جدید زمانہ اور اسلام کا بیانیہ 

 

محمد ابوبکر صدیق

20 – 11 – 2020

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 ہمارے بچے، نوجوان اور جدیدیت کی یلغار

 

سیکولر و لبرل احباب کے سطحی نظریات کے سامنے ہمارا نوجوان کیوں مرعوب و لاجواب ہوجاتا ہے؟ اس کی بنیادی وجہ اس کے نصاب تعلیم و مطالعہ میں اسلامی عقائد و نظریات اور اسلامی تاریخی کا نہ ہونا ہے یا نہ ہونے کے برابر ہونا ہے۔ اسکول و کالج تو اب مغربی فکر نمائندے بن کر رہ گئے ہیں۔ 80 کی دہائی میں بھی پیدا ہونے والے خال خال ہی جوان ایسے ہیں جو نظریاتی پختگی کے مالک ہوں۔ کیونکہ اس وقت تعلیمی نصاب میں زیادہ تو نہیں کچھ نہ کچھ اسلامی تعلیمات ہوا کرتی تھیں۔ میڈیا اسلامی فکر پر مبنی پروگرام و ڈرامے بنایا کرتے تھے۔ سافٹ دنیا کا ظہور ابھی نہیں ہوا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ میرے شہر مانہ احمدانی میں میرے ماموں نوید کے گھر پہلا کمپیوٹر  پی ون  غالبا 1995 میں آیا تھا۔ ہدایات کے مطابق ہم نہا دھو کر ان کے گھر کمپیوٹر دیکھنے گئے تھے اور اندر آواز بھی پست رکھی تھی۔ سپیکر سے کمپیوٹر کو کلمہ پڑھتے دیکھ اور سن کر بہت حیران ہوئے تھے۔ اور بڑی مدت تک دوستوں کوحیرت کے ساتھ بتاتے رہے ہم نے کمپیوٹر کو کلمہ پڑھتے خود سنا قسم سے!۔

بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے کے مصداق   اب سافٹ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے۔ لیکن اس ترقی نے فضولیات تک رسائی زیادہ آسان کردی ہے جو انسانی ذہن کو ایسا مسحور کئے رہتی ہیں کہ وقت کا پتہ ہی نہیں چلتا۔ رہی سہی کسر جنسیات و شہوانیات پر مبنی مواد نے نکال دی۔ نماز، روزہ، تلاوت وغیرہ اب ثانوی حیثیت اختیار کر گئیں۔ ترجیحات بدل گئیں۔ انگریزی سکھانے کی آڑ میں مسلم بچوں بچیوں میں سیدہ عائشہ صدیقہ و سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہما کی جگہ سنڈریلا جیسے کرداروں کو پرکشش بنا کر پیش کیا گیا۔ اس پر ہالی ووڈ فلموں اور ہمارے بے دین میڈیا نے خوب تڑکا لگایا۔ نئی نسل مطالعے سے تو آشنا ہی نہیں ہے۔ آپ قرآن و سنت اور اسلامی تاریخ کے مطالعے کی بات کرتے ہیں۔ اس جنریشن کے پاس تعلیمی نصاب کی کتب پڑھنے کا وقت نہیں ہے کیونکہ موبائیل و انٹرنیٹ پر فضول وقت ضائع کرنے کی مصروفیت انہیں اور کچھ تعمیری کام کرنے ہی نہیں دیتی۔

 

اپنی تاریخ کے ساتھ ہماری نئی نسل کی وابستگی اور معلومات کا تو یہ عالم ہے کہ ڈرامے سے پہلے ارطغرل نام کا بھی علم نہ تھا۔ انہیں پتہ ہی نہیں رکن الدین بیبرس کون تھا؟ الپ ارسلان کون تھا؟ یہ تو بھلا ہو ترکوں کا کہ جنہوں نے شیر کے بچوں کو آئینہ دکھا کر بیدار کرنے کی کامیاب کوشش کی کہ تم جو لگڑ بھگوں کے ریوڑ میں خود کو لگڑبھگا سمجھتے پھر رہے ہو تم وہ نہیں ہو تم ان شیروں کی نسل سے ہو جنہوں ’’ صحرا سے نکل کر روما کی سلطنت کو پلٹ دیا تھا‘‘ اور نئی نسل کی سماعتیں جن شیروں کے ناموں سے تو آشنا ہیں مگر کارناموں سے بے خبر ہیں۔ محمد بن قاسم، سلطان محمود غزنوی، طارق بن زیاد، موسی بن نضیر، جلال الدین اکبر، شیر شاہ سوری وغیرھم ۔ نئی نسل کو اگر ان کے بارے میں کچھ پتہ بھی ہے تو وہ بھی صرف اتنا جتنا کسی فلم میں یا کسی سیکولر کی زبان پر ذکر آیا۔ صاف ظاہر ہے سیکولر ان کرداروں کی تعریفیں تو کبھی نہیں کرے گا۔ انہوں نے باقاعدہ پلاننگ کے ساتھ گھڑنتو سطحی استدلال کے ساتھ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہ لوگ حملہ آور اور لٹیرے تھے۔

ایسے کم مطالعہ ناپختہ، کیوراسٹی یعنی تجسس پسندانہ نوخیز ذہن کے مالک بچوں بچیوں کی دسترس میں جنسی، شہوانی مواد کی رسائی ایک کلک پر لائیں گے تو وہی گل کِھلیں گے جو اس وقت کھلے ہوئے ہیں۔ ہر طرح کی ’’ذمہ داری سے آزادی‘‘ کا وائرس ایسے انداز میں نوجوانوں کے ذہنوں میں اتارا جارہا ہے کہ انہیں خبر ہی نہیں۔ اس طرح ان کی دنیا و آخرت دونوں برباد کی جارہی ہیں کہ جب احساس ذمہ داری نہیں ہوگا تو پھر احساس زیاں کہاں سے آئے گا۔ اس طرح بے حسی کے بیج بوئے جارہے۔ ’’آخرت میں جوابدہی ‘‘ کا تصور ان کے سامنے بے معنی ہوکر رہ گیا ہے۔ دشمن بڑے آرام سے اپنے سوفٹ فیئر ان کے ذہنوں میں انسٹال کررہا ہے۔ اور یہ انہی انسٹالڈ پروگرامز کا اثر ہے کہ آج نوجوانوں کے سامنے دین کی بات کی جائے تو فورا ان کی طبیعت اکتانا شروع ہو جاتی ہے۔ نوجوان شکلیں بنانا شروع کردیتے ہیں کہ کسی طرح ٹاپک کوئی اور چھڑ جائے۔ فلموں اور ڈراموں کی بات کریں تو ہشاش بشاش جیسے ان کی روح کو تازگی مل گئی ہو۔ لڑکے لڑکیوں کا مخلوط ماحول ہو تو ان کے لئے دینی موضوع پر گفتگو ناقابل برداشت ہوجاتی ہے کیونکہ دین تو شرم و عار دلاتا ہے کہ اسلام غیر محرم تعلقات پر کیا موقف رکھتا ہے اور یہ انہیں قبول نہیں۔ یہ تو ان نوجوانوں کا حال ہے جو پاکستان میں رہتے ہوئے سارے تعلیمی مراحل طے کرتے ہیں۔ ان کی فکری پستی کا کیا حال ہوگا جو اس سب کے بعد مغرب میں اعلی تعلیم کے نام پر جاتے ہیں اور بزر چمہر بن کر واپس آتے ہیں۔ ( اس کے لئے میری  پوسٹ “مغرب پلٹ بزر چمہر” کا مطالعہ کی جئے)۔

 

ایسا نوجوان پھر ایسا مذہبی بیانیہ ڈھونڈتا ہے جہاں اسے گرل فرینڈ ، بوائے فرینڈ کا تصور بھی ملے۔ بے پردگی کی آزادی ہو۔ مذہب فرد کا ذاتی معاملہ ہو، جہاد سے تو جان چھوٹے بس، کوئی ایسی عقیدہ و فکر نہ ہو جو مجھ پر کسی بھی طرح کی ذمہ داری ڈالے، مغرب کی چکا چوند مجھ پر حلال ہوجائے اور میں مسلمان بھی رہوں۔ ایک ہاتھ میں جام تو دوسرے میں اسلام بھی رہے۔ تو پھر ایسے بیانیے بیچنے والے سامری فن مداری تو ہر دوسرے چوک پر مل جاتے ہیں اور نوجوان اس کے گرد اکٹھے ہو کر خوب تماشہ دیکھتے ہیں۔ ہم جیسے بندے کبھی رکتے ہیں تاکہ مداری کے فریب و طرق واردات کو بھانپ لیں۔ بلکہ کبھی کبھار تو رکنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی دور سے مداری کی آواز سے ہی اندازہ ہوجاتا ہے کہ ’’ذہانت کے کشتے‘‘ کے نام پر نسوار بیچ رہا ہے۔

میں ہوں نومید تیرے ساقیان سامری فن سے

کہ بزم خاوراں میں لے کے آئے ساتگیں خالی

نئی بجلی کہاں ان بادلوں کے جیب و دامن میں

پرانی بجلیوں سے بھی ہے جن کی آستیں خالی 

 

 1400 سال پرانا بیانیہ یا جدید بیانیہ

 

نئی مرعوب نسل جس کا نقشہ اوپر کھینچا گیا  دو طرح کی ہے ایک وہ جو مکمل زومبیز (یعنی اپنی اصل سے کٹی ہوئی ) بن چکی ہےاگرچہ یہ تعداد میں بہت کم ہیں۔ دوسرے وہ ہیں جو اس خوف میں مبتلا ہیں کہ یہ وائرس کہیں زیادہ نہ ہوجائے۔ یہ جو آخر الذکر نوجوان ہیں اور یہ کثیر تعداد میں ہیں۔ یہ عصر حاضر کی مذہبی فکر سے اس وجہ سے نالاں و شاکی ہیں کہ جدید زمانے میں پھوٹتے نت نئے بیانیوں کی بھر مار کے سامنے انہیں ’’ دین کا نیا بیانیہ ‘‘ کیوں نہیں دے رہے؟ ایسے نوجوانوں سے جب کہا جائے کہ بھائی دین کا بیانیہ تو 1400 سال پرانا ہے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا اور صحابہ، تابعین، تبع تابعین رضی اللہ عنھم اور ما بعد اسلاف سے لے کر آج تک جاری و ساری ہے۔ تو وہ یوں حیرت سے بڑبڑا اٹھتے ہیں کہ جیسے انوکھی بات سن لی ہو۔ تو وہ فورا یہ کہنا شروع ہوجاتے ہیں: ’’ دور دور میں فرق ہوتا ہے۔پہلے جنگیں تلوار سے لڑی جاتی تھیں۔اب میزائل آ گئے ہیں۔تو کیا ہم اب 1400 سال والی بات کو لے کر بیٹھ جائیں یا جب دشمن میزائل چھوڑیں تو ہم میزائل سے کہیں کہ جی ہم ایمان والے تم اپنا رخ موڑ لو تو کیا ایسا ہوگا ؟ ارطغل کی طرح اب ہمیں تیر چلانیں پڑیں گے؟ جناب یہ بیانیہ پرانا ہوگیا۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان درست بیانیہ نہ ہونے کے سبب مذہب سے دور ہوتا جارہا ہے۔ آپ کیا متبادل بیانیہ لائیے‘‘ ایسے نوجوانوں سے مجبورا پوچھنا پڑتا ہے۔ میاں! پہلے یہ بتائیے آپ بیانیہ کہتے کسے ہیں؟ بیانیہ کی تعریف کیا ہے ؟ بس پھر اس بعد چراغوں میں روشنی نہیں رہتی۔

 

سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر کہیں سے پڑھ کر یا بیانیے کا اچار ڈالنے والوں سے اصطلاح تو سن لیتے ہیں لیکن اس سے آگاہ نہیں ہوتے کہ یہ ہوتا کیا ہے۔ جبکہ انہیں یہ فضول مطلب سمجھانے والے مداری خود بیانیے کی حقیقت سے خوب آگاہ ہوتے ہیں۔ لیکن نوجوانوں کو ایسی بے تکی مثالوں سے بیانیہ سمجھاتے ہیں تو نوجوان واقعی مرعوب ہوجاتا ہے کہ بات تو صحیح ہے میزائل کے بدلے میں ہم تلوار و تیر چلانے سے رہے۔ نتیجة نوجوان نئے بیانیے کا مطالبہ کرتا ہے۔ بیانیہ کیا ہوتا ہے ؟ اس پر آگے بات ہوگی۔ البتہ یہ کہتا چلوں ارطغرل کا ’’ حق ہے اللہ‘‘ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے دشمن پر ٹوٹ پڑنا، جنگ میں کمزوروں پر ہاتھ نہ اٹھانا، فتح کے بعد عدل قائم کرنا، قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا، اپنوں کے خلاف بھی عدل کے لئے ڈٹ جانا، اہم فیصلوں پر اہل نظر و اہل علم سے مشاورت کرنا۔ یہ سب 1400 سالہ قدیمی اسلامی بیانیہ ہی ہے۔ جس کی آج بھی ضرورت ہے۔ البتہ اس بیانیے کے تحفظ اور نفاذ کے لئے اس وقت تلوار و تیر اور منجنیق استعمال ہوتے تھے۔ اب جنگی طیارے، میزائل، توپ اور ایٹم بم وغیر ہیں۔ گویا بیانیے کے نفاذ کے لئے سٹریٹجی ہر زمانے کے عرف کے مطابق ہوتی ہے۔ الحمد للہ ہم اس میں بھی پیچھے نہیں ہیں۔ دنیا کی صف اول کی شہادت کے جذبے سر شار سخت جان فوج ہماری ہے، جدید جنگی سامان سے ہم کسی سے کم نہیں، ایٹمی طاقت ہم ہیں۔ ارطغرل دکھانے کا مقصد یہ نہیں کہ تم تلوار و تیر پر پریشان ہوجاو۔ بلکہ اسلامی بیانیے کی تفہیم و ترویج ہے۔

 

پیارے نوجوان! جسے تم بیانیہ سمجھتے ہو وہ بیانیہ نہیں ہے وہ بیانیے کے نفاذ و تحفظ کی سٹریٹجی ہے اور اس میں ہم مالا مال ہیں۔ البتہ اسلامی بیانیے کی جھلک اقبال نے یوں پیش کی ہے۔

ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم

رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن

افلاک سے ہے اس کی حریفانہ کشاکش

خاکی ہے مگر خاک سے آزاد ہے مومن

جچتے نہیں کنجشک و حمام اس کی نظر میں

جِبریل و سرافیل کا صیّاد ہے مومن

 

  اسلام کا بیانیہ

 

ویسے تو کسی بیان کے بغیر بیانیے کا تصور بیان نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ بیانیے کے لئے بیان کی ضرورت ہوتی ہے۔’’ الف‘‘ ہی نہیں ہوگا تو پھر بیان کے لئے زبان کو آگے کے حروف کہاں ملیں گے۔ اس لئے بیانیہ اور بیان آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ گویا بغیر بیان کے بیانیے پر کوئی ڈسکورس، گفتگو، مکالمہ یا مباحثہ قائم ہوہی نہیں سکتا۔

 

اسلام کا بیانیہ وہی ہے جو 23 سال کے عرصے میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر مکمل ہوا اور جسے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین اور تبع تابعین کے زمانے تک اگلی نسلوں کی تفہیم کے لئے مفصل بیان کیا گیا اور اس کے لئے اصول و ضابطے مقرر کئے گئے۔ تاکہ ہر زمانے کے اہل علم نباض عصر، اور راسخ العلم لوگ اپنے اپنے زمانے کے حساب سے اسلامی بیانیے کی ترویج و نفاذ کے لئے مطلوبہ لائحہ عمل، اسٹریٹجی یا طریقہ کار ترتیب دینے میں کسی الجھن کا شکار نہ رہیں۔ اصول و ضابطے موجود ہوں گے تو ان کا کام آسان ہوجائے گا۔

 

اسلام کا بیانیہ دو عمومی جہات میں ہے۔ 1۔ عقیدہ 2۔ عمل۔ جہاں تک عقیدے کا تعلق ہے تو وہ بین و واضح ہےجیسےبندہ مومن یہ اقرار کرتا ہے کہ

آمَنْتُ بِاللهِ كَمَا هُوَ بأسمائه وَصِفَاتِه وَقَبِلْتُ جَمِيْعَ أَحْكَامِه وَأَرْكَانِه

میں اللہ پر اسکے اسماء و صفات کے مطابق ایمان لایا، اور اسکے تمام احکامات، اور ارکان کو قبول کرتا ہوں

آمَنْتُ بِاللهِ ، وملائكته ، وَكُتُبِه ، وَرَسُوْلِه ، وَالْيَوْمِ الْاخِرِ ، وَالْقَدْرِ خَيْرِه وَشَرِّه مِنَ اللهِ تَعَالى ، وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ 

میں اللہ پر ، اسکے فرشتوں، کتابوں، رسولوں،یومِ آخرت، اللہ کی جانب سے اچھی بری تقدیرپر، اور مرنے کے بعد جینے پر ایمان لایا)

 

جہاں تک عملی جہت کی بات ہے تو وہ ’’ فقہ اور تصوف ‘‘ ہے۔ فقہ عملی زندگی کے لئے احکام الہی معلوم کرنے کا نام ہے اور تصوف انہی احکام پر عملا اطاعت کاملہ کا نام ہے۔ یہ عملی جہت بھی سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ماخوذ ہے۔ گویا تعلق بالنبوة کی مضبوطی اسی جہت کی روح ہے جسے قرآن مجید میں اس آیت سے تعبیر کیا گیا ہے۔:

إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ

  اللہ کے نبی ﷺ کو خاتم النبیین تسلیم کرنا یہ اس محبت کا لازمی تقاضہ ہے جس کے بغیر اتباع مردود ہے۔ جب وہ مردود ہے تو اللہ کی محبت غضب میں بدل جائے گی اور پھر بندہ محبوب کی بجائے  ’’مغضوب‘‘ قرار دے دیا جاتا ہے۔

 

مختصر یہ کہ عقیدہ ہو یا عملی جہت ایک مومن کی حیات من جملہ اسی بیانیے کی پابند ہے جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے 1400 سال پہلے دیا تھا۔ سیاست، معیشت، سماج، ماحولیات، فلکیات، طبیعات، ماوراء الطبیعات وغیرھا جتنے بھی پہلو ہیں سب کے سب اسی آفاقی بیانیے کے پابند ہیں۔ اسلامی دائرے کار میں کسی بھی بشر خواہ فرد ہو یا اجتماع (پارلیمنٹ) وہ بیانیہ بدل نہیں سکتے۔ البتہ انہیں اس بات کا مکلف ضرور بنایا گیا ہے کہ وہ اس بیانیے کے نفاذ کے لئے باہم مشاورت سے متفقہ طور پر کوئی موثر لائحہ عمل اور طریقہ کار وضع کریں۔ کیونکہ مقصود اعلائے کلمہ حق ہے۔

اس بیانیے کے نفاذ کے لئے جہاد بالسیف کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے اس لئے اسلام مسلمانوں کو ہر وقت بہترین اسلحہ سے لیس اور تیار رہنے کا حکم دیتا ہے۔ گفتار کے لئے علم کی اہمیت پہلی وحی سے اجاگر کرائی گئی۔ گفتار کے ساتھ جب تک پختہ اور پاکیزہ کردار نہ ہو وہ مفید و موثر نہیں ہوسکتی اور اس کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے عرب کے اجڈ، بے اصولے، اور ظالم معاشرے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چالیس سال گزروائے گئے تاکہ دنیا دیکھے کہ کردار مضبوط ہو تو زبان سے نکلا ہوا سادہ جملہ دشمن کی ہتھیلی میں بند پتھروں سے بھی کلمہ حق بلند کروا دیتا ہے۔

اخلاق اعلی  ہوں تو دشمن بھی قیصر روم کے دربار میں صادق و امین کہے بنا نہیں رہ سکتا۔ اور اسے سارے فلسفے کو اسلامی بیانیے نے بندہ مومن کے لئے ” جہاد بالنفس” کے پیرائے میں سمو دیا۔ گویا اسلامی بیانیہ اول تا آخر جہاد ہی ہے جس کی پہلی قسم دوسری قسم کے تحفظ کی ضامن ہے۔ جہاد بالسیف  نہ ہو تو دشمن چڑھ دوڑے گا اور آپ کو ختم کردے گا۔ جب آپ ہی نہیں رہیں گے تو پھر جہاد بالنفس کیسا! اور اگر جہاد بالنفس کو ترک کردیں گے اور جہاد بالسیف پر ڈٹے رہیں گے تو پھر آپ کی تلوار کے غضب پر سے عدل و انصاف کا پہرہ اٹھ جائے گا۔ ظالم و مظلوم کا فرق بھلا کر آپ کو ایک لٹیرا صفت سفلی انسان بنا دے گا۔

مختصر یہ کہ اسلام کا بیانیہ اول تا آخر جہاد ہی ہے: جہاد بالسیف + جہاد بالنفس ۔ جب سے ہم اس بیانیے سے پیچھے ہٹے ہیں۔ ذلت ہمارا مقدر ہوئی ہے۔ جو اول الذکر پر زور دیتے ہیں، دوسرے جہاد سے ان کا دامن خالی ہے۔ جو دوسرے جہاد پر زور دیتے اس میں تو وہ کوتاہ ہیں ہی، اور پہلے جہاد کے صرف نام سے ویسے ہی ان کی نکلتی ہے۔ اسلام کے بیانیے کو چھوڑ کر نت نئے بیانیے تلاشے گئے اور کانفرنسیں کروائی گئیں ۔ وہ سب کیا ہوئے ؟ قصہ پارینہ ہوئے۔

 

 

نجات اسی بیانیے میں ہے جو نسل در نسل پاکیزہ کردار کے حامل اسلاف سے ملتا آیا ہے۔ راستے کے مداریوں سے بیانیے کا چورن نہ لیں۔ کیونکہ وہ ایسی نسوار ہے جو عقل پر پردے ڈال دیتی ہے اور تمہیں احمقوں کی جنت میں لے جاتی ہے۔ جب تمہیں ہوش آئے گا تو پانی سر سے گزر چکا ہوگا۔ سیاست، معیشت، سماج وغیرھا پر فرد و اجتماع ہر سطح پر اسلامی بیانیہ اس کی روح کے ساتھ نافذ کی جئے پھر عظمت رفتہ کو آتا دیکھئے۔

لوٹ جا عہدِ نبیﷺ کی سمت رفتارِ جہاں

پھر میری پسماندگی کو اِرتقا درکار ہے

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں اور سبسکرائب کریں ۔

اسلامی معلومات ، روایتی معاشیات ، اسلامی معاشیات اور اسلامی بینکاری سے متعلق یو ٹیوب چینل
https://www.youtube.com/user/wasifkhansb?sub_confirmation=1

 

مغرب سے امپورٹ بھی کیا تو کیا؟ 

 

 

 محمد ابوبکر صدیق

لیکچرر انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد

21 – 11 -2020

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مغرب سے مراد جغرافیائی مغرب نہیں بلکہ اس سے مراد اسلام کے مقابل یہود و نصاری کی تہذیبی و تمدنی فکر مراد ہے۔  ہمارے ہاں سیکولر، لبرلز، الحادی فکر اور دین بیزار احباب شور بپا کئے رکھتے ہیں کہ مغرب کی دنیا سائنس میں ترقی کر گئی اور ہم پیچھے رہ گئے اور اس کی سب سے بڑی وجہ ’’دینی مدارس‘‘ ہیں۔ آئیے ذرا اس امر کا تجزیہ تو کریں ۔ سب سے پہلے اس سوال کا جواب ڈھونڈھیں کہ: پاکستان کے بننے سے اب تک کتنے مدراس کے کتنے لوگ حکمران رہے ؟ پالیسی ساز ادارے کے سربراہ یا ممبر رہے؟ جواب ہے ایک بھی نہیں۔ جمہوری حکمران ہوں یا فوجی آمر سب جدید یونیورسٹیوں سے پڑھے ہوئے تھے۔ بلکہ اکثر خود اور ان کی اولادیں مغرب کی یونیورسٹیوں سے پڑھ کر آئے۔ پالیسی ساز کمیٹی کا ممبر ہونے کی سب سے بڑی اہلیت ہی یہ ہے کہ بندہ مذہب بیزار و لبرل ہو۔

مولوی بے چارا نہ تو پالیسی ساز رہا اور نہ کبھی حکمران اور وہ ہو بھی کیسے سکتا ہے  جبکہ صرف مولوی ہونا ہی بڑے مناصب کے لئے نااہلی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ جہاں ایک  مسلمان صرف اس لئے ہائی کورٹ کا جج بننے سے ناہل قرارپایا  کہ وہ ’’ حافظ قران ہے‘‘۔لیکن اس سے بھی بڑے  عدالتی منصب کے لئے رانا  بھگوان داس ایک ہندو  اہل قرار پاتا ہے اور وہ سپریم کورٹ کا چیف جسٹس بن جاتا ہے۔جہاں صرف حافظ قران  بندہ چیف جسٹس نہیں بن سکتا وہاں مولوی کے لئے حکمران  ہونا تو دور کی بات ہے۔ اس سب کے باوجود ساری بے اعتدالیوں کا ذمہ دار وہ مولوی ہی ہے! یا للعجب۔چلیں فرض کی جئے مان لیا کہ ہماری پستی کا سبب مولوی ہے۔ لیکن آئیے ذرا اس طرف بھی سوچیں کہ  جن کے ہاتھ زمامِ اقتدار رہی انہوں نے ترقی لانے کے لئے کیا کردار ادا کیا؟ جواب ہے کہ انہوں نے اپنی پسندیدہ اور محبوب تہذیب مغرب  کے سامنے کاسہ لیسی کی ۔ سوال یہ ہے کہ انہوں نے  مغرب سے کیا امپورٹ کیا؟ لبرلز کی جانب سے اس کا عمومی جواب یوں دیا جاتا ہے کہ ’’ مولوی ‘‘ کے ڈر سے امپورٹ ہی نہیں کیا جا سکا ۔ پھر سوال یہ بنتا ہے کیا واقعی ایسا ہے ؟ اس کا جواب ایک اور سوال کے جواب میں پوشیدہ ہے۔ اور وہ سوال یہ ہے کہ: مولوی کو مغرب سے کس چیز کی امپورٹ پر اعتراض ہے؟ مولوی کو مغرب سے درامد کی جانے والی بے حیائی، عریانی، فحاشی اور بے دینی و الحادی فکر پر اعتراض ہے۔ مولوی نے تو سائنس کی درامد پر کبھی اختلاف و احتجاج کیا ہی نہیں۔ ارباب اقتدار ( لبرلز سیکولر ملحد دین بیزار) نے مغرب سے صرف امپورٹ ہی وہ کیا جس پر مولوی کو تحفظات تھے اور سارا زور ہی اسی تہذیب و تمدن کے فروغ پر لگایا ۔ بظاہر یہی طبقہ جو سائنسی علوم و ایجادات کی رٹ لگاتا تھا جس پر مولوی معترض ہی نہیں تھا اس کو تو بھولے سے بھی ہمارے تعلیمی اداروں اور تجربہ گاہوں تک آنے ہی نہیں دیا۔ کیونکہ اگر ایسا ہوجاتا تو امت مسلمہ طاقت ور بنتی ، ترقی کرتی۔اور یہ ان کے مغربی آقاوں کو کب گوارا تھا۔ اس لئے بڑے پلان کے منصوبہ سازوں نے طریقہ کار ہی یہ اپنایا کہ ’’راگ سائنس و ایجاد کا الاپو لیکن مہیا عریانی فحاشی بد کاری اور بے دینی کا سامان کرو‘‘۔ اور جب مولوی اس کی مخالفت کرے تو فورا رونا پیٹنا شروع کردو کہ دیکھیں مولوی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

مغرب کی یہودی و عیسائی دنیا کن مراحل سے گزر کر ترقی کی منزل پر آج پہنچی ہے وہ یہ ہیں۔

۔1۔ الحاد ، لادینیت اور مذہب بیزاری

۔2۔ مذہب فرد کا ذاتی معاملہ قرار

۔3۔ مطلق آزادی کا صرف تصور ( جو عملا کبھی بھی نہیں دی گئی)۔

۔4۔ عریانی، فحاشی بے حیائی کا فروغ

۔5۔غیر مغربی اقوام کی تحقیر و تذلیل

نوٹ: یہ سب مرحلے طے کرنے کے باجود مغرب کا قانون یہودی و عیسائی عقائد و اخلاق پر مبنی ہے۔ مثلا امریکہ کا صدر غیر عیسائی نہیں ہوسکتا۔ سیکولر اور انسانیت کو مذہب ماننے والے دریوزہ گروں کے اپنے لیے قوانین یہ ہیں۔ اور ان کے ذہنی غلام ہم سے کہتے پھرتے ہیں کہ پاکستان کا صدر یا وزیر اعظم صرف مسلمان ہی کیوں ؟  غیرمسلم کو بھی یہ منصب ملنا چاھئے  ۔وہ رات دن اسی نظریاتی بے راہ روی کا پرچار کرنے میں مگن رہتے ہیں۔   اور اسے پاکستان کی ترقی کی ضمانت گردانتے ہیں۔  ’’ مولوی ‘‘ کو اسی سے تکلیف و اذیت ہوتی ہے اور وہ اسے برداشت نہیں کرتا۔ تو لبرل طبقہ فورا فورا سائنسی ترقی کو بنیاد بنا کر شور کرنا شروع کر دیتا ہے: ’’دیکھو مغرب سائنس میں ترقی کر گیا جبکہ ہمارا مولوی ترقی کے خلاف ہے۔‘‘ حالانکہ مولوی بے چارا سائنس کی ترقی کے خلاف نہیں بلکہ سائنس کے نام پر درامد کی جانے والی ’’ تہذیبی و تمدنی اور اخلاقی بیماریوں ‘‘ کے خلاف ہے۔ نشانی کے طور ہمارے اعلی مخلوط تعلیمی اداروں اور تعلیمی نصاب کو ملاحظہ کر لی جیے پھر میڈیا کے ذریعے معاشرے میں پھیلتے بے حیائی عریانی و فحاشی کو بھی دیکھ لیں کہ مولوی کے تحفظات کس حد تک درست ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں اور سبسکرائب کریں ۔

اسلامی معلومات ، روایتی معاشیات ، اسلامی معاشیات اور اسلامی بینکاری سے متعلق یو ٹیوب چینل
https://www.youtube.com/user/wasifkhansb?sub_confirmation=1

مغرب پلٹ بزر چمہر اور ہمارا سادہ دل نوجوان

September 01, 2020

تحریر : محمد ابوبکر صدیق

…………………………………….

پس نوشت

ہمارے نوجوان جو دیار مغرب میں اعلی تعلیم کے لئے جاتے ہیں اور جب پلٹتے ہیں تو اپنی دم پہ مور پنکھ چپکا لاتے ہیں۔ اس میں وہ احباب بھی شامل ہیں جن کے لئے مولانا و عالم کی اصطلاح باعث عار ہوتی ہے۔ اس لئے وہ خود کو اسکالر کہلوانا پسند کرتے ہیں۔ نظریات میں یہ بدلاو کیوں آتا ہے؟

تاریخ شاہد ہے کہ بین الاقوامی پلیٹ فارم پر جس قوم کا سیاسی غلبہ ہو وہ فکری سطح پر بھی موثر ہوتی ہے۔ ان کا کلچر مغلوب اقوام کے لئے معیار ٹھہرتا ہے۔ یہ ایک عمومی رویہ ہے۔
البتہ اسلام وہ واحد مذہب ہے جو تہذیبی یلغار میں بھی اپنے افراد کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرتا ہے۔ لیکن اس کے لئے کچھ مفروضے ہیں جو تاریخی شواہد کی بنیاد پر قائم کئے گئے ہیں۔ اور یہ میری رائے ہے جس سے اصحاب علم و دانش کو اختلاف ہوسکتا ہے۔

۔1۔ نظریاتی و فکری سطح پر بندے کی اسلام کے ساتھ وابستگی غیر معمولی حد تک مضبوط ہو یعنی کمپرومائزڈ نہ ہو۔

۔2۔ بندہ خود اعلی و پاکیزہ کردار کا حامل ہو۔

۔3۔ بندے کی روحانی تربیت کے پیچھے اعلی کردار کا حامل کوئی صاحب نظر شخصیت ہو۔ یا پھر خاندانی نسبت ہی کمال ہو۔

۔4۔ قرآن و سنت اور اسلاف کے اصولی و فروعی علمی ورثے کا گہرا مطالعہ کیا ہوا ہو۔

یہ چار شرطیں جس بندہ مومن میں پائی جاتی ہوں  مغرب اکیلا تو کیا اپنے جیسی لاکھ ابلیسی تہذیب کی چکا چوند لے آئے وہ ایسے بندہ مومن کی مست نگاہ کو خیرہ نہیں کرسکتیں۔
فی زمانہ دیار مغرب میں جانے والے مسلمان نوجوان دو طرح کے ہیں ایک وہ جو کالج و یونیورسٹی کی کھیپ ہے۔ بدقسمتی سے ان میں تو شاید ہی کوئی ہو جس میں مندرجہ بالا کوئی ایک بھی خوبی پائی جاتی ہو۔ چھوئی موئی صفت زومبی جنریشن جو پہلے ہی اپنی اصل سے کٹی ہوئی ہوتی ہے۔ یہ وہ کمزور سپاہی ہیں جو مغرب کی دھرتی پر قدم رکھتے ہی ’’چاروں شانے چت‘‘ ہوجاتے ہیں اور وہاں ’’ہنس کی چال چلنا‘‘ شروع کر دیتے ہیں۔ تاہم استثنائی مستحسن کردار اپنی جگہ موجود ہیں اور قابل تعریف ہیں۔

مدارس کے فارغ التحصیل طلبا جن میں چار میں سے کوئی چند شرطیں ہوں بھی تو وہ بہت ناقص ہوتی ہے جیسا کہ اس وقت ہمارا موجودہ معاشرہ ہے۔ آخر وہ بھی اسی کا حصہ ہیں۔ مطالعے کا حال تو پوچھئے ہی مت خواہ جناب “اسکالر ” ہی کیوں نہ ہو۔ سطحی نظر کو جناب گہرا مطالعہ سمجھتے ہیں۔
اگر یہ شرائط نہ ہوں یا ہوں لیکن ناقص ہوں تو اس کے کیا نتائج نکلتے ہیں؟
ایسے نوجوان جب مغرب میں پہنچتے ہیں تو وہاں کی تہذیبی و فکری یلغار کے سامنے مبہوت ہو کر رہ جاتے ہیں۔ وہ اسلامی احکام اور عقائد کی اس تشریح کو آسانی سے قبول کرلیتے ہیں جو مغربی مفکرین نے کی ہوتی ہیں۔ یا پھر فکری و روحانی نا پختگی کی وجہ سے معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے وہ ایسی تاویل و تفسیر یا عقلی تعبیر پیش کرتے ہیں جو اہل مغرب کے لئے قابل قبول ہو تاکہ انہیں اہل مغرب کی جانب سے کسی ایسے تلخ اور تند تیز اعتراض کا سامنا نہ کرنا پڑے جس کے سامنے وہ لاجواب ہوجائیں، لہذا اس کا سادہ سا حل انہیں یہ سوجھتا ہے اسلاف کے فہم دین سے ہی دستبردار ہوا جائے تاکہ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔
لیکن اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ پھر انہیں ہر خوبی مغرب میں اور ہر خامی اسلام میں دکھائی دیتی ہے۔ مغرب بڑی ہی چالاکی سے ایسے مرعوب ذہن میں کامیابی سے یہ زہر بھرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے کہ اسلام اور اسلامی علوم عصر حاضر میں ناکارہ ہوچکے ہیں۔ دنیا میں ترقی کرنی ہے تو پھر ہمیں اپنی ساری یہ اکثر علمی وراثت کو کوڑے کے ڈھیر پر پھینکنا ہوگا۔ اور نئے سرے سے مغربی بنیادوں پر استوار کرنا ہوگا۔ اور جب ان سے ترقی کی حقیقت یا تعریف دریافت کی جائے تو فورا ایک ایک کر کے مادیت زدہ ترقی کی مثالیں پیش کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ مثلا چاند اور مریخ تک پہنچنا، کمپیوٹر کی ایجاد، وغیرہ وغیرہ۔
ایسے احباب کی سیٹی تب گم ہوجاتی ہے جب کوئی کٹر مسلمان ان سے صرف یہ سادہ سا سوال پوچھ لے کہ بھائی یہ بتاو کہ اتنی ساری ترقی کرنے کے بعد کہ ہواوں اور فضاوں کو مسخر کرلیا مریخ تک جاپہنچے ذرا یہ بتائیے اس ساری ترقی کی بدولت کیا وہ خالق کے ساتھ اپنا تعلق جوڑ پائے ؟؟؟؟ مریخ کی رنگیلی مٹی لانے والوں کو کیا اس میں رب کا رنگ بھی نظر آیا ؟؟؟؟
یہ احباب “کھسیانی بلی کھمبا نوچے ” کی مثل آئیں بائیں شائیں کرتے ہوئے جواب دیتے ہیں “” جناب یہ دوسری باتیں ہیں دیکھیں نا انہوں نے ترقی تو کی ہے “” ۔ اب مجھے بتائیے جسے مسلمان ہوکر یہ بنیادی بات ہی پتہ نہیں کہ جو اللہ تک نہ پہنچائے یا اللہ سے حجاب پیدا کردے اسے ترقی نہیں بلکہ “”ترکنا”” کہتے ہیں۔(پنجابی لفظ)۔ کیا ایسے غافل “مغرب پلٹ بزرچمہر ” کے کہنے پر یہ مان لیا جائے کہ اسلام اور مسلمان دقیانوسی ہیں اور مغرب ایک اعلی اقدار کی تہذیب ہے!
آج کل ایسے “”اسکالر”” کثرت سے میسر ہیں۔ جنہیں پڑھنے کے بعد مسلم نوجوان شرمندہ شرمندہ ہوا پھرتا ہے۔ ایسے نوجوانوں کو نصیحت ہے اپنی روحانی و ذہنی تسکین کے لئے ایسوں سے دور رہا کریں کہ جنہیں پڑھنے کے بعد آپ کے اسلاف آپ کی نظر میں بونے دکھائی دینے لگیں۔ مسئلہ آپ کی نگاہ کے ساتھ نہیں عینک کے ساتھ اس لئے عینک بدلئے۔
“””سیانے کہتے ہیں گھر سے باہر بھیجنے سے پہلے منڈا تگڑا کر لو۔ بھولا تو سب لٹا کے ہی آتا ہے بلکہ کبھی کبھار اپنا آپ بھی لٹا آتا ہے۔”””” جسے خود کا نہیں پتہ وہ بھلا خودی کیا سنبھالے گا۔ گنجی نہائے گی کیا اور نچوڑے گی کیا۔ جو اپنے نظریات نہیں سنبھال سکا وہ تمہارے کیا سنبھالے گا۔
مغرب سے اسلامی نظریات و افکار سلامت لانے کے لئے قلندر لاہوری والا بندہ چاھیے ۔ جس کا اسلام سے تعلق بھی پختہ تھا، جس کا کردار بھی اعلی تھا، اور جو روحانی طور پر کاملین کی نگاہ کا فیض یافتہ تھا۔ تبھی تو وہ بول اٹھا

زمِستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزی
نہ چھُوٹے مجھ سے لندن میں بھی آدابِ سحَرخیزی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میرِ سپاہ ناسزا، لشکریاں شکستہ صف

آہ! وہ تیرِ نیم کش جس کا نہ ہو کوئی ہدف

تیرے محیط میں کہیں گوہرِ زندگی نہیں

ڈھُونڈ چُکا میں موج موج، دیکھ چُکا صدف صدف

عشقِ بُتاں سے ہاتھ اُٹھا، اپنی خودی میں ڈوب جا

نقش و نگارِ دَیر میں خُونِ جگر نہ کر تلَف

کھول کے کیا بیاں کروں سِرِّ مقامِ مرگ و عشق

عشق ہے مرگِ با شرف، مرگ حیاتِ بے شرف

صحبتِ پیرِ روم سے مجھ پہ ہُوا یہ راز فاش

لاکھ حکیم سر بجیب، ایک کلیم سربکف

مثلِ کلیم ہو اگر معرکہ آزما کوئی

اب بھی درختِ طُور سے آتی ہے بانگِ’ لاَ تَخَفْ‘

خِیرہ نہ کر سکا مجھے جلوۂ دانشِ فرنگ

سُرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں اور سبسکرائب کریں ۔

اسلامی معلومات ، روایتی معاشیات ، اسلامی معاشیات اور اسلامی بینکاری سے متعلق یو ٹیوب چینل
https://www.youtube.com/user/wasifkhansb?sub_confirmation=1

زومبی جنریشن – شاخِ بریدہ

…………………………………….

محمد ابوبکر صدیق

یونیورسٹیوں میں پڑھنے اور پڑھانے سے ایک بات تو سمجھ میں آگئی ہے کہ نئی نسل اسلامی تہذیب بالعموم اور پاکستانی کلچر بالخصوص پر تو تیار نہیں ہورہی۔ اردو زبان سے  عدمِ واقفیت اور انگریزی زبان  ایسی کہ جسے انگریز لطیفے سے کم نہ گردانیں والی کیفیت ہو چکی ہے۔یہ تجزیہ اس نئے نظام کے احباب کے لیے نہ صرف قابل قبول نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ناگواری کا باعث بھی ہوگا۔ لیکن ہم نے “اقبال کا ترانہ بانگ درا ہوگیا ” کے مصداق صدائے حق بلند کرنی ہے اور یہی ہماری ذمہ داری ہے کہ میں لشکر یزید میں مثلِ حُر رہتا ہوں۔ 

یہ نئی نسل جو نہ تو ” کوے ” رہے اور نہ ہی کبھی ” ہنس ” بن پائیں گے۔ایسے لگتا ہے کہ چند دہائیوں بعد یہ قوم شاید اردو پڑھنا لکھنا بھی نہیں جانتی ہوگی۔ جسمانی طور پر تو یہ نسل ہماری ہے لیکن ذہنی طور پر یہ کسی اور کی نسل تیار کی جارہی ہے۔ اور اس میں بنیادی کردار اور اہم کردار جدید تعلیمی ادارے اور بے لگام میڈیا ہاوسز کا ہے۔

آگے چلنے سے پہلے قاری صرف اتنا ذہن میں رکھے کہ جو معاشرتی فساد , الحاد، فحاشی  اور بے حیائی آج ہمارے زمانے میں ہے کیا یہ ہمارے بچپن یا باپ دادا کے زمانے میں تھی ؟ اگر جواب نہیں میں آئے تو پھرسوچیں  آخر وہ کیا وجوہات اور اسباب ہیں جن کی وجہ سے یہ سب ہوا۔ اسی موضوع پر آگے گفتگو کی گئی ہے ۔

فی زمانہ چنداں کمیوں کے باوجود دینی مدارس کا وجود کسی نعمت خداوندی سے کم نہیں  جو اس گئے گزرے دور میں بھی  ایسے اسکالر پیدا کر رہے ہیں جو قرآن و سنت، عربی ، اردو حتی کہ فارسی زبان پر بھی کافی حد تک عبور رکھتے ہیں۔فارسی زبان وہ زبان ہے کہ جس میں علم کا ایک سمندر سمیٹا پڑا ہے مگر آج ان کتابوں پر دھول اٹی پڑی ہے کہ جسے کسی نے کھول کر بھی نہیں دیکھا۔ یہی وہ لوگ ہیں جومعاشرے  کی لاکھ بے اعتنائیوں اور طعنہ زنیوں کے باوجود 1400 سال سے قرآن و سنت کا ورثہ آج ہم تک سنبھال کر لائے ہیں۔ اور اگلی نسلوں تک پہنچانے کے لیے مصروف عمل ہیں۔ یہ وہ با کمال لوگ ہیں کہ جنہیں نہ تو ریاستی وسائل مہیا ہیں اور نہ ہی بھاری بھرکم تنخواہیں اور مراعات۔لیکن پھر بھی زبان پر اللہ کا شکر جاری رہتا ہے۔ روکھی سوکھی کھا کر بھی معاشرے کے ایسے نوجوان کو ایک با کمال انسان بناتے ہیں جسے اس کے اپنے ماں باپ بالعموم اس لیے مدرسے چھوڑ جاتے ہیں کہ وہ اسے جدید تعلیم حاصل کر کے جائز و ناجائز طریقوں سے دولت کمانے کے قابل نہیں سمجھتے تھے۔ یہی مدارس اسی نوجوان میں وہ دل ،وہ جگر پیدا کر دیتے ہیں کہ وہ علوم قدیمہ کے ساتھ علوم جدیدہ میں بھی جدید تعلیمی اداروں کے طلبہ کے برابر آ کھڑا ہوتا ہے۔ اگر یقین نہ آئے تو مختلف اضلاع کے سکینڈری اور انٹرمیڈیٹ کے بورڈز کے نتائج اٹھا کر دیکھ لیں توپتہ چلے گا کہ دینی مدارس کا رزلٹ ۹۵ سے ۱۰۰ فیصد کامیابی کا ہوتا ہے۔ 

وہ نوجوان جسے اپنے والدین نے کسی کام کا نہیں سمجھا  ہوتا وہی نوجوان اپنے والدین کے قدموں کا دھوون پینے کو اپنی سعادت گردانتا ہے۔ ان کے سامنے اپنی آواز اونچی نہیں کرتا۔ دیگر رشتوں میں تقدس کا خیال  اور معاشرے کے بڑوں کا احترام کرتا ہے۔ یہ آداب فرزندی مکتب کی کرامت کے ساتھ ساتھ صاحبِ کردار اساتذہ کی مبارک نگاہ کےطفیل نصیب ہوتے ہیں۔

جدید تعلیمی اداروں سے پیدا ہونے والی نئی جنریشن  کی کیا تربیت ہے ؟ تربیت کس منہج پر ہے ؟ کیا آداب زندگی ہیں ؟ یہ سب روز روشن کی طرح عیاں ہے کچھ بتانے کی ضرورت نہیں۔ صرف اتنا اشارہ دیتا چلوں کہ جیسے جیسے مغرب کی ابلیسی تعلیم اور ابلیسی کلچر کو اپنے تعلیمی اداروں اور زندگیوں میں لے کر آئے ہیں ویسے ویسے ہمارے معاشرے کی اقدار پامال ہوئی ہیں ۔ اولڈ ہاوسز جیسی لعنت میں اضافہ ہوا ہے۔ فحاشی و عریانی بڑھی ہے اور اس پر طرفہ یہ کہ وہ قابل برداشت بھی ہوئی ہے۔مخلوط تعلیمی اداروں میں جو بڑھتی ہوئی اخلاقی اور سماجی تباہی ہے اس کے حقائق مخفی لیکن چشم کشا ہیں ۔ ایک ایسا ماحوال پیدا کرنے کی کوشش  کی جارہی  ہے کہ کسی طرح اس اسلامی معاشرے میں کنواری مائیں اور کنوارے باپ پیدا ہوجائیں۔ والدین کی دولت اڑا کر اولاد جوں جوں اعلی تعلیم یافتہ ہوتی جاتی ہے والدین کے لئے درد سر بنتی جاتی ہے۔ بالآخر وہی بیٹا کام آتا ہے جسے وہ مدرسے چھوڑ آئے تھے۔ اور اگر خوش قسمتی سے اس جدید نظام سے کوئی اچھا آدمی نکل بھی آئے تو اس میں کردار پھر اسلامی تعلیم کا ہی ہوتا جو اسے یا تو بچپن میں ملی  ہوتی ہے یا پھر کبھی کبھار علما کی آواز کانوں پڑنے کے سبب حاصل ہوئی تھی یا پھر گھرانہ ہی مذہبی تھا۔

پرائمری، او لیول اے لیول کے انگلش میڈیم برینڈڈ تعلیمی ادارے جہاں انگلش بہتر کرنے کی آڑ میں کم سن اور کچے ذہن کے طالب علموں کو مغرب کے مصنفین کے وہ ناول پڑھائے جاتے ہیں جس میں ابلیسی نظام سے محبت اور مذہب سے دوری کا بیج بویا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مسلمان کا بچہ کلیسا کی جانب بہت ہی نرم لیکن مسجد کا مولوی اسے وحشی دکھائی دیتا ہے۔ اپنے معاشرے کی حقیقی اقدار بھی اسے دقیانوسی اور مغرب کی عریانیت اسے آزادی لگنے لگتی ہے۔ ایسے تعلیمی ادارے سے نکلنے والے ریوڑ کی نظر میں شیکسپیئر ، نپولین، ڈیکارٹ اور اس جیسے لوگوں کی تاریخ کافی حد تک پڑھی ہوتی ہے۔ امریکہ کیسے آباد ہوا؟ یورپ میں انقلاب کی روشن داستاں کیا ہے؟ الغرض اسلام کے علاوہ ہر فضول باب انہوں نے ازبر کیا ہوا ہوتا ہے۔  اسلامی تاریخ میں اگر انہیں کچھ یاد ہوتا ہے تو وہ یہ کہ  سلطان محمود غزنوی ، محمد بن قاسم  لٹیرے تھے۔ انہیں بائبل اور دیگر ملحد دانش وروں کے انگلش اقوال یاد ہوتے ہیں لیکن ایک آیت یا حدیث کا پوچھ لیں تو ان کی جیسے سیٹی گم ہوجاتی ہے۔ ان کی اکثریت کو تو اسلامی تاریخ کا سرے سے علم ہی نہیں ہوتا۔ وہ نسل جو اپنے عظیم ماضی سے شاخِ برید کی مانند کٹ چکی ہو، اور زومبیز کی طرح بے شعوری میں چلے جارہی ہو یہ سوچے سمجھے بغیر کہ “وہ کیا گردوں تھا جس کا میں ہوں اک ٹوٹا ہوا تارا ” ، کیا خاک اگلی نسلوں کی قیادت کے اہل ہوگی۔ بقول اقبال

نئی بجلیاں کہاں ان بادلوں کے جیب و دامن میں
پرانی بجلیوں سے بھی ہو جن کی آستین خالی

 لبرل  طبقے کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ خود کو مسلمان بھی کہلوانا چاہتا ہے لیکن مغربی روشن خیالی کا لبادہ بھی اوڑھے رکھنا چاھتا ہے۔ اس لیے انہیں قرآن و سنت کی صرف وہ تعبیر و تاویل ہی پسند آتی ہے جس میں انہیں یہ اجازت مل جائے کہ ایک ہاتھ میں قرآن تو دوسرے میں جامِ شراب رہے۔مسجد میں بھی اُن کے سجدے  ہوتے رہیں اور کلیسا میں بھی حاضری لگتی رہے۔ شرعی احکام کی ایسی نادر تعبیر پیش کرنے والے لوگ ہی ان کے نزدیک حقیقی اسکالر اور روشن خیال عالم کہلاتے ہیں اور ان کے علاوہ باقی سب علمائے شریعت کو وہ دقیانوسی مولوی کے خطاب سے نوازتے ہیں۔ ان کی دانش کی مثال یہ ہے کہ بھلے انہوں نے بھولے سے بھی کبھی قرآن نہ پڑھا ہو لیکن شرعی معاملے پر اصولوں کے خلاف وہ یوں زبان درازی کریں گے جیسے ان سے بڑھ کر کوئی عالم نہیں اور اپنی ہر اول فول کو ایک دلیل قرار دیں گے اور “علمائے شرعیت سے کہیں گے کہ وہ اُن سے زیادہ مسلمان ہیں اور ان سے زیادہ شریعت جانتے ہیں”۔ ایک طرف ان خودساختہ روشن خیال لبرلز کا یہ رویہ ہے دوسری جانب ان کا یہی رویہ یک سر الٹ جاتا ہے جب علما ئے حق علم اور درک رکھنے کے باوجود دنیوی امور میں اگر اپنی رائے پیش کریں تو انہی لبرلز کی زبانیں آگ اگلنے لگ جاتی ہیں اور آنکھوں خون اتر آتا ہے کہ جیسے علمائے حق نے اُن کی دُم پر پاؤں رکھ دیا ہو۔ یہ نام نہاد روشن خیال لبرل طبقہ ایسے دوغلے رویوں کا سراپا ہے۔اور علماء ایسوں سے ” قالوا سلاما ” کہتے ہوئے کنارہ کر جاتے ہیں۔ 

لبرل طبقے کو اسلاف علمائے حق اور مدارس سے اصل تکلیف ہی یہی ہے کہ ان مردان حق نے نئی نسلوں میں اسلام کی چنگاری سلگائے رکھی اور یہ سلسلہ ہر زمانے میں جاری رہا ہے ۔ تاریخ بھری پڑی ہے کہ انگریزوں نے کیسے اس قوم میں میر صادق و میر جعفر  پیدا کیے۔ کیسے اپنے لئے ذہن سازی کرنے والے دماغ اور قلم خریدے ۔ کیسے  علماء کا قتل عام کرایا ، مدارس ختم کروا دیے۔  لیکن تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ  حق کی تعلیم سینہ بسینہ چلتی رہی اور یہی چنگاری پھر سے شعلہ بن کر ابھری۔ آج پھر انہی درویش صفت علما کو چیلنج کا سامنا ہے ۔ اُسی عیار کی سازشوں کے تانے بانے بننے والے نئے میر جعفر و میر صادق شاید نہیں جانتے  کہ یہ درویش صفت علما آج بھی مدارس میں سخت کوشی اور سخت جانی کی جو تربیت پاتے ہیں جس کی شاید ہوا بھی ممی ڈیڈی تعلیم والوں کو نہیں لگی ہوتی ۔ یہ مضبوط اعصاب کے لوگ اسلامی تہذیب کے ورثے کو اگلی نسلوں تک پہنچانے کے ہزار راستے جانتے ہیں۔

بس اک منزل ہے بوالہوس کی، ہزار رستے ہیں اہل دل کے

یہی تو فرق ہے مجھ میں اس میں گزر گیا میں ٹھہر گیا وہ

کسی صاحب درد کے الفاظ ہیں جو یہاں نقل کر رہا ہوں آج کے دور کی بصیرت نے میری بصارت اندھی کر چھوڑی ہے۔ میرا ہرآنے والا دن پہلے سے زیادہ ڈروانا اور بھیانک ہے۔ رشتوں کا تقدس پامال ہوچکا۔ بیٹی حقوق کی جنگ میں اپنے ہی باپ کو عدالت کے کٹہر ے میں کھینچ لائی۔چادر زینب کے تقدس کی امین نے سارے پردوں کو چاک کر کے مرد کے شانہ بشانہہو نے کو اپنی عظمت گردان لیا۔ اپنی روایت اور مذہبی اخلاقیات کو پس پشت ڈال کر وہ اپنے لباس میں بے لباس گھومتی ہے۔ اسے نمائش کی وہ چاٹ لگ گئی کہ چند اخباری تصویروں کے لئے وہ کسی بھی سیاسی میراتھن میں دوڑ سکتی ہے اورحقوق انسانی کی ڈفلی پر کوئی اسے بہکاکر کسی بھی طرح نچوا سکتی ہے۔ اسکا دوپٹہ اس کے سر سے اتر کر گلے کا پھندا بن چکا ہے۔ حیا کی لالی میڈوراکے غاروں تلے جا چھپی ہےا دوپٹہ اس کے سر سے اتر کر گلے کا پھندا بن چکا ہے۔  ہمیں نہیں چاہیے وہ نظام جو عورت کو کاروبار کا اشتہار بنا کررکھ دے ۔ ہمیں نہیں چاہئے وہ ترقی جو ترقی کے نام پر حیا کی چادر کو تار تار کرتی چلی جاتی ہے۔ ہمیں نہیں چاہیے وہ انصاف جو مختارائیں پیدا کرے۔   ہمیں نہیں چاہیے وہ نصاب جو ہمیں اپنے مذہب سے بے گانہ کر دے۔ نہیں چاہیے وہ کتاب جس پر الکتاب کا سایہ نہ ہو۔نہیں چاہیے وہ قلم جو چندپیسوں کے عوض امیرِ شہر کے قصیدے لکھتا ہے۔ نہیں چاہیے وہ معاشرہ جس میں عدل پیسوںکا محتاج ہے۔ نہیں چاہئے وہ طریقہ امتحان کہ امتحان سے پہلے ہی جس کےسوالنامے ردی میں بک جاتے ہیں۔ نہیں چاہیے وہ شہرت جو پینے کا صاف پانی تک مہیا نہ کر سکے۔ نہیں چاہیے وہ حمیت جو المسلم اخوالمسلم کے نعرے سن کر بھی بیدار نہیں ہوتی ۔ نہیں چاہیے وہ نصیحت جو عمل سے خالی ہے۔ نہیں چاہیے وہ علم جس کاداعی خود اندھا ہے۔ آنے والے وقت کے سرابوں میں الجھا کر ہماری گزشتہ منزل بھی ہمچھین لی گئی۔ ہم کس معاشرتی ترقی کی بات کر تے ہیں ؟ کیا وہ زمانہ اچھا تھاکہ جس میں باپ کی طرف محبت کی نگاہ کر نے والوں کو حج کے ثواب کا عندیہ ملے یا پھر یہ معاشرہ اچھا ہے جس میں باپ کو کچرے کا تھیلا سمجھ کر گلی کےنکڑ کے تھڑے پر ڈال دیا جاتا ہے۔ کیا وہ زمانہ اچھا تھا جس میں ماں کےقدموں تلے جنت کی بشارت رکھی گئی تھی۔ یا پھر یہ زمانہ اچھا ہے جس میں بوڑھی ماں کو اولڈ پیپلز ہوم کی زینت بنا دیا جاتا ہے۔ ہم کس عدل و انصاف کی بات کر تے ہیں؟ کیا وہ زمانہ اچھا تھا جس میں جرم کی سزا بلا امتیازِ حسب و نسب دی جاتی ہے یا پھر یہ زمانہ اچھا ہے جس میں اقربا ء کی کو تاہیوں کومصلحتوں کی غلاف اوڑھے جاتے ہیں۔ ہم کس اخلاقیات کی بات کر تے ہیں؟ کیا وہ زمانہ اچھا تھا جس میں خریدار کو بیچنے سے پہلے مال کے نقائص بیا ن کئےجاتے تھے یا پھر یہ زمانہ اچھا کہ خراب مال پر بہت اچھا کی مہریں لگا لگاکر گاہکوں کو لوٹ لیا جا تا ہے۔ ہم کس جنگ کی بات کرتے ہیں ! کیا وہ زمانہ اچھا تھا جس میں شہر کے شہر بغیر کسی قطرہ خون بہائے فتح کر لئے جاتے ہیں یاپھر یہ زمانہ اچھا ہے کہ  جہاں لاکھوں کی آبادی کولقمہ اجل بنا دیا جائے۔

علاج کیا ہے؟

خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں

ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں 

حضرت علامہ اقبال ؒ نے بیماری کی تشخیص اور علاج دونوں کی جانب کچھ یوں اشارہ کیا تھا

وہی دیرینہ بیماری ،  وہی نامحکمی دل کی

علاج اس کا وہی آبِ نشاط انگیز ہے ساقی

چودہ صدیاں  قدیمی قرآن و سنت کا نظام ہی تمہاری جدید بیماری کا علاج ہے۔اپنی زبان کو اپنائیے ، اپنی اسلامی تہذیب کو اپنائیے ،اپنی معاشرتی اقدار کو اپنائے۔مغرب کی جدید تعلیم پر قرآن و سنت کی چھاننی لگائیے ۔ اچھا حصہ اپنا لیں اور اس کی غلاظت و گندگی باہر پھینکیں۔

دوڑ پیچھے کی طرف اے گرد شِ ایام تو کہ آج پھر میری اذان کو روح بلالی کی تلاش ہے۔آج پھر میری اکھیوں میں پیا ملن کی آس ہے۔ میری پلکیں اسی راہ کی گرد چننا چاہتی ہیں جس راہ کی مٹی نے میرے محسن ﷺکے قدم چومے تھے۔

لوٹ جا عہد نبوی ﷺ کی سمت اے رفتار جہاں
پھر  میری  پسماندگی  کو ارتقا ء  درکار ہے

………………………………………

نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں اور سبسکرائب کریں ۔

اسلامی معلومات ، روایتی معاشیات ، اسلامی معاشیات اور اسلامی بینکاری سے متعلق یو ٹیوب چینل
https://www.youtube.com/user/wasifkhansb?sub_confirmation=1

مغرب اور احساس کمتری میں مبتلا لوگ

…………………………………….

محمد ابوبکر صدیق

مغرب کے نظریہ حیات  میں زندگی کے عملی میدان سے مذہب کا کردارہی ختم کردیا گیا۔مغرب نے مذہب کی بنیادں کو کمزور کرنے کے لیے جس فکر کو بنیادی ہتھیار بنایا وہ معاشی فکر تھی۔ چنانچہ انہوں نے معاشی نظریہ حیات اس انداز میں متعارف کرایا کہ  یہ ایک الگ مذہب بھی نہ لگے تاکہ اہل مذہب کی جانب سے ممکنہ مزاحمت سے بچا جا سکے  لیکن آہستہ آہستہ یہ  ان کی بنیادوں کو بھی ہلا کر رکھے دے اور بالآخرخود ایک غیر اعلانیہ مذہب قرار پائے۔اس لیے مغربی معیشت جو کہ مغرب کا نظریہ حیات ہی ہے، میں مذہب کو غیر اہم قرار دیتے ہوئے خدا کی بجائے خواہشاتِ نفس کو معاملات کا حکم بنادیا گیا۔

جب ایک فردسے خدائے لم یزل کا خوف اور  یوم حساب کا تصور چھین کر اُسے خواہشات کے بھیڑیے کے سامنے ڈال دیں گے توپھروہ ایک دمڑی کے لیے کسی کی جان لینے سے گریز کیوں کرے؟ اپنی حیوانی خواہش کو پوراکرنے کے لیے عصمت دری کیوں نہ کرے؟ دولت جمع کرنے کی ہوس میں وہ تجارتی منڈیوں میں اجارہ داریاں قائم کیوں نہ کرے؟ ناجائز منافع خوری کے لیے ذخیرہ اندوزی سے کیوں رکے؟ جب ایک انسان سے اُس کا وہ خوف چھین لیں گے جو اُسے انسان بنائے رکھنے کے لیے ضروروی تھا تو پھر وہ دیگر حیوانوں کی طرح کام نہیں کرے گا تو اور کیا کرے گا۔اور یہی مغرب میں ہورہا ہے جو صرف اور صرف ان کے اِسی باطل نظریے کی دَین ہے۔

تُو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہُوری نظام

چہرہ روشن، اندرُوں چنگیز سے تاریک تر!

مغرب کے نام نہاد فلسفیوں اور دانش وروں نے اپنی تہذیب کی بنیادجن نعروں پر رکھی وہ بظاہر تو خوش نما اور دلفریب نعروں تھے لیکن ان میں عملی فلاح کا تصور دوردور تک بھی نہیں تھا۔ کیونکہ ہر دانش ور کسی خاص طبقے سے نکل کر آیا تھا تو اُس نے اُسی طبقے کے مفادات کے پیش نظر سلوگن متعارف کیے کسی نے فرد کے حق میں تو کسی نے اجتماع کے حق ، کسی نے مزدور کی دادرسی کا نعرہ لگایا تو کسی نے سرمایہ دار کو طاقت وربنانے کی صدا لگائی۔لیکن یہ سب نعرے دل آویز جھوٹ کے سوا کچھ بھی نہیں تھے۔

فسادِ قلب و نظر ہے فرنگ کی تہذیب

کہ روح اس مدنیت کی رہ سکی نہ عفیف

نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کی

یہ صناعی مگر جھوٹے نگینوں کی ر یزہ کاری ہے

مغربی دانش وروں نے مطلق آزادی اورمطلق مساوات کے دل فریب نعروں کے جھانسے میں مبتلا رکھ کرپورے مغربی معاشرے کو ایک ایسی ڈگر پر چھوڑ دیا کہ جس پر چلتے ہوئے وہ بتدریج اپنا خاندانی نظام ، معاشرتی نظام حتی کہ اپنی نسلوں سے تعلق تک گنوا بیٹھے۔ظلم تو یہ ہے کہ صدیوں کے اس تباہ کن سفر پر سب کچھ گنوا دینے کے بعد جن کے پاس کھونے کو اب کچھ بچا ہی نہیں ، انہیں ترقی کی علامت قرار دےکر دوسری تہذیبوں کے احساس کمتری میں مبتلا لوگ اپنی اقوام کو انہی کے راستے پر چلنے کے لیے کمر کسنے کا مشورہ دے رہے ہیں ۔مغربی تہذیب کو بہت قریب سے جانچ پرکھ کر علامہ اقبال ؒ نے فرمایا تھا؛

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرےگی

جو   شاخ    نازک   پہ آشیانہ   بنے  گا ناپائیدار  ہو گا

اسلامی تہذیب کےعناصر میں اخوت،مساوات،جمہوریت،آزادی،انصاف پسندی،علم دوستی،احترام انسانی،شائستگی،روحانی بلندی اوراخلاقی پاکیزگی شامل ہیں اورانکی بنیادپریقیناایک صحت منداورمتوازن معاشرہ کاخواب دیکھاجاسکتاہے۔ جبکہ مغربی تہذیب ان تمام خوبیوں سے یک سر محروم ہے۔

حیات تازہ اپنے ساتھ لائی لذتیں کیا کیا

رقابت خود فروشی، ناشکیبائی، ہوسناکی

………………………………………

نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں اور سبسکرائب کریں ۔

اسلامی معلومات ، روایتی معاشیات ، اسلامی معاشیات اور اسلامی بینکاری سے متعلق یو ٹیوب چینل
https://www.youtube.com/user/wasifkhansb?sub_confirmation=1

مغربی  تہذیب   سے کیا مراد ہے؟

محمد ابوبکر صدیق

چہرہ روشن اندروں چنگیز سے تاریک تر

مغربی تہذیب سے مراد وہ تہذیب ہے جو گذشتہ چا ر صدیوں کے دوران یورپ میں نموردار ہوئی۔کیونکہ اس سے قبل تو پورا مغرب جہالت کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا تھا جسے وہ  ( ڈارک ایجز)  کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

مغربی تہذیب کا تولّد سولہویں صدی عیسوی میں اُس وقت  ہوا جب مشرقی یورپ  عثمانی خلافت اسلامیہ کے زیر تسلط آیا ۔ لاطینی اور یونانی علوم کے حامل بہت سے افراد وہاں سے  مغربی یورپ کی جانب چلے گئے۔ہسپانیہ

(موجودہ سپین ) پر عیسائیت کے قبضے کا بھی یہی زمانہ تھا۔مسلمانوں نے تقریبا آٹھ سو سال تک اسپین میں حکومت کی ۔مسلمانوں نے اسپین کو جہالت کی تاریکوں سے نکال کر علم و فن کا ایک شاہکار بنادیاتھا۔ لیکن جب

مسلمانوں کو اسپین سے بے دخل کیاگیا تو وہ تمام علمی و فنی ورثہ عیسائیت کے قبضے میں آگیا۔یہی وہ علمی ورثہ تھا کہ جس سے یونانی اور لاطینی مفکرین نے استفادہ کیا اور جدید  یورپ کی ترقی کا آغاز ہوا۔ یہی زمانہ ہے جب

یورپ میں سائنسی ترقی کا آغاز ہوا۔ نئی نئی ایجادات ہوئیں اُن کے باعث نہ صرف یورپ کی پسماندگی اور جہالت کا علاج ہو گیا۔ بلکہ یورپی اقوام نئی منڈیاں تلاش کرنے کے لیے نکل کھڑی ہوئیں ان کی حریصانہ نظریں

ایشیاءاور افریقہ کے ممالک پر تھیں۔ انگلستان، فرانس، پرُ تگال اور ہالینڈ سے پیش قدمی کی اور نت نئے ممالک کو پہلے معاشی اور پھر سے اسی گرفت میں لینا شروع کر دیااس طرح تھوڑے عرصہ میں ان اقوام نے ایشیاءاور

افریقہ کے بیشتر ممالک پر قبضہ کرکے وہاں اپنی تہذیب کو رواج دیا اس رواج کی ابتداءیونانی علوم کی لائی ہوئی آزاد خیالی اور عقلی تفکر سے ہوئی۔ جس نے سائنسی ایجادات کی گود میں آنکھ کھولی تھی۔ سائنسی ایجادات اور

مشینوں کی ترقی نے اس تہذیب کو اتنی طاقت بخش دی تھی کہ محکوم ممالک کا اس نے حتیٰ المقدور گلا گھونٹنے کی کوشش کی۔ وہاں کے عوام کی نظروں کو اپنی چکاچوند سے خیرہ کر دیا اور وہ صدیوں تک اس کے حلقہ اثر سے

باہر نہ آسکے۔ مسلمان ممالک خاص طور پر اس کا ہدف بنے۔ ترکی، ایران، مصر، حجاز، فلسطین، مراکش، تیونس، لیبیا، سوڈان، عراق، شام غرض تمام ممالک کو یورپ نے اپنا غلام بنا لیا اور ہندوستان پر قبضہ کر کے یہاں کے

مسلمانوں کو ان کی شاندار تہذیب سے بدظن کرنے کی ہر ممکن کوشش کی (۱)۔ اور وہ اپنی اس کوشش میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ان کی اس کامیابی کے پیچھے بہت بڑا اجتماعی ذہن کارفرما ہےجس کی تفصیل علامہ

اقبال ؒ کی نظم  اِبلیس کا فرمان اپنے سیاسی فرزندوں کے نام میں کچھ یوں ملتی ہے

لا کر بَرہمنوں کو سیاست کے پیچ میں                زُناّریوں کو دَیرِ کُہن سے نکال دو

وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا             رُوحِ محمدؐ اس کے بدن سے نکال دو

فکرِ عرب کو دے کے فرنگی تخیّلات                اسلام کو حِجاز و یمن سے نکال دو

افغانیوں کی غیرتِ دیں کا ہے یہ علاج            مُلّا کو اُن کے کوہ و دمن سے نکال دو

اہلِ حرم سے اُن کی روایات چھِین لو               آہُو کو مرغزارِ خُتن سے نکال دو 

تاریخ بتاتی ہے کہ مغلوب اور غلام قوموں کا ایک بنیادی المیہ یہ رہا ہے کہ وہ ہمیشہ غالب قوتوں کی تہذیبی چکا چوندکے سامنے ٹک نہیں پائے۔ لیکن جو تہذیب پختہ بنیادوں پر استوار ہوئی ہو وہ کبھی بھی مٹ نہیں سکتی البتہ

حالات و واقعات کے تناظر میں کبھی اس کا مغلوب ہوجانا ناممکن نہیں۔ اسلامی تہذیب چونکہ قرآن و سنت کے دائمی اور پختہ اصولوں پر مبنی ہے یہی وجہ ہے کہ تاتاریوں کے طوفان بلاخیز کے گزرجانے کے باوجود بھی

اسلامی تہذیب کا چراغ گُل نہیں ہوا۔فی زمانہ بھی اسلامی تہذیب پر مغرب و  یورپ کی جانب سے میڈیا، جدید تعلیمی اداروں اور جمہوریت کے ذریعے حملے کیے جارہے ہیں۔مطلق آزادی، مطلق مساوات ، انسانی حقوق اور

مذہب فرد کا انفرادی معاملہ ہے جیسے دل فریب نعرے بلند کیے جارہے ہیں اور میر جعفر و میر صادق نما غدار ملت ان نعروں کی نمائش میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ لیکن اسلامی تہذیب کا چراغ پھر بھی منور ہے اور ان

شاء اللہ یہ منور رہے گا کیونکہ حق کا نور بجھنے کے لیے تھوڑی ہوتا ہے۔

نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن

پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

مغرب نے کے ابلیسی نظام نے کیسے حملہ کیا اور پھر ابلیسی قوتوں کو خدشہ کس بات کا ہے ؟ کس سے خوف ہے ؟ اس سب کا جامع بیان حضرت علامہ اقبال ؒ کی نظم ابلیس کی مجلس شوری میں موجود ہے۔

ابلیس کی مجلس شوریٰ
1936

ابلیس

یہ عناصر کا پرانا کھیل! یہ دنیائے دوں!

ساکنانِ عرش اعظم کی تمناوں کا خوں!

اس کی بربادی پہ آج آمادہ ہے وہ کارساز

جس نے اس کا نام رکھا تھا جہانِ کاف و نوں

میں دکھلایا فرنگی کو ملوکیت کا خواب

میں نے توڑا مسجد و دیر و کلیسا کا فسوں

میں ناداروں کو سکھلایا سبق تقدیر کا

میں نے معنم کو دیا سرمایہ داری کا جنوں!

کون کر سکتا ہے اس کی آتشِ سوزاں کو سرد

جس کے ہنگاموں میں ہو ابلیس کا سوزِ دروں

جس کی شاخیں ہوں ہماری آبیاری سے بلند

کون کر سکتا ہے اس نخلِ کہن کو سرنگوں!

پہلا مشیر

اس میں کیا شک ہے کہ محکم ہے یہ ابلیسی نظام

پختہ تر اس سے ہوئے خوئے غلامی میں عوام

ہے ازل سے ان غریبوں کے مقدر میں سجود

ان کی فطرت کا تقاضا ہے نمازِ بے قیام

آرزو اول تو پیدا ہو نہیں سکتی کہیں

ہو کہیں پیدا تو مرجاتی ہے یارہتی ہے خام!

یہ ہماری سعی پیہم کی کرامت ہے کہ آج

صوفی و ملا ملوکیت کے بندے ہیں تمام!

طبع مشرق کے لیے موزوں یہی افیون تھی

ورنہ قوالی سے کچھ کمتر نہیں علمِ کلام

ہے طواف و حج کا ہنگامہ اگر باقی تو کیا

کند ہو کر رہ گئی مومن کی تیغِ بے نیام!

کس کی نومیدی پہ حجت ہے یہ فرمانِ جدید

ہے جہاد اس دور میں مردِ مسلماں پرحرام

دوسرا مشیر

خبر ہے سلطانیء جمہور کا غوغا کہ شر؟

تو جہاں کے تازہ فتنوں سے نہیں ہے باخبر!

پہلا مشیر

ہوں، مگر میری جہاں بینی بتاتی ہے مجھے

جو ملوکیت کا اک پردہ ہو کیا اس سے خطر!

ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس

جب ذرا آدم ہوا ہے خود شناس و خود نگر

کاروبارِ شہر یاری کی حقیقت اور ہے

یہ وجود میر و سلطاں، پر نہیں ہے منحصر

مجلسِ ملت ہو یا پرویز کا دربار ہو

ہے وہ سلطاں، غیر کی کھیتی پہ ہو جس کی نظر!

تو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام؟

چہرہ روشن ،اندروں چنگیز سے تاریک تر!

تیسرا مشیر

روح سلطانی رہے باقی تو پھر کیا اضطراب

ہے مگر کیا اس یہودی کی شرارت کا جواب؟

وہ کلیم بے تجلی ! وہ مسیح بے صلیب!

نیست پیغمبر و لیکن در بغل دارد کتاب!

کیا بتاوں کیا ہے کافر کی نگاہِ پردہ سوز

مشرق و مغرب کی قوموں کے لیے روز حساب!

اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا طبیعت کا فساد

توڑ دی بندوں نے آقاوں کے خیموں کی طناب!

چوتھا مشیر

توڑ اس کا رومتہ الکبریٰ کے ایوانوں میں دیکھ

آل سیزر کو دکھایا ہم نےپھر سیزر کا خواب

کون بحر روم کی موجوں سے ہے لپٹا ہوا

گاہ بالدچوں صنوبر، گاہ نالد چوں رباب

تیسرا مشیر

میں تو اس کی عاقبت بینی کا کچھ قائل نہیں

جس نے افرنگی سیاست کو کیا یوں بے حجاب!

پانچواں مشیر

(ابلیس کو مخاطب کرکے)

اے ترے سوزِ نفس سے کارِ عالم استوار

تو نے جب چاہا کیا ہر پردگی کو آشکار

آب و گل تیری حرارت سے جہانِ سوز و ساز

ابلہِ جنت تری تعلیم سے دانائے کار

تجھ سے بڑھ کر فطرت آدم کا وہ محرم نہیں

سادہ دل بندوں میں جو مشہور ہے پروردگار

کام تھا جن کا فقط تقدیس و تسبیح و طواف

تیری غیرت سے ابد تک سرنگوں و شرمسار

گرچہ ہیں تیرے مرید افرنگ کے ساحر تمام

اب مجھے ان کی فراست پر نہیں ہے اعتبار

وہ یہودی فتنہ گر، وہ روحِ مزدک کابروز

ہر قبا ہونے کو ہے اس کے جنوں سے تار تار

زاغ دشتی ہو رہا ہے ہمسرِ شاہیں و چرغ

کتنی سرعت سے بدلتا ہے مزاجِ روز گار

چھا گئی آشفتہ ہو کر وسعتِ افلاک پر

جس کو نادانی سے ہم سمجھے تھے اک مشتِ غبار

فتنہء فردا کی ہیبت کا یہ عالم ہے کہ آج

کانپتے ہیں کوہسار و مرغزار و جوئبار

میرے آقا! وہ جہاں زیر و زبر ہونے کو ہے

جس جہاں کا ہے فقط تیری سیادت پرمدار

ابلیس

(اپنے مشیروں سے)

ہے مرے دستِ تصرف میں جہانِ رنگ و بو

کیا زمیں، کیا مہر و مہ، کیا آسماںِ تو بتو

دیکھ لیں گے اپنی آنکھوں سے تماشا غرب و شرق

میں نے جب گرما دیا اقوام یورپ کا لہو

کیا امامانِ سیاست، کیا کلیسا کے شیوخ

سب کو دیوانہ بنا سکتی ہے میری ایک ہو!

کار گاہِ شیشہ جو ناداں سمجھتا ہے اسے

توڑ کر دیکھے تو اس تہذیب کے جام و سبو

دستِ فطرت نے کیا ہے جن گریبانوں کو چاک

مزدکی منطق کی سوزن سے نہیں ہوتے رفو

کب ڈرا سکتے ہیں مجھ کو اشتراکی کوچہ گرد

یہ پریشاں روزگار، آشفتہ مغز، آشفتہ ہو

ہے اگر مجھ کو خطر کوئی تو اس امت سے ہے

جس کی خاکستر میں ہے اب تک شرارِ آرزو

خال خال اس قوم میں اب تک نظر آتے ہیں وہ

کرتے ہیں اشکِ سحر آگاہی سے جو ظالم وضو

جانتا ہے، جس پہ روشن باطنِ ایام ہے

مزدکیت فتنہء فردا نہیں، اسلام ہے

(2)

جانتا ہوں میں یہ امت حاملِ قرآں نہیں

ہے وہی سرمایہ داری بندہء مومن کا دیں

جانتا ہوں میں کہ مشرق کی اندھیری رات میں

بے ید بیضا ہے پیرانِ حرم کی آستیں

عصر حاضر کے تقاضوں سے ہے لیکن یہ خوف

ہو نہ جائے آشکارا شرعِ پیغمبر کہیں

الحذر آئین پیغمبر سے سو بار الحذر

حافظ ناموس زن، مرد آزما، مرد آفریں

موت کا پیغام ہر نوع غلامی کے لیے

نے کوئی فغفور و خاقاں، نے فقیر رہ نشیں

کرتا ہے دولت کو ہر آلودگی سے پاک و صاف

منعموں کو مال و دولت کا بناتا ہے امیں

اس سے بڑھ کر اورکیا فکر و عمل کا انقلاب!

بادشاہوں کی نہیں اللہ کی ہے یہ زمیں

چشمِ عالم سے رہے پوشیدہ یہ آئیں تو خوب

یہ غنیمت ہے کہ خود مومن ہے محرومِ یقیں!

ہے یہی بہتر الہیات میں الجھا رہے

یہ کتاب اللہ کی تاویلات میں‌الجھا رہے

(3)

توڑ ڈالیں جس کی تکبریں طلسمِ شش جہات

ہو نہ روشن اس خدا اندیش کی تاریک رات!

ابنِ مریم مر گیا یا زندہء جاوید ہے؟

ہیں صفاتِ ذاتِ حق سے جدا یا عین ذات؟

آنے والے سے مسیح ناصری مقصود ہے

یا مجدد جس میں ہوں فرزند مریم کے صفات؟

ہیں کلام اللہ کے الفاظ حادث یا قدیم

امتِ مرحوم کی ہے کس عقیدے میں نجات؟

کیا مسلماں کے لیے کافی نہیں اس دور میں

یہ الہیات کے ترشے ہوئے لات و منات؟

تم اسے بیگانہ رکھو عالمِ کردار سے

تا بساطِ زندگی میں اس کے سب مہرے ہوں مات!

خیر اسی میں ہے قیامت تک رہے مومن غلام

چھوڑ کر اوروں کی خاطر یہ جہانِ بے ثبات

ہے وہی شعر و تصوف اس کے حق میں خوب تر

جو چھپا دے اس کی آنکھوں سے تماشائے حیات!

ہر نفس ڈرتا ہوں اس امت کی بیداری سے میں

ہے حقیقت جس کے دیں کی احتسابِ کائنات!

مست رکھو ذکر و فکرِ صبحگاہی میں اسے

پختہ تر کر دو مزاجِ خانقاہی میں اسے​

………………………………………

 ۔( 1) ۔ وکی پیڈیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں اور سبسکرائب کریں ۔

اسلامی معلومات ، روایتی معاشیات ، اسلامی معاشیات اور اسلامی بینکاری سے متعلق یو ٹیوب چینل
https://www.youtube.com/user/wasifkhansb?sub_confirmation=1

جمہوریت کی گود میں ریاستِ مدینہ کا خواب

…………………………………….

محمد ابوبکر صدیق

 ہمارا وزیر اعظم کب سایئکل پر پارلیمنٹ جائے گا؟

 یہ وہ سوال ہے جوعموما ً فکری ناپختگی کا شکار نوجوان اٹھاتے ہیں۔ میرا اُن سے سوال ہے کہ کیا وزیر اعظم  کے سایئکل پر پارلیمنٹ جانے سے ملک میں خوش حالی آجائے گی ؟ اس پر عرض ہے کہ جن ممالک میں وزیر اعظم  ایک بارسائیکل پر پارلیمنٹ  گیا تھا وہاں دہشت گردی کا جن ایسے کھلے عام نہیں تھا جیسے ہمارے ہاں ہے۔اور اس سوال پر بھی غور کی جئے گا اس دہشت گردی کے پیچھے کہیں انہی  ممالک کی ہی فنڈنگ تو نہیں ؟ نیز ذرا یہ بھی دیکھ لی جیے گا کہ اس کے سائیکل پر جانے سےاُس دن وزیر اعظم کی سیکیورٹی کی مد میں   اُن کے ملکی خزانے  پر کتنا بوجھ پڑا تھا؟

جب دشمن زیادہ ہوں تو شریعت  حکمران کے لئے حفاظتی اقدامات کی اجازت دیتی ہے ۔ خلافت راشدہ کے زمانے میں اگرچہ جاسوسی نظام وہ نہیں تھا جو آج ہے  اور نہ ہی موجودہ دور  کے جدید ہتھیار جیسے کوئی ہتھیار   تھے۔ ملکی اور بین الاقوامی حالات بھی موجودہ زمانے کی مانند دگرگوں نہیں تھے۔ لیکن  اُس کے باوجود ہمارے تین عظیم خلفائے راشدین حضرت سیدنا عمر فاروق رضی، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ کی شہادت قاتلانہ حملوں میں ہوئی جس کی ایک وجہ سیکیورٹی کا نہ ہونا بھی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ان دل اندوہ نقصانات کی بدولت فقہائے کرام نے مسلم حکمران کی حفاظت کے لئے انتظام کو شریعت کا حکم قرار دیا۔

جہاں تک حکومتی اللوں تللوں یعنی فضول خرچی کی بات ہے تو اس پر واقعی اقدامات لازمی ہیں۔ اب کیا کریں پارلیمنٹ میں پہنچنے والے آسمان سے تو اترے نہیں۔ بلکہ ہم میں سے ہی نکل کر وہاں پہنچے ہیں۔ ہم ٹھیک ہونگے تو وہ بھی ٹھیک ہونگے۔ ہم ٹھیک کیوں نہیں ہو پا رہے؟اُس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم مذہباً مسلمان ہیں لیکن  ہمارا اپنایا ہوا نظام ِ حیات مغربی ہے۔ ’’کانچ کا پیوند لگاو گے تو شاخوں پر کرچیاں ہی اگیں گیں‘‘۔ ایسے منافقانہ معاشرے میں ایسے ہی افرادکی کھیپ ہی تیار ہوتی ہے جیسی پارلیمنٹ میں پہنچی ہوئی ہے۔ووٹ دیتے وقت ہماری ترجیحات کیا ہوتی ہیں۔

۔1۔ میرا تعلق دار جیتے بھلے کیسا ہی خبیث کیوں نہ ہو۔
۔2۔ میں یا میرا کوئی بھی رشتے دار کسی جرم میں پکڑا جائے تو میں جسے ووٹ دوں وہ مجھے چھڑائے۔
۔3۔ جسے میں ووٹ دوں وہ ہر حالت میں میرے مخالف پر ظلم کے پہاڑ توڑ دے خواہ وہ سچا ہی کیوں نہ ہو۔

ہم ایسی ترجیحات کے ساتھ ووٹ دے کر سیاستدان منتخب کرتے ہیں اور سوچیں وہ سیاستدان کیسا ہو گا جو ہماری ان ترجیحات پرپورا بھی اترتا ہو۔ پھر خود فریبی میں مبتلا لوگ  دعا یہ کرتے ہیں کہ اُن  کے ووٹ سے اُ ن کا ملک مدینہ کی ریاست بن جائے۔

یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم  اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کو پس پشت ڈالیں اور اخلاق باختہ، ظالم ، کرپٹ لوگ پارلیمنٹ بھیجیں اور پھر ان سے امید کریں کہ وہ صدیقی و فاروقی، عثمانی و حیدری کردار ادا کریں۔ پیشاب سے پھل دار درخت سیراب کرو گے تو ذائقہ بھی وہی  ملے گاپیارے۔ حقیقت یہ ہے کہ تم  خود فریبی میں مبتلا ہواور یہ ہمارے معاشرے کی ایک کڑوی سچائی ہے۔

مغربی جمہوریت کی گود سے مغربی اقوام تو فوائد لے رہی ہیں پھر ہم کیوں نہیں لے پا رہے؟

اس سوال کا درست جواب ایک اور سوال میں مضمر ہے کہ کیا واقعی مغربی معاشرہ اپنی جمہوریت سے خواطر خواہ فوائد لے رہا ہے ؟ یا یہ صرف میڈیا کا ڈرامہ اور پراپگنڈہ  ہے ؟ یہ محض ایک دھوکہ ہے اور کچھ نہیں۔اس پر غور کرنے سے قبل پہلے یہ طے کر لیں کہ جن ’’فوائد ‘‘ کی بات کی جارہی ہے اُن کی تعریف کیا ہے ؟ فائدہ ، کامیابی ، خوش حالی اور امن کہتے کسے ہیں ؟ آپ اگر مغربی فکر سے آگاہ ہیں تو جواب ملے گا ’’ انسانی خواہشات کی تکمیل‘‘ ہی وہ تصور ہے جو خوش حالی اور امن کی علامت ہے۔ اگر امن اسی تصور کا نام ہے تو پھر یہ تسلیم کرلیں واقعی مغرب کی دنیا کسی حد تک فوائد لے رہی ہے اور وہ اپنے خدا (خواہشات) کو راضی کر رہے ہیں۔یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔ دوسرا رخ زیادہ بھیانک ہے کہ مغربی معاشرے میں  مذہب سے دوری نے  روحانی تسکین کا بیڑا غرق کردیا ہے۔جرائم کے اعدادوشمار بہت زیادہ ہیں۔ اگر فوائد کی تعریف وہ ہے جو مذہب فراہم کرتا ہے تو پھر مغرب سراسر گھاٹے میں ہے۔

مغرب کے گال کی سرخی کے پیچھے دیگر اقوام کے خون کی لالی  شامل ہے۔بقول حضرت اقبال ؒ   ’’ شفَق نہیں مغربی اُفق پر یہ جُوئے خوں ہے، یہ جوئے خوں ہے!‘‘۔

مغربی جمہوریت میں جسمانی تسکین کے فوائد کی قیمت  مذہب سے آزادی ہے اور مغربی جمہوریت کی یہ اولین شرط ہے۔ وہاں اقتدار اعلی کا اختیار عوام کے پاس ہوتا ہے۔  جبکہ اسلام میں مقتدر اعلی اللہ جل مجدہ کی ذات ہے۔انسان اُس کا نائب ہے۔مغرب انسان کو خدا سمجھ کر چلانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں مطلق آزادی کے نام پر ہیومن رائٹس جیسے تصور سامنے آئے۔ ’’ میں جیسے چاہوں اور جو چاہوں کرسکوں ‘‘ کی خواہش انسان کا حق قرار پاتی ہےاور مغربی جمہوریت اُسے یہ حق دینے کا سارا زور لگاتی ہے۔ جبکہ اسلام کے نظام میں انسان اپنی خواہشات میں آزاد نہیں ہے، بلکہ یہاں تو خواہشات کو جائز و ناجائز میں تقسیم کیا جاتا ہے اور پھر جائز خواہشات میں بھی خواہشات کی قربانی کا سبق ازبر کرایا جاتا ہے۔

ایسے میں کیا ایک مسلمان جسمانی تسکین کے حصول میں مغربی جمہوریت کے بنیادی اصولوں کو اپنا سکتا ہے؟
نہیں کبھی بھی نہیں کیونکہ اس کے لئے اُسے اپنے  ایمان کی قربانی دینی پڑے گی۔اس لئے مسلمان مغربی جمہوریت سے کبھی بھی وہ فوائد حاصل نہیں کر سکتے جو  مغرب لے رہا ہے۔اس لئے ہمیں فلاح (دنیا و آخرت کی کامیابی )کے لئے اپنے مذہب حق اسلام کی طرف لوٹنا پڑے گا۔ وہ نظام جسے ہمارے اسلاف نے اپنا کر دنیا کی تاریخ میں اپنے زمانے کو ’’ گولڈن ایج‘‘ کے نام سے امر کر گئے۔اس لئے  ہمیں بھی اپنے اسلامی نظام حیات کی طرف دیکھنا ہوگا جس میں فلاح کی امید نہیں بلکہ یقین دہانی ہے۔زندگی کے حقیقی مقصد کی پہچان کا سبق اپنی نسلوں کو دیں پھر دیکھیں عزتوں کے سارے رستے تمہارے قدموں میں ہونگے۔

لوٹ جا عہدِ نبیﷺ کی سمت رفتارِ جہاں

پھر میری پسماندگی کو اِرتقاء درکار ہے

آج بھی ہو جو براہیمؑ کا ایماں پیدا
آگ کر سکتی ہے اندازِ گُلستاں پیدا 

اسلام کچھ اور ہے اور جمہوریت کچھ اور ہے ۔ اس لیے خدارا اسلامی جمہوریت کا دھوکہ کبھی نہ کھائیے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں اور سبسکرائب کریں ۔

اسلامی معلومات ، روایتی معاشیات ، اسلامی معاشیات اور اسلامی بینکاری سے متعلق یو ٹیوب چینل
https://www.youtube.com/user/wasifkhansb?sub_confirmation=1

4 Comments

  1. ماشاء اللہ ابوبکر صدیق صاحب اللہ پاک نے آپ کو صدق_ مقال کی توفیق عطا فرمائی آپ نے خالصتا علمی انداز میں اپنا موقف پیش کیا اور ایک بے جا اور غلط موقف کی حقیقت سی پردہ اٹھایا اللہ پاک آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Post comment