زومبی جنریشن – شاخِ بریدہ

…………………………………….

محمد ابوبکر صدیق

یونیورسٹیوں میں پڑھنے اور پڑھانے سے ایک بات تو سمجھ میں آگئی ہے کہ نئی نسل اسلامی تہذیب بالعموم اور پاکستانی کلچر بالخصوص پر تو تیار نہیں ہورہی۔ اردو زبان سے  عدمِ واقفیت اور انگریزی زبان  ایسی کہ جسے انگریز لطیفے سے کم نہ گردانیں والی کیفیت ہو چکی ہے۔یہ تجزیہ اس نئے نظام کے احباب کے لیے نہ صرف قابل قبول نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ناگواری کا باعث بھی ہوگا۔ لیکن ہم نے “اقبال کا ترانہ بانگ درا ہوگیا ” کے مصداق صدائے حق بلند کرنی ہے اور یہی ہماری ذمہ داری ہے کہ میں لشکر یزید میں مثلِ حُر رہتا ہوں۔ 

یہ نئی نسل جو نہ تو ” کوے ” رہے اور نہ ہی کبھی ” ہنس ” بن پائیں گے۔ایسے لگتا ہے کہ چند دہائیوں بعد یہ قوم شاید اردو پڑھنا لکھنا بھی نہیں جانتی ہوگی۔ جسمانی طور پر تو یہ نسل ہماری ہے لیکن ذہنی طور پر یہ کسی اور کی نسل تیار کی جارہی ہے۔ اور اس میں بنیادی کردار اور اہم کردار جدید تعلیمی ادارے اور بے لگام میڈیا ہاوسز کا ہے۔

آگے چلنے سے پہلے قاری صرف اتنا ذہن میں رکھے کہ جو معاشرتی فساد , الحاد، فحاشی  اور بے حیائی آج ہمارے زمانے میں ہے کیا یہ ہمارے بچپن یا باپ دادا کے زمانے میں تھی ؟ اگر جواب نہیں میں آئے تو پھرسوچیں  آخر وہ کیا وجوہات اور اسباب ہیں جن کی وجہ سے یہ سب ہوا۔ اسی موضوع پر آگے گفتگو کی گئی ہے ۔

فی زمانہ چنداں کمیوں کے باوجود دینی مدارس کا وجود کسی نعمت خداوندی سے کم نہیں  جو اس گئے گزرے دور میں بھی  ایسے اسکالر پیدا کر رہے ہیں جو قرآن و سنت، عربی ، اردو حتی کہ فارسی زبان پر بھی کافی حد تک عبور رکھتے ہیں۔فارسی زبان وہ زبان ہے کہ جس میں علم کا ایک سمندر سمیٹا پڑا ہے مگر آج ان کتابوں پر دھول اٹی پڑی ہے کہ جسے کسی نے کھول کر بھی نہیں دیکھا۔ یہی وہ لوگ ہیں جومعاشرے  کی لاکھ بے اعتنائیوں اور طعنہ زنیوں کے باوجود 1400 سال سے قرآن و سنت کا ورثہ آج ہم تک سنبھال کر لائے ہیں۔ اور اگلی نسلوں تک پہنچانے کے لیے مصروف عمل ہیں۔ یہ وہ با کمال لوگ ہیں کہ جنہیں نہ تو ریاستی وسائل مہیا ہیں اور نہ ہی بھاری بھرکم تنخواہیں اور مراعات۔لیکن پھر بھی زبان پر اللہ کا شکر جاری رہتا ہے۔ روکھی سوکھی کھا کر بھی معاشرے کے ایسے نوجوان کو ایک با کمال انسان بناتے ہیں جسے اس کے اپنے ماں باپ بالعموم اس لیے مدرسے چھوڑ جاتے ہیں کہ وہ اسے جدید تعلیم حاصل کر کے جائز و ناجائز طریقوں سے دولت کمانے کے قابل نہیں سمجھتے تھے۔ یہی مدارس اسی نوجوان میں وہ دل ،وہ جگر پیدا کر دیتے ہیں کہ وہ علوم قدیمہ کے ساتھ علوم جدیدہ میں بھی جدید تعلیمی اداروں کے طلبہ کے برابر آ کھڑا ہوتا ہے۔ اگر یقین نہ آئے تو مختلف اضلاع کے سکینڈری اور انٹرمیڈیٹ کے بورڈز کے نتائج اٹھا کر دیکھ لیں توپتہ چلے گا کہ دینی مدارس کا رزلٹ ۹۵ سے ۱۰۰ فیصد کامیابی کا ہوتا ہے۔ 

وہ نوجوان جسے اپنے والدین نے کسی کام کا نہیں سمجھا  ہوتا وہی نوجوان اپنے والدین کے قدموں کا دھوون پینے کو اپنی سعادت گردانتا ہے۔ ان کے سامنے اپنی آواز اونچی نہیں کرتا۔ دیگر رشتوں میں تقدس کا خیال  اور معاشرے کے بڑوں کا احترام کرتا ہے۔ یہ آداب فرزندی مکتب کی کرامت کے ساتھ ساتھ صاحبِ کردار اساتذہ کی مبارک نگاہ کےطفیل نصیب ہوتے ہیں۔

جدید تعلیمی اداروں سے پیدا ہونے والی نئی جنریشن  کی کیا تربیت ہے ؟ تربیت کس منہج پر ہے ؟ کیا آداب زندگی ہیں ؟ یہ سب روز روشن کی طرح عیاں ہے کچھ بتانے کی ضرورت نہیں۔ صرف اتنا اشارہ دیتا چلوں کہ جیسے جیسے مغرب کی ابلیسی تعلیم اور ابلیسی کلچر کو اپنے تعلیمی اداروں اور زندگیوں میں لے کر آئے ہیں ویسے ویسے ہمارے معاشرے کی اقدار پامال ہوئی ہیں ۔ اولڈ ہاوسز جیسی لعنت میں اضافہ ہوا ہے۔ فحاشی و عریانی بڑھی ہے اور اس پر طرفہ یہ کہ وہ قابل برداشت بھی ہوئی ہے۔مخلوط تعلیمی اداروں میں جو بڑھتی ہوئی اخلاقی اور سماجی تباہی ہے اس کے حقائق مخفی لیکن چشم کشا ہیں ۔ ایک ایسا ماحوال پیدا کرنے کی کوشش  کی جارہی  ہے کہ کسی طرح اس اسلامی معاشرے میں کنواری مائیں اور کنوارے باپ پیدا ہوجائیں۔ والدین کی دولت اڑا کر اولاد جوں جوں اعلی تعلیم یافتہ ہوتی جاتی ہے والدین کے لئے درد سر بنتی جاتی ہے۔ بالآخر وہی بیٹا کام آتا ہے جسے وہ مدرسے چھوڑ آئے تھے۔ اور اگر خوش قسمتی سے اس جدید نظام سے کوئی اچھا آدمی نکل بھی آئے تو اس میں کردار پھر اسلامی تعلیم کا ہی ہوتا جو اسے یا تو بچپن میں ملی  ہوتی ہے یا پھر کبھی کبھار علما کی آواز کانوں پڑنے کے سبب حاصل ہوئی تھی یا پھر گھرانہ ہی مذہبی تھا۔

پرائمری، او لیول اے لیول کے انگلش میڈیم برینڈڈ تعلیمی ادارے جہاں انگلش بہتر کرنے کی آڑ میں کم سن اور کچے ذہن کے طالب علموں کو مغرب کے مصنفین کے وہ ناول پڑھائے جاتے ہیں جس میں ابلیسی نظام سے محبت اور مذہب سے دوری کا بیج بویا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مسلمان کا بچہ کلیسا کی جانب بہت ہی نرم لیکن مسجد کا مولوی اسے وحشی دکھائی دیتا ہے۔ اپنے معاشرے کی حقیقی اقدار بھی اسے دقیانوسی اور مغرب کی عریانیت اسے آزادی لگنے لگتی ہے۔ ایسے تعلیمی ادارے سے نکلنے والے ریوڑ کی نظر میں شیکسپیئر ، نپولین، ڈیکارٹ اور اس جیسے لوگوں کی تاریخ کافی حد تک پڑھی ہوتی ہے۔ امریکہ کیسے آباد ہوا؟ یورپ میں انقلاب کی روشن داستاں کیا ہے؟ الغرض اسلام کے علاوہ ہر فضول باب انہوں نے ازبر کیا ہوا ہوتا ہے۔  اسلامی تاریخ میں اگر انہیں کچھ یاد ہوتا ہے تو وہ یہ کہ  سلطان محمود غزنوی ، محمد بن قاسم  لٹیرے تھے۔ انہیں بائبل اور دیگر ملحد دانش وروں کے انگلش اقوال یاد ہوتے ہیں لیکن ایک آیت یا حدیث کا پوچھ لیں تو ان کی جیسے سیٹی گم ہوجاتی ہے۔ ان کی اکثریت کو تو اسلامی تاریخ کا سرے سے علم ہی نہیں ہوتا۔ وہ نسل جو اپنے عظیم ماضی سے شاخِ برید کی مانند کٹ چکی ہو، اور زومبیز کی طرح بے شعوری میں چلے جارہی ہو یہ سوچے سمجھے بغیر کہ “وہ کیا گردوں تھا جس کا میں ہوں اک ٹوٹا ہوا تارا ” ، کیا خاک اگلی نسلوں کی قیادت کے اہل ہوگی۔ بقول اقبال

نئی بجلیاں کہاں ان بادلوں کے جیب و دامن میں
پرانی بجلیوں سے بھی ہو جن کی آستین خالی

 لبرل  طبقے کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ خود کو مسلمان بھی کہلوانا چاہتا ہے لیکن مغربی روشن خیالی کا لبادہ بھی اوڑھے رکھنا چاھتا ہے۔ اس لیے انہیں قرآن و سنت کی صرف وہ تعبیر و تاویل ہی پسند آتی ہے جس میں انہیں یہ اجازت مل جائے کہ ایک ہاتھ میں قرآن تو دوسرے میں جامِ شراب رہے۔مسجد میں بھی اُن کے سجدے  ہوتے رہیں اور کلیسا میں بھی حاضری لگتی رہے۔ شرعی احکام کی ایسی نادر تعبیر پیش کرنے والے لوگ ہی ان کے نزدیک حقیقی اسکالر اور روشن خیال عالم کہلاتے ہیں اور ان کے علاوہ باقی سب علمائے شریعت کو وہ دقیانوسی مولوی کے خطاب سے نوازتے ہیں۔ ان کی دانش کی مثال یہ ہے کہ بھلے انہوں نے بھولے سے بھی کبھی قرآن نہ پڑھا ہو لیکن شرعی معاملے پر اصولوں کے خلاف وہ یوں زبان درازی کریں گے جیسے ان سے بڑھ کر کوئی عالم نہیں اور اپنی ہر اول فول کو ایک دلیل قرار دیں گے اور “علمائے شرعیت سے کہیں گے کہ وہ اُن سے زیادہ مسلمان ہیں اور ان سے زیادہ شریعت جانتے ہیں”۔ ایک طرف ان خودساختہ روشن خیال لبرلز کا یہ رویہ ہے دوسری جانب ان کا یہی رویہ یک سر الٹ جاتا ہے جب علما ئے حق علم اور درک رکھنے کے باوجود دنیوی امور میں اگر اپنی رائے پیش کریں تو انہی لبرلز کی زبانیں آگ اگلنے لگ جاتی ہیں اور آنکھوں خون اتر آتا ہے کہ جیسے علمائے حق نے اُن کی دُم پر پاؤں رکھ دیا ہو۔ یہ نام نہاد روشن خیال لبرل طبقہ ایسے دوغلے رویوں کا سراپا ہے۔اور علماء ایسوں سے ” قالوا سلاما ” کہتے ہوئے کنارہ کر جاتے ہیں۔ 

لبرل طبقے کو اسلاف علمائے حق اور مدارس سے اصل تکلیف ہی یہی ہے کہ ان مردان حق نے نئی نسلوں میں اسلام کی چنگاری سلگائے رکھی اور یہ سلسلہ ہر زمانے میں جاری رہا ہے ۔ تاریخ بھری پڑی ہے کہ انگریزوں نے کیسے اس قوم میں میر صادق و میر جعفر  پیدا کیے۔ کیسے اپنے لئے ذہن سازی کرنے والے دماغ اور قلم خریدے ۔ کیسے  علماء کا قتل عام کرایا ، مدارس ختم کروا دیے۔  لیکن تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ  حق کی تعلیم سینہ بسینہ چلتی رہی اور یہی چنگاری پھر سے شعلہ بن کر ابھری۔ آج پھر انہی درویش صفت علما کو چیلنج کا سامنا ہے ۔ اُسی عیار کی سازشوں کے تانے بانے بننے والے نئے میر جعفر و میر صادق شاید نہیں جانتے  کہ یہ درویش صفت علما آج بھی مدارس میں سخت کوشی اور سخت جانی کی جو تربیت پاتے ہیں جس کی شاید ہوا بھی ممی ڈیڈی تعلیم والوں کو نہیں لگی ہوتی ۔ یہ مضبوط اعصاب کے لوگ اسلامی تہذیب کے ورثے کو اگلی نسلوں تک پہنچانے کے ہزار راستے جانتے ہیں۔

بس اک منزل ہے بوالہوس کی، ہزار رستے ہیں اہل دل کے

یہی تو فرق ہے مجھ میں اس میں گزر گیا میں ٹھہر گیا وہ

کسی صاحب درد کے الفاظ ہیں جو یہاں نقل کر رہا ہوں آج کے دور کی بصیرت نے میری بصارت اندھی کر چھوڑی ہے۔ میرا ہرآنے والا دن پہلے سے زیادہ ڈروانا اور بھیانک ہے۔ رشتوں کا تقدس پامال ہوچکا۔ بیٹی حقوق کی جنگ میں اپنے ہی باپ کو عدالت کے کٹہر ے میں کھینچ لائی۔چادر زینب کے تقدس کی امین نے سارے پردوں کو چاک کر کے مرد کے شانہ بشانہہو نے کو اپنی عظمت گردان لیا۔ اپنی روایت اور مذہبی اخلاقیات کو پس پشت ڈال کر وہ اپنے لباس میں بے لباس گھومتی ہے۔ اسے نمائش کی وہ چاٹ لگ گئی کہ چند اخباری تصویروں کے لئے وہ کسی بھی سیاسی میراتھن میں دوڑ سکتی ہے اورحقوق انسانی کی ڈفلی پر کوئی اسے بہکاکر کسی بھی طرح نچوا سکتی ہے۔ اسکا دوپٹہ اس کے سر سے اتر کر گلے کا پھندا بن چکا ہے۔ حیا کی لالی میڈوراکے غاروں تلے جا چھپی ہےا دوپٹہ اس کے سر سے اتر کر گلے کا پھندا بن چکا ہے۔  ہمیں نہیں چاہیے وہ نظام جو عورت کو کاروبار کا اشتہار بنا کررکھ دے ۔ ہمیں نہیں چاہئے وہ ترقی جو ترقی کے نام پر حیا کی چادر کو تار تار کرتی چلی جاتی ہے۔ ہمیں نہیں چاہیے وہ انصاف جو مختارائیں پیدا کرے۔   ہمیں نہیں چاہیے وہ نصاب جو ہمیں اپنے مذہب سے بے گانہ کر دے۔ نہیں چاہیے وہ کتاب جس پر الکتاب کا سایہ نہ ہو۔نہیں چاہیے وہ قلم جو چندپیسوں کے عوض امیرِ شہر کے قصیدے لکھتا ہے۔ نہیں چاہیے وہ معاشرہ جس میں عدل پیسوںکا محتاج ہے۔ نہیں چاہئے وہ طریقہ امتحان کہ امتحان سے پہلے ہی جس کےسوالنامے ردی میں بک جاتے ہیں۔ نہیں چاہیے وہ شہرت جو پینے کا صاف پانی تک مہیا نہ کر سکے۔ نہیں چاہیے وہ حمیت جو المسلم اخوالمسلم کے نعرے سن کر بھی بیدار نہیں ہوتی ۔ نہیں چاہیے وہ نصیحت جو عمل سے خالی ہے۔ نہیں چاہیے وہ علم جس کاداعی خود اندھا ہے۔ آنے والے وقت کے سرابوں میں الجھا کر ہماری گزشتہ منزل بھی ہمچھین لی گئی۔ ہم کس معاشرتی ترقی کی بات کر تے ہیں ؟ کیا وہ زمانہ اچھا تھاکہ جس میں باپ کی طرف محبت کی نگاہ کر نے والوں کو حج کے ثواب کا عندیہ ملے یا پھر یہ معاشرہ اچھا ہے جس میں باپ کو کچرے کا تھیلا سمجھ کر گلی کےنکڑ کے تھڑے پر ڈال دیا جاتا ہے۔ کیا وہ زمانہ اچھا تھا جس میں ماں کےقدموں تلے جنت کی بشارت رکھی گئی تھی۔ یا پھر یہ زمانہ اچھا ہے جس میں بوڑھی ماں کو اولڈ پیپلز ہوم کی زینت بنا دیا جاتا ہے۔ ہم کس عدل و انصاف کی بات کر تے ہیں؟ کیا وہ زمانہ اچھا تھا جس میں جرم کی سزا بلا امتیازِ حسب و نسب دی جاتی ہے یا پھر یہ زمانہ اچھا ہے جس میں اقربا ء کی کو تاہیوں کومصلحتوں کی غلاف اوڑھے جاتے ہیں۔ ہم کس اخلاقیات کی بات کر تے ہیں؟ کیا وہ زمانہ اچھا تھا جس میں خریدار کو بیچنے سے پہلے مال کے نقائص بیا ن کئےجاتے تھے یا پھر یہ زمانہ اچھا کہ خراب مال پر بہت اچھا کی مہریں لگا لگاکر گاہکوں کو لوٹ لیا جا تا ہے۔ ہم کس جنگ کی بات کرتے ہیں ! کیا وہ زمانہ اچھا تھا جس میں شہر کے شہر بغیر کسی قطرہ خون بہائے فتح کر لئے جاتے ہیں یاپھر یہ زمانہ اچھا ہے کہ  جہاں لاکھوں کی آبادی کولقمہ اجل بنا دیا جائے۔

علاج کیا ہے؟

خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں

ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں 

حضرت علامہ اقبال ؒ نے بیماری کی تشخیص اور علاج دونوں کی جانب کچھ یوں اشارہ کیا تھا

وہی دیرینہ بیماری ،  وہی نامحکمی دل کی

علاج اس کا وہی آبِ نشاط انگیز ہے ساقی

چودہ صدیاں  قدیمی قرآن و سنت کا نظام ہی تمہاری جدید بیماری کا علاج ہے۔اپنی زبان کو اپنائیے ، اپنی اسلامی تہذیب کو اپنائیے ،اپنی معاشرتی اقدار کو اپنائے۔مغرب کی جدید تعلیم پر قرآن و سنت کی چھاننی لگائیے ۔ اچھا حصہ اپنا لیں اور اس کی غلاظت و گندگی باہر پھینکیں۔

دوڑ پیچھے کی طرف اے گرد شِ ایام تو کہ آج پھر میری اذان کو روح بلالی کی تلاش ہے۔آج پھر میری اکھیوں میں پیا ملن کی آس ہے۔ میری پلکیں اسی راہ کی گرد چننا چاہتی ہیں جس راہ کی مٹی نے میرے محسن ﷺکے قدم چومے تھے۔

لوٹ جا عہد نبوی ﷺ کی سمت اے رفتار جہاں
پھر  میری  پسماندگی  کو ارتقا ء  درکار ہے

………………………………………

نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں اور سبسکرائب کریں ۔

اسلامی معلومات ، روایتی معاشیات ، اسلامی معاشیات اور اسلامی بینکاری سے متعلق یو ٹیوب چینل
https://www.youtube.com/user/wasifkhansb?sub_confirmation=1

مغرب اور احساس کمتری میں مبتلا لوگ

…………………………………….

محمد ابوبکر صدیق

مغرب کے نظریہ حیات  میں زندگی کے عملی میدان سے مذہب کا کردارہی ختم کردیا گیا۔مغرب نے مذہب کی بنیادں کو کمزور کرنے کے لیے جس فکر کو بنیادی ہتھیار بنایا وہ معاشی فکر تھی۔ چنانچہ انہوں نے معاشی نظریہ حیات اس انداز میں متعارف کرایا کہ  یہ ایک الگ مذہب بھی نہ لگے تاکہ اہل مذہب کی جانب سے ممکنہ مزاحمت سے بچا جا سکے  لیکن آہستہ آہستہ یہ  ان کی بنیادوں کو بھی ہلا کر رکھے دے اور بالآخرخود ایک غیر اعلانیہ مذہب قرار پائے۔اس لیے مغربی معیشت جو کہ مغرب کا نظریہ حیات ہی ہے، میں مذہب کو غیر اہم قرار دیتے ہوئے خدا کی بجائے خواہشاتِ نفس کو معاملات کا حکم بنادیا گیا۔

جب ایک فردسے خدائے لم یزل کا خوف اور  یوم حساب کا تصور چھین کر اُسے خواہشات کے بھیڑیے کے سامنے ڈال دیں گے توپھروہ ایک دمڑی کے لیے کسی کی جان لینے سے گریز کیوں کرے؟ اپنی حیوانی خواہش کو پوراکرنے کے لیے عصمت دری کیوں نہ کرے؟ دولت جمع کرنے کی ہوس میں وہ تجارتی منڈیوں میں اجارہ داریاں قائم کیوں نہ کرے؟ ناجائز منافع خوری کے لیے ذخیرہ اندوزی سے کیوں رکے؟ جب ایک انسان سے اُس کا وہ خوف چھین لیں گے جو اُسے انسان بنائے رکھنے کے لیے ضروروی تھا تو پھر وہ دیگر حیوانوں کی طرح کام نہیں کرے گا تو اور کیا کرے گا۔اور یہی مغرب میں ہورہا ہے جو صرف اور صرف ان کے اِسی باطل نظریے کی دَین ہے۔

تُو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہُوری نظام

چہرہ روشن، اندرُوں چنگیز سے تاریک تر!

مغرب کے نام نہاد فلسفیوں اور دانش وروں نے اپنی تہذیب کی بنیادجن نعروں پر رکھی وہ بظاہر تو خوش نما اور دلفریب نعروں تھے لیکن ان میں عملی فلاح کا تصور دوردور تک بھی نہیں تھا۔ کیونکہ ہر دانش ور کسی خاص طبقے سے نکل کر آیا تھا تو اُس نے اُسی طبقے کے مفادات کے پیش نظر سلوگن متعارف کیے کسی نے فرد کے حق میں تو کسی نے اجتماع کے حق ، کسی نے مزدور کی دادرسی کا نعرہ لگایا تو کسی نے سرمایہ دار کو طاقت وربنانے کی صدا لگائی۔لیکن یہ سب نعرے دل آویز جھوٹ کے سوا کچھ بھی نہیں تھے۔

فسادِ قلب و نظر ہے فرنگ کی تہذیب

کہ روح اس مدنیت کی رہ سکی نہ عفیف

نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کی

یہ صناعی مگر جھوٹے نگینوں کی ر یزہ کاری ہے

مغربی دانش وروں نے مطلق آزادی اورمطلق مساوات کے دل فریب نعروں کے جھانسے میں مبتلا رکھ کرپورے مغربی معاشرے کو ایک ایسی ڈگر پر چھوڑ دیا کہ جس پر چلتے ہوئے وہ بتدریج اپنا خاندانی نظام ، معاشرتی نظام حتی کہ اپنی نسلوں سے تعلق تک گنوا بیٹھے۔ظلم تو یہ ہے کہ صدیوں کے اس تباہ کن سفر پر سب کچھ گنوا دینے کے بعد جن کے پاس کھونے کو اب کچھ بچا ہی نہیں ، انہیں ترقی کی علامت قرار دےکر دوسری تہذیبوں کے احساس کمتری میں مبتلا لوگ اپنی اقوام کو انہی کے راستے پر چلنے کے لیے کمر کسنے کا مشورہ دے رہے ہیں ۔مغربی تہذیب کو بہت قریب سے جانچ پرکھ کر علامہ اقبال ؒ نے فرمایا تھا؛

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرےگی

جو   شاخ    نازک   پہ آشیانہ   بنے  گا ناپائیدار  ہو گا

اسلامی تہذیب کےعناصر میں اخوت،مساوات،جمہوریت،آزادی،انصاف پسندی،علم دوستی،احترام انسانی،شائستگی،روحانی بلندی اوراخلاقی پاکیزگی شامل ہیں اورانکی بنیادپریقیناایک صحت منداورمتوازن معاشرہ کاخواب دیکھاجاسکتاہے۔ جبکہ مغربی تہذیب ان تمام خوبیوں سے یک سر محروم ہے۔

حیات تازہ اپنے ساتھ لائی لذتیں کیا کیا

رقابت خود فروشی، ناشکیبائی، ہوسناکی

………………………………………

نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں اور سبسکرائب کریں ۔

اسلامی معلومات ، روایتی معاشیات ، اسلامی معاشیات اور اسلامی بینکاری سے متعلق یو ٹیوب چینل
https://www.youtube.com/user/wasifkhansb?sub_confirmation=1

مغربی  تہذیب   سے کیا مراد ہے؟

محمد ابوبکر صدیق

چہرہ روشن اندروں چنگیز سے تاریک تر

مغربی تہذیب سے مراد وہ تہذیب ہے جو گذشتہ چا ر صدیوں کے دوران یورپ میں نموردار ہوئی۔کیونکہ اس سے قبل تو پورا مغرب جہالت کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا تھا جسے وہ  ( ڈارک ایجز)  کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

مغربی تہذیب کا تولّد سولہویں صدی عیسوی میں اُس وقت  ہوا جب مشرقی یورپ  عثمانی خلافت اسلامیہ کے زیر تسلط آیا ۔ لاطینی اور یونانی علوم کے حامل بہت سے افراد وہاں سے  مغربی یورپ کی جانب چلے گئے۔ہسپانیہ

(موجودہ سپین ) پر عیسائیت کے قبضے کا بھی یہی زمانہ تھا۔مسلمانوں نے تقریبا آٹھ سو سال تک اسپین میں حکومت کی ۔مسلمانوں نے اسپین کو جہالت کی تاریکوں سے نکال کر علم و فن کا ایک شاہکار بنادیاتھا۔ لیکن جب

مسلمانوں کو اسپین سے بے دخل کیاگیا تو وہ تمام علمی و فنی ورثہ عیسائیت کے قبضے میں آگیا۔یہی وہ علمی ورثہ تھا کہ جس سے یونانی اور لاطینی مفکرین نے استفادہ کیا اور جدید  یورپ کی ترقی کا آغاز ہوا۔ یہی زمانہ ہے جب

یورپ میں سائنسی ترقی کا آغاز ہوا۔ نئی نئی ایجادات ہوئیں اُن کے باعث نہ صرف یورپ کی پسماندگی اور جہالت کا علاج ہو گیا۔ بلکہ یورپی اقوام نئی منڈیاں تلاش کرنے کے لیے نکل کھڑی ہوئیں ان کی حریصانہ نظریں

ایشیاءاور افریقہ کے ممالک پر تھیں۔ انگلستان، فرانس، پرُ تگال اور ہالینڈ سے پیش قدمی کی اور نت نئے ممالک کو پہلے معاشی اور پھر سے اسی گرفت میں لینا شروع کر دیااس طرح تھوڑے عرصہ میں ان اقوام نے ایشیاءاور

افریقہ کے بیشتر ممالک پر قبضہ کرکے وہاں اپنی تہذیب کو رواج دیا اس رواج کی ابتداءیونانی علوم کی لائی ہوئی آزاد خیالی اور عقلی تفکر سے ہوئی۔ جس نے سائنسی ایجادات کی گود میں آنکھ کھولی تھی۔ سائنسی ایجادات اور

مشینوں کی ترقی نے اس تہذیب کو اتنی طاقت بخش دی تھی کہ محکوم ممالک کا اس نے حتیٰ المقدور گلا گھونٹنے کی کوشش کی۔ وہاں کے عوام کی نظروں کو اپنی چکاچوند سے خیرہ کر دیا اور وہ صدیوں تک اس کے حلقہ اثر سے

باہر نہ آسکے۔ مسلمان ممالک خاص طور پر اس کا ہدف بنے۔ ترکی، ایران، مصر، حجاز، فلسطین، مراکش، تیونس، لیبیا، سوڈان، عراق، شام غرض تمام ممالک کو یورپ نے اپنا غلام بنا لیا اور ہندوستان پر قبضہ کر کے یہاں کے

مسلمانوں کو ان کی شاندار تہذیب سے بدظن کرنے کی ہر ممکن کوشش کی (۱)۔ اور وہ اپنی اس کوشش میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ان کی اس کامیابی کے پیچھے بہت بڑا اجتماعی ذہن کارفرما ہےجس کی تفصیل علامہ

اقبال ؒ کی نظم  اِبلیس کا فرمان اپنے سیاسی فرزندوں کے نام میں کچھ یوں ملتی ہے

لا کر بَرہمنوں کو سیاست کے پیچ میں                زُناّریوں کو دَیرِ کُہن سے نکال دو

وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا             رُوحِ محمدؐ اس کے بدن سے نکال دو

فکرِ عرب کو دے کے فرنگی تخیّلات                اسلام کو حِجاز و یمن سے نکال دو

افغانیوں کی غیرتِ دیں کا ہے یہ علاج            مُلّا کو اُن کے کوہ و دمن سے نکال دو

اہلِ حرم سے اُن کی روایات چھِین لو               آہُو کو مرغزارِ خُتن سے نکال دو 

تاریخ بتاتی ہے کہ مغلوب اور غلام قوموں کا ایک بنیادی المیہ یہ رہا ہے کہ وہ ہمیشہ غالب قوتوں کی تہذیبی چکا چوندکے سامنے ٹک نہیں پائے۔ لیکن جو تہذیب پختہ بنیادوں پر استوار ہوئی ہو وہ کبھی بھی مٹ نہیں سکتی البتہ

حالات و واقعات کے تناظر میں کبھی اس کا مغلوب ہوجانا ناممکن نہیں۔ اسلامی تہذیب چونکہ قرآن و سنت کے دائمی اور پختہ اصولوں پر مبنی ہے یہی وجہ ہے کہ تاتاریوں کے طوفان بلاخیز کے گزرجانے کے باوجود بھی

اسلامی تہذیب کا چراغ گُل نہیں ہوا۔فی زمانہ بھی اسلامی تہذیب پر مغرب و  یورپ کی جانب سے میڈیا، جدید تعلیمی اداروں اور جمہوریت کے ذریعے حملے کیے جارہے ہیں۔مطلق آزادی، مطلق مساوات ، انسانی حقوق اور

مذہب فرد کا انفرادی معاملہ ہے جیسے دل فریب نعرے بلند کیے جارہے ہیں اور میر جعفر و میر صادق نما غدار ملت ان نعروں کی نمائش میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ لیکن اسلامی تہذیب کا چراغ پھر بھی منور ہے اور ان

شاء اللہ یہ منور رہے گا کیونکہ حق کا نور بجھنے کے لیے تھوڑی ہوتا ہے۔

نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن

پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

مغرب نے کے ابلیسی نظام نے کیسے حملہ کیا اور پھر ابلیسی قوتوں کو خدشہ کس بات کا ہے ؟ کس سے خوف ہے ؟ اس سب کا جامع بیان حضرت علامہ اقبال ؒ کی نظم ابلیس کی مجلس شوری میں موجود ہے۔

ابلیس کی مجلس شوریٰ
1936

ابلیس

یہ عناصر کا پرانا کھیل! یہ دنیائے دوں!

ساکنانِ عرش اعظم کی تمناوں کا خوں!

اس کی بربادی پہ آج آمادہ ہے وہ کارساز

جس نے اس کا نام رکھا تھا جہانِ کاف و نوں

میں دکھلایا فرنگی کو ملوکیت کا خواب

میں نے توڑا مسجد و دیر و کلیسا کا فسوں

میں ناداروں کو سکھلایا سبق تقدیر کا

میں نے معنم کو دیا سرمایہ داری کا جنوں!

کون کر سکتا ہے اس کی آتشِ سوزاں کو سرد

جس کے ہنگاموں میں ہو ابلیس کا سوزِ دروں

جس کی شاخیں ہوں ہماری آبیاری سے بلند

کون کر سکتا ہے اس نخلِ کہن کو سرنگوں!

پہلا مشیر

اس میں کیا شک ہے کہ محکم ہے یہ ابلیسی نظام

پختہ تر اس سے ہوئے خوئے غلامی میں عوام

ہے ازل سے ان غریبوں کے مقدر میں سجود

ان کی فطرت کا تقاضا ہے نمازِ بے قیام

آرزو اول تو پیدا ہو نہیں سکتی کہیں

ہو کہیں پیدا تو مرجاتی ہے یارہتی ہے خام!

یہ ہماری سعی پیہم کی کرامت ہے کہ آج

صوفی و ملا ملوکیت کے بندے ہیں تمام!

طبع مشرق کے لیے موزوں یہی افیون تھی

ورنہ قوالی سے کچھ کمتر نہیں علمِ کلام

ہے طواف و حج کا ہنگامہ اگر باقی تو کیا

کند ہو کر رہ گئی مومن کی تیغِ بے نیام!

کس کی نومیدی پہ حجت ہے یہ فرمانِ جدید

ہے جہاد اس دور میں مردِ مسلماں پرحرام

دوسرا مشیر

خبر ہے سلطانیء جمہور کا غوغا کہ شر؟

تو جہاں کے تازہ فتنوں سے نہیں ہے باخبر!

پہلا مشیر

ہوں، مگر میری جہاں بینی بتاتی ہے مجھے

جو ملوکیت کا اک پردہ ہو کیا اس سے خطر!

ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس

جب ذرا آدم ہوا ہے خود شناس و خود نگر

کاروبارِ شہر یاری کی حقیقت اور ہے

یہ وجود میر و سلطاں، پر نہیں ہے منحصر

مجلسِ ملت ہو یا پرویز کا دربار ہو

ہے وہ سلطاں، غیر کی کھیتی پہ ہو جس کی نظر!

تو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام؟

چہرہ روشن ،اندروں چنگیز سے تاریک تر!

تیسرا مشیر

روح سلطانی رہے باقی تو پھر کیا اضطراب

ہے مگر کیا اس یہودی کی شرارت کا جواب؟

وہ کلیم بے تجلی ! وہ مسیح بے صلیب!

نیست پیغمبر و لیکن در بغل دارد کتاب!

کیا بتاوں کیا ہے کافر کی نگاہِ پردہ سوز

مشرق و مغرب کی قوموں کے لیے روز حساب!

اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا طبیعت کا فساد

توڑ دی بندوں نے آقاوں کے خیموں کی طناب!

چوتھا مشیر

توڑ اس کا رومتہ الکبریٰ کے ایوانوں میں دیکھ

آل سیزر کو دکھایا ہم نےپھر سیزر کا خواب

کون بحر روم کی موجوں سے ہے لپٹا ہوا

گاہ بالدچوں صنوبر، گاہ نالد چوں رباب

تیسرا مشیر

میں تو اس کی عاقبت بینی کا کچھ قائل نہیں

جس نے افرنگی سیاست کو کیا یوں بے حجاب!

پانچواں مشیر

(ابلیس کو مخاطب کرکے)

اے ترے سوزِ نفس سے کارِ عالم استوار

تو نے جب چاہا کیا ہر پردگی کو آشکار

آب و گل تیری حرارت سے جہانِ سوز و ساز

ابلہِ جنت تری تعلیم سے دانائے کار

تجھ سے بڑھ کر فطرت آدم کا وہ محرم نہیں

سادہ دل بندوں میں جو مشہور ہے پروردگار

کام تھا جن کا فقط تقدیس و تسبیح و طواف

تیری غیرت سے ابد تک سرنگوں و شرمسار

گرچہ ہیں تیرے مرید افرنگ کے ساحر تمام

اب مجھے ان کی فراست پر نہیں ہے اعتبار

وہ یہودی فتنہ گر، وہ روحِ مزدک کابروز

ہر قبا ہونے کو ہے اس کے جنوں سے تار تار

زاغ دشتی ہو رہا ہے ہمسرِ شاہیں و چرغ

کتنی سرعت سے بدلتا ہے مزاجِ روز گار

چھا گئی آشفتہ ہو کر وسعتِ افلاک پر

جس کو نادانی سے ہم سمجھے تھے اک مشتِ غبار

فتنہء فردا کی ہیبت کا یہ عالم ہے کہ آج

کانپتے ہیں کوہسار و مرغزار و جوئبار

میرے آقا! وہ جہاں زیر و زبر ہونے کو ہے

جس جہاں کا ہے فقط تیری سیادت پرمدار

ابلیس

(اپنے مشیروں سے)

ہے مرے دستِ تصرف میں جہانِ رنگ و بو

کیا زمیں، کیا مہر و مہ، کیا آسماںِ تو بتو

دیکھ لیں گے اپنی آنکھوں سے تماشا غرب و شرق

میں نے جب گرما دیا اقوام یورپ کا لہو

کیا امامانِ سیاست، کیا کلیسا کے شیوخ

سب کو دیوانہ بنا سکتی ہے میری ایک ہو!

کار گاہِ شیشہ جو ناداں سمجھتا ہے اسے

توڑ کر دیکھے تو اس تہذیب کے جام و سبو

دستِ فطرت نے کیا ہے جن گریبانوں کو چاک

مزدکی منطق کی سوزن سے نہیں ہوتے رفو

کب ڈرا سکتے ہیں مجھ کو اشتراکی کوچہ گرد

یہ پریشاں روزگار، آشفتہ مغز، آشفتہ ہو

ہے اگر مجھ کو خطر کوئی تو اس امت سے ہے

جس کی خاکستر میں ہے اب تک شرارِ آرزو

خال خال اس قوم میں اب تک نظر آتے ہیں وہ

کرتے ہیں اشکِ سحر آگاہی سے جو ظالم وضو

جانتا ہے، جس پہ روشن باطنِ ایام ہے

مزدکیت فتنہء فردا نہیں، اسلام ہے

(2)

جانتا ہوں میں یہ امت حاملِ قرآں نہیں

ہے وہی سرمایہ داری بندہء مومن کا دیں

جانتا ہوں میں کہ مشرق کی اندھیری رات میں

بے ید بیضا ہے پیرانِ حرم کی آستیں

عصر حاضر کے تقاضوں سے ہے لیکن یہ خوف

ہو نہ جائے آشکارا شرعِ پیغمبر کہیں

الحذر آئین پیغمبر سے سو بار الحذر

حافظ ناموس زن، مرد آزما، مرد آفریں

موت کا پیغام ہر نوع غلامی کے لیے

نے کوئی فغفور و خاقاں، نے فقیر رہ نشیں

کرتا ہے دولت کو ہر آلودگی سے پاک و صاف

منعموں کو مال و دولت کا بناتا ہے امیں

اس سے بڑھ کر اورکیا فکر و عمل کا انقلاب!

بادشاہوں کی نہیں اللہ کی ہے یہ زمیں

چشمِ عالم سے رہے پوشیدہ یہ آئیں تو خوب

یہ غنیمت ہے کہ خود مومن ہے محرومِ یقیں!

ہے یہی بہتر الہیات میں الجھا رہے

یہ کتاب اللہ کی تاویلات میں‌الجھا رہے

(3)

توڑ ڈالیں جس کی تکبریں طلسمِ شش جہات

ہو نہ روشن اس خدا اندیش کی تاریک رات!

ابنِ مریم مر گیا یا زندہء جاوید ہے؟

ہیں صفاتِ ذاتِ حق سے جدا یا عین ذات؟

آنے والے سے مسیح ناصری مقصود ہے

یا مجدد جس میں ہوں فرزند مریم کے صفات؟

ہیں کلام اللہ کے الفاظ حادث یا قدیم

امتِ مرحوم کی ہے کس عقیدے میں نجات؟

کیا مسلماں کے لیے کافی نہیں اس دور میں

یہ الہیات کے ترشے ہوئے لات و منات؟

تم اسے بیگانہ رکھو عالمِ کردار سے

تا بساطِ زندگی میں اس کے سب مہرے ہوں مات!

خیر اسی میں ہے قیامت تک رہے مومن غلام

چھوڑ کر اوروں کی خاطر یہ جہانِ بے ثبات

ہے وہی شعر و تصوف اس کے حق میں خوب تر

جو چھپا دے اس کی آنکھوں سے تماشائے حیات!

ہر نفس ڈرتا ہوں اس امت کی بیداری سے میں

ہے حقیقت جس کے دیں کی احتسابِ کائنات!

مست رکھو ذکر و فکرِ صبحگاہی میں اسے

پختہ تر کر دو مزاجِ خانقاہی میں اسے​

………………………………………

 ۔( 1) ۔ وکی پیڈیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں اور سبسکرائب کریں ۔

اسلامی معلومات ، روایتی معاشیات ، اسلامی معاشیات اور اسلامی بینکاری سے متعلق یو ٹیوب چینل
https://www.youtube.com/user/wasifkhansb?sub_confirmation=1

جمہوریت کی گود میں ریاستِ مدینہ کا خواب

…………………………………….

محمد ابوبکر صدیق

 ہمارا وزیر اعظم کب سایئکل پر پارلیمنٹ جائے گا؟

 یہ وہ سوال ہے جوعموما ً فکری ناپختگی کا شکار نوجوان اٹھاتے ہیں۔ میرا اُن سے سوال ہے کہ کیا وزیر اعظم  کے سایئکل پر پارلیمنٹ جانے سے ملک میں خوش حالی آجائے گی ؟ اس پر عرض ہے کہ جن ممالک میں وزیر اعظم  ایک بارسائیکل پر پارلیمنٹ  گیا تھا وہاں دہشت گردی کا جن ایسے کھلے عام نہیں تھا جیسے ہمارے ہاں ہے۔اور اس سوال پر بھی غور کی جئے گا اس دہشت گردی کے پیچھے کہیں انہی  ممالک کی ہی فنڈنگ تو نہیں ؟ نیز ذرا یہ بھی دیکھ لی جیے گا کہ اس کے سائیکل پر جانے سےاُس دن وزیر اعظم کی سیکیورٹی کی مد میں   اُن کے ملکی خزانے  پر کتنا بوجھ پڑا تھا؟

جب دشمن زیادہ ہوں تو شریعت  حکمران کے لئے حفاظتی اقدامات کی اجازت دیتی ہے ۔ خلافت راشدہ کے زمانے میں اگرچہ جاسوسی نظام وہ نہیں تھا جو آج ہے  اور نہ ہی موجودہ دور  کے جدید ہتھیار جیسے کوئی ہتھیار   تھے۔ ملکی اور بین الاقوامی حالات بھی موجودہ زمانے کی مانند دگرگوں نہیں تھے۔ لیکن  اُس کے باوجود ہمارے تین عظیم خلفائے راشدین حضرت سیدنا عمر فاروق رضی، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ کی شہادت قاتلانہ حملوں میں ہوئی جس کی ایک وجہ سیکیورٹی کا نہ ہونا بھی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ان دل اندوہ نقصانات کی بدولت فقہائے کرام نے مسلم حکمران کی حفاظت کے لئے انتظام کو شریعت کا حکم قرار دیا۔

جہاں تک حکومتی اللوں تللوں یعنی فضول خرچی کی بات ہے تو اس پر واقعی اقدامات لازمی ہیں۔ اب کیا کریں پارلیمنٹ میں پہنچنے والے آسمان سے تو اترے نہیں۔ بلکہ ہم میں سے ہی نکل کر وہاں پہنچے ہیں۔ ہم ٹھیک ہونگے تو وہ بھی ٹھیک ہونگے۔ ہم ٹھیک کیوں نہیں ہو پا رہے؟اُس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم مذہباً مسلمان ہیں لیکن  ہمارا اپنایا ہوا نظام ِ حیات مغربی ہے۔ ’’کانچ کا پیوند لگاو گے تو شاخوں پر کرچیاں ہی اگیں گیں‘‘۔ ایسے منافقانہ معاشرے میں ایسے ہی افرادکی کھیپ ہی تیار ہوتی ہے جیسی پارلیمنٹ میں پہنچی ہوئی ہے۔ووٹ دیتے وقت ہماری ترجیحات کیا ہوتی ہیں۔

۔1۔ میرا تعلق دار جیتے بھلے کیسا ہی خبیث کیوں نہ ہو۔
۔2۔ میں یا میرا کوئی بھی رشتے دار کسی جرم میں پکڑا جائے تو میں جسے ووٹ دوں وہ مجھے چھڑائے۔
۔3۔ جسے میں ووٹ دوں وہ ہر حالت میں میرے مخالف پر ظلم کے پہاڑ توڑ دے خواہ وہ سچا ہی کیوں نہ ہو۔

ہم ایسی ترجیحات کے ساتھ ووٹ دے کر سیاستدان منتخب کرتے ہیں اور سوچیں وہ سیاستدان کیسا ہو گا جو ہماری ان ترجیحات پرپورا بھی اترتا ہو۔ پھر خود فریبی میں مبتلا لوگ  دعا یہ کرتے ہیں کہ اُن  کے ووٹ سے اُ ن کا ملک مدینہ کی ریاست بن جائے۔

یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم  اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کو پس پشت ڈالیں اور اخلاق باختہ، ظالم ، کرپٹ لوگ پارلیمنٹ بھیجیں اور پھر ان سے امید کریں کہ وہ صدیقی و فاروقی، عثمانی و حیدری کردار ادا کریں۔ پیشاب سے پھل دار درخت سیراب کرو گے تو ذائقہ بھی وہی  ملے گاپیارے۔ حقیقت یہ ہے کہ تم  خود فریبی میں مبتلا ہواور یہ ہمارے معاشرے کی ایک کڑوی سچائی ہے۔

مغربی جمہوریت کی گود سے مغربی اقوام تو فوائد لے رہی ہیں پھر ہم کیوں نہیں لے پا رہے؟

اس سوال کا درست جواب ایک اور سوال میں مضمر ہے کہ کیا واقعی مغربی معاشرہ اپنی جمہوریت سے خواطر خواہ فوائد لے رہا ہے ؟ یا یہ صرف میڈیا کا ڈرامہ اور پراپگنڈہ  ہے ؟ یہ محض ایک دھوکہ ہے اور کچھ نہیں۔اس پر غور کرنے سے قبل پہلے یہ طے کر لیں کہ جن ’’فوائد ‘‘ کی بات کی جارہی ہے اُن کی تعریف کیا ہے ؟ فائدہ ، کامیابی ، خوش حالی اور امن کہتے کسے ہیں ؟ آپ اگر مغربی فکر سے آگاہ ہیں تو جواب ملے گا ’’ انسانی خواہشات کی تکمیل‘‘ ہی وہ تصور ہے جو خوش حالی اور امن کی علامت ہے۔ اگر امن اسی تصور کا نام ہے تو پھر یہ تسلیم کرلیں واقعی مغرب کی دنیا کسی حد تک فوائد لے رہی ہے اور وہ اپنے خدا (خواہشات) کو راضی کر رہے ہیں۔یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔ دوسرا رخ زیادہ بھیانک ہے کہ مغربی معاشرے میں  مذہب سے دوری نے  روحانی تسکین کا بیڑا غرق کردیا ہے۔جرائم کے اعدادوشمار بہت زیادہ ہیں۔ اگر فوائد کی تعریف وہ ہے جو مذہب فراہم کرتا ہے تو پھر مغرب سراسر گھاٹے میں ہے۔

مغرب کے گال کی سرخی کے پیچھے دیگر اقوام کے خون کی لالی  شامل ہے۔بقول حضرت اقبال ؒ   ’’ شفَق نہیں مغربی اُفق پر یہ جُوئے خوں ہے، یہ جوئے خوں ہے!‘‘۔

مغربی جمہوریت میں جسمانی تسکین کے فوائد کی قیمت  مذہب سے آزادی ہے اور مغربی جمہوریت کی یہ اولین شرط ہے۔ وہاں اقتدار اعلی کا اختیار عوام کے پاس ہوتا ہے۔  جبکہ اسلام میں مقتدر اعلی اللہ جل مجدہ کی ذات ہے۔انسان اُس کا نائب ہے۔مغرب انسان کو خدا سمجھ کر چلانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں مطلق آزادی کے نام پر ہیومن رائٹس جیسے تصور سامنے آئے۔ ’’ میں جیسے چاہوں اور جو چاہوں کرسکوں ‘‘ کی خواہش انسان کا حق قرار پاتی ہےاور مغربی جمہوریت اُسے یہ حق دینے کا سارا زور لگاتی ہے۔ جبکہ اسلام کے نظام میں انسان اپنی خواہشات میں آزاد نہیں ہے، بلکہ یہاں تو خواہشات کو جائز و ناجائز میں تقسیم کیا جاتا ہے اور پھر جائز خواہشات میں بھی خواہشات کی قربانی کا سبق ازبر کرایا جاتا ہے۔

ایسے میں کیا ایک مسلمان جسمانی تسکین کے حصول میں مغربی جمہوریت کے بنیادی اصولوں کو اپنا سکتا ہے؟
نہیں کبھی بھی نہیں کیونکہ اس کے لئے اُسے اپنے  ایمان کی قربانی دینی پڑے گی۔اس لئے مسلمان مغربی جمہوریت سے کبھی بھی وہ فوائد حاصل نہیں کر سکتے جو  مغرب لے رہا ہے۔اس لئے ہمیں فلاح (دنیا و آخرت کی کامیابی )کے لئے اپنے مذہب حق اسلام کی طرف لوٹنا پڑے گا۔ وہ نظام جسے ہمارے اسلاف نے اپنا کر دنیا کی تاریخ میں اپنے زمانے کو ’’ گولڈن ایج‘‘ کے نام سے امر کر گئے۔اس لئے  ہمیں بھی اپنے اسلامی نظام حیات کی طرف دیکھنا ہوگا جس میں فلاح کی امید نہیں بلکہ یقین دہانی ہے۔زندگی کے حقیقی مقصد کی پہچان کا سبق اپنی نسلوں کو دیں پھر دیکھیں عزتوں کے سارے رستے تمہارے قدموں میں ہونگے۔

لوٹ جا عہدِ نبیﷺ کی سمت رفتارِ جہاں

پھر میری پسماندگی کو اِرتقاء درکار ہے

آج بھی ہو جو براہیمؑ کا ایماں پیدا
آگ کر سکتی ہے اندازِ گُلستاں پیدا 

اسلام کچھ اور ہے اور جمہوریت کچھ اور ہے ۔ اس لیے خدارا اسلامی جمہوریت کا دھوکہ کبھی نہ کھائیے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں اور سبسکرائب کریں ۔

اسلامی معلومات ، روایتی معاشیات ، اسلامی معاشیات اور اسلامی بینکاری سے متعلق یو ٹیوب چینل
https://www.youtube.com/user/wasifkhansb?sub_confirmation=1

 انسانی رویوں پر سرمایہ دارانہ نظام کے اثرات

Behavioral Impact of Capitalism

تحریر : محمد ابوبکر صدیق

…………………………………….

پندرھویں اور سولہویں صدی سرمایہ دارانہ نظام کی فکری ترویج کی صدیاں کہلاتی ہیں ۔ اس زمانے میں مغربی مفکرین  کا سارا زور اپنے معاشرے کو مذہب سے آزاد کرنے میں صرف ہوا۔ سترہویں صدی میں مغرب نے مارٹن لوتھر کی قیادت میں چرچ سے آزادی حاصل کی۔ بظاہر تو وہ بھی مذہب کا نمائندہ رہا اور پروٹسٹنٹ عیسائیت کی بنیاد رکھی۔ لیکن مغربی معاشرے کو لادینیت کی طرف دھکیلنے کا بنیادی کردار اسی کا ہے۔ کیونکہ چرچ کے خلاف بغاوت کا پہلا قدم اٹھانے کی ہمت اس نے پیدا کی اور لادینیت کی جانب ایک اور قدم بڑھانے میں اس معاشرے کو کوئی جھجھک نہیں ہوئی۔ رہی سہی کسر دہریت کے علم بردار مفکرین نے پوری کر دی۔ ان دو صدیوں میں جو فکر پروان چڑھی اس میں اہم نکات یہ ہیں۔

۔1۔ مذہب کو ہماری زندگیوں میں مداخلت کی اجازت نہیں۔

۔2۔ اپنے فیصلوں میں انسان مطلق آزاد ہے۔

۔3۔ انسان اپنی خواہش میں آزاد ہے۔ وہ جو چاھنا چاھے اس میں وہ خود مختار ہے۔ اور اس چاہ کو پورا کرنا اس کا حق ہے۔

۔4۔ خیر و شر کے فیصلے کا اختیار انسان کو ہے۔

۔5۔ انسان مطلق آزاد ہے۔

یہ وہ نظریات تھے جنہوں نے مغربی معاشرے کو الحاد کی گہرائی میں دھکیل دیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ’’ خدا مرا چکا ہے‘‘ نظریات مقبول ہوئے۔ بالآخر انسان کو ’’ ہیومن بی ئنگ ‘‘ کے منصب پر براجمان کردیا گیا۔ یعنی انسان اپنے ہونے میں کسی کا محتاج نہیں ہے۔ وہ اپنا خدا خود ہے۔ وہ تمام امور کے فیصلے خود کرتا ہے۔ وہ جو چاہے کرے یعنی ہر چاہت کے چاھنے کا حق اسی کا ہے۔ بقول ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری صاحب ان دونوں نظاموں کا کلمہ ایک ہے : لا الہ الا الانسان۔ یہی وجہ تھی کہ ان نظریات کے اثرات اس معاشرے میں وجود میں آنے والے ہر نظام سیاسی ، معاشی ، معاشرتی سطح پر کافی شدت سے مرتب ہوئے۔ حقوق کی بات آئی تو ہیومن رائٹس کا تصور ابھرا ۔ انسان چونکہ اپنی خواہشات میں آزاد ہے۔ اس لئے جو وہ چاہے اسے ملنا لازمی ہے۔چنانچہ مغربی ممالک نے پارلیمنٹ میں ہیومن رائٹس کی مد میں جو قوانین بنائے ان میں سے 3 یہ ہیں ورنہ فہرست طویل ہے۔

۔ جس انسان کی خواہش ہو کہ وہ ہم جنس کے ساتھ شہوانی خواہش پوری کرے یہ اس کا بنیادی حق ہے۔

۔ انسان اگر اپنی شہوانی خواہش کو شہوانی کھلونوں (سیکس ٹول) سے پورا کرنا چاھتا ہے تو یہ اس کا حق ہے۔

۔ مرد و عورت اپنی شہوانی جذبات کی تسکین کے لئے بغیر نکاح یا شادی کے ایک دوسرے سے تعلق استوار کرنے کا حق رکھتے ہیں۔

۔ اسقاط حمل ہر عورت کا حق ہے۔ یہ اس کی مرضی ہے چاہے تو وہ بچہ جنے چاہے تو نہ جنے۔ حتی کہ اسے یہ بھی حق حاصل ہے کہ اپنے پیٹ میں موجود بچے کو کسی بھی سٹیج پر قتل کرنا چاھے تو کردے۔

اٹھارویں صدی میں ایڈم سمتھ آتا ہے اور سرمایہ دارانہ معاشیات کا باقاعدہ تولد ہوتا ہے۔ اکنامکس کی ام الکتاب ” قومی دولت ” ویلتھ آف نیشن تحریر کرتا ہے۔ اس کے بعد علم معاشیات کے مختلف مفکرین آئے۔یہ  سارے معاشی مفکرین کلاسیکل ہوں یا کینیزین یا ان کی گود سے نکلنے ” نیو ” فرقے خواہ سرمایہ داریت ہو یا اشتراکیت سب کے سب چونکہ ایک ہی خاص معاشرتی فکر سے نکل کر آئے تھے اس لئے ان سب نے مل کر جو اکنامکس مرتب کی  اس کا مقصود ایک ہی تھا۔

سرمایہ داریت اور اشتراکیت میں اختلاف  کیا ہے؟

ان دونوں نظاموں کے اہداف میں عمومی طور پر کوئی فرق نہیں۔ یہ دونوں نظام ایک مقصد کے حصول کی جد و جہد کرتے ہیں البتہ اس مقصود کے حصول میں طریقہ کار میں فرق ہے۔

وہ مقصد واحد کیا ہے؟؟

انسان کی خواہشات کی تسکین وتکمیل  زندگی کا بنیادی مقصد ہے۔

یہ دونوں نظام باہم دست و گریباں نظر آتے ہیں۔ کیونکہ ایک نظام سرمایہ دار انسان کی خواہشات پر زور دیتا ہے تو دوسرا مزدور کی خواہشات کا علم لے کر اٹھتا ہے۔ لیکن دونوں میں خدائی کا منصب انسانی خواہشات کے پاس ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک سرمایہ داریت کا حامل ہو یا اشتراکیت کا  لیکن ان سب ممالک میں  ہیومن رائٹس  مشترک ہیں ۔ جس کی ایک مثال ہم جنس پرستی کا قانونی جواز ہے۔

معاشی مسئلہ:

یہ دونوں معاشی نظام ایک ہی  معاشی مسئلے کے گرد طواف کرتے ہیں  اور وہ ہے ’’ خواہشات لامحدود ہیں جبکہ وسائل محدود اور کم ہیں‘‘۔ اس مسئلے سے نمٹنا کیسے ہے۔ اس کے لئے ان دونوں معاشی نظاموں کےدرج ذیل  تین بنیادی مفروضے ہیں:

1۔ اکنامکس میں مذہب کا کوئی کردار نہیں۔

2۔ اکنامک ایجنٹ ( پروڈیوسر ، کنزیومر اور حکومت) خود غرض ہیں۔ Self interest

3۔ زیادہ سے منافع، مفادات، افادہ (یوٹیلیٹی )   کا حصول مقصد (حیات) ہے۔

اگر غور کریں تو واضح ہوجائے گا کہ موجودہ اکنامکس کے معاشی مسئلے اور تین مفروضات پر پندرھویں اور سولہویں صدی کے مفکرین کی فکر کتنا گہرا اثر پڑا ہے۔یہ تین مفروضے مجموعی طور پر انسان کے رویوں پر کیا اثرات مرتب کرتے ہیں کسی ذی شعور کے لئے  مشکل نہیں ہے۔ مذہب کا دخل نہیں کا مطلب یہ ہے کہ دنیا و آ خرت میں احتساب کا کوئی تصور ہی نہیں تو پھراسے کس بات کا ڈر ہو کہ وہ کوئی گناہ نہ کرے ۔ اکنامک ایجنٹ خود غرض ہے ۔ اُسے صرف اپنی ذات سے غرض ہے اور بس  اور اسے ایک خوش نما اصطلاح دے دی ’’ سیلف انٹرسٹ‘‘ ۔ اس پر طرفہ یہ کہ منافع ، مفادات ، افادہ کے زیادہ سے زیادہ حصول کو  زندگی کا مقصد بنا دیا  ۔  جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان اس مقصد کے لئے کسی بھی حد تک گر سکتا ہے اور جا سکتا ہے۔ کیونکہ اخلاقی سطح پرانسان  سے احتساب کا خوف تو چھین لیا پھر وہ کس سے ڈرے ؟ بڑی حد تک کہا جا سکتا ہے کہ اسے ملکی قانون کا ڈر ہو گا ۔ تو اس پر عرض ہے کہ مغربی ممالک میں جرائم کے اعداد و شمار دیکھ لی جیے  یہ اور بات  کہ بہت سے جرائم تو اب قانونی ہیں ۔

یہ بحث تو  مختلف الجہات ہے اور کافی وسیع ہے۔ اختصار کے طور پر میں یہاں صرف  ’’ہیومن رائٹس اور اکنامکس ‘‘ کے  باہم ملاپ سے وجود میں آنے والی معاشرت و معیشت پر عرض کرونگا۔

مغربی ہیومن رائٹس اور اکنامکس نے ملکر جو معیشت کا تصور دیا ہے وہ کیسا ہو سکتا ہے؟

مندرجہ بالا ہیومن رائٹس اور اس جیسے دیگر رائٹس متعین ہوئے تو  ان کو  پورا کرنے کے لئے  ان  کی سپلائی کا مسئلہ پیدا ہوا۔ تو یہاں اس معاشرت سے جنم لینے والے معاشی نظام نے قدم بڑھائے اور  سیکس ٹولز انڈسٹری، جوا خانے ، پورن انڈسٹری، قحبہ خانے سمیت سب ابلیسی  اعمال کو باقاعدہ انڈسٹری کی حیثیت دے دی ۔ یہ انڈسٹری سپلائی فراہم کرے گی ۔ جس کی ڈیمانڈ پہلے ہی معاشرے میں موجود تھی۔ یوں یہ بزنس چل نکلا جسے باقاعدہ قانونی سند بھی فراہم کردی گئی۔ (معاشرت میں آسمانی خدا کا دخل نہیں تھا اس لیے وہ بھی جائز ۔ معیشت میں بھی خدا کا کوئی کردار نہیں اس لیے یہاں بھی یہ امور جائز )۔

(یہ ہیں مغربی دنیا کے ہیومن رائٹس اور معیشت کا وہ ’’امتزاج یا کمبی نیشن ‘‘  جس کے اطلاق کا مطالبہ اب اسلامی ممالک میں بھی گنتی کے چند لبرل گروہوں کی  جانب سے ہونے لگا ہے)۔اب تو اقوام متحدہ کے باقاعدہ مقاصد میں شامل ہے کہ ہم جنس پرستی  سمیت ان تمام ابلیسی کاروباروں کو پوری دنیا میں قانونا جائز تسلیم کیا جائے۔گویا مغرب کا کہنا یہ ہے کہ :  اس میں  کسی آسمانی خدا کو کیا اجازت ہے کہ وہ انسان کی خواہشات پر قدغن لگائے۔

انوسٹمنٹ  سے کیا مراد ہے ؟

سرمایہ دار کا کسی بھی کاروبار میں نفع کمانے کی غرض سے پیسہ لگانا انوسٹمنٹ کہلاتا ہے۔ چنانچہ سرمایہ دار نے مندرجہ بالا سب ابلیسی کاموں میں پیسہ لگانے کو بھی  “انوسٹمنٹ” کا نام دیا۔ اور اس پر نفع کمانا جائز ٹھہرا۔ سرمایہ داریت کی یہ ایک ہلکی سی جھلک ہے۔ورنہ حقائق تو

ہوش ربا ہیں۔ صاف ظاہر ہے قحبہ خانے چلانے کے لئے عورتیں درکار ہیں (سپلائی )۔ ڈیمانڈ پوری کرنے کے لئے سپلائی کہاں سے ہوگی؟ اس کے لئے ہیومن ٹریفکنگ کے اعداد و شمار گوگل کر کے دیکھ لی جیے  سب واضح ہوجائے گا ۔

کوئی بھی  نظام کب کا میاب ہوتا ہے ؟

ہر نظام اپنے کچھ مفروضات اور مقاصد رکھتا ہے جن کے بغیر وہ نظام ایک بانجھ درخت مانند ہوتا ہے۔ سرمایہ داریت و اشتراکیت بھی اپنے اساسی ستونوں کے بغیر ایک بانجھ درخت ہیں بلکہ الٹا نقصان دہ نتائج کا سبب بنتے ہیں۔ سرمایہ داریت و استراکیت کے مشترکہ اساسی ستونوں میں لبرل ازم (مذہب آزاد)، ہیومن رائٹس، جمہوریت، قوم پرستی وغیرھا شامل ہیں۔ لہذا  یہ دونوں نظام ان ستونوں کے بغیر کوئی فائدہ نہیں دے سکتے ۔

مغربی ممالک سرمایہ دارانہ نظام اور اشتراکیت سے فوائد لے رہے ہیں لیکن مسلم ممالک ان کے ثمرات سے کیوں محروم ہیں؟

اول تو اس وقت کوئی بھی مسلم ملک نہ تو خالصتا ً سرمایہ داریت پر مبنی ہے اور نہ ہی اشتراکیت پر اور نہ ہی مکمل طور پر اسلامی نظام کا حامل ہے۔ تقریباً تمام اسلامی ممالک  میں اس وقت تینوں نظاموں  کے مشترکہ چربے سے وجود میں آنے والے نظام کی  کوئی نہ کوئی صورت مروج ہے البتہ اس میں غالب رنگ سرمایہ داریت کا ہی ہے۔

 کوئی بھی اسلامی ملک اگر کلیتا ً سرمایہ داریت اپنا لے یا اشتراکیت کو گلے لگا لے وہ کبھی بھی اپنے ہاں ترقی و خوشحالی نہیں لاسکتے۔ کیونکہ اسلامی معاشرے  کے افراد کے لئے ان نظاموں کی اساس کو اپنانا ممکن ہی نہیں۔ اس کے لئے انہیں اپنے ایمان کی قربانی دینا پڑے گی اور وہ یہ کرنے سے رہے۔ کیونکہ ان کے اساسی ستون قرآن و سنت سے متصادم ہیں۔ لبرل ازم ، قوم پرستی،  ہیومن رائٹس جیسی بکواسیات کا اسلام میں کوئی تصور ممکن ہی نہیں)۔

فی الوقت ہوکیا رہا ہے ؟

مسلمان عقائد تو اسلامی رکھنا چاھتے ہیں لیکن معاشی نظام سیاسی نظام دوسرے رکھنا چاھتے ہیں۔تو اس صورت حال میں مسلمان کی وہی صورت سامنے آتی ہے جو اس وقت دیکھنے کو مل رہی ہے۔ایسے میں دین پر کاربند مسلمان بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ آخر اس نے بھی اسی نظام میں آنکھ کھولی ہے۔ اپنے اردگرد کے ماحول سے وہ بھی متاثر ہوجاتا ہے۔ البتہ ان کے متاثر ہونے کی شرح معاشرے کے دیگر طبقات کی نسبت کم ہے۔  تاہم مجموعی طور پر اسلامی ملک کے معاشرے کی جو صورت سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ  ایک طرف آفات کا سامنا ہو اور لوگ مصیبت میں مبتلا ہوں تو اس پر منافع خوری  کی حرص سوار ہو جاتی ہے۔ چند روپے ماسک ذخیرہ کر لیا جائے تاکہ بعد میں زیادہ منافع پر فروخت کریں ۔ ایکسپائر میڈیسن پر  نئی تاریخ کا لیبل چسپاں کر کے فروخت کردیا جائے تاکہ چند سو روپے بچائے جا سکیں بھلے میڈیسن سے مریض کی جان چلی جائے  ’’ کوئی جئے یا مرے ، میرے دو روپے کھرے‘‘۔ اشیاء میں ملاوٹ کر کے فروخت کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ دولت کما لی جائے ۔ دھوکے فراڈ کی ایسی نئی سے نئی شکلیں اورایسے  طرق ہائے ورادات سامنے آ رہے کہ ابلیس بھی شرما جائے۔ مسلم معاشروں میں لڑکیوں کی عصمت داری کے بڑھتے واقعات ، بچوں بچیوں سے زیادتی کے بعد قتل کے پے در پے بڑھتے  ہوش ربا اور دل دہلا دینے والے واقعات یہ سب اس بات کی عکاسی کر تے ہیں کہ کلمہ پڑھنے والے معاشرے میں ان ساری ابلیسی حرکات کا محرک آخر کیا ہے ! وہ ہے ملکی سطح پر اسلامی نظریہ حیات سے دوری ۔ ریاست معیشت و معاشرت ، عدالت سب کچھ مغربی فکر پر چلانا چاہ رہی ہے لیکن ملک کے باشندے اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان کے حامل ہیں۔ راستہ ناہموار بناو گے تو گاڑی کیسے سکون سے چلے۔

اس سب کا   عملی نتیجہ یہ نکلا  ہے کہ  مسلم معاشرے کسی بھی نظام  کے ثمرات  نہیں لے پا رہے۔ بلکہ صورت حال مزید بد سے بد تر ہوتی جارہی ہے۔ مسلم ممالک بین الاقوا می قرضوں تلے دن بدن دبتے چے جارہے ہیں۔ مسلم معاشروں کی مجموعی صورت حال کو دیکھ لیں ۔ خاندانی نظام تقریبا ً تباہ ہوچکا ہے۔  معاشرتی سطح پر تعلقات آلودہ ہو چکے ہیں۔ معاشی صورت حال کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ نام کے مسلماں تو ہیں لیکن مساجد اب گرجا گھروں کی مانند صرف مخصوص دن جیسے جمعہ کو ہی بھری نظر آتی ہیں۔ اس صورت حال میں مسلم ممالک نے پایا کم کھویا زیادہ ہے۔ اس صورت حال میں موجودہ معاشرے کا مسلمان نہ تو  اچھا  مسلمان بن پایا اور  نہ ہی سرمایہ دار یا اشتراکی ۔ کامیابی   ملتی بھی تو کیونکر  کہ ذلت کےراستے پر چلنے سے عزتیں کہاں ملا کرتی ہیں۔

 قرآن مجید نے معاشرے کے اپنائے ہوئے موجودہ روش اور رویے کو گمراہی اور ذلت کا سبب قرار دیا ہے۔

مُّذَبْذَبِينَ بَيْنَ ذَٰلِكَ لَا إِلَىٰ هَٰؤُلَاءِ وَلَا إِلَىٰ هَٰؤُلَاءِ ۚ وَمَن يُضْلِلِ اللَّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُ سَبِيلًا (143) النساء                                                                                    

 (وہ اس (کفر اور ایمان) کے درمیان تذبذب میں ہیں نہ ان (کافروں) کی طرف ہیں اور نہ ان (مؤمنوں) کی طرف ہیں، اورجسے اللہ گمراہ ٹھہرا دے تو آپ ہرگز اس کے لئے کوئی (ہدایت کی) راہ نہ پائیں گے)۔

یعنی دھوبی کا کتا نہ گھر کا رہا نہ گھاٹ کا۔ کیوں نہ پھراسلام کے دامن میں پناہ لی جائے۔

                                                                                                                                         لوٹ جا عہد نبی ﷺ کی سمت اے رفتار جہاں                                                                                                                                               

                                                                                                                                              پھر میری پسماندگی کو ارتقاء درکار ہے                                                                                                                                                    

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں اور سبسکرائب کریں ۔

اسلامی معلومات ، روایتی معاشیات ، اسلامی معاشیات اور اسلامی بینکاری سے متعلق یو ٹیوب چینل
https://www.youtube.com/user/wasifkhansb?sub_confirmation=1

 آن لائن جماعت کے لئے  لاؤڈ سپیکر سے استدلال

 

تحریر : محمد ابوبکر صدیق

…………………………………….

آن لائن جماعت کا مسئلہ اپنی نوعیت میں بذات خود ایک ایسا مضحکہ خیز امر ہے کہ کوئی بھی صاحب بصیرت ہنسے بغیر نہیں رہ سکتا۔ گزشتہ ہفتے سوشل میڈیا پر اس معاملے کے جو “لتے” لئے گئے ہیں اسی سے اندازہ لگا لیں ۔ لیکن مجھے یہ پوسٹ لکھنی پڑ رہی ہے کہ غامدی احباب ماضی بعید میں سپیکر کے جواز کے معاملے میں جھوٹ بول بول کر اسلاف علمائے کرام پر کیچڑ اچھالنے ، ان پر الزام لگانے اور انہیں جہالت کی سند دینے میں مصروف ہیں۔اس لئے میں نے اہم سمجھا کہ اپنے قیمتی نوجوانوں کے سامنے کچھ حقائق رکھ کر غامدی صاحب کے فریب کا پردہ چاک کروں ۔ اسلاف علما پر جو سخت زبان غامدی احباب کھولتے ہیں۔ غامدی صاحب پر ہمارے الفاظ تو اس کا عشر عشیر بھی نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ غامدی صاحب بذات خود قیام جماعت کے قائل ہی نہیں وہ صرف اس کی فضیلت کے قائل ہیں ۔ ان کے نزدیک جماعت کا اہتمام صرف حضور نبی اکرم ﷺ کے وقت خاص تھا۔ آپ کے بعد زید بکر کی امامت کی کوئی اہمیت نہیں رہ جاتی ۔ ہاں اگر کروانی بھی ہے تو ریاست کا سربراہ امامت کروائے۔ یہ ہے غامدی صاحب کا موقف ۔۔۔۔۔ جس پر بڑے سوالات اٹھ سکتے ہیں کہ ایک طرف غامدی صاحب کہتے ہیں ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہوتا جبکہ دوسری طرف کہتے ہیں ریاست کا سربراہ مذہبی فریضہ امامت سر انجام دے۔ غامدی صاحب خود ہی ایک بات کرتے ہیں اور دوسرے ہی لمحے اپنے ہی اصول کی درگت بناتے ہیں۔

سپیکر کی اجازت ” کو لے کر آن لائن جماعت کا ڈھونڈورا پیٹا جا رہا ہے۔ کہ ابتداء سپیکر کی مخالفت ہوئی پھر وہی ” مولوی” بعد میں مان گئے۔ اس لئیے آن لائن جماعت میں بھی ایسا ہی ہوگا۔پہلے تو یہ یقین کر لیں ایسا کبھی بھی نہیں ہوگا۔۔۔۔ کیوں ؟ اس کیوں کا جواب میں آگے چل کر دونگا ۔لاؤڈ سپیکر کے معاملے میں غامدی احباب سنی سنائی کے قائل ہیں۔ بے چارے سوشل میڈیا سے باہر تاریخی کتب کا مطالعہ کر تے ہی نہیں ۔ کسی نے جو کچھ بھی کہہ دیا سچ مان لیا صرف شرط یہ ہوتی ہے کہ بس بات علماء کے خلاف ہونی چاھیے ۔

کسی بھی نئے معاملے کے شرعی جواز کے لئے علمائے کرام کا طریقہ کار کیا ہے؟

علمائے کرام اس بارے میں بالکل وہی طریقہ اپناتے ہیں جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا تھا۔ کہ وہ ہر نئے در پیش معالے پر قرآن و سنت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب رجوع کرتے تھے۔ پھر اجماع کی جانب ۔ پھر قیاس ۔۔۔ بالآخر اجتہاد کی جانب ۔ لیکن ہر اصل کی اپنی اپنی شرائط پوری کی جاتی تھیں۔ علمائے کرام بھی بالکل وہی طریقہ اپناتے ہیں۔ کیونکہ فتوی کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے بلکہ ایک شرعی امر پر اللہ کے رسول ﷺ کی نیابت جیسا اہم امر ہے۔ اس میں وقت بھی لگتا ہے اور محنت بھی۔ (البتہ غامدی صاحب کو ہر امر میں مجتہد بننے کی خواہش ہوتی ہے اس لئے وہ کسی بھی شرط کو خاطر میں نہیں لاتے)۔

ماضی بعید میں جب لاؤڈ سپیکر متعارف ہوا تھا تو اس وقت علمائے کرام نے کس معاملے میں سپیکر کی مخالفت کی تھی؟

علمائے کرام نے سپیکر کی مطلق طور پر مخالفت نہیں کی تھی۔ چنانچہ مذہبی اجتماعات میں تقریروں، نعت جیسے امور میں علما ئے کرام خود اس کا استعمال کرتے تھے ۔ علما نے صرف تین امور آذان اور نماز میں تلاوت اور تکبیرات میں اسپیکر کے استعمال کی اجازت نہیں دی تھی کیونکہ شرعی اصول یہ تھا کہ یہ ایسی عبادت ہے جو انسان کی حقیقی آواز میں ہی درست قرار پاتی ہے۔ مصنوعی آواز میں عبادت کا کوئی تصور نہیں ہے۔


کیونکہ سپیکر کے جواز کے معاملے میں انسانی آواز کے حقیقی یا مصنوعی ہونے کا اخفا تھا جس سے یہ شبہ تھا کہ کہیں اگر یہ مصنوعی آواز ہوئی تو شرعی اصولوں سے انحراف کی بدولت کہیں عبادت کی ادائیگی ہی شک میں نہ پڑ جائے۔ اس لئے علمائے کرام نے عبادات کے معاملے کو شک میں ڈالنا پسند نہیں کیا کیونکہ عبادت کی ادائیگی یقین کی حالت میں کی جاتی ہے۔


چنانچہ علمائے کرام نے فزکس کی دنیا میں آواز سے متعلق نت نئے پہلو اجاگر کر دئے جس سے ان علمائے کرام کی علمی شان کا اظہار ہوتا ہے جسے غامدی احباب سمیت دیگر لبرلز “مولوی کی جہالت” سے تعبیر کرتے ہیں۔

اب سوال یہ تھا کہ اسپیکر سے پیدا ہونے والی آواز کی اصلیت کیا ہے ؟

اس سوال کو لے کر علمائے حق نے علمی بحث کے وہ دروازے کھولے جو خود سائنس کے محققین کے لیے نئے باب تھے۔علمائے حق نے “آواز اور گلے” سے متعلق جن درج ذیل پہلووں پر بحث کی اُس پر اُس وقت کے سائنس دان خود سکوت میں تھے۔

What is definition of Voice?

What is difference in the pitches of human real voice and voice generated in loud-Speaker?

Human voice travels in Ordinary waves while loud-speaker voice travels in electric waves. Will both voices be considered same voice?

What are the differences in pitch and vibration of both voices?

Echo and its reality, Analysis of Human Voice

 

اس بارے میں اس وقت کے درویش صفت علمائے حق نے تو آواز کے سائنسی کے اصولوں پر ٹھیک ٹھاک بحث کی جن کی تفصیل اسلاف علما کی کتب فتاوی میں دیکھی جا سکتی ہیں جس سے شاید یہ لبرلز اور دین بیزار آگاہ بھی نہیں ہونگے۔ آواز سے متعلق یہ وہ جہات تھیں جن سے اس وقت کے سائنس دان خود بھی آگاہ نہیں تھے۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب سائنسی تحقیقات سامنے آئیں معاملہ واضح ہوا کہ لاوڈ سپیکر سے نکلنے والی آواز اور انسان کی آواز میں صرف پِچ اور وائبریشن کا فرق ہے۔ اس کے ساتھ دیگر پائے جانے والے فروق عبادات کو متاثر نہیں کرتے ۔ تب جا کر علمائے کرام نے عبادات میں بھی اسپیکر کے استعمال کو جائز قرار دیا۔ لیکن اس کے باوجود کچھ علما نے علمی بنیاد پر یہ اجازت نہیں دی ۔ کیونکہ مندرجہ بالا سوالات جن کو انہوں نے بنیاد بنایا تھا سائنس دان خود بھی ان کے جوابات میں اختلافات رکھنے کی بدولت تقسیم تھے۔لبرلز اور دین بیزار طبقے کی علما کے خلاف ہرزہی سرائی کی یہ وہ حقیقت ہے جسے میں نے یہاں مختصر انداز میں قلم بند کیا ہے۔
اب میں یہ اپنے نوجوان پر چھوڑتا ہوں کہ وہ اپنے اسلاف علما کو علم کے علم بردار مانتے ہیں یا پھر وہ لبرلز والی روش پر جانا چاھتے ہیں۔
اب آتے ہیں اس بحث کی جانب جس پر لبرلز اور دین بیزار احباب نے شور بپا کر رکھا ہے کہ جیسے گزرتے وقت کے ساتھ مولویوں نے لاؤڈ سپیکر کو جائز تسلیم کرلیا بالکل ایسے مستقبل میں یہ مولوی آن لائن جماعت کا جواز بھی تسلیم کر لیں گے۔

کیا آن لائن جماعت کا جواز مستقبل کے علما تسلیم کر لیں جیسے سپیکر کے معاملے میں ہوا ؟

بالکل بھی نہیں ۔۔۔ کیوں ؟ جواب سے پہلے یہ اصول ذہن میں رکھیں کہ “ہر معاملے کے لئے یہ لازمی نہیں ہوتا کہ اُس کے متعلق نتیجہ وہی نکلے جو ماضی میں کسی اور مسئلے کا نکلا ہو”۔نیز یہ کہ ععلما کی نظر اس اجازت کے مضمرات پر ہوتی ہے جو اس وقت لوگوں کے  سامنے نہیں ہوتے۔مثال کے طور پر  اعضا کی منتقلی کی اجازت کے بعد یہ عالمی سطح پر ایک مفید و منافع بخش صنعت و کاروبار بن چکا ہے۔زندہ لوگوں کے اعضا حیلے بہانوں سے نکالے جانے کے واقعات عام ہو چکے ہیں۔آن لائن نماز کی اجازت سے کیا کیا گُل کھلیں گے اہل بصیرت سے مخفی نہیں۔

اب آئیے سوال کے جواب کی جانب 


جیسا کہ بیان ہوچکا کہ سپیکر کے جواز میں کچھ امور کا اخفا تھا جن کا اظہار شرعی جواز کے فتوے سے پہلے لازمی تھا ۔ تاہم اس میں کسی بھی شرعی اصول سے یقینی انحراف نہیں بلکہ انحراف کا شبہ تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ تحقیق کی بدولت جیسے ہی وہ شبہ دور ہوا اور معاملہ واضح ہوا تو علما نے عبادات میں بھی لاؤڈ سپیکر کے جواز کا فتوی دے دیا۔


آن لائن جماعت کا معاملہ لاؤڈ سپیکر سے بالکل الٹ ہے ۔ آن لائن جماعت کے معاملے میں قیام جماعت کے بہت سارےشرعی اصولوں سے یقینی انحراف مو جود ہے۔ جس سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ یہ معاملہ قیامت تک جائز قرار نہیں پائے گا۔ جیسے بہت سارے ماضی کے امور ۱۴۰۰ صدیاں قبل بھی ناجائز تھے ، آج بھی ناجائز ہیں اور قیامت تک ناجائز رہیں گے۔ کیونکہ وہ شرعی اصولوں سے متصادم ہیں۔

آن لائن جماعت میں کیا مسائل ہیں ؟

۔1۔ مقتدی امام سے آگے کھڑا نہ ہو ۔جو مقتدی امام سے ایک قدم بھی آگے کھڑا ہو تووہ امام کی اقتداء سے نکل جائے گا ۔ اس مسئلے پر تمام فقہا متفق ہیں۔ آن لائن جماعت میں یہ کیسے پتہ چلے گا کہ امام آگے ہے یا مقتدی ؟
۔۲۔ جماعت کے قیام کے لئے بنیادی مسئلہ امام و مقتدی کے مابین فاصلے کا ہے۔ حتی کہ اگر ایک شخص اسی مسجد میں جگہ ہونے کے باوجود باہر صحن میں کھڑا ہوجائے تو وہ امام کی اقتداء میں شمار نہیں ہوتا ۔
۔۳۔ دو لوگ جماعت کریں تو امام اور مقتدی اس طرح برابر کھڑے ہوتے ہیں کہ مقتدی کا پاوں امام کے پاوں کی ایڑھی برابر ہو۔ آن لائن جماعت میں امام ایوان صدر میں ہے اور اکیلا ہے ایک مقتدی آن لائن ہے تو وہ کیسے کھڑے ہوں گے ؟
۔۴۔ دو لوگوں کی جماعت ہو رہی ہو اور تیسرا بندہ آجائے تو امام ایک قدم آگے بڑھ جاتا ہے اور مقتدی ایک قدم پیچھے چلا جاتا ہے۔ آن لائن جماعت میں یہ کیسے ہوگا؟
۔۵۔ صفوں کی ترتیب یہ ہوتی ہے کہ مرد پہلی صف پر ۔ بچے دوسری صف پر ، خنثی یعنی خسرے تیسری صف پر اور عورتیں چوتھی صف میں ۔ آن لائن جماعت یہ کیسے ہوگا ؟
۔۶۔ دوران نماز اگر امام کا وضو ٹوٹ جائے تو وہ پیچھے کھڑے شخص کو آگے مصلے پر کھڑا کرتا ہے ۔ آن لائن جماعت میں ایوان صدر کا امام یہ کیسے کرے گا ۔ اگر وہاں امام اکیلا ہو اور باقی سب آن لائن تو پھر امام کسے اور کیسے آگے کھڑا کرے گا؟
۔۷۔ آن لائن جماعت میں انٹرنیٹ کنکشن ہی منقطع ہوگیا پیکج ختم ہوگیا تو وہ کیا کرے گا ؟

یہ سارے وہ مسائل ہیں جو آن لائن جماعت سے پیدا ہوتے ہیں۔ یقین کریں کہ آن لائن جماعت کے یہ مسائل کم اور لطیفے زیادہ ہیں ۔ لبرلز کی جانب سے ان سب کا ایک ہی ممکنہ جوا ب ہو سکتا ہے ۔۔۔اور وہ یہ کہ ۔۔۔ جی آن لائن جماعت سے یہ ساری مشکلیں خود بخود ختم ہوجاتی ہیں ۔ ۔۔ اور اس جواب کے ایک جاہلانہ جواب ہونے میں کوئی شک نہیں ہونا چاھیے۔

آن لائن جماعت سے ایک بنیادی اور اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر گھروں میں بیٹھے بیٹھے جماعت میں شرکت ہوجاتی ہے تو پھر مسجد کی اہمیت ہی کیا رہ جاتی ہے ؟

اس کا جو ممکنہ جواب ہے وہ یہ ہوسکتا ہے : آن لائن جماعت کا اطلاق عام حالات میں نہیں بلکہ موجودہ وبائی حالات کے پیش نظر شرعی رخصت کے تناظر میں ہوگا۔ اس جواب سے پھر ایک اور اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ شرعی رخصت کی تاثیر کیا نوعیت کیا ہے؟

استثنائی حالات میں رخصت ایک شرعی حکم سے مکمل طور پر استثنا ء دیتی ہے ۔ جزوی استثنا ء نہیں ۔ مثلا مرض میں مبتلا یا تو جماعت کے ساتھ نماز ادا کرے یا پھر گھر میں ادا کرے ۔ درمیان کی کوئی صورت حال نہیں ہے۔ جیسے مسجد کا سپیکر آن کرلیں اور گھر بیٹھا مریض آواز کے ذریعے یا سکرین کے ذریعے گھر بیٹھے اقتدا ء کرتا رہے ۔ ورنہ وہی سولات پھر پیدا ہونگے جس کا ذکر ہم پیچھے کر آئے ہیں۔ مسافر ْیا مریض روزہ رکھے یا نہ رکھے رخصت ہے ۔ درمیان کا کوئی راستہ نہیں کہ جب جب بھوک لگے کھاتا رہے اور روزہ بھی قائم رہے۔ اس لئے جماعت سے رخصت کا صرف ایک ہی مطلب ہے کہ یا تو جماعت میں شریک ہوجاو یا پھر شرعی عذر کی بدولت گھروں میں اکیلے پڑھ لو ۔

(موطا امام مالک، مصنف عبدالرزاق ، مصنف ابن ابی شیبہ، مسند احمد ) دیکھ لیں جس میں مختلف اسناد سے مروی احادیث اسی موضوع پر ہیں۔ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحت مبارکہ ناساز ہوئی تو امامت کے لئے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا انتخاب کیا۔ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حجرہ مبارک مسجد نبوی سے متصل تھا اور دروازہ مسجد نبوی میں بھی کھلتا تھا۔ لیکن آپ نے اس کے باوجود گھر میں رہتے ہوئے بستر پر استراحت فرما ہوتے ہوئے بھی امامت نہیں فرمائی اور نہ ہی حجرہ مبارک میں بیٹھے ہوئے جماعت کی اقتداء کی۔ اگرچہ امام کی آواز بھی حجرہ مبارک میں واضح آتی تھی۔صحت ناساز تھی عذر بھی شرعی تھا۔ شارع بھی خود تھے۔ اس سب کے باوجود گھر میں رک کر جماعت نہ کرانے میں اور نہ ہی مسجد کی جماعت میں شامل ہونے میں اہل عقل کے لئے ۔۔ پھر دہرائے دیتا ہوں۔۔۔۔کہ ۔۔۔ صرف اہل عقل کے لئے واضح اشارے ہیں کہ گھروں میں رہتے ہوئے مسجد کی جماعت کے ساتھ شرکت نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کی کوئی دلیل شریعت میں موجود ہے۔

آن لائن جماعت کا قول حقیقت میں شرعی رخصت ہے یا شرعی امور میں جہالت کی بدولت دینی احکام پر غیر مطلوب شدت اختیار کرنا ہے ؟

یہ ہے وہ سب سے اہم نکتہ جس کی جانب احباب کی توجہ دلاتا چلوں ۔ کہ جناب آن لائن جماعت کا تصور در حقیقت دینی احکام میں ایسی جاہلانہ شدت اختیار کرنا ہے جس کی مثال شاید اسلامی تاریخ میں اٹھنے والے باطل فرقوں حتی کہ خوارج کے ہاں بھی نہیں ملے گی۔
اسلام جب وبائی حالات جیسے استثنائی حالات میں جماعت کے ترک کی جانب رخصت دیتا ہےتو غامدی صاحب جماعت کے قیام کا ایسا شدید قول کیوں اختیار کر رہے ہیں کہ جماعت ضرور ہی ہو ۔بھلے اللہ تعالی نے رخصت دی ہے لیکن غامدی صاحب نہیں دینے لگے۔
علما ئے کرام نے بھی یہ فرمایا ہے کہ اکثریت گھروں میں تنہا نماز پڑھے لے بالخصوص بچے ، بوڑھے اور مریض ۔ یا پھر ہر گھر کے افراد اپنے اپنے گھروں میں قیام جماعت کا اہتمام کر لیں ۔ صرف محدود لوگ مسجد کو ویران کرنے سے بچانے کی غرض سے جماعت کا تسلسل جاری رکھیں ۔ اور جماعت کا یہ تسلسل یا جماعت کیوں ضروری ہے اس کی اہمیت پر سنت نبوی ﷺ کا ایک ذخیرہ موجود ہے ۔

ہذا عندی وما توفیقی اللہ باللہ

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں اور سبسکرائب کریں ۔

اسلامی معلومات ، روایتی معاشیات ، اسلامی معاشیات اور اسلامی بینکاری سے متعلق یو ٹیوب چینل
https://www.youtube.com/user/wasifkhansb?sub_confirmation=1

 آن لائن جماعت اور شرعی رخصتیں

April, 1-2020

تحریر : محمد ابوبکر صدیق

…………………………………….

پس نوشت

کورونا صورت حال کی ہیجانی صورت حال کے اندر محترم جناب جاوید احمد غامدی صاحب نے میڈیا کو انٹرویودیتے ہوئے آن لائن جماعت کا تصور پیش کیا۔ اُن کے حلقہ اثر کے احباب نے اُسے غامدی صاحب کا اجتہاد عظیم قرار دینا شروع کردیا اور اس کے لئے سب سے پہلے ’’ لاؤڈ سپیکر ‘‘ کے جواز کو بطور دلیل پیش کرنا شروع کیا۔ جس پر سنجید ہ اہل علم و نظر نے کافی تنقید کی ۔ اس حوالے سے میں نے بھی ’’ آن لائن جماعت اور لاؤڈ سپیکر سے استدلال‘‘ کے نام سے مختصر تجزیہ تحریر کیا۔اس کے بعد ابھی دو دن پہلے جناب غامدی صاحب کی نئی ویڈیو سامنے آئی ہے ۔ جس میں انہوں نے اپنے موقف کی تفصیل اور دلائل ذکر کئے ہیں۔ اس ویڈیو کی ابتداء میں کیمرے کے پیچھے اُن کا کوئی شاگرد اُن سوالات میں سے صرف چند سوالات پیش کرتا ہے جو جناب ڈاکٹر مشتاق صاحب اور میں نے اپنی اپنی گزشتہ تحریر میں اٹھائے تھے۔ پھر حسبِ عادت پوری ویڈیو میں غامدی صاحب نے اُن سوالات میں سے کسی ایک سوال کا بھی جواب دینے کی طرف توجہ نہیں دی ۔ بلکہ نئے کمزور دلائل پر اپنی آن لائن جماعت کا جواز ثابت کرنے کی کوشش کی۔ اس بار اللہ کا کرم یہ ہوا کہ ’’ لاوڈ سپیکر‘‘ کی جان بخشی ہوئی اور اپنے موقف کے لئے اُسے بطور دلیل پیش نہیں کیا۔


اپنی نئی ویڈیو میں جناب غامدی صاحب نے جن رخصتوں کو بطور دلیل ذکر کیا ہے اور اپنے ناقدین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ” اپنی فقہاہت ” کی روشنی میں اُن پر غور کریں۔اس پر عرض ہے کہ جناب ہم تو پہلے دن سے جانتے تھے کہ آپ انہی نماز و روزہ کی رخصتوں کو بطور دلیل لائیں گے اور جواب بھی اُسی وقت ہمارے پاس موجود تھے بس آپ کی جانب سے ان رخصتوں کو بطور دلیل پیش کرنے کے منتظر تھے۔ پیش بندی کا یہ فقہی فن ہم نے اپنے اسلاف فقہا سے ہی سیکھا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نماز اور روزہ کی رخصتوں پر قیاس کرتے ہوئے آن لائن جماعت کا جواز کشید نہیں کیا جاسکتا۔ ۔۔۔۔۔ کیوں ؟

غامدی صاحب نے  نماز اور روزے کی رخصت پر قیاس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بالکل اسی طرح آن لائن جماعت کی رخصت بھی کشید ہوتی ہے۔ اگرچہ ہم اسے رخصت کی بجائے شرعی احکام میں غیر مطلوب شدت قرار دیتے ہیں۔ تاہم اگر غامدی صاحب اسے رخصت قرار دینے پر ہی مُصِر ہیں تو اس حوالے سے ہم ان کے قیاس کا تفصیلی تجزیہ پیش کرتے ہیں۔ ۔

۔1۔قصر نماز کی رخصت پر قیاس

قصر نماز میں صرف نماز کی رکعتیں کم ہوتی ہیں۔ نماز تنہا ہو یا باجماعت اس کی بقیہ ساری متعلقہ شرائط ویسے ہی لازم رہتی ہیں جیسے عام حالات میں اُن کے بغیر نماز ادا نہیں کی جاسکتی ۔ لیکن آن لائن جماعت کا تصور تو باجماعت نماز کی ساری شرائط کو ہی ختم کردیتا ہے۔

نتیجہ: آن لائن جماعت “باجماعت نماز” کی بنیادی شرائط کی نفی پر مبنی ہے۔ لہذا یہ کیس قصر نماز سے بالکل مختلف بن جاتا ہے۔ دونوں میں کوئی مشابہت نہیں کہ قیاس کی گنجائش نکلے ۔ اس لئے یہ قیاس باطل ہے۔

قصر نماز کی اجازت کب ہوتی ہے ؟ عملا سفر کی حالت میں۔ سفر کی حالت کب شروع ہوتی ہے ؟ جب انسان اپنے شہر کی حدود سے نکلے۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے:جب آدمی کو غالب گمان ہو یا دل میں قوی ارداہ بنے کہ وہ کسی دوسرے شہر کا سفر کرے گا لیکن ابھی یقین نہ ہو کہ جائے گا تو کیا وہ شخص نماز قصر کرسکتا ہے ؟ “
جواب ہے بالکل بھی نہیں۔ یعنی شرعی رخصت صرف اور صرف عملی اور یقینی کیفیت میں حاصل ہوتی ہے نہ کہ صرف وہم و گمان سے ۔ اور غامدی صاحب سے پوچھ لیں ان کا اپنا فہم ( فقاہت نہیں کیونکہ وہ عموما فقہ کے قائل ہی نہیں ) بھی یہی جواب دے گا جو میں نے دے دیا ہے۔
لہذا ۔۔۔ غامدی صاحب آن لائن جماعت کی رخصت جن لوگوں کو دے رہے ہیں کیا وہ یقینی طور پر مسافر کی مانند عملا وائرس میں مبتلا ہیں ؟ جس کا جواب واضح ہے نہیں ۔۔۔کیونکہ غامدی صاحب کا بنیادی موقف ہی ” وائرس پھیلنے کا صرف خدشہ ہے “۔

نتیجہ : اگر صرف غالب گمان کی صورت میں شریعت نماز قصر کی اجازت نہیں دیتی تو صرف وائرس لگنے کے خدشے کی بنیاد پر آن لائن جماعت کا جواز بھی کشید نہیں کیا جاسکتا ۔

۔2۔ مریض کی نماز والی رخصت پر قیاس

مریض کی نماز والی رخصت پر بھی قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہونے کی وجہ سے قیاس باطل ہے۔ اس لئے کہ وہ فرد کے لئے حکم ہے۔ اگر اجتماعی حکم ہوتا تو پھر باقاعدہ ” مریضوں کی جماعت ” کا حکم ہونا چاھیے تھا لیکن یہ شرعا غیر مطلوب تھا ۔ آن لائن جماعت فرد کا نہیں اجتماعی حکم ہے۔

نتیجہ: فرد کے حکم اور اجتماع کے حکم کے مابین کوئی قیاس نہیں۔ اس لئے یہ دلیل بھی باطل ہے۔

نیز شریعت اسلامیہ مختلف امراض کے مریضوں کو حقیقی عذر جسے عذر شرعی کہا جاتا ہے کی بنیاد پر رخصت دیتی ہے جیسے رکوع سے عجز، سجدے سے عجز ، اور قیام سے معذوری ۔ یہ سب معذوریاں حقیقی ہوں تو تب جاکر شریعت بندے کو رکوع و سجود اور قیام سے رخصت دیتی ہیں۔ آن لائن جماعت کی رخصت جس عذر سے کشید سے کی جارہی ہے کیا وہ عذر بالفعل حقیقی ہے یا ظنی ہے ؟ یا یہ صرف حقیقی معذوروں کے لئے ہی رخصت ہے ؟ اگرتو ظنی ہے پھر تو یہ قیاس ہی باطل ہے کہ بالفعل یقینی صورت حال پر ظنی صورت کو کیسے قیاس کیا جاسکتا ہے ۔ اور اگر یہ رخصت صرف حقیقی معذوروں کے لئے ہے تو بھی باطل رخصت ہے کیونکہ شریعت نے ان سے معذوری کی بابت جماعت کا سرے سے مطالبہ ہی نہیں کیا۔ تو غامدی صاحب کس حیثیت میں اس رخصت کے ذریعے معذور افراد سے باجماعت نماز کا مطالبہ کرتے ہیں!

نتیجہ: آن لائن جماعت کے جواز کے لئے مریض کی نماز والی رخصت پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہونے کی وجہ سے باطل ہے ۔ اس لئے آن جماعت باطل ہے۔

نوٹ :کسی غالب خدشے کی بابت جو بندہ مسجد نہیں آسکتا اس پر جماعت کا لزوم ویسے ہی ساقط ہے تو پھر آن لائن جماعت کے تصور کا سرے سے تک ہی نہیں بنتا ۔

۔3۔ نماز میں راکب کو دی گئی شرعی رخصت پر قیاس

راکب کی نماز میں دی جانے والی رخصتوں پر قیاس کرتے ہوئے آن لائن جماعت کی رخصت کشید کرنے کا قیاس بھی باطل قیاس ہے۔۔ کیوں ؟


نوٹ:( اس نکتے پر بات کرتے ہوئے غامدی صاحب طنزا جی طنزا ۔- اخلاقیات والے ویڈیو دیکھ لیں جو کہتے ہیں غامدی صاحب طنز نہیں کرتے ۔ طنزا کہتے ہیں کیا آپ سواری پر کھڑی ہوجائیں گے۔ اور اس مجلس میں جناب کے احباب باقاعدہ ہنستے بھی ہیں۔ ) یہ نوٹ اخلاقیات والوں کے لئے خاص ہے۔اب سوال کے جواب کی طرف آئیے :۔ راکب کی نماز کی دو جہتیں ہیں۔ 1۔ شخصی جہت 2۔ اجتماعی جہت

شخصی جہت کی مثال

راکب ( سوار) جب سواری جیسے بس، گھوڑا ، کار ، کشتی یعنی ایسی سواری پر سوار ہو جس پر بیٹھے ہوئے قیام و سجدہ کرنا ممکن نہ ہو تو اسے قیام و سجدے کی رخصت ہوتی ہے کہ وہ یہ ارکان ادا نہ کرے۔

اجتماعی جہت کی مثال

بحری جہاز پر باجماعت نماز اجتماعی جہت کی مثال ہے۔ (غامدی صاحب نے شخصی والی مثال دے کر تاثر ایسا دیا کہ جیسے اجتماعی والی صورت میں بھی وہی رخصت حاصل ہو)۔
کیا صرف “شخصی جہت ” پر قیاس کرتے ہوئے غامدی صاحب بتائیں گے کہ بڑے بحری جہاز کے مسافر سمندر میں سفر کے دوران جب نماز ادا کریں گے تو وہ بھی قیام و سجدے کے بغیر نماز ادا کریں گے؟ کیونکہ سوار شخص کو سجدہ نہ کرنے کی رخصت ہے اور بحری جہاز کا سوار بھی راکب ہے ؟ اوہو دیکھیں غامدی صاحب سواری پر سوار لوگ کھڑے بھی ہوگئے اور سجدہ بھی کر رہے ہیں۔ آپ کاکہنا نہیں مان رہے۔اب کہاں گیا سواری پر آپ کا مطلق قیاس ؟؟؟؟

نتیجہ:شخصی رخصت کی بنیاد پر آن لائن جماعت کی رخصت جو کہ ایک اجتماعی نوعیت کا امر ہے، کو قیاس نہیں کیا جاسکتا ۔ ویسے بھی غامدی صاحب کا اپنا اصول بھی یہی ہے کہ شخصی حکم کو اجتماع پر لاگو نہیں کیا جاسکتا ۔ لہذا اس پر قیاس کرتے ہوئے آن لائن جماعت غامدی صاحب کے اپنے اصول کے تحت باطل قرار پاتی ہے۔ اب غامدی صاحب کی مرضی چاھے اصول بدل لیں یا پھر ۔۔۔۔۔

۔4۔ مسافر کے روزے کی شرعی رخصت پر قیاس

غامدی صاحب نے روزے کی رخصت پر بھی آن لائن جماعت کی رخصت کے جواز کے لئے قیاس کیا ۔یہ قیاس بھی باطل قیاس ہے۔ قیاس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ ایک مثال اِدھر سے لی ایک اُدھر سے لی اور قیاس جَڑ دیا۔ اس کی الگ شرائط ہیں کچھ اصول ہیں۔
سفر میں روزے کی رخصت وجوبی نہیں بلکہ اختیاری ہے۔ نیز اگر کوئی اختیار کرے گا تو روزہ نہیں رکھے گا۔ یہ نہیں کہ کھاتا پیتا بھی رہے اور روزہ بھی رہے۔ اسے اختیار ہے چاھے روزہ رکھے اور چاھے روزہ ترک کرے۔ نیز یہ رخصت اس مسافر کے لئے ہے جو بالفعل مسافر ہو۔ اس لئے اسے اجازت ہوتی ہے کہ وہ راستے میں افطار کرے۔
نماز کی جماعت میں رخصت کا صرف ایک ہی مطلب ہے کہ نماز یا جماعت ہو یا نہ ہو۔ آن لائن جماعت کا تصور بذات خود شرعی رخصت کے خلاف ہے۔ یعنی شریعت جن حالات میں جن افراد کو ترکِ جماعت کی اجازت دیتی ہے غامدی صاحب انہیں رخصت دینے کی بجائے آن لائن جماعت کا کہتے ہیں۔

نتیجہ:آن لائن جماعت کی صورت اور مسافر کے روزے کی صورت میں کوئی مشابہت نہیں کہ قیاس کیا جاسکے۔ نیز آن لائن جماعت بذات خود شرعی احکام میں ایک شدت ہے جو شرعی رخصت کی حقیقی روح کے ہی خلاف ہے۔ اس لئے آن لائن جماعت کا جواز اس سے کشید نہیں ہوتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

التماس: آن لائن جماعت اور مساجد کو تالا لگانے کا موقف رکھنے والے احباب سے گزارش ہے کہ شرعی رخصتوں پر قیاس کرنے سے پہلے خدارا قیاس کی اصولی مباحث کا مطالعہ ضرور کر لیں۔

 

روشن خیالی کے شوقین چند اہل علم احباب جو یہ کہتے ہیں کہ اگر یہی آن لائن جماعت والا فتوی روایتی ملاؤں کے اپنے کسی امام نے دیا ہوتا تو وہ اسے عظیم اجتہاد قرار دیتے ، اب چونکہ غامدی صاحب نے یہ فتوی دیا ہے اس لئے ان سے برداشت نہیں ہو رہا !۔

اس پر ہماری مؤدبانہ عرض صرف اتنی ہے کہ ہمارے اسلاف ایسا فضول فتوی دیتے ہی کیوں ؟ آپ کہتے ’’اگر دیتے تو ۔۔۔۔‘‘۔ ہم کہتے ہیں جناب والا ’’ ہمارے اسلاف کی علمی ثقاہت خود اس بات پر شاہد ہے کہ ان کے بارے میں تو یہ بات’ فرض ‘ بھی نہیں کی جاسکتی کہ وہ ایسا کہتے‘‘ کیونکہ ان کے فقہی ذخیرے میں اجتہاد تو بڑی بات ایک ایسا قول بھی نہیں جسے فضول کہا جاسکے جو بنیادی شرعی اصولوں کا بھی خیال نہ رکھے ۔

ہذا عندی وما توفیقی اللہ باللہ

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں اور سبسکرائب کریں ۔

اسلامی معلومات ، روایتی معاشیات ، اسلامی معاشیات اور اسلامی بینکاری سے متعلق یو ٹیوب چینل
https://www.youtube.com/user/wasifkhansb?sub_confirmation=1

3 Comments

  1. ماشاء اللہ ابوبکر صدیق صاحب اللہ پاک نے آپ کو صدق_ مقال کی توفیق عطا فرمائی آپ نے خالصتا علمی انداز میں اپنا موقف پیش کیا اور ایک بے جا اور غلط موقف کی حقیقت سی پردہ اٹھایا اللہ پاک آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Post comment