علمائے حق ، دین بے زار لبرلز اور سائنس

محمد ابوبکر صدیق

لیکچرر ، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد

قسط اول

 

کیا واقعی علما سائنس و ٹیکنالوجی کے خلاف ہیں یا اس اچھوتے علم کو نہیں جانتے ؟ 

یہ مفروضہ لبرلز اور دین بیزار طبقے نے از خود گھڑا ہوا ہے تاکہ وہ علما پر زبان درازی کر سکیں۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

حقیقت کیا ہے؟

سائنس اور ٹیکنالوجی ایک ایسا علم ہے جو بتدریج ترقی کرتا ہے ہر لمحے اس میں بدلاو ہے اور یہی بدلاو اس سے متعلق شرعی احکام میں بدلاو کا سبب ہے۔ اور یہ ایک عقلی بات ہے جو آسانی سے سمجھی جاسکتی ہے۔

لبرل اور دین بیزار کہتے ہیں مولوی پہلے اسپیکر کی مخالفت کرتے تھے لیکن بعد میں مان گئے ۔ اور اس بات کو لیکر ڈھنڈھورا پیٹتے ہیں۔ حقیقت کیا ہے تفصیل آگے آئے گی۔ تاہم سردست اس سوال کو دیکھتے ہین کہ اسپیکر کی ایجاد اتنی دیر سے کیوں ہوئی حالانکہ سائنس تو پہلے بھی موجود تھی ؟ جیسے یہ سوال انتہائی فضول اور جاہلانہ لگتا ہے بالکل ایسا ہی لبرل کا وہ اعتراض فضول اور جاہلانہ ہے۔ ۔۔۔۔ اس بحث سے اصول یہ نکلتا ہے کہ علم میں تدریج ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ امور کی حقیقت کھلتی ہے۔(جبکہ لبرل و دین بیزار طبقہ اس اصول سے جاہل ہے)۔

سائنس و ٹیکنالوجی نے عبادات، جنایات اور معاملات الغرض انسانی زندگی کے ہر باب میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان سب میں اہم اور نزاکت پر مبنی احکام عبادات اور جنایات کے ہیں۔ علمائے حق ان دو معاملات میں سائنس و ٹیکنالوجی کے کردار کو آنکھ بند کر کے قبول نہیں کرتے کیونکہ اس میں عبادات کے رد و قبول کا معاملہ ہوتا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ انسان کی ساری عبادات ضائع جاتی رہیں اور قیامت کے دن نامہ اعمال غارت ملے۔ اس لیے اس میں احتیاط برتی جاتی ہے۔(لبرل یا دین بیزار چونکہ عبادات کو اہم نہیں سمجھتے اس لیے انہیں احتیاط سے بھی کوئی لگاو نہیں ۔ انہیں صرف دنیا کی دولت اور سفلی خواہشات کی نزاکت کا احساس ہے بس۔)

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب سائنس و ٹیکنالوجی کا معاملہ واضح ہوتا جاتا ہے تو اس حساب سے علما سائنس و ٹیکنالوجی کے کردار کو رد و قبول کرتے آئے ہیں۔ مثلا سپیکر ۔۔۔۔ جب لاوڈاسپیکر ایجاد ہوا تو علما نے اسپیکر کی مطلق مخالفت نہیں کی تھی بلکہ علما اس وقت بھی اپنی تقاریر میں اسپیکر کا استعمال کرتے تھے۔ علما نے صرف دو امور آذان اور نماز میں تلاوت اور تکبیرات میں اسپیکر کے استعمال کی اجازت نہیں دی تھی کیونکہ شرعی اصول یہ تھا کہ یہ ایسی عبادت ہے جو انسان کی حقیقی آواز میں ہی درست قرار پاتی ہے۔ مصنوعی آواز میں عبادت کا کوئی تصور نہیں۔ اب سوال یہ تھا کہ اسپیکر سے پیدا ہونے والی آواز کی اصلیت کیا ہے ؟
اس سوال کو لے کر علمائے حق نے علمی بحث کے وہ دروازے کھولے جو خود سائنس کے محققین کے لیے نئے باب تھے۔ علمائے حق نے “آواز اور گلے” سے متعلق جن درج ذیل  پہلووں پر بحث کی اُس پر اُس وقت کے سائنس دان خود سکوت میں تھے۔

What is definition of Voice?
What is difference in the pitches of human real voice and voice generated in loud-Speaker?

Human voice travels in Ordinary waves while loud-speaker voice travels in electric waves. Will both voices be considered same voice?

What are the differences in pitch and vibration of both voices?

Echo and its reality, Analysis of Human Voice

اس بارے میں اس وقت کے درویش صفت علمائے حق نے تو سائنس کے اصولوں پر ٹھیک ٹھاک بحث کی جس سے شاید یہ لبرلز اور دین بیزار آگاہ بھی نہیں ہونگے۔ آواز سے متعلق یہ وہ جہات تھیں  جن سے اس وقت کے سائنس دان خود بھی آگاہ نہیں تھے۔ تاہم  وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب معاملہ واضح ہوا کہ لاوڈ سپیکر سے نکلنے والی آواز اور انسان کی آواز میں صرف پِچ اور وائبریشن   کا فرق ہے۔ اس کے ساتھ دیگر پائے جانے والے فروق عبادات کو متاثر نہیں کرتے لہذا عبادات میں بھی اسپیکر کا ستعمال جائز ہے۔۔۔۔۔۔۔ لیکن کچھ علما نے علمی بنیاد پر یہ اجازت نہیں دی ۔ کیونکہ جن اختلافات کو انہوں نے بنیاد بنایا سائنس دان خود بھی انہی اختلافات میں تقسیم تھے۔

 لبرلز اور دین بیزار طبقے کی علما کے خلاف ہرزہی سرائی کی یہ وہ حقیقت ہے جسے میں نے یہاں مختصر انداز میں قلم بند کیا ہے۔

علمائے حق نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے آلات کو صرف اسی خاص تناظر میں جانچا ہے۔ جتنی علمی اور باریک بینی سے علما نے بحث کی ہے یہ لبرلز تو شاید اس میں استعمال کی اصطلاحات کو بھی نہ پڑھ سکیں ۔۔زیادہ دور نہ جائیں تو اس صدی کے مجدد اعلی حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلی علیہ الرحمہ کی کتاب زمین ساکن ہےکا مطالعہ کر کے اپنا شوق پورا کرلیں کہ جو شاید ان کم عقلوں سے پڑھی ہی نہ جائے۔ لیکن اعلی حضرت عظیم البرکت نے اس میں سائنسی دلائل کا انبار لگا دیا کہ زمین ساکن ہے اور آپ کے بعد کے کئی مغربی ماہرین فلکیات نے بھی یہی موقف اپنایا کہ زمین ورج کے گرد نہین گھومتی۔ یہ کتاب اپنے دور کی معرکۃ الآراء تصنیف تھی کہ جب سائنسی آلات ایجاد بھی نہیں ہوئے تھے لیکن نظام شمسی پر اس قدر دلائل پیش کیے گئے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔۔۔ لیکن ان کی ہٹ دھرمی یہی ہے کہ  علما سائنس کے مخالف ہیں۔

 

……………………………………………………………………………………………………………………………………………………………………….

 

قسط دوم (آخری قسط)۔

قمری کیلینڈر کے معاملے کو لے کر حسب معمول جاہل/کم علم وزرا کا کہنا ہے ” ہمیں علما کو سمجھانا ہوگا کہ ٹیکنالوجی اسلام کے خلاف نہیں ” ……. جن بے وقوف لوگوں کو ابھی تک وجہ نزاع ہی سمجھ نہیں آئی وہ بے وقوف کیا سمجھیں گے اور کیا سمجھائیں گے۔ علمائے حق سائنس و ٹیکنالوجی کا کافی فہم رکھتے ہیں ۔ مسئلہ سائنس کی مخالفت کا ہے ہی نہیں۔

اصل مسئلہ کیا ہے ؟

حقیقی مسئلہ یہ ہے کہ کیا چاند کو دیکھ کر یقینی علم حاصل کرنے کے بعد شرعی حکم پر عمل کیا جائے یا حساب لگا کر ظنی علم کی بنیاد پر عمل کیا جائے؟

علمائے حق کے نزدیک اصل دلیل تو نص ہے کہ حدیث میں رویت کا لفظ آیا ہے جو بدیہی اور صریح لفظ ہے۔ اس کے ساتھ معاون دلیل کے طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ رویت سے یقینی علم حاصل ہوتا ہے اور صرف اسی پر ہی شرعی امر کا دارو مدار ہے۔ قمری کیلنڈر چونکہ شمسی کیلینڈر کی طرح یقینی نہیں ہے بلکہ اس میں اندازہ ہے جس میں غلطی کا امکان ہے۔ اس وجہ سے قمری کیلنڈر کو شرعی احکام کے لیے بنیاد نہیں بنایا جاسکتا۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا قمری کیلینڈر یعنی فلکیات کے حساب کی بنیاد پر گواہوں کی گواہی رد کی جاسکتی ہے؟

اس بارے میں شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل جناب ڈاکٹر محمد مشتاق صاحب کی رائے یہ ہے “ فلکیات کا علم بعض امور میں یقینیات میں داخل ہوچکا ہے تو کئی علما کا موقف ہے کہ کم از کم ان امور میں حسابات سے تعارض حقیقی کی صورت میں گواہ کی گواہی مسترد کی جاسکتی ہے۔ البتہ جہاں ابھی تک فلکیات کا علم ظنیات میں شامل ہے وہاں بدستور گواہ کی گواہی کو فوقیت حاصل ہوگی۔ ہمارے نزدیک یہی موقف درست ہے۔

میری رائے میں اس کے ساتھ ساتھ یہ جہت بھی اہم ہے کہ گواہوں کی گواہی کا فلکی حسابات کے ساتھ فرق کا لیول کیا ہے ؟ معمولی یا غیر معمولی ۔ جیسے چند گھنٹے یا ایک دن یا اس سے زائد کا فرق ۔ علم فلکیات مغربی ممالک کی نسبت مجموعی اسلامی دنیا میں ابھی ترقی پذیر ہے۔ تاہم اسلامی دنیا میں پاکستان میں قدرے بہتر ہے۔اس لیے فلکیات کے حسابات کو بطور قرینہ لیا جاسکتا ہے اور مخالفت کی صورت میں گواہیوں کو رد کیا جا سکتا ہے۔ (یہ اس مسئلے کا سلبی پہلو ہے)۔

جہاں تک ایجابی پہلو کی بات ہے کہ کیا صرف فلکی حساب یا قمری کیلینڈر کی بنیاد پر امر شرعی کا اطلاق کیا جا سکتا ہے؟

تو اس بارے میں علما کا یہ فتوی ہے کہ چاند کو انسانی آنکھ سے دیکھنا لازمی ہے اور ضروری ہے تاکہ یقینی علم حاصل ہوجائے۔ صرف قمری کیلینڈر یا فلکی حساب کی بنیاد پر شرعی حکم کا اطلاق نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ علم بہر حال ظنی ہے اور ظن کی بنیاد پر شرعی امور کا مدار نہیں ہے۔ ماہرین فلکیات خود بھی یقین سے نہیں کہتے کہ یہ ہوگا اور ایسے ہوگا اور اس وقت ہوگا ۔۔۔ بلکہ وہ کہتے ہیں ممکن ہے کہ ایسا ہو فلاں وقت ہو ۔۔۔۔۔ تو اس صورت میں شریعت کے معاملات ظن و تخمین پر نہیں چلائے جا سکتے۔

پاکستان یا دنیا کے کسی بھی ملک میں علم فلکیات کتنی ہی ترقی کیوں نہ کر جائے کہ اس کے حسابات میں ظن غالب ہی رہے گا۔ اور رویت کی اہمیت کبھی بھی کم نہیں ہوگی۔ کیونکہ اسلامی اصولِ رویت نصِ حدیث سے ثابت ہے جو دائمی اصول ہے۔

آج مورخہ ۶ جون ۲۰۱۹ کو فواد چودھری کے اگلے دو ماہ کے چاند سے متعلق پیشین گوئی کے اعلان کو کیسے لیا جائے ؟

مسیلمہ کذاب نے بھی صحرا کے سفر میں اپنے قبیلے  والوں کو ایک پیشین گوئی کی تھی کہ وہ چلتے رہیں  آگے انہیں پانی مل جائے گا۔ اتفاق سے وہ پیشین گوئی پوری ہوگئی اور آگے پانی مل گیا تو اُس کذاب نے اسی کو اپنا معجزہ قرار دے دیا  اور جھوٹی نبوت کا دعوی کردیا تھا۔ بس یہ بھی اسی نوعیت کا معاملہ سمجھیں اور دین بیزار فواد چودھری کے نئے اعلان کو اسی تناظر میں دیکھیں۔

 

اسلام میں جانوروں کی اہمیت اور ان کے حقوق

محمد ابوبکر صدیق

لیکچرر ، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد

 

اسلام کےمعتدل مذہب ہونے کی بنیادی وجہ اُس کا آفاقی مذہب ہوناہے جیسے اللہ جل مجدہ فرماتا ہے؛

اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا

[السجدة : ۴ ]  (اللہ جل مجدہ وہ ہے جس نے آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں ہے (سب) پیدا کیا)

یہ آفاقی اعلان اس حقیقت سے پردہ اٹھا دیتا ہے کہ حقیقی خالق کون ہے!یہ ایک فطری امر ہے کہ جس نے کوئی چیز خود بنائی ہو تو اسے اپنی تخلیق سے پیار ہوتا ہے ، بالکل اسی طرح اللہ جل مجدہ کو بھی اپنی مخلوق سے محبت ہےجیسا کہ حضور نبی رحمت ﷺ نے ارشادفرمایا؛

الْخَلْقُ عِيَالُ اللَّهِ، فَأَحَبُّ الْخَلْقِ إِلَى اللَّهِ مَنْ أَحْسَنَ إِلَى عِيَالِهِ (1)

ساری مخلوق اللہ تعالیٰ کا گھرانا ہے۔ پس مخلوق میں سے اللہ تعالیٰ کو سب سےپیارا وہ ہے، جو اس کے گھرانے سے اچھا سلوک کرے۔

اسلام ایک ایسا ضابطہ حیات ہےجس میں زندگی گزارنے کے آداب سے لے کر مختلف سطحوں تک کے حقوق سے متعلق بڑی باریک بینی سے رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔اسلام جہاں انسان کو انسانی حقوق سے آگاہی فراہم کرتا ہے تو وہیں اُسے دوسری مخلوق کے حقوق کی تفصیل بھی دیتا ہے تاکہ روئے زمین پر انسانی قیام کوپر امن رکھا جاسکے۔دیگر مخلوقات کی طرح اسلام نے جانوروں کے حقوق بھی متعین کیے ہیں۔ شریعت محمدیہ نے چو پایوں، مویشیوں، پرندوں غرض ہر قسم کے جانوروں کے حقوق بیان کیے ہیں۔
نزول قرآن سے قبل اہل عرب کی شقاوت قلبی کی ان گنت داستانیں تاریخ کا حصہ ہیں ، جن میں سے بعض کاتعلق حیوانات سے ہے۔عرب میں ایک طریقہ یہ بھی تھاکہ جانورکوکسی چیزسے باندھ کراس پرنشانہ لگاتے تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کے جانوروں کے گوشت کوناجائزقرادیااورعام حکم دیاکہ کسی ذی روح چیزکواس طرح نشانہ نہ بنایا جائے۔(2) وہ زندہ جانوروں کا گوشت کاٹ لیتے اور پھر اسے بھون کر کھاجاتے تھے۔ ’’حضرت ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے (تو دیکھا کہ) وہاں کے لوگ زندہ اُونٹوں کی کوہان اور زندہ دُنبوں کی چکیاں کاٹتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: زندہ جانور سے جو حصہ کاٹا جائے وہ مردار ہے۔(3) اس روایت سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ اسلام سے قبل اہل عرب کس قدر سنگ دل ہوا کرتے تھے۔
اہل عرب جانوروں کو اندھا دھند قتل کرنے کو عار نہیں سمجھتے تھے۔دو لوگ شرط لگاتے کہ وہ باری باری اپنا اونٹ ذبح کریں گے جو اونٹ ذبح کرنے سے رک جائے گا وہ شرط ہار جائے گا اور پھر وہی مذبوحہ اونٹ دعوتوں میں اڑادیے جاتے اور ایسے واقعات کا ذکر اہل عرب کی زمانہ جہالت کی شاعری میں کثرت سے ملتا ہے۔المفصل فى تاريخ العرب قبل الإسلام(11:133) میں ہے  کہ ایک دستوریہ بھی تھاکہ جب کوئی مرجاتاتواس کی سواری کے جانورکواس کی قبرپرباندھتے تھے اوراس کودانہ، گھاس اورپانی نہیں دیتے تھے، اوروہ اسی حالت میں سوکھ کرمرجاتا، ایسے جانورکوبلیہ کہتے تھے۔ جس اسلامی دستورکےنزول کی ابتدا غار حرا پر ہوئی تھی اسی دستور کے ذریعے ایسی سنگ دلی کو مٹادیا گیا اور امن، محبت ، اور رحم دلی کے جذبات کوعملاً فروغ دیا گیا۔

قرآن مجید میں جانوروں سے متعلق اہم معلومات

قرآن مجید کی کم و بیش دو سو آیات مبارکہ میں جانوروں کے حقوق اور فوائد اور ان سے متعلق حلال و حرام کے شرعی احکام کا تذکرہ ملتا ہے۔ کہیں جانوروں کے نام ذکر کیےگئے ہیں تو کہیں مطلق جنس کا ذکر کیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں تقریبا پنتیس (۳۵) جانوروں کا ناموں کا ذکر ملتا ہےجن میں پرند، چرند، حشرات اور جنگلی و پالتو جانور شامل ہیں ۔ پرندوں میں سلوی : بٹیر ، ھدھد : ہد ہد ، غراب : کوا، اور ابابیل ۔آبی مخلوق میں نون و حوت : مچھلی، وہیل، ضفادع : مینڈک ۔جن حشرات کا نام قراان مجید میں آیا ہے ان کی تفصیل نیچے ٹیبل میں ملاحظہ کریں۔

آیت سورۃ اردو نام قرآنی نام شمار
6 البقرہ مچھر بعوض 1
73 الحج مکھی ذباب 2
68 نحل شہد کی مکھی نحل 3
41 عنکبوت مکڑی عنکبوت 4
133 اعراف ٹڈی جراد 5
18 نمل چیونٹی نمل 6
4 قارعہ تتلی فراش 7
133 اعراف جوں قمل 8
107 اعراف اژدہا ثعبان 9

اسی طرح جن پالتو جانوروں کے نام قرآن مجید میں مذکور ہیں ان کی تفصیل نیچے ٹیبل میں ملاحظہ کریں۔

حلت و حرمت آیت سورۃ اردو نام قرآنی نام شمار
حرام 8 نحل خچر بغال 1
حلال 143، 146 انعام بکرا و بھیٹر غنم، نعجہ، ضان و معز 2
حلال 65، 40 یوسف، اعراف اونٹ بعیر، جمل 3
حلال 70 بقرہ گائے بقرہ 4
حلال 29 ہود گوسالہ۔ بچھڑا عجل 5
حرام 259، 8 بقرہ، نحل گدھا حمار، حمیر 6
حرام 176 اعراف کتا کلب

7

اسی طرح وہ جنگلی جانور جن کے نام قرآن مجید میں مذکور ہیں ان کی تفصیل نیچے ٹیبل میں ملاحظہ کریں۔

حلت و حرمت آیت سورۃ اردو نام قرآنی نام شمار
حرام 51 مدثر شیر قسورہ 1
نجس العین 173 بقرہ سور خنزیر 2
حرام 1 فیل ہاتھی فیل 3
حرام 65 بقرہ بندر قردہ 4

قرآن مجید کی بعض سورتوں کے نام بھی جانوروں کے نام پر ہیں جیسے سورہ بقرہ : گائے, سورہ فیل : ہاتھی سورہ, نحل : شہد کی مکھی, سورہ عنکبوت : مکڑی اور سورہ نمل : چیونٹی۔

جانوروں کے حقوق

قیامت کے روز اللہ جل مجدہ انصاف فرمائے گا حتیٰ کہ جانوروں کو بھی ان کا حق ادا کیا جائے گا ۔ ’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن تم سے حقداروں کے حقوق وصول کیے جائیں گے، حتیٰ کہ بے سینگ بکری کا سینگ والی بکری سے بدلہ لیا جائے گا۔‘‘ امام احمد کی روایت میں ہے: ’’جس نے اُسے سینگ مارا تھا۔ (4)‘‘
جانوروں کے ساتھ حسن سلو ک کا حکم
حضرت انس بن مالک ؓ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا؛

 (5)«مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا، أَوْ يَزْرَعُ زَرْعًا، فَيَأْكُلُ مِنْهُ طَيْرٌ أَوْ إِنْسَانٌ أَوْ بَهِيمَةٌ، إِلَّا كَانَ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ

جوبھی مسلمان کھیتی لگائے یا پودا لگائے، پھر کوئی انسان یا پرندہ یا چوپایہ اس میں سے کھا ئے گا تو وہ اس کے لیے صدقہ ہوگا۔

یعنی انسان جو فصل کاشت کرتا ہے اور اس سے جو جاندار بھی مستفید ہوتا ہے حتی کہ فصل کا مالک اس سے بے خبر ہوتا ہے کہ کتنے اور کون کون سے جاندار اس کی کھیتی سے مستفید ہوئے لیکن اسے اس عمل پر صدقے کا اجر ملتاہے۔ تو جو انسان جانوروں کو پالتا ہے اور ان کے کھانے پینے کا خیال رکھتا ہے تو اس کا اجر کتنا ہوگا اس کا اندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتا۔اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اللہ کریم نے بے زبان جانوروں کو بھی اپنی رحمت بے کراں سے مالا مال فرمایا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ جانوروں کے ساتھ حسن سلوک پر اجر وثواب کی خوشخبری بھی سنائی گئی۔حضرت سراقہ بن جعشم ؓ کہتے ہیں؛

سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضَالَّةِ الْإِبِلِ تَغْشَى حِيَاضِي، قَدْ لُطْتُهَا لِإِبِلِي، فَهَلْ لِي مِنْ أَجْرٍ إِنْ سَقَيْتُهَا؟ قَالَ: «نَعَمْ، فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ حَرَّى أَجْرٌ  (6)

میں نے حضور نبی رحمت ﷺ سے دریافت کیا: یارسول اللہ ﷺ میں نے بطور خاص اپنے اونٹوں کے لیے ایک حوض بنا رکھا ہے۔ اس پر بسا اوقات بھولے بھٹکے جانور بھی آ جاتے ہیں۔ اگر میں انہیں بھی سیراب کر دوں تو کیا اس پر بھی مجھے ثواب ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآ وسلم نے فرمایا : ”(ہاں ) ہر پیاسے یا ذی روح کے ساتھ حسن سلوک کرنے سے ثواب ملتا ہے۔
اسی طرح مسلم شریف میں ہے؛

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ اشْتَدَّ عَلَيْهِ الْعَطَشُ، فَوَجَدَ بِئْرًا، فَنَزَلَ فِيهَا فَشَرِبَ، ثُمَّ خَرَجَ فَإِذَا كَلْبٌ يَلْهَثُ يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ الْعَطَشِ، فَقَالَ الرَّجُلُ لَقَدْ بَلَغَ هَذَا الْكَلْبَ مِنَ الْعَطَشِ مِثْلُ الَّذِي كَانَ بَلَغَ مِنِّي، فَنَزَلَ الْبِئْرَ فَمَلَأَ خُفَّهُ مَاءً، ثُمَّ أَمْسَكَهُ بِفِيهِ حَتَّى رَقِيَ فَسَقَى الْكَلْبَ فَشَكَرَ اللهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ وَإِنَّ لَنَا فِي هَذِهِ الْبَهَائِمِ لَأَجْرًا؟ فَقَالَ: «فِي كُلِّ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ (7)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا کہ بدکار عورت کی بخشش صرف اس وجہ سے کی گئی کہ ایک مرتبہ اس کا گذر ایک ایسے کنویں پر ہوا جس کے قریب ایک کتا کھڑا پیاس کی شدت سے ہانپ رہا تھا، اور قریب تھاکہ وہ پیاس کی شدت سے ہلاک ہوجائے ، کنویں سے پانی نکالنے کو کچھ تھا نہیں، اس عورت نے اپنا چرمی موزہ نکال کر اپنی اوڑھنی سے باندھا اور پانی نکال کر اس کتے کو پلایا، اس عورت کا یہ فعل بارگاہ الٰہی میں مقبول ہوا،اور اس کی بخشش کر دی گئی۔ٍصحابہ کرامؓ نے عرض کی یارسول اللہ ﷺ کیا ان جانوروں کے ساتھ حسن سلوک میں بھی اجر و ثواب ہے ؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ہر جاندار کے ساتھ حسن سلوک میں اجر ہے۔

امام طبرانیؒ حضرت عبداللہ ابن عمرؓ کی روایت نقل کرتے ہیں؛

مَرَّ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم بِرَجُلٍ يَحْلَبُ شَاةً، فَقَالَ: أَي فُـلَانُ، إِذَا حَلَبْتَ فَأَبْقِ لِوَلِدِهَا، فَإِنَّهَا مِنْ أَبَرِّ الدَّوَابِ (8)

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے جو بھیڑ کا دودھ دھو رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اُس سے فرمایا: اے فلاں! جب تم دودھ نکالو تو اِس کے بچے کے لئے بھی چھوڑ دو یہ جانوروں کے ساتھ سب سے بڑی نیکی ہے۔

فی زمانہ معاشرے میں یہ رویہ بالکل ختم ہوکر رہ گیا ہے۔ دودھ فروخت کرنے والے زیادہ پیسوں کی لالچ میں گائے بھینس کے ساتھ بہت ہی ظالمانہ رویہ رکھتے ہیں۔ دودھ نکالنے سے پہلے اس کا بھچڑا صرف اس کی نظروں کے سامنے اس کے قریب لاتے ہیں یا ایک منٹ تک ساتھ چھوڑتے ہیں تاکہ وہ وہ اپنا دودھ چھوڑے اور پھر اس بچھڑے کو زبردستی الگ کر لیتے ہیں اور اسے اس کے حق سے محروم کر دیتے ہیں۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ گائے بھینس کو ہارمونز کے انجیکشن لگائے جاتے ہیں تاکہ اس کی کھیری میں دودھ کا ایک قطرہ تک باقی نہ رہے ۔ اس انجیکشن سے اس بے زبان جانور کو جس تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے ان شقی القلب دولت کے پجاریوں کو اس کا احساس تک نہیں۔ پھر اسی انجیکشن کے مضر اثرات عوام الناس تک پہنچتے ہیں ۔ خاص طور پر حاملہ خواتین میں حمل کی پیچیدگیاں پیدا ہوجاتی ہیں اور وہ بچہ جو ابھی اس دنیا میں نہیں آیا اسے بھی اس دنیا کے درندوں کے ظلم کے اثرات پہنچ جاتے ہیں جس کی وجہ سے یا تو وہ اس دنیا میں آنے سے پہلے داعی اجل کو لبیک کہہ جاتا ہے یا پھر اس دنیا میں کسی مرض میں مبتلا ہو کر داخل ہوتا ہے۔ خبر نہیں انسان کی یہ لالچ اور کیا کیا دن دکھائے گی! حضور نبی رحمت ﷺ کے مندرجہ بالا فرمان کی نظر میں اس رویے کو دیکھا جائے تو سر شرم سے جھک جاتا ہے کہ انسان لالچ میں درندگی کی سطح کس قدر گرجاتا ہے۔
جانور حضور نبی رحمت ﷺ کو پہچانتے تھے کہ یہی ان کے درد کا درماں ہے یہی وہ پیکر لطف و عنایت ہے جو ان کے لیے امان بن کر تشریف لایا ہےچنانچہ سنن ابو داود شریف میں حضرت عبداللہ بن جعفر ؓ سے مروی ہے؛

فَدَخَلَ حَائِطًا لِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَإِذَا جَمَلٌ. فَلَمَّا رَأَی النَّبِيَّ صلی الله عليه واله وسلم حَنَّ وَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ. فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صلی الله عليه واله وسلم فَمَسَحَ ذِفْرَاهُ فَسَکَتَ فَقَالَ: مَنْ رَبُّ هٰذَا الْجَمَلِ؟ لِمَنْ هٰذَا الْجَمَلُ؟ فَجَاءَ فَتًی مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: لِي، يَا رَسُوْلَ اﷲِ. فَقَالَ: أَفَـلَا تَتَّقِي اﷲَ فِي هٰذِهِ الْبَهِيْمَةِ الَّتِي مَلَّکَکَ اﷲُ إِيَهَا، فَإِنَّه شَکَا إِلَيَّ أَنَّکَ تُجِيْعُهُ وَتُدْئِبُهُ(9)

.
’’حضرت عبد اﷲ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ایک انصاری شخص کے باغ میں داخل ہوئے تو وہاں ایک اُونٹ تھا۔ جب اُس نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو دیکھا تو وہ رو پڑا اور اُس کی آنکھوں سے آنسو بہ نکلے۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اُس کے پاس تشریف لے گئے اور اُس کے سر پر دستِ شفقت پھیرا تو وہ خاموش ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے دریافت فرمایا: اِس اُونٹ کا مالک کون ہے، یہ کس کا اُونٹ ہے؟ انصار کا ایک نوجوان حاضر خدمت ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ میرا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بے زبان جانور کے معاملے میں اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے جس کا اللہ تعالیٰ نے تمہیں مالک بنایا ہے۔ اس نے مجھے شکایت کی ہے کہ تم اسے بھوکا رکھتے ہو اور اس سے بہت زیادہ کام لیتے ہو۔

جانوروں کے ساتھ بدسلوکی اور ایذا رسانی کی ممانعت

اسلام نے جانوروں کو بھی چین سے جینے کا حق دیا ہےاور انہیں اذیت دینے سے منع کیا ہے ۔ حضرت ہشام بن زیاد کا بیان ہے کہ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت حکم بن ایوب کی خدمت میں حاضر ہوا تو اُنہوں نے چند لڑکوں یا نوجوانوں کو دیکھا کہ ایک مرغی کو باندھ کر اُس پر تیر چلا رہے ہیں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جانوروں کو باندھ کر مارنے سے منع فرمایا ہے۔‘‘ (10)کیونکہ ایک جاندار کو باندھ کر صرف نشانہ بازی کی غرض سے اسے مارنا کوئی انصاف نہیں ہے۔ حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: کسی جاندار کو (تیر اندازی کے لئے) ہدف مت بناؤ۔(11) حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما کے ساتھ تھا کہ آپ کا گزر چند لڑکوں یا آدمیوں کے پاس سے ہوا جو ایک مرغی کو باندھ کر نشانہ بازی کر رہے تھے۔ جب اُنہوں نے حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما کو دیکھا تو منتشر ہوگئے اور حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما نے دریافت فرمایا: یہ کام کس نے کیا ہے؟ بیشک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اُس پر لعنت فرمائی ہے جو ایسا کام کرے۔(12) امام سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما کا قریش کے چند جوانوں پر گذر ہوا جو ایک پرندے کو باندھ کر اُس پر تیر اندازی کی مشق کر رہے تھے اور اُنہوں نے پرندے والے سے یہ طے کر لیا تھا کہ جس کا تیر نشانہ پر نہیں لگے گا وہ اُس کو کچھ دے گا، جب اُنہوں نے حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما کو دیکھا تو اِدھر اُدھر ہو گئے۔ حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما نے فرمایا: یہ کام کس نے کیا جو شخص اِس طرح کرے اُس پر اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے، جو شخص کسی جاندار کو ہدف بنائے بلاشبہ اُس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے لعنت کی ہے۔(13)

جانوروں کو زندہ جلانے کی ممانعت

حضور نبی اکرم ﷺ نے جانوروں کو جلا کر عذاب دینے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔چنانچہ سنن ابوداود شریف میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ روایت کرتے ہیں؛

كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِى سَفَرٍفَانْطَلَقَ لِحَاجَتِهِ فَرَأَيْنَا حُمَّرَةً مَعَهَا فَرْخَانِ فَأَخَذْنَا فَرْخَيْهَا فَجَاءَتِ الْحُمَّرَةُ فَجَعَلَتْ تَفْرُشُ فَجَاءَ النَّبِىُّ ﷺ فَقَالَ مَنْ فَجَعَ هَذِهِ بِوَلَدِهَا رُدُّوا وَلَدَهَا إِلَيْهَا وَرَأَى قَرْيَةَ نَمْلٍ قَدْ حَرَّقْنَاهَا فَقَالَ مَنْ حَرَّقَ هَذِهِ قُلْنَا نَحْنُ. قَالَ إِنَّهُ لاَ يَنْبَغِى أَنْ يُعَذِّبَ بِالنَّارِ إِلاَّ رَبُّ النَّارِ(14)

ایک سفرمیں ہم رسول اللہﷺکے ساتھ تھے۔ آپﷺ اپنی حاجت کے لیے باہر تشریف لے گئے۔ ہم نے ایک سرخ پرندہ دیکھا جس کے ساتھ اس کے دوبچے بھی تھے۔ ہم نے ان بچوں کوپکڑ لیا، تو وہ فرط غم سے ان کے گرد منڈلانے لگا۔ اتنے میں نبی کریمﷺ تشریف لائے توآپ نے فرمایا :اس پرندے سے اس کے بچوں کو چھین کر کس نے اسے رنج پہنچایا ؟ اس کے بچوں کو لوٹادو،اس کے بچوں کو لوٹادو۔اور وہیں آپ ﷺ نے چیونٹیوں کا جھنڈ دیکھا جسے ہم نے جلا دیا تھا۔آپ ﷺ نے پوچھا اسے کس نے جلایا تو ہم نے عرض کی کہ ہم نے جلایا۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: آگ کے مالک (رب) کے علاوہ کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ آگ کا عذاب دے۔

چیونٹیوں کے بل کو جلانے سے متعلق امام بخاری و مسلم نے حضرت ابوہریرہؓ سے ایک متفق علیہ روایت نقل کی ہے؛

قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: ” قَرَصَتْ نَمْلَةٌ نَبِيًّا مِنَ الأَنْبِيَاءِ، فَأَمَرَ بِقَرْيَةِ النَّمْلِ، فَأُحْرِقَتْ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: أَنْ قَرَصَتْكَ نَمْلَةٌ أَحْرَقْتَ أُمَّةً مِنَ الأُمَمِ تُسَبِّحُ(15)

” حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ( اللہ کے جو ) انبیاء ( پہلے گزر چکے ہیں) ان میں سے کسی نبی ( کا واقعہ ہے کہ ایک دن ان کو ایک چیونٹی نے کاٹ لیا )، انہوں نے چیونٹیوں کے بل کے بارے میں حکم دیا کہ اس کو جلا دیا جائے ، چنانچہ بل کو جلا دیا گیا ۔ تب اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ وحی نازل کی کہ تمہیں ایک چیونٹی نے کاٹا تھا اور تم نے جماعتوں میں سے ایک جماعت کو جلا ڈالا جو تسبیح کرتی ہے۔

امام قرطبی ؒ اس واقعے کا پس منظر یوں بیان کرتے ہیں؛

<

قال علماؤنا : يقال إن هذا النبي هو موسى عليه السلام ، وإنه قال : يا رب تعذب أهل قرية بمعاصيهم وفيهم الطائع. فكأنه أحب أن يريه ذلك من عنده ، فسلط عليه الحر حتى التجأ إلى شجرة مستروحا إلى ظلها ، وعندها قرية النمل ، فغلبه النوم ، فلما وجد لذة النوم لدغته النملة فأضجرته ، فدلكهن بقدمه فأهلكهن ، وأحرق تلك الشجرة التي عندها مساكنهم ، فأراه الله العبرة في ذلك آية : لما لدغتك نملة فكيف أصبت الباقين بعقوبتها! يريد أن ينبهه أن العقوبة من الله تعالى تعم فتصير رحمة على المطيع وطهارة وبركة ، وشرا ونقمة على العاصي (16)

ہمارے علما کہتے ہیں کہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ نبی حضرت موسی علیہ السلام تھے(تاہم یہ بات یقینی نہیں ہے ممکن ہے کہ وہ کوئی اور نبی ہوں )۔ایک دفعہ انہوں نے بارگاہ رب العزت میں عرض کیا تھا کہ ( پروردگار ! تو کسی آبادی کو اس کے باشندوں کے گناہوں کے سبب عذاب میں مبتلا کرتا ہے اور وہ پوری آبادی تہس نہس ہو جاتی ہے ، درآنحالیکہ اس آبادی میں مطیع و فرمانبردار لوگوں کی بھی کچھ تعداد ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر لیا کہ ان تعلیم کے لیے کوئی مثال قائم کرے ۔ چنانچہ اللہ جل مجدہ نے(ایک سفر کے دوران)اُن پر سخت ترین گرمی مسلط کر دی ۔یہاں تک کہ وہ اس گرمی سے نجات پانے کے لئے ایک سایہ دار درخت کے نیچے چلے گئے ، وہاں ان پر نیند کا غلبہ ہو گیا اور وہ سو رہے تھے تو ایک چیونٹی نے ان کو کاٹا اور انہیں جگا دیا۔اور اس درخت کو جلوادیا جس کے نیچے چینوٹیوں کا بل تھا۔اس واقعے میں اللہ تعالی نے انہیں حقیقت دکھلادی کہ جب انہیں ایک چیونٹی نے کاٹا تو پھر سزا باقیوں کو دی ! اس سے انہیں یہ بات سمجھ آگئی کہ اللہ تعالی کی جانب سے سزا و عذاب عمومی نوعیت کا آتا ہے جو مطیع و فرمانبردار کے لیے پاکیزگی و بخشش کا سبب بنتا ہے اور نافرمانوں کے لیے سزاشمارہوتا ہے۔

عقیدے کی اصلاح : فتنہ انکار سنت اس حدیث پر اعتراض کرتے ہیں کہ ایک نبی سے چیونٹیوں کو جلانے جیسے ظالمانہ فعل کی نسبت عقل کے خلاف ہے لہذا اس سے ثابت ہوجاتا ہے کہ حدیثیں درست نہیں ہیں۔اس اعتراض کاجواب دو طرح سے دیا جاسکتا ہے ۔ پہلا اس طرح کہ اللہ تعالی نے اس واقعے کی نسبت اپنے نبی علیہ السلام کی جانب نہیں بلکہ اپنی طرف کی ہے کہ اس واقعے سے اُس نبی علیہ السلام کی تعلیم کے لیے ایک مثال قائم کرنا مقصود تھا۔ اصول یہ ہے کہ اللہ تعالی جس کام کی نسبت اپنی طرف کرتا ہے وہ عین حق ہوتا ہےاور مبنی بر عدل ہوتا ہے خواہ وہ ہماری عقل کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ لہذا یہاں بظاہر جلانے کا فعل ایک نبی علیہ السلام کی طرف ہے لیکن حقیقت میں یہ کام من جانب اللہ ان سے سرزد کروایا گیا۔لہذا یہ عقیدہ قائم رہتا ہے کہ انبیائے کرام معصوم ہوتے ہیں۔

دوسرا جواب امام قرطبی ؒ کی اس عبارت میں موجود ہے؛

إن هذا النبي كانت العقوبة للحيوان بالتحريق جائزة في شرعه ؛ فلذلك إنما عاتبه الله تعالى في إحراق الكثير من النمل لا في أصل الإحراق(17)

حیوانات کو جلانے کی سزا دینا اُس نبی علیہ السلام کی شریعت میں جائز تھا۔ اسی لیے اللہ تعالی نے انہیں جلانے کے فعل پر عتاب نہیں کیا بلکہ زیادہ چیونٹیوں کو جلانے پر عتاب فرمایا۔
اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ انبیائے علیھم السلام معصوم ہوتے ہیں اور وہ شریعت کی جائز امور سے سرِمو انحراف نہیں کرتے۔

امام قرطبی ؒ کہتے ہیں جو جانور اذیت دے اسے مارنا جائز ہے۔ بلکہ موذی جانور کو اس خوف سے کہ کہیں وہ اذیت نہ پہنچائے مارڈالنا جائز ہے (جیسے بچھو ، سانپ وغیرہ) ۔ (18)شریعت محمدیہ ﷺ میں جانداروں کو جلانا جائز نہیں ہے بلکہ جانداروں کو اذیت دینے پر وعیدیں بھی سنائی ہیں بلکہ حضور نبی کریم ﷺ نے بعض ظالمانہ افعال کرنے والوں پر لعنت بھی فرمائی ہے۔ امام بخاری ؒ حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ کی روایت نقل کرتے ہیں؛

لَعَنَ النَّبِيُّ ﷺ مَنْ مَثَّلَ بِالْحَيَوَانِ(19)

حضور نبی اکرم ﷺ نے اُس شخص پر لعنت فرمائی ہے جو جانوروں کا مثلہ کرے (یعنی اُن کے ناک کان وغیرہ کاٹے)‘‘۔

امام احمد بن حنبل ؒ حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ کی روایت نقل کرتے ہیں کہ اُنہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے کسی ذی روح کا مثلہ کیا اور پھر اِس گناہ سے توبہ نہ کی(اور اسی حال میں مرگیا) تو اﷲ تعالیٰ روزِ قیامت اُس کا مثلہ کرے گا۔(20) حضرت شرید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے کسی چڑیا کو بلا وجہ مار ڈالا تو وہ چڑیا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے چلائے گی اور عرض کرے گی : اے اللہ! فلاںشخص نے مجھے بلا وجہ بغیر کسی فائدہ کے قتل کیا۔(21) حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اﷲ عنھما راوی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے چڑیا یا اُس سے بھی چھوٹا جانور ناحق قتل کیا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس سے اُس کے متعلق بھی پوچھے گا (تو نے یہ جان ناحق کیوں لی)۔ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اُس کا حق کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اس کا حق یہ ہے کہ وہ اُسے ذبح کرے اور کھائے اور (بلا ضرورت صرف شوقِ شکار میں) اُس کا سر کاٹ کر نہ پھینک دے۔‘‘(22)

حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا؛

دَخَلَتِ امْرَأَةٌ النَّارَ فِي هِرَّةٍ رَبَطَتْهَا، فَلَمْ تُطْعِمْهَا، وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الأَرْضِ(23)

رسول الله نے فرمایا کہ ایک عورت کو ایک بلی کے سبب عذاب ہوا تھا کہ اس نے اس کو پکڑ رکھا تھا، یہاں تک کہ وہ بھوک سے مر گئی ،سو نہ تو اس کو کچھ کھانے کو دیتی تھی اور نہ اس کو چھوڑتی تھی کہ حشرات الارض، یعنی زمین کے کیڑے مکوڑوں سے اپنی غذا حاصل کر لے۔

اما م نسائی ؒ روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:

رأيت فيها امرأة من حميرتعذب في هرة ربطتها فلم تدعها تأكل من خشاش الأرض فلا هي اطعمتها ولا هي أسقتها حتى ماتت ولقد رأيتها تنهشها إذا أقبلت وإذا ولت تنهش(24)

میں نے دوزخ میں ایک عورت کو دیکھا، جس کو ایک بلی کے معاملے میں اس طرح عذاب ہو رہا تھا کہ وہ بلی اس کو نوچتی تھی جب کہ وہ عورت سامنے آتی تھی او رجب وہ پشت کرتی تھی تو وہ بلی اس کی پشت کو نوچتی تھی۔

حضرت عبدالرحمن بن عثمان ؓ سے مروی ہے؛

ذَكَرَ طَبِيبٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَوَاءً يُجْعَلُ فِيهِ الضِّفْدَعُ، «فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ الضِّفْدَعِ(25)

ایک طبیب نے حضور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک دوا کا ذکر کیا جس کی تیاری میں مینڈک (کی چربی) استعمال ہوتی ہے، تو حضور نبی کریم ﷺ نے مینڈک کے مارنے سے منع فرمایا۔
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حرام چیزوں سے علاج کرنا جائز ہے؟ اس بات پر تمام فقہا کا اتفاق ہے کہ حرام اشیا سے علاج کرنا جائز نہیں ہے۔ تاہم احناف فقہا کہتے ہیں کہ اگر تحقیق سے یہ بات یقینی ہوجائے کہ علاج اسی حرام کردہ چیز میں ہے تو پھر جائز ہے۔ اس ساری بحث سے واضح ہوجاتا ہے کہ ہر وہ فعل جو جانوروں کے لیے تکلیف کا باعث ہو ناجائز ہے۔حلال جانوروں کے ذبح کرنے میں بھی تکلیف کو کم سے کم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

چنانچہ حضرت شداد بن اوس ؓ روایت کرتے ہیں؛

عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رضی الله عنه قَالَ: ثِنْتَانِ حَفِظْتُهُمَا عَنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم قَالَ: إِنَّ اﷲَ کَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلٰی کُلِّ شَيئٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوْا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوْا الذَّبْحَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُکُمْ شَفْرَتَه فَلْيُرِحْ ذَبِيْحَتَه(26).

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے دو باتیں یاد رکھی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے، سو جب تم کسی شے کا شکار کرو تو اُسے احسن طریقہ سے شکار کرو اور جب تم ذبح کرو تو احسن طریقہ سے ذبح کرو، تم میں سے ہر شخص کو چاہیے کہ وہ چھری تیز کرے اور اپنے ذبیحہ کو آرام پہنچائے۔‘‘

امام طبرانی ؒ حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کی روایت نقل کرتے ہیں؛

مَرَّ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم عَلٰی رَجُلٍ وَاضِعٍ رِجْلَه عَلٰی صَفْحَةِ شَاةٍ، وَهُوَ يَحُدُّ شَفْرَتَه، وَهِيَ تَلْحَظُ إِلَيْهِ بِبَصَرِهَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه واله وسلم : أَفَـلَا قَبْلَ هٰذَا؟ أَوْ تُرِيْدُ أَنْ تُمِيْتَهَا مَوْتَتَيْنِ (27)

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو اپنی ٹانگ بھیڑ کی گردن پر رکھے چھری تیز کر رہا تھا، وہ اُسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ کام پہلے نہیں ہو سکتا تھا؟ (یعنی چھری اس سے پہلے تیز کر لینی چاہئے تھی)، کیا تم اُسے دو موتیں مارنا چاہتے ہو۔

اسی لیے حضور اکرم ﷺ نے ذبح کرنے سے قبل چھریوں کو تیز کرنے کا حکم ارشاد فرمایا ہے۔ ’’حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے چھریوں کو تیز کرنے اور جانور سے اُنہیں چھپانے کا حکم دیا ہے اور مزید فرمایا: جب تم میں سے کوئی (جانور) ذبح کرے تو تیزی سے ذبح کرے۔(28) جانوروں پر یہ رحم انسان کو اللہ کے رحم کا مستحق کردیتا ہے۔ چنانچہ حضرت قرہ بن ایاس ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کیا: یا رسول اﷲ! جب میں بکری کو ذبح کرتا ہوں تو مجھے اُس پر رحم آتا ہے، یا یہ کہا کہ مجھے بکری کو ذبح کرنے سے اُس پر رحم آتا ہے۔ آپ ﷺفرمایا: اگر تجھے بکری پر رحم آتا ہے تو اﷲ تعالیٰ تجھ پر رحم فرمائے گا۔(29) امام طبرانی نے حضرت ابوامامہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: جس نے (کسی چیز پر) رحم کیا خواہ چڑیا کے ذبیحہ پر ہی کیوں نہ ہو اﷲ تعالیٰ قیامت کے روز اُس پر رحم کرے گا۔(30)

جانوروں کو چہرے پر داغنے کی ممانعت

حضرت جابرؓ روایت کرتے ہیں؛

نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الضَّرْبِ فِي الْوَجْهِ، وَعَنِ الْوَسْمِ فِي الْوَجْهِ(31)

حضور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرے پر مارنے اور داغنے سے منع فرمایا ہے۔
ایک روایت میں حضرت جابر ؓ سے مروی ہے؛

أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ مَرَّ عَلَيْهِ حِمَارٌ قَدْ وُسِمَ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ: «لَعَنَ اللهُ الَّذِي وَسَمَهُ (32)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک گدھا گذرا ، جس کے منہ پر داغا گیا تھا، آپ ﷺنے اس کو دیکھ کر فرمایا :اس شخص پر لعنت ہو جس نے اس کو داغا ہے۔

مسلم شریف میں حضرت عبداللہ ابن عباس سے مروی ہے؛

رَأَی رَسُوْلُ اﷲِ ﷺ حِمَارًا مَوْسُوْمَ الْوَجْهِ، فَأَنْکَرَ ذَالِکَ، قَالَ: فَوَاﷲِ، لَا أَسِمُه إِلَّا فِي أَقْصٰی شَيئٍ مِنَ الْوَجْهِ، فَأَمَرَ بِحِمَارٍ لَه فَکُوِيَ فِي جَاعِرَتَيْهِ فَهُوَ أَوَّلُ مَنْ کَوَی الْجَاعِرَتَيْنِ (33)

حضور نبی اکرم ﷺ نے ایک گدھا دیکھا جس کے چہرے کو داغا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اِس عمل کو ناپسند فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی قسم! میں (جانور کے) صرف اُس عضو کو داغتا ہوں جو چہرے سے بہت دور ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے گدھے کو داغنے کا حکم دیا، سو اُس کی سرین کو داغا گیا، اور سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ہی (جانور کی) سرین کو داغا تھا۔

جانوروں پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہ لادیں

جانور پر اس کی طاقت اور قوت سے زیاد ہ بوجھ لادنا جائز نہیں،اس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے منع فرمایا ہے: صحابہ رضی اللہ عنہم کو اس بات کا علم تھا کہ جو شخص جانور پر اس کی طاقت اور قوت سے زیادہ بوجھ لادے گا تو اس کو روز ِ قیامت حساب کتاب دینا ہوگا ، حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے اپنے اونٹ سے کہا : اے اونٹ تم اپنے رب کے یہاں میرے سلسلہ میں مخاصمہ نہ کرنا ، میں نے تم پر تمہاری طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں لادا ۔(34) ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی انصاری کے باغ میں داخل ہوئے، اچانک ایک اونٹ آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں لوٹنے لگا، اس وقت اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کمر پر اور سر کے پچھلے حصے پر ہاتھ پھیرا جس سے وہ پرسکون ہوگیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس اونٹ کا مالک کون ہے؟ تو وہ دوڑتا ہوا آیا ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا:”اس کو اللہ تعالیٰ نے تمہاری ملکیت میں کر دیا ہے، اللہ سے ڈرتے نہیں، یہ مجھ سے شکایت کر رہا ہے کہ تم اسے بھوکا رکھتے ہو، اور اس سے محنت ومشقت کا کام زیادہ لیتے ہو“۔(35)

حضرت سہل ابن حنظلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں؛

مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ ًﷺ بِبَعِيرٍ قَدْ لَحِقَ ظَهْرُهُ بِبَطْنِهِ فَقَالَ : « اتَّقُوا اللَّهَ فِى هَذِهِ الْبَهَائِمِ الْمُعْجَمَةِ فَارْكَبُوهَا وَكُلُوهَا صَالِحَةً(36)

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک اونٹ کے قریب سے گزرے تو دیکھا کہ بھوک و پیاس کی شدت اور سواری وبار برداری کی زیادتی سے اس کی پیٹھ پیٹ سے لگ گئی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان بے زبان چوپایوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور ان پر ایسی حالت میں سواری کرو جب کہ وہ قوی اور سواری کے قابل ہوں اور اور جب یہ تندرست نہ رہیں تو اِنہیں کھا لیا کرو۔

ابنِ ابی شیبہؒ کی روایت میں ہے کہ انھوں نے تین لوگوں کو خچر پر سوار دیکھا تو فرمایا : تم میں سے ایک شخص اتر جائے؛کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے تیسرے شخص پر لعنت فرمائی ہے۔(37) یہ اُس صورت میں ہے؛ جب کہ وہ جانور تین آدمیوں کے بوجھ کو اٹھانے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو، اگر استطاعت رکھتا ہوتو جائز ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جانوروں کو محض اس لیے تمہارے تابع کیا ہے کہ وہ تمہیں ان شہروں اور علاقوں میں پہنچا دیں جہاں تم (پیدل چلنے کے ذریعہ)جانی مشقت ومحنت کے ساتھ ہی پہنچ سکتے تھے یعنی جانوروں سے مقصود ان پر سواری کرنا اور ان کے ذریعہ اپنے مقصد کو حاصل کرنا ہے؛ لہٰذا ان کو ایذا پہنچانا رَوا نہیں ہے۔جس جانور کی خلقت سواری کے لیے نہیں ہوئی جیسے گائے وغیرہ تو ان کی سواری کرنا جائز نہیں۔

حوالہ جات

  1. البيهقي، أبو بكر أحمد بن الحسين، شعب الإيمان، (دار الكتب العلمية – بيروت1410)، 9: 523
  2. الترمذي، أبو عيسى، سنن الترمذي، (مطبعة مصطفى البابي الحلبي، مصر)، باب ما جاء في كراهية أكل المصبورة، 5: 411
  3.  حواله سابق ، کتاب الصيد، باب ما قطع من الحي فهو ميت، 4: 74
  4. النيسابوري، مسلم بن الحجاج ، صحیح مسلم، (دار إحياء التراث العربي – بيروت)، کتاب البر والصلة والآداب، باب تحريم الظلم،4: 1997
  5.  البخاري، محمد بن إسماعيل، صحيح البخاري، (دار طوق النجاة الطبعة: الأولى، 1422هـ)، باب فضل الزرع والغرس إذا أكل منه، 3: 103
  6.  ابن ماجة ،محمد بن يزيد القزويني، سنن ابن ماجه، (دار إحياء الكتب العربية)، باب فضل صدقة الماء، 2: 1215
  7. النيسابوري، صحیح مسلم، باب فضل ساقی البهائم، 4: 1761
  8.  الطبراني، سليمان بن أحمد، المعجم الاوسط،( دار الحرمين – القاهرة)، 1: 271
  9. أبو داود، سنن أبي داود ،کتاب الجهاد، باب ما يومر به من القيام علي الدواب والبهائم، 3 /23
  10. البخاري، الصحيح البخاری،کتاب الذبائح والصيد، باب ما يکره من المثلة والمصبورة والمجثمة، 7: 94
  11. النيسابوري، ، صحیح مسلم، کتاب الصيد والذبائح، باب النهي عن صبر البهائم، 3: 1549
  12. البخاري، الصحيح البخاری،کتاب الذبائح والصيد، باب ما يکره من المثلة والمصبورة والمجثمة، 7: 94
  13. النيسابوري، ، صحیح مسلم، کتاب الصيد والذبائح، باب النهي عن صبر البهائم، 3: 1550
  14. أبو داود، سليمان بن الأشعث، سنن أبي داود، (دار الكتاب العربي ـ بيروت)، باب فى كراهية حرق العدو بالنار، 3: 8
  15. البخاري، صحيح البخاري، إذا حرق المشرك المسلم هل يحرق ، 4: 62
  16. القرطبي، محمد بن أحمد، الجامع لأحكام القرآن، (دار عالم الكتب، الرياض، المملكة العربية السعودية، 2000)، 13: 174
  17. حواله سابق
  18. حواله سابق
  19. البخاري، الصحيح البخاری،کتاب الذبائح والصيد، باب ما يکره من المثلة والمصبورة والمجثمة، 7: 94
  20. أحمد بن حنبل ،  المسند، (مؤسسة الرسالة،2001 م)، 9: 474
  21. ا لنسائي، أحمد بن شعيب،  سنن نسائی، (مكتب المطبوعات الإسلامية – حلب، 1986)، کتاب الضحايا، باب من قتل عصفورا بغير حقها، 7: 239
  22. حوالہ سابق، 7: 206
  23. البخاري، صحيح البخاري، باب خمس من الدواب فواسق يقتلن في الحرم، 4: 130
  24. النسائي، أحمد بن شعيب، السنن الكبرى، (مؤسسة الرسالة)، 1: 574
  25. ابوبكر بن أبي شيبة، مصنف ابن أبي شيبة، (دار الوطن،الرياض،1997م)، 5: 62
  26. الترمذي، سنن الترمذي، کتاب الديات، باب ما جاء في النهي عن المثلة، 4 /23
  27. الطبراني، سليمان بن أحمد، المعجم الکبير،( مكتبة ابن تيمية – القاهرة)، 11: 332
  28. ابن ماجة ، سنن ابن ماجه، کتاب الذبائح، باب إذا ذبحتم فأحسنوا الذبح، 2 /1059
  29. أحمد بن حنبل ،  المسند، 33: 472
  30. الطبراني، المعجم الکبير، 8 /234
  31. النيسابوري، صحیح مسلم، باب النهي عن ضرب الحيوان في وجهه ووسمه فيه، 3: 1673
  32. حواله سابق
  33. حواله سابق
  34. امام غزالی ، احیاء علوم الدین، الباب الثالث فی الآداب، 1: 264
  35.   أبو داود، سليمان بن الأشعث، سنن أبي داود، باب ما يؤمر به من القيام على الدواب والبهائم ، 2: 27
  36. حواله سابق
  37. ابن ابی شبی، مصنف ابن ابی شبیة، من کرہ رکوب ثلالة عل الدابة، حدیث:26380

قرآن مجید اور اقبال کا تصور خودی

محمد ابوبکر صدیق

…………………………………….

زندگانی ہے صدف قطرہ نیساں ہے خودی 

وہ صدف کیا کہ جو قطرے کو گہر کر نہ سکے


ہو اگر خودنگر و خود گر و خود گیر خودی

یہ ممکن ہے کہ تو موت سے بھی مر نہ سکے

 

خودی کیا ہے؟ خود پسندی، انا پرستی، خودپرستی کیا انہیں خودی کہتے ہیں؟ نہیں ایسا نہیں ہے ۔ کیونکہ خود پسندی، انا پرستی، خودپرستی انسان کو غرور اور تکبر میں مبتلا کرتی ہے ۔ جبکہ خودی انسان کو رب سے روشناس کرواتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اچھی فطرت پر پیدا کیا یہ فطرت سراپا خیر ہے۔آدمی اس فطرت کو پہچانے ، اس کی قدر کرے اور اسے بڑھانے اور ترقی دینے کی کوشش کرے ۔لیکن اگر آدمی خود غرض اور بڑھتی ہوئی خواہشات کے دھارے میں بہہ نکلے تو یہ انسان میں غرور اور تکبر پیدا کردیتی ہے ، جس سے خودی کا دم گھٹنے لگتا ہے ۔ فطرت مسخ ہونے لگتی ہے اور زندگی شیطان کے پھیلائے ہوئے وسوسوں سے بھر جاتی ہے۔خودی کی بہترین عملی تعریف تو سیدنا حضرت علی المرتضی ؓ نے واضح کی۔ جب جنگ کے دوران ایک کافر نے آپ کے چہرہ انور کی جانب تھوکا تو آپ نے اُسے چھوڑ دیا۔ کافر محو حیرت ہوا، بول پڑا کہ ’ میرے پاس اپنی نفرت کے اظہار کا کوئی اور راستہ نہیں تھا تو میں نے تھوک دیا۔ آپ ؓ کو تو اور بھی زیادہ غصہ آنا چاھئے تھا ۔ لیکن آپ ؓ نے مجھے چھوڑ دیا۔ کیوں؟ ‘ اس پر حضرت علی المرتضی ؓ نے ارشاد فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ کسی ذاتی مقصد کے پیش نظر نبرد آزما نہیں تھا۔ بلکہ اللہ کی رضا کے لئے حق کے غلبے کے لئے لڑ رہا تھا۔ لیکن تم نے جس وقت میرے چہرے کی جانب تھوکا تو مجھے غصہ آگیا اور اس میں میری ذات کا مقصد شامل ہوگیا۔ مجھے ڈر لگ گیا کہ اگر آج تمہیں قتل کردیتا ہوں تو قیامت کے دن میرا رب یہ نہ فرما دے کہ ’ علی ؓ تم نے اسے اپنے غصے کی وجہ سے قتل کیا تھا۔ ‘ یہ ہے تصور خودی ۔ یعنی خودی کا منبع و مرکز انسان کی ذات میں چھپی ہوئی غیرت ہے ۔ اگر اس غیرت کا سبب اپنی ذات ہے تو یہ خود پسندی اور انا پرستی ہے۔ اگر اس کا سبب اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا ہو تو یہ خودی ہے۔

قرآن مجید اور صاحب قرآن حضور نبی رحمت ﷺ کے انداز تربیت پر بڑی گہری نظر رکھتے ہوئے حضرت اقبال ؒ نے کہا کہ فلاح کے آسمانی تصور کے حصول کے لئے لازمی ہے کہ بندے کی خودی تین کمالات سے متصف ہو یعنی وہ خودنگر، خود گر ا ور خود گیر ہو ۔جب تک خودی ان کمالات سے متصف نہیں ہوگی بندہ راہ کی گرد میں گم ہوجائے گا لیکن مقصود ِحیات کبھی نہیں پاسکے گا۔ ایک نبی، رسول علیہ السلام کا بنیادی کام ہی یہی ہوتا ہے کہ وہ پہلےاپنے امتی کی عقل و نگاہ پر پڑے پردوں کو ہٹا کر اُس کی حقیقت اُس کے سامنے آشکار کرتا ہے۔

قرآن مجید نے بڑے جامع انداز میں بیان کیا کہ سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی امت کی تربیت کن مراحل میں کی ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خود نگری کے مقام پر لوگوں پر کیسے واضح کیا کہ وہ کون ہیں ؟ ان کا رب کون ہے ؟ قرآن مجید سورہ الانعام میں بہت ہی خوبصورت انداز میں بیان کرتا ہے :۔

فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ اللَّيْلُ رَأَى كَوْكَبًا قَالَ هَذَا رَبِّي فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَا أُحِبُّ الْآفِلِينَ

پھر جب ان پر رات نے اندھیرا کر دیا تو انہوں نے (ایک) ستارہ دیکھا (تو) کہا: (کیا تمہارے خیال میں) یہ میرا رب ہے؟ پھر جب وہ ڈوب گیا تو (اپنی قوم کو سنا کر) کہنے لگے: میں ڈوب جانے والوں کو پسند نہیں کرتا) ۔اسی طرح آگے فرمایا:۔

فَلَمَّا رَأَى الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هَذَا رَبِّي فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَا أُحِبُّ الْآفِلِينَ

( پھر جب چاند کو چمکتے دیکھا (تو) کہا: (کیا تمہارے خیال میں) یہ میرا رب ہے؟ پھرجب وہ (بھی) غائب ہوگیا تو (اپنی قوم کو سنا کر) کہنے لگے: اگر میرا رب مجھے ہدایت نہ فرماتا تو میں بھی ضرور (تمہاری طرح) گمراہوں کی قوم میں سے ہو جاتا)۔

بات یہیں نہیں رکی ۔ قرآن مجید نے مزید بیان کرتے ہوئے کہا:۔

لَمَّا رَأَى الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هَذَا رَبِّي هَذَا أَكْبَرُ فَلَمَّا أَفَلَتْ قَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ

(پھر جب سورج کو چمکتے دیکھا (تو) کہا: (کیا اب تمہارے خیال میں) یہ میرا رب ہے (کیونکہ) یہ سب سے بڑا ہے؟ پھر جب وہ (بھی) چھپ گیا تو بول اٹھے: اے لوگو! میں ان (سب چیزوں) سے بیزار ہوں جنہیں تم (اللہ کا) شریک

گردانتے ہو)۔

پہلے رات کی تاریکی میں چمکتے تارے اور دمکتے ہوئے چاند کو دیکھ کر خود ہی کہنا ’کیا یہ میرا رب ‘ اور جب وہ ڈوب جائیں تو لَا أُحِبُّ الْآفِلِينَ فرما کر ڈوب جانے والوں سے اظہار ناپسندیدگی کرتے ہوئے اُن کی ربوبیت کا انکار کرنا ۔پھر آخر میں سورج کو دیکھنا اور اس کی بڑائی اور چندھیا دینے والی روشنی کے رعب کو لوگوں میں ذہنوں میں بٹھانا کہ اس سے بڑھ کر تو اور کسی طاقتور وقت کا تصور بھی انسانی ذہن میں نہیں آسکتا لہذا کیا یہ رب ہوسکتا ہے ؟ پھر جب وہ بھی ڈوب جائے تو ان کی ربوبیت کا انکار کرنا یعنی ایک ایک کر کے بلند و بالا اور اوج ثریا کی پنہائیوں میں چمکنے دمکنے والی مخلوق کے رب ہونے کے امکان کو لوگوں کے سامنے انہی کی عقلوں کے ذریعے رد کروایا ۔ تو یہی وہ وقت تھا کہ ’لوہا گرم ہے اب ہتھوڑا ماراجائے‘۔ چنانچہقَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ(ابراہیم بول اٹھے: اے لوگو! میں ان (سب چیزوں) سے بیزار ہوں جنہیں تم (اللہ کا) شریک گردانتے ہو)۔ پھر ان کے سامنے یہ واضح کرنا کہ تم انہیں رب مانو تو مانو میں اپنے عظیم رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرونگا۔ یہی الفاظ اس پر واضح دلیل ہیں کہ رب کی توحید پر حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا ایمان پہلے سے تھا۔ اگر ایسا ہے تو پھرقَالَ هَذَا رَبِّيیہ سب کیا تھا ؟

یہ سب کچھ تو لوگوں کو خود نگری کے کمال سے متصف کرنے کا ایک انداز تھا جو نہایت مؤثر تھا۔ کسی جملے کے سوالیہ ہونے کے لئے لازمی نہیں کہ اس میں حروف استفہام کا استعمال ہو۔ بلکہ کبھی کبھی سادہ جملے’ سوالیہ انداز تخاطب ‘ کی بدولت سوال بن جاتے ہیں۔ ’یہ میرا رب ہے‘ کو سوالیہ انداز میں بولا جائے تو یہ سوال بن جاتا ہے۔ اس لئے یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ معاذ اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام خود رب کو پہچاننے کے مراحل میں تھے اور یہ آیات اس کا بیان ہیں۔ ایسا بالکل بھی نہیں ۔ اور یہ امکان قَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ سے رد ہوجاتا ہے۔ شرک کا تصور کا مطلب ہے کہ حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا ایمان توحید باری تعالی پر پہلے سے تھا۔ ورنہ جو ابھی ذات یکتا کو پہچان ہی نہ پایا ہو اُسے کیا خبر کہ شرک کیا ہوتا ہے۔

یہ درحقیقت اُن لوگوں کے ذہنوں میں، اُن کی سوچوں میں ایک زلزلہ بپا کرنا تھا جو کبھی ستاروں کو تو کبھی چاند کو اپنا خدا سمجھتے تھے اور کبھی اپنے ہاتھوں سے بنائے بتوں کے سامنے اپنی جبین نیاز کو جھکاتے تھے۔ ان کی عقل پر پڑے پردوں کو ہٹانے کے لیے یہ انداز اپنانا ضروری تھا ۔ تاکہ اُن کی عقل خود یہ سوال کر دے کہ جو خود ڈوب جائے وہ خدا کیسے ہو سکتا ہے ۔یہ زلزلہ بپا کرنے کی دیر تھی کہ غلط عقائد کی بنیادوں پر تعمیر شدہ ان کی ساری عمارتیں منہدم ہو کر ریت کا ڈھیر ثابت ہوئیں۔ لیکن حکمت کا تقاضا یہ بھی  تھا کہ اگر اُن سے غلط خداؤں کا تصور چھینا جا رہا ہے تو پھر حقیقی خدا کا تصور بھی پیش کیا جائے۔ اسی لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فوراً فرمایا :إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ(بیشک میں نے اپنا رُخ (ہر سمت سے ہٹا کر) یکسوئی سے اس (ذات) کی طرف پھیر لیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو بے مثال پیدا فرمایا ہے اور (جان لو کہ) میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں)۔

یہ وہ کمال کابراہیمی انداز  تھا کہ خوش بخت روحیں اپنے خالق حقیقی سے روشناس ہوگئیں اور رب ابراہیم پر ایمان لے آئیں۔ لیکن جو ابھی بھی حق کے انکاری ، کج بحثی کے عادی تھے نہ مانے۔ اُن سے بحث بھی ہوئی اور انہیں دلائل بھی دئے لیکن انہوں نے پھر بھی یہ کہا کہ ہم اپنے آباؤ اجداد کے دین سے کیسے پھر جائیں۔ تب حق کی پہچان کے لئے ایک اور کمال انداز اپنایا اور انہیں چیلنج کرتے ہوئے کہا جس کا بیان قرآن مجید نے یوں کیا :۔

 

وَتَاللَّهِ لَأَكِيدَنَّ أَصْنَامَكُم بَعْدَ أَن تُوَلُّوا مُدْبِرِينَ (75)فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا إِلَّا كَبِيرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ (58) قَالُوا مَن فَعَلَ هَٰذَا بِآلِهَتِنَا إِنَّهُ لَمِنَ الظَّالِمِينَ (59) قَالُوا سَمِعْنَا فَتًى يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ (60) قَالُوا فَأْتُوا بِهِ عَلَىٰ أَعْيُنِ النَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَشْهَدُونَ (61) قَالُوا أَأَنتَ فَعَلْتَ هَٰذَا بِآلِهَتِنَا يَا إِبْرَاهِيمُ (62) قَالَ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَٰذَا فَاسْأَلُوهُمْ إِن كَانُوا يَنطِقُونَ (63)

(اور اللہ کی قسم! میں تمہارے بتوں کے ساتھ ضرور ایک تدبیر عمل میں لاؤں گا اس کے بعد کہ جب تم پیٹھ پھیر کر پلٹ جاؤ گے۔پھر ابراہیم (علیہ السلام) نے ان (بتوں) کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا سوائے بڑے (بُت) کے تاکہ وہ لوگ اس کی طرف رجوع کریں۔. وہ کہنے لگے: ہمارے معبودوں کا یہ حال کس نے کیا ہے؟ بیشک وہ ضرور ظالموں میں سے ہے۔(کچھ) لوگ بولے: ہم نے ایک نوجوان کا سنا ہے جو ان کا ذکر (انکار و تنقید سے) کرتا ہے اسے ابراہیم کہا جاتا ہے۔وہ بولے: اسے لوگوں کے سامنے لے آؤ تاکہ وہ (اسے) دیکھ لیں۔(جب ابراہیم علیہ السلام آئے تو) وہ کہنے لگے: کیا تم نے ہی ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ حال کیا ہے اے ابراہیم۔آپ نے فرمایا: بلکہ یہ (کام) ان کے اس بڑے (بت) نے کیا ہوگا تو ان (بتوں) سے ہی پوچھو اگر وہ بول سکتے ہیں۔

بتوں کی ناک کاٹ کر اور ان کے بازو توڑ کر پھر ایک بڑے بت کی طرف اشارہ کردینا کہ یہ کام اس نے کیا ہوگا ؟ اس سے پوچھو اگر یہ بول سکتا ہے ؟ واقعی یہ ایک کمال کا انداز تھا کہ ایک ایسا کام کیا جائے جس سے وہ بھڑک اٹھیں اور جذبات میں آ جائیں اور اسی دوران اُن کے سامنے ایسے سوال رکھ دئے جائیں کہ جس کے سامنے وہ خود لاجواب ہوجائیں اور اُن کی عقل خود ہی ان کی لوح ِدل پر یہ لکھ دے جو خود بول نہیں سکتے ، خود کی حفاظت نہیں کرسکتے تمہاری حفاظت کے کیا خاک ضامن ہوں گے۔ ساتھ ہی ساتھ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے یہ الفاظ خوش بخت اروح کے لئے حق کے پیغام کو قبول کرنے لئے بہت اہم ثابت ہوئے۔ چنانچہ جب انہوں نے کہا کہ اے ابراہیم یہ بت بھلا کیسے بول سکتے ہیں کہ جواب دیں ۔ تب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا:۔

قَالَ أَفَتَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنفَعُكُمْ شَيْئًا وَلَا يَضُرُّكُمْ (66) أُفٍّ لَّكُمْ وَلِمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ ۖ أَفَلَا تَعْقِلُونَ

ابراہیم علیہ السلام نے) فرمایا: پھر کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان (مورتیوں) کو پوجتے ہو جو نہ تمہیں کچھ نفع دے سکتی ہیں اور نہ تمہیں نقصان پہنچا سکتی ہیں۔تف ہے تم پر (بھی) اور ان (بتوں) پر (بھی) جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو، تو کیا تم عقل نہیں رکھتے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس جواب نے کئی لوگوں کی عقلوں پر پڑے پردے وا کر دئے اور انہیں راہ حق سے روشناس کرا دیا ۔ تاہم اکثریت نے اپنی شقاوت قلبی کی بدولت حق کو نہ پہچانا اور الٹا حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مشق ستم بنایا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان پر بدعا نہیں کی اور نہ ہی  ان پر عذاب کے لیے ہاتھ  اٹھائے ۔ بلکہ صبر وتحمل سے کام لیا ۔ یہاں حضرت ابرہیم علیہ السلام کی ذات بابرکات سے خود گری کے مرحلے کا بیان ہے ۔ کہ مصائب و آلام میں صبر و تحمل ہی وہ وہ بنیادی او صاف ہیں جن سے بندے کی خودی کی تعمیر یعنی تعمیر ِذات ہوتی ہے۔کفار بولے کہ انہیں آگ میں جلا دو ،جس کا بیان قرآن مجید نے یوں کیا:۔

قَالُوا حَرِّقُوهُ وَانصُرُوا آلِهَتَكُمْ إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ

وہ بولے: اس کو جلا دو اور اپنے (تباہ حال) معبودوں کی مدد کرو اگر تم (کچھ) کرنے والے ہو)۔

کفار آگ جلا چکے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آ گ کی جانب پھینک بھی چکے ۔ یہاں پھر قدرت خداوندی نے آگے بڑھ کر دکھایا کہ صاحب ِ خودی کی حفاظت وہ کیسے کرتا ہے ! وہ کیسے خود گیری کے مقام پر انہیں سرفراز کرتا ہے۔ ابھی وہ فضا میں ہی تھے کہ حکم الہی آیا:۔

قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ (69) وَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْنَاهُمُ الْأَخْسَرِينَ (70)

ہم نے فرمایا: اے آگ! تو ابراہیم پر ٹھنڈی اور سراپا سلامتی ہو جا۔اور انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ بری چال کا ارادہ کیا تھا مگر ہم نے انہیں بری طرح ناکام کر دیا۔

رب کریم نے اپنے خلیل علیہ السلام کا ساتھ دیا کیونکہ اللہ صبر کرنے والوں کا ساتھ دیتا ہے ۔یہی وہ صبر تھا جس کا پھل آگ کے گل وگلزار ہونے کی صورت میں مل گیا۔ بس آگ کا گل وگلزار ہونا تھا کہ کچھ لوگوں کی عقل پر پڑے پردے ہٹ گئے۔انہوں نے خود کو پہچان لیا کہ وہ کون ہیں !اور ان کا حقیقی رب کون ہے ۔ اور اہل شقاوت انگشت بدنداں تھے کہ وہ کیا توقع کر رہے تھے اورکیا ہوگیا! یہ آگ گلزار کیسے ہوگئی ؟ اسی کی جانب حضرت اقبالؒ اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں ۔


بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق

عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی

 

جب بندہ یہ تین مرحلے طے کر لیتا ہے تو پھر بندہ مولا صفات بن جاتا ہے ۔ جس کی جانب اقبال اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں ۔

خاکی و نوری نہاد، بندہِ مولا صفات
ہر دوجہاں سے غنی اس کا دلِ بے نیاز


نرم دمِ گفتگو، گرم دمِ جستجو
رزم ہو یا بزم ہو پاک دل و پاکباز


عقل کی منزل ہے وہ عشق کا حاصل ہے وہ
حلقہِ آفاق میں، گرمیِ محفل ہے وہ


عالم ہے فقط مومن جانباز کی میراث
مومن نہیں جو صاحب ادراک نہیں ہے

 

یہی وہ مقام ہے جس پر پہنچ کر بندہ وہ عظمتیں حاصل کر لیتا ہے جس کا بیان حدیث قدسی میں یوں ہوتا ہے:۔

 ( جس نے میرے ولی کو تکلیف دی میرا اس کے خلاف اعلان جنگ ہے اور میرا بندہ کسی چیز کے ساتھ میرا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو مجھے وہ اس سے بھی زیادہ پسند ہے جو میں نے اس پر فرض کیا ، میرا بندہ جب نوافل کے ساتھ میرا قرب حاصل کرتا ہے تم میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور جب میں اس سے محبت کرنے لگوں تو اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا اور میں اس کا آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اس کا قدم بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے اور جب وہ مجھ سے مانگتا ہے تو میں اسے دیتا ہوں اور جب بخشش طلب کرتا ہے تو میں اسے بخش دیتا ہوں اور جب میری پناہ میں آنا چاہتا ہے تو میں اسے پناہ دیتا ہوں )۔

ہاتھ ہے اللہ کا بندہِ مومن کا ہاتھ
غالب و کار آفریں، کارِ کشا و کارساز


اس مقام ِ علو کے انعام کی جانب حضرت اقبال اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں :۔


خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

 

بندہ جب یہ سارے مراحل طے کر تے ہوئے اپنی خودی کو ان کمالات سے متصف کرلیتا ہے تو وہ اس مقام پر پہنچتا ہے کہ اس کے لئے موت حیات ِ جاوداں کا حسین پیغام بن جاتی ہے۔ جس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے حضرت اقبال کہتے ہیں:۔


ہو اگر خودنگر و خود گر و خود گیر خودی 

یہ بھی ممکن ہے کہ تو موت سے بھی مر نہ سکے

Cosmopolitan Fiqh-فقہ العولمی کیا ہے؟

محمد ابوبکر صدیق

April 4, 2020

…………………………………….

آج عقل ِانسانی جس مقام پرپہنچی ہے اور جس سرعت رفتاری سے ترقی کی منازل طے کر رہی ہے ، ابتدائے آفرینش تا ماضی بعید اس کی مثال نہیں ملتی ۔ عقل کا یہ ارتقاء علم کی مرہونِ منت ہے ۔ عقل نے کائنات کے جن سربستہ اسرار کو طشت ازبام کیا ہے وہ ماضی قریب میں عقدہ لاینحل رہ چکے ہیں۔ فی زمانہ علم اورعقل نے وہ پیچیدہ معاملات تک سلجھا دیے ہیں کہ ماضی بعید کے باشندوں کوجن کی بھنک تک نہیں پڑی ہوگی ۔ گزشتہ ایک صدی سے زمانے کی صراحی سے مئے حوادث قطرہ قطرہ اتنی تیزی سے ٹپک رہے ہیں کہ جنہیں صرف زمانے کی تسبیح روز وشب پر ہی شمار کیا جا سکتا ہے۔ ایجادات کا ایک سیلِ رواں ہےکہ جسے اگرگزشتہ صدی کا انسان دیکھ لے تو ورطہ حیرت میں پڑ جائے کہ ستاروں پر کمند انسان کے لیے کیونکر ممکن ہوا؟ سینکڑوں لائبریریاں ایک چھوٹی سے فیتے یا انگلیوں کے پوروں پر پڑی مائیکرو چپ میں کیسے سما گئیں ؟ مہینوں مسافت کا سفر چند ساعتوں میں کیسے طے ہورہا ہے ؟ شیشے کی اسکرین پر افراد کے اجسام کی تھرتھراہٹ اور دوسری دنیاؤں کے نظارے کیسے ممکن ہوئے؟ تمدن کی اسی ترقی کی بدولت فقہائے اسلام کے لیے بھی عبادات سے لےکر معاملات تک نت نئے چلینجز سامنے آتے گئے ۔لیکن جب صنعتی انقلاب آیا جو بعد میں معیشت و تجارت میں انقلاب کا سبب بناتو بہت سے ایسے مسائل نے جنم لیا جن کا حل اجتہادی آراء پر منحصر تھا ۔

کا مغربی تصور-‘(Globalization)’-عولمیت 

گزشتہ صدی کی استعماری قوتیں اب نئے انداز میں اپنے تصورِ عولمیت کو دنیا پر نافذ کر کے اُن کا استحصال کرنےکی کوشش میں ہیں۔ فی زمانہ یہ کوشش اقتصادیات اور ثقافت کے میدان میں کی جارہی ہےجیسے سرمایہ دارانہ نظام معیشت کے تحت مالیاتی اور بینکنگ اداروں کا قیام ، فلم انڈسٹری اور میٖڈیا ہاؤسز کا قیام وغیرہ ۔نیز اپنے حملے کو مہلک بنانے کے لیے مغرب نے اپنا طرزِحیات اس انداز میں مرتب کیا کہ جس میں انسانی ہوس پرستی کے کوئی اصول مقرر نہیں کیے گئے خواہ اس کا تعلق جنسی تسکین سے ہو یا معاشی تسکین سے۔ انسان کو ہر قسم کی حدود و قیود سے آزاد کردیا گیا ، اس لیےمغرب نے جنسی تسکین کے لیے کسی قانونی بندھن اور معاشرتی تقاضوں کو خاطر میں لائے بغیر کھلی آزادی دے دی صرف ایک قانونی پابندی عائد کردی کہ یہ سب کچھ باہم رضامندی سےہونا چاہیے اور بس۔اس کے علاوہ دیگر پابندیاں تو مذہب نے لگانی تھیں اس لیے مغرب نے مذہب پر ہی پابندی لگادی کہ یہ ہر فرد کا ذاتی معاملہ ہے اس طرح مذہب کو ثانوی حیثیت دے کر زندگی کی ترویج میں اُس کا کردار غیر مؤثر کردیا۔اس طرح مغرب نے ایک انسان کو ہوائے نفس کا قیدی بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔گویا انسان جنسی تسکین کے لیے بھی آزاد کہ جنسی تفریق کے بغیرجس کے ساتھ، جیسے بھی ، جب بھی اور جہاں بھی جی چاہے وہ تعلقات استوار کرلے۔ اسی طرح معاشی تسکین کے لیے بھی آزاد کہ حلال وحرام کی تفریق کیے بغیر سود، جوا، میسر، عصمت فروشی، جیسے جی چاہے اپنے لیے دولت کمائے ۔ لہذا یہ ہے وہ یکسانیت جو مغربی نظام اپنی گلوبلائزیشن کے ذریعے پیدا کرنا چاہتا ہے۔

کے اثرات-‘(Globalization)’- اسلامی تہذیب پر عَوْلَمه

یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ ہر تہذیب کسی نہ کسی حد تک حوداثاتِ زمانہ سے ضرورمتاثر ہوتی ہے، البتہ اُس کے متاثر ہونےکا انداز اُس کی اپنی تہذیبی قوت اور پختگی پر منحصر ہوتا ہے۔چشمِ فلک نے کئی تہذیبوں کو کئی تہذیبیں نگلتے دیکھا ہے اور کچھ ایسی بھی تھیں کہ جنہوں نے حملہ آور تہذیب کو ہی حرفِ غلط کی طرح مٹا دیا۔اس اعتبار سے اسلامی تہذیب انسانی تاریخ کی سب سے زیادہ طاقتورترین تہذیب ثابت ہوئی کہ جس پر کئی تہذیبوں نے حملے کیے لیکن یہ نہ صرف محفوظ رہی بلکہ حملہ آور تہذیب کے باشندوں کو بھی اپنی طرف مائل کر لیا،اور کعبے کے لیےصنم خانے سے ہی پاسبان چن لیے۔ اسلامی تہذیب اس اعتبار سے بھی دائمی اوصاف سے متصف ہے کہ یہ اپنے باشندوں کی تربیت توحیدو رسالت، احتساب، جزا وسزا، انسانی تکریم‘ مساوات‘ تقویٰ‘ عفت اور پاکبازی جیسے مضبوط نصاب کے ذریعے کمال منہج پر کرتی ہےجواُن میں ہر زمانے کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت، ہمت اور قابلیت پیدا کردیتی ہے۔ مستثنیات اپنی جگہ ہیں اور ان کے اسباب بھی کچھ اور ہیں جو یہاں موضوع بحث نہیں۔ چناں چہ اسلامی تہذیب کا ہی یہ کمال ہے کہ اِس کے علما نے معاصر ترقی کی بدولت نوپیدا مسائل کا حل پیش کرنے کے لیے اپنے اسلاف کے اجتہادات سے استفادہ کر تے ہوئے اجتہادکے میدان میں اجتماعی اجتہاد کی روش کو اپنایا اور امت مسلمہ کی رہنمائی میں اپنا کرداراداکیا اور کر رہے ہیں۔

اجتماعی اجتہاد کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ فی زمانہ علم کی دنیا میں فرد کی سطح پر کوئی ایسا فقیہ نہ رہا جسے شرائط ِاجتہاد کا جامع کہا جاسکتا اور جس سے اجتہادکا مطالبہ کیا جاتا۔ مجتہد تو دور کی بات فی زمانہ کوئی بھی فقیہ اصحاب ِتمییز کے منصب پر بھی نہیں کہ جس سے اُمت کی رہنمائی ممکن ہوتی۔لیکن نو پیدا مسائل میں امت کی رہنمائی بھی فقہائے وقت کا فرض منصبی تھا کہ وہ ان مسائل کی نوعیت کو سمجھیں اور کتب فقہ میں منصوص مسائل کی روشنی میں ان کے احکام دریافت کریں۔اسی ضرورت کے پیش ِنظر قومی اور بین الاقوامی سطح پر فقہی تحقیقاتی اداروں کا قیام عمل میں آیا تاکہ امت مسلمہ کے اجتماعی نوعیت کے نَوپیدا مسائل اجتماعی اجتہاد کے ذریعے حل کیے جائیں۔اس سے فقہ اسلامی کا ایک نیا انداز سامنے آیا کیونکہ ان اداروں نے مسائل کے حل کوپوری امت کے لیے قابل ِعمل بنانے کی کوشش کی ہے ، جس سے ایک نئی فقہ کا وجود عمل میں آیا جسے فقہ العولمی کہا جاتا ہے۔

U.S. FDA approves first rapid corona virus test with 45 minutes detection time

(Reuters) – The U.S. Food and Drug Administration has approved the first rapid corona-virus diagnostic test, with a detection time of about 45 minutes, as the United States struggles to meet the demand for coronavirus testing.

Read-More …

WHAT IS HANTAVIRUS? MAN IN CHINA TESTS POSITIVE AFTER DYING OF INFECTION SPREAD BY RODENTS

BY 

man in China has reportedly died after catching hantavirus. The man, from Yunnan Province, southwest China, died on Monday while traveling to Shandong Province in the east, the state-run Global Times newspaper reported.

It appeared the man was screened for the bug after he died. A further 32 people on the bus he was onboard were tested for the virus, which is rarely passed from human to human. The results of the tests were unclear. The individual was not named in the report, and his cause of death was not stated.

Read-More . . .

1 Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Post comment