہم موضوعات میں شامل ہیں:
- کرنسی اور عام مالی اثاثے کے درمیان بنیادی فرق
- مالیت اور ثمنیت کی شرعی حقیقت
- عرف، تعامل اور عمومی قبولیت کا کردار
- حکومتی اعتماد اور قانونی اعلان کی حدود
- ڈیجیٹل کرنسی اور مرکزی بینک کی ڈیجیٹل کرنسی
- بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو اثاثے
- مستحکم ڈیجیٹل سکے
- کرپٹو مائننگ
- ڈیجیٹل اثاثوں میں غرر، قمار اور سٹے بازی
- غیر قانونی رقوم کی منتقلی اور جرائم کے معاوضوں میں کرپٹو کے استعمال کے مسائل
- کرنسی کی رسد پر حکومتی اختیار
- ریاستی مالیاتی نظم پر غیر مرکزی کرنسیوں کے اثرات
- حقیقی اثاثوں کی ٹوکنائزیشن
- ٹوکنائزڈ ملکیت اور نفع و نقصان میں حقیقی شرکت
- فرضی اثاثوں اور ضمانت شدہ منافع پر مبنی ٹوکنز کی شرعی حیثیت
اصولِ افتاء کا اطلاقی تجزیہ — Applied Rasm al-Mufti
کتاب کا مقدمہ خاص محنت اور تفصیلی مطالعے کے بعد مرتب کیا گیا ہے۔ اسے بجا طور پر Applied Rasm al-Mufti، یعنی ’’رسم المفتی کا عملی اطلاق‘‘ کہا جا سکتا ہے۔
اس مقدمے میں اعلیٰ حضرتؒ کے مذکورہ فتوے میں کارفرما منہجِ تحقیق اور منہجِ افتاء کا تفصیلی مطالعہ پیش کیا گیا ہے اور یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ ایک عملی فقہی مسئلے میں اعلیٰ حضرتؒ نے اصولِ افتاء اور بالخصوص رسم المفتی کے قواعد کو کس طرح برتا ہے۔
خصوصاً درج ذیل اصولوں کی عملی تطبیق واضح کی گئی ہے:
- اثباتِ علت
- تحقیق المناط
- تخریج المناط
- تنقیح المناط
- قیاس
- استحسان
- عرف و تعامل
- تعارضِ دلائل کا حل
- کتبِ مذہب اور فقہی اقوال کی درجہ بندی
- رسم المفتی کے اصول
یہ حصہ بالخصوص تخصص فی الفقہ والافتاء کے طلبہ، مفتیانِ کرام اور فقہی تحقیق سے وابستہ اہلِ علم کے لیے مفید ہے، کیونکہ اس کے ذریعے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ ایک جید فقیہ کسی نئے مسئلے کے حقائق کے ادراک سے آغاز کرکے، فقہی اصولوں، نصوص، نظائر اور عرف و تعامل کا جائزہ لیتے ہوئے حتمی شرعی حکم تک کس طرح مرحلہ وار پہنچتا ہے۔
کتاب کی دیگر نمایاں خصوصیات
- دو معتبر عربی نسخوں کی بنیاد پر ترجمہ
- سلیس، رواں اور علمی اردو
- مشکل اور دقیق فقہی مباحث کی وضاحت و تسہیل
- مذکورہ علماء کے مکمل ناموں کی تعیین
- حوالہ دی گئی کتب کے اصل اور مکمل ناموں کا اندراج
- علماء کے سنِ وفات کا اضافہ
- جہاں اعلیٰ حضرتؒ نے کسی فقیہ یا کتاب کا مختصر نام ذکر کیا ہے، وہاں تحقیق کرکے متعلقہ فقیہ کا مکمل نام، سنِ وفات اور کتاب کا مکمل عنوان درج کیا گیا ہے
- مشکل اور گنجلک فقہی مباحث پر آسان فہم توضیحی حواشی
- طویل اور مسلسل فقہی مباحث کو سمجھنے میں سہولت کے لیے مناسب سرخیاں اور ذیلی سرخیاں
- کتاب میں مذکور تمام علماء کی آخر میں صفحات کے حوالوں کے ساتھ باقاعدہ فہرست
- جامع کتابیات
- مولانا ارشاد حسین رامپوریؒ اور مولانا عبدالحی لکھنویؒ کے متعلقہ فتاویٰ بطور ضمیمہ
ان تحقیقی اضافوں میں بالخصوص فقہاء اور کتب کے مختصر حوالوں کی مکمل تعیین ایک خاصا محنت طلب مرحلہ تھا، تاکہ موجودہ دور کے قاری اور محقق کے لیے اصل مصادر تک رسائی اور علمی استفادہ زیادہ آسان ہو سکے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس علمی کوشش کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، اسے طلبہ، علماء، مفتیانِ کرام اور محققین کے لیے علم و رہنمائی کا ذریعہ بنائے، اور بالخصوص اسلامی معاشیات، اسلامی مالیات اور اسلامی بینکاری و مالیات سے وابستہ اساتذہ، طلبہ اور اہلِ علم کے لیے نافع فرمائے۔
آمین بجاہ النبی الکریم الأمین ﷺ