قرآن مجید اور اقبال کا تصور خودی

محمد ابوبکر صدیق

…………………………………….

زندگانی ہے صدف قطرہ نیساں ہے خودی 

وہ صدف کیا کہ جو قطرے کو گہر کر نہ سکے


ہو اگر خودنگر و خود گر و خود گیر خودی

یہ ممکن ہے کہ تو موت سے بھی مر نہ سکے

 

خودی کیا ہے؟ خود پسندی، انا پرستی، خودپرستی کیا انہیں خودی کہتے ہیں؟ نہیں ایسا نہیں ہے ۔ کیونکہ خود پسندی، انا پرستی، خودپرستی انسان کو غرور اور تکبر میں مبتلا کرتی ہے ۔ جبکہ خودی انسان کو رب سے روشناس کرواتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اچھی فطرت پر پیدا کیا یہ فطرت سراپا خیر ہے۔آدمی اس فطرت کو پہچانے ، اس کی قدر کرے اور اسے بڑھانے اور ترقی دینے کی کوشش کرے ۔لیکن اگر آدمی خود غرض اور بڑھتی ہوئی خواہشات کے دھارے میں بہہ نکلے تو یہ انسان میں غرور اور تکبر پیدا کردیتی ہے ، جس سے خودی کا دم گھٹنے لگتا ہے ۔ فطرت مسخ ہونے لگتی ہے اور زندگی شیطان کے پھیلائے ہوئے وسوسوں سے بھر جاتی ہے۔خودی کی بہترین عملی تعریف تو سیدنا حضرت علی المرتضی ؓ نے واضح کی۔ جب جنگ کے دوران ایک کافر نے آپ کے چہرہ انور کی جانب تھوکا تو آپ نے اُسے چھوڑ دیا۔ کافر محو حیرت ہوا، بول پڑا کہ ’ میرے پاس اپنی نفرت کے اظہار کا کوئی اور راستہ نہیں تھا تو میں نے تھوک دیا۔ آپ ؓ کو تو اور بھی زیادہ غصہ آنا چاھئے تھا ۔ لیکن آپ ؓ نے مجھے چھوڑ دیا۔ کیوں؟ ‘ اس پر حضرت علی المرتضی ؓ نے ارشاد فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ کسی ذاتی مقصد کے پیش نظر نبرد آزما نہیں تھا۔ بلکہ اللہ کی رضا کے لئے حق کے غلبے کے لئے لڑ رہا تھا۔ لیکن تم نے جس وقت میرے چہرے کی جانب تھوکا تو مجھے غصہ آگیا اور اس میں میری ذات کا مقصد شامل ہوگیا۔ مجھے ڈر لگ گیا کہ اگر آج تمہیں قتل کردیتا ہوں تو قیامت کے دن میرا رب یہ نہ فرما دے کہ ’ علی ؓ تم نے اسے اپنے غصے کی وجہ سے قتل کیا تھا۔ ‘ یہ ہے تصور خودی ۔ یعنی خودی کا منبع و مرکز انسان کی ذات میں چھپی ہوئی غیرت ہے ۔ اگر اس غیرت کا سبب اپنی ذات ہے تو یہ خود پسندی اور انا پرستی ہے۔ اگر اس کا سبب اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا ہو تو یہ خودی ہے۔

قرآن مجید اور صاحب قرآن حضور نبی رحمت ﷺ کے انداز تربیت پر بڑی گہری نظر رکھتے ہوئے حضرت اقبال ؒ نے کہا کہ فلاح کے آسمانی تصور کے حصول کے لئے لازمی ہے کہ بندے کی خودی تین کمالات سے متصف ہو یعنی وہ خودنگر، خود گر ا ور خود گیر ہو ۔جب تک خودی ان کمالات سے متصف نہیں ہوگی بندہ راہ کی گرد میں گم ہوجائے گا لیکن مقصود ِحیات کبھی نہیں پاسکے گا۔ ایک نبی، رسول علیہ السلام کا بنیادی کام ہی یہی ہوتا ہے کہ وہ پہلےاپنے امتی کی عقل و نگاہ پر پڑے پردوں کو ہٹا کر اُس کی حقیقت اُس کے سامنے آشکار کرتا ہے۔

قرآن مجید نے بڑے جامع انداز میں بیان کیا کہ سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی امت کی تربیت کن مراحل میں کی ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خود نگری کے مقام پر لوگوں پر کیسے واضح کیا کہ وہ کون ہیں ؟ ان کا رب کون ہے ؟ قرآن مجید سورہ الانعام میں بہت ہی خوبصورت انداز میں بیان کرتا ہے :۔

فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ اللَّيْلُ رَأَى كَوْكَبًا قَالَ هَذَا رَبِّي فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَا أُحِبُّ الْآفِلِينَ

پھر جب ان پر رات نے اندھیرا کر دیا تو انہوں نے (ایک) ستارہ دیکھا (تو) کہا: (کیا تمہارے خیال میں) یہ میرا رب ہے؟ پھر جب وہ ڈوب گیا تو (اپنی قوم کو سنا کر) کہنے لگے: میں ڈوب جانے والوں کو پسند نہیں کرتا) ۔اسی طرح آگے فرمایا:۔

فَلَمَّا رَأَى الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هَذَا رَبِّي فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَا أُحِبُّ الْآفِلِينَ

( پھر جب چاند کو چمکتے دیکھا (تو) کہا: (کیا تمہارے خیال میں) یہ میرا رب ہے؟ پھرجب وہ (بھی) غائب ہوگیا تو (اپنی قوم کو سنا کر) کہنے لگے: اگر میرا رب مجھے ہدایت نہ فرماتا تو میں بھی ضرور (تمہاری طرح) گمراہوں کی قوم میں سے ہو جاتا)۔

بات یہیں نہیں رکی ۔ قرآن مجید نے مزید بیان کرتے ہوئے کہا:۔

لَمَّا رَأَى الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هَذَا رَبِّي هَذَا أَكْبَرُ فَلَمَّا أَفَلَتْ قَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ

(پھر جب سورج کو چمکتے دیکھا (تو) کہا: (کیا اب تمہارے خیال میں) یہ میرا رب ہے (کیونکہ) یہ سب سے بڑا ہے؟ پھر جب وہ (بھی) چھپ گیا تو بول اٹھے: اے لوگو! میں ان (سب چیزوں) سے بیزار ہوں جنہیں تم (اللہ کا) شریک

گردانتے ہو)۔

پہلے رات کی تاریکی میں چمکتے تارے اور دمکتے ہوئے چاند کو دیکھ کر خود ہی کہنا ’کیا یہ میرا رب ‘ اور جب وہ ڈوب جائیں تو لَا أُحِبُّ الْآفِلِينَ فرما کر ڈوب جانے والوں سے اظہار ناپسندیدگی کرتے ہوئے اُن کی ربوبیت کا انکار کرنا ۔پھر آخر میں سورج کو دیکھنا اور اس کی بڑائی اور چندھیا دینے والی روشنی کے رعب کو لوگوں میں ذہنوں میں بٹھانا کہ اس سے بڑھ کر تو اور کسی طاقتور وقت کا تصور بھی انسانی ذہن میں نہیں آسکتا لہذا کیا یہ رب ہوسکتا ہے ؟ پھر جب وہ بھی ڈوب جائے تو ان کی ربوبیت کا انکار کرنا یعنی ایک ایک کر کے بلند و بالا اور اوج ثریا کی پنہائیوں میں چمکنے دمکنے والی مخلوق کے رب ہونے کے امکان کو لوگوں کے سامنے انہی کی عقلوں کے ذریعے رد کروایا ۔ تو یہی وہ وقت تھا کہ ’لوہا گرم ہے اب ہتھوڑا ماراجائے‘۔ چنانچہقَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ(ابراہیم بول اٹھے: اے لوگو! میں ان (سب چیزوں) سے بیزار ہوں جنہیں تم (اللہ کا) شریک گردانتے ہو)۔ پھر ان کے سامنے یہ واضح کرنا کہ تم انہیں رب مانو تو مانو میں اپنے عظیم رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرونگا۔ یہی الفاظ اس پر واضح دلیل ہیں کہ رب کی توحید پر حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا ایمان پہلے سے تھا۔ اگر ایسا ہے تو پھرقَالَ هَذَا رَبِّيیہ سب کیا تھا ؟

یہ سب کچھ تو لوگوں کو خود نگری کے کمال سے متصف کرنے کا ایک انداز تھا جو نہایت مؤثر تھا۔ کسی جملے کے سوالیہ ہونے کے لئے لازمی نہیں کہ اس میں حروف استفہام کا استعمال ہو۔ بلکہ کبھی کبھی سادہ جملے’ سوالیہ انداز تخاطب ‘ کی بدولت سوال بن جاتے ہیں۔ ’یہ میرا رب ہے‘ کو سوالیہ انداز میں بولا جائے تو یہ سوال بن جاتا ہے۔ اس لئے یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ معاذ اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام خود رب کو پہچاننے کے مراحل میں تھے اور یہ آیات اس کا بیان ہیں۔ ایسا بالکل بھی نہیں ۔ اور یہ امکان قَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ سے رد ہوجاتا ہے۔ شرک کا تصور کا مطلب ہے کہ حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا ایمان توحید باری تعالی پر پہلے سے تھا۔ ورنہ جو ابھی ذات یکتا کو پہچان ہی نہ پایا ہو اُسے کیا خبر کہ شرک کیا ہوتا ہے۔

یہ درحقیقت اُن لوگوں کے ذہنوں میں، اُن کی سوچوں میں ایک زلزلہ بپا کرنا تھا جو کبھی ستاروں کو تو کبھی چاند کو اپنا خدا سمجھتے تھے اور کبھی اپنے ہاتھوں سے بنائے بتوں کے سامنے اپنی جبین نیاز کو جھکاتے تھے۔ ان کی عقل پر پڑے پردوں کو ہٹانے کے لیے یہ انداز اپنانا ضروری تھا ۔ تاکہ اُن کی عقل خود یہ سوال کر دے کہ جو خود ڈوب جائے وہ خدا کیسے ہو سکتا ہے ۔یہ زلزلہ بپا کرنے کی دیر تھی کہ غلط عقائد کی بنیادوں پر تعمیر شدہ ان کی ساری عمارتیں منہدم ہو کر ریت کا ڈھیر ثابت ہوئیں۔ لیکن حکمت کا تقاضا یہ بھی  تھا کہ اگر اُن سے غلط خداؤں کا تصور چھینا جا رہا ہے تو پھر حقیقی خدا کا تصور بھی پیش کیا جائے۔ اسی لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فوراً فرمایا :إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ(بیشک میں نے اپنا رُخ (ہر سمت سے ہٹا کر) یکسوئی سے اس (ذات) کی طرف پھیر لیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو بے مثال پیدا فرمایا ہے اور (جان لو کہ) میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں)۔

یہ وہ کمال کابراہیمی انداز  تھا کہ خوش بخت روحیں اپنے خالق حقیقی سے روشناس ہوگئیں اور رب ابراہیم پر ایمان لے آئیں۔ لیکن جو ابھی بھی حق کے انکاری ، کج بحثی کے عادی تھے نہ مانے۔ اُن سے بحث بھی ہوئی اور انہیں دلائل بھی دئے لیکن انہوں نے پھر بھی یہ کہا کہ ہم اپنے آباؤ اجداد کے دین سے کیسے پھر جائیں۔ تب حق کی پہچان کے لئے ایک اور کمال انداز اپنایا اور انہیں چیلنج کرتے ہوئے کہا جس کا بیان قرآن مجید نے یوں کیا :۔

 

وَتَاللَّهِ لَأَكِيدَنَّ أَصْنَامَكُم بَعْدَ أَن تُوَلُّوا مُدْبِرِينَ (75)فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا إِلَّا كَبِيرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ (58) قَالُوا مَن فَعَلَ هَٰذَا بِآلِهَتِنَا إِنَّهُ لَمِنَ الظَّالِمِينَ (59) قَالُوا سَمِعْنَا فَتًى يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ (60) قَالُوا فَأْتُوا بِهِ عَلَىٰ أَعْيُنِ النَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَشْهَدُونَ (61) قَالُوا أَأَنتَ فَعَلْتَ هَٰذَا بِآلِهَتِنَا يَا إِبْرَاهِيمُ (62) قَالَ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَٰذَا فَاسْأَلُوهُمْ إِن كَانُوا يَنطِقُونَ (63)

(اور اللہ کی قسم! میں تمہارے بتوں کے ساتھ ضرور ایک تدبیر عمل میں لاؤں گا اس کے بعد کہ جب تم پیٹھ پھیر کر پلٹ جاؤ گے۔پھر ابراہیم (علیہ السلام) نے ان (بتوں) کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا سوائے بڑے (بُت) کے تاکہ وہ لوگ اس کی طرف رجوع کریں۔. وہ کہنے لگے: ہمارے معبودوں کا یہ حال کس نے کیا ہے؟ بیشک وہ ضرور ظالموں میں سے ہے۔(کچھ) لوگ بولے: ہم نے ایک نوجوان کا سنا ہے جو ان کا ذکر (انکار و تنقید سے) کرتا ہے اسے ابراہیم کہا جاتا ہے۔وہ بولے: اسے لوگوں کے سامنے لے آؤ تاکہ وہ (اسے) دیکھ لیں۔(جب ابراہیم علیہ السلام آئے تو) وہ کہنے لگے: کیا تم نے ہی ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ حال کیا ہے اے ابراہیم۔آپ نے فرمایا: بلکہ یہ (کام) ان کے اس بڑے (بت) نے کیا ہوگا تو ان (بتوں) سے ہی پوچھو اگر وہ بول سکتے ہیں۔

بتوں کی ناک کاٹ کر اور ان کے بازو توڑ کر پھر ایک بڑے بت کی طرف اشارہ کردینا کہ یہ کام اس نے کیا ہوگا ؟ اس سے پوچھو اگر یہ بول سکتا ہے ؟ واقعی یہ ایک کمال کا انداز تھا کہ ایک ایسا کام کیا جائے جس سے وہ بھڑک اٹھیں اور جذبات میں آ جائیں اور اسی دوران اُن کے سامنے ایسے سوال رکھ دئے جائیں کہ جس کے سامنے وہ خود لاجواب ہوجائیں اور اُن کی عقل خود ہی ان کی لوح ِدل پر یہ لکھ دے جو خود بول نہیں سکتے ، خود کی حفاظت نہیں کرسکتے تمہاری حفاظت کے کیا خاک ضامن ہوں گے۔ ساتھ ہی ساتھ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے یہ الفاظ خوش بخت اروح کے لئے حق کے پیغام کو قبول کرنے لئے بہت اہم ثابت ہوئے۔ چنانچہ جب انہوں نے کہا کہ اے ابراہیم یہ بت بھلا کیسے بول سکتے ہیں کہ جواب دیں ۔ تب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا:۔

قَالَ أَفَتَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنفَعُكُمْ شَيْئًا وَلَا يَضُرُّكُمْ (66) أُفٍّ لَّكُمْ وَلِمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ ۖ أَفَلَا تَعْقِلُونَ

ابراہیم علیہ السلام نے) فرمایا: پھر کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان (مورتیوں) کو پوجتے ہو جو نہ تمہیں کچھ نفع دے سکتی ہیں اور نہ تمہیں نقصان پہنچا سکتی ہیں۔تف ہے تم پر (بھی) اور ان (بتوں) پر (بھی) جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو، تو کیا تم عقل نہیں رکھتے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس جواب نے کئی لوگوں کی عقلوں پر پڑے پردے وا کر دئے اور انہیں راہ حق سے روشناس کرا دیا ۔ تاہم اکثریت نے اپنی شقاوت قلبی کی بدولت حق کو نہ پہچانا اور الٹا حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مشق ستم بنایا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان پر بدعا نہیں کی اور نہ ہی  ان پر عذاب کے لیے ہاتھ  اٹھائے ۔ بلکہ صبر وتحمل سے کام لیا ۔ یہاں حضرت ابرہیم علیہ السلام کی ذات بابرکات سے خود گری کے مرحلے کا بیان ہے ۔ کہ مصائب و آلام میں صبر و تحمل ہی وہ وہ بنیادی او صاف ہیں جن سے بندے کی خودی کی تعمیر یعنی تعمیر ِذات ہوتی ہے۔کفار بولے کہ انہیں آگ میں جلا دو ،جس کا بیان قرآن مجید نے یوں کیا:۔

قَالُوا حَرِّقُوهُ وَانصُرُوا آلِهَتَكُمْ إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ

وہ بولے: اس کو جلا دو اور اپنے (تباہ حال) معبودوں کی مدد کرو اگر تم (کچھ) کرنے والے ہو)۔

کفار آگ جلا چکے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آ گ کی جانب پھینک بھی چکے ۔ یہاں پھر قدرت خداوندی نے آگے بڑھ کر دکھایا کہ صاحب ِ خودی کی حفاظت وہ کیسے کرتا ہے ! وہ کیسے خود گیری کے مقام پر انہیں سرفراز کرتا ہے۔ ابھی وہ فضا میں ہی تھے کہ حکم الہی آیا:۔

قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ (69) وَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْنَاهُمُ الْأَخْسَرِينَ (70)

ہم نے فرمایا: اے آگ! تو ابراہیم پر ٹھنڈی اور سراپا سلامتی ہو جا۔اور انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ بری چال کا ارادہ کیا تھا مگر ہم نے انہیں بری طرح ناکام کر دیا۔

رب کریم نے اپنے خلیل علیہ السلام کا ساتھ دیا کیونکہ اللہ صبر کرنے والوں کا ساتھ دیتا ہے ۔یہی وہ صبر تھا جس کا پھل آگ کے گل وگلزار ہونے کی صورت میں مل گیا۔ بس آگ کا گل وگلزار ہونا تھا کہ کچھ لوگوں کی عقل پر پڑے پردے ہٹ گئے۔انہوں نے خود کو پہچان لیا کہ وہ کون ہیں !اور ان کا حقیقی رب کون ہے ۔ اور اہل شقاوت انگشت بدنداں تھے کہ وہ کیا توقع کر رہے تھے اورکیا ہوگیا! یہ آگ گلزار کیسے ہوگئی ؟ اسی کی جانب حضرت اقبالؒ اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں ۔


بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق

عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی

 

جب بندہ یہ تین مرحلے طے کر لیتا ہے تو پھر بندہ مولا صفات بن جاتا ہے ۔ جس کی جانب اقبال اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں ۔

خاکی و نوری نہاد، بندہِ مولا صفات
ہر دوجہاں سے غنی اس کا دلِ بے نیاز


نرم دمِ گفتگو، گرم دمِ جستجو
رزم ہو یا بزم ہو پاک دل و پاکباز


عقل کی منزل ہے وہ عشق کا حاصل ہے وہ
حلقہِ آفاق میں، گرمیِ محفل ہے وہ


عالم ہے فقط مومن جانباز کی میراث
مومن نہیں جو صاحب ادراک نہیں ہے

 

یہی وہ مقام ہے جس پر پہنچ کر بندہ وہ عظمتیں حاصل کر لیتا ہے جس کا بیان حدیث قدسی میں یوں ہوتا ہے:۔

 ( جس نے میرے ولی کو تکلیف دی میرا اس کے خلاف اعلان جنگ ہے اور میرا بندہ کسی چیز کے ساتھ میرا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو مجھے وہ اس سے بھی زیادہ پسند ہے جو میں نے اس پر فرض کیا ، میرا بندہ جب نوافل کے ساتھ میرا قرب حاصل کرتا ہے تم میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور جب میں اس سے محبت کرنے لگوں تو اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا اور میں اس کا آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اس کا قدم بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے اور جب وہ مجھ سے مانگتا ہے تو میں اسے دیتا ہوں اور جب بخشش طلب کرتا ہے تو میں اسے بخش دیتا ہوں اور جب میری پناہ میں آنا چاہتا ہے تو میں اسے پناہ دیتا ہوں )۔

ہاتھ ہے اللہ کا بندہِ مومن کا ہاتھ
غالب و کار آفریں، کارِ کشا و کارساز


اس مقام ِ علو کے انعام کی جانب حضرت اقبال اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں :۔


خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

 

بندہ جب یہ سارے مراحل طے کر تے ہوئے اپنی خودی کو ان کمالات سے متصف کرلیتا ہے تو وہ اس مقام پر پہنچتا ہے کہ اس کے لئے موت حیات ِ جاوداں کا حسین پیغام بن جاتی ہے۔ جس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے حضرت اقبال کہتے ہیں:۔


ہو اگر خودنگر و خود گر و خود گیر خودی 

یہ بھی ممکن ہے کہ تو موت سے بھی مر نہ سکے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں اور سبسکرائب کریں ۔

اسلامی معلومات ، روایتی معاشیات ، اسلامی معاشیات اور اسلامی بینکاری سے متعلق یو ٹیوب چینل
https://www.youtube.com/user/wasifkhansb?sub_confirmation=1

فضائل کے بیان میں اہل سنت کے اسلاف کا شعار

محمد ابوبکر صدیق

19 -11- 2020

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خطیب ہو یا نعت خوان فی زمانہ زبانیں غیر محتاط ہوچکی ہیں۔ ایسی کہ الامان و الحفیظ۔ ایک بار کہیں پڑھا تھا کہ ’’ معراج شریف کی کسی محفل میں کسی خطیب نے خطاب میں کہا کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کے اللہ تعالی کی بارگاہ میں تشریف لے گئے‘‘۔ تو وہاں اعلی حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلی علیہ الرحمہ بھی موجود تھے تو آپ سے رہا نہ گیا اور فورا ٹوکتے ہوئے  فرمایا ’’ خطیب صاحب رب کی بارگاہ میں اس کا بندہ حاضر ہوا کرتا ہے۔‘‘ یعنی فضائل کے تذکروں میں الفاظ کے چناو میں مراتب کا لحاظ لازمی ہوتا ہے۔

 

خالق کائنات کی ایسی تعریف کرنا  کہ ’’ جس سے اس کے انبیاء کی شان میں تنقیص ہوتی ہو ‘‘ نامناسب ہے۔ جیسے یہ کہنا ’’ اللہ کو کسی نبی یا و لی کی ضرورت نہیں۔‘‘ نامناسب ہے۔ کیا اللہ تعالی نے کہیں پر بھی  اپنی تعریف ایسے الفاظ میں بیان کی ؟؟؟ اگرچہ وہ غنی ہے ، کسی کا محتاج نہیں  ہے۔ لیکن اس کی غنی کو ایسے انداز میں بیان کرنا کہ جس سےرب کے پیارے انبیاء و اولیاء کی شان میں تنقیص آتی ہو نامناسب ہے۔ اس کی غنی کا بیان کئی اور مناسب طریقوں سے بھی کیا جاسکتا ہے۔

 

اسی طرح خالق کا مخلوق سے تقابل کرنا یا اس کا شائبہ تک ذہن میں لانا حرام و ناجائز ہے۔ قطرے کا سمندر سے موازنہ و تقابل کیا جاسکتا ہے کیونکہ قطرے کو سمندر سے کوئی نہ کوئی نسبت ضرور ہے کہ وہ اس کا حصہ ہے۔ لیکن اہل سنت تو خالق کی جانب مخلوق کی یہ نسبت بھی نہیں مانتے کیونکہ مخلوق کا کوئی فرد بھی خالق کا جز نہیں ہے وہ لم یلد ولم یولد ہے۔ وہ ایسے تمام تصورات سے سبحان ہے۔

 

اگر کوئی شخص حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل بیان کررہا ہو تو اس فضیلت کا مطلب صرف اور صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ تمام فضیلتیں دیگر تمام مخلوقات کے مقابلے میں ہیں۔ اگر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل بیان ہورہے ہوں اور کسی شخص کو یہ شائبہ لاحق ہو کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا سے ملانے کا شبہ ہے۔ تو ایسے شخص کو اپنے ذہن اور نفاق سے بھرے دل کا علاج کروانا چاھئے۔ کیونکہ جب اللہ و رسول کے تقابل کا شائبہ تک گناہ ہے تو اس کا ذہن تقابل کی جانب گیا ہی کیوں!

 

اسی طرح حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی تعریف کرنا کہ جس سے دیگر انبیائے کرام کی تنقیص ہوتی ہو تو ایسی تعریف قلب مصطفی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دینے کے مترادف ہے۔ یہی اصول اولیائے امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اولیاء کے فضائل پر بھی ہے۔ اسی طرح آج کسی مسلمان کا یہ کہنا کہ ’’ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حضرت عبد القادر جیلانیؒ کی کیا اوقات ہے ‘‘ انتہائی نامناسب اور نازیبا حرکت ہے۔ کیونکہ یہ تقابل ایسا قول کرنے والا کے قلب و ذہن کے فساد کی پیداوار  ہے، ورنہ کوئی امتی بھی ایسا تقابل نہیں کرتا۔

یہ ’’ اوقات‘‘ کا لفظ ایک منفی تاثر کا لفظ ہے جو اونچی شانوں والے اسلاف کی شان کے خلاف ہے۔ تقابل کا یہ فساد و فتور تو تمہارے اپنے دماغ کا پیدا کردہ ہے اور اس کا سارا الزام تم اسلاف پر دھر دیتے ہو۔ تم سے بڑھ کر بھی کوئی بے وقوف ہوگا بھلا! ایسے الفاظ تم اونچی شان والوں کے لئے استعمال کرو یہ کہاں کی دانش مندی ہے۔ اہل سنت میں حفظ مراتب کا خاص خیال رکھا جاتا ہے اور یہ اہل سنت کا شعار ہے۔ الفاظ کا چناو حد درجہ محتاط ہونا چاھئے۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں اور سبسکرائب کریں ۔

اسلامی معلومات ، روایتی معاشیات ، اسلامی معاشیات اور اسلامی بینکاری سے متعلق یو ٹیوب چینل
https://www.youtube.com/user/wasifkhansb?sub_confirmation=1

شہرت کی ہوس اور شعبدہ باز -نئی بات

محمد ابوبکر صدیق

17 -09- 2020

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لوگ کہتے ہیں فلاں بندہ ایسی نئی بات کرتا ہے جو پہلے کسی مولوی نے نہیں بتائی۔ یہ مولوی جھوٹے ہیں سچا تو وہ بندہ ہے۔  جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ’’دین میں نئی بات لانا ہی جھوٹ کی واضح علامت ہے‘‘۔ دین کے امور کے اپنی دکان چمکانے والا دریوزہ گر نئی بات کیوں کرتا ہے ؟ اس  کے پیچھے ایک وجہ ہے اور وہ ہے شہرت کی ہوس۔ اگر وہ بندہ بھی کہے روزہ مغرب کے وقت افطار کرو تو اسے کون سنے گا۔ کیونکہ یہ بات ہر مولوی کرتا ہے۔ اس میں کچھ نیا نہیں۔ اور یہ زمانہ تو ویسے بھی کچھ نیا کر گزرنے کی جستجو کا ہے بھلے وہ دین کے ساتھ کھلواڑ ہی کیوں نہ ہو۔

عقل مند مسلمان یہ سوچتا ہے کہ لاکھوں علما نے اگر یہ بات نہیں کی آخر اس کی کوئی تو وجہ ہوگی۔ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ لاکھوں کے لاکھوں اور سارے زمانے کے علما ہی جھوٹے ہوں اور اس زمانے کا لفنگا اٹھے اور اوٹ پٹانگ دعوے کر ے اور گاما سچیار قرار پائے۔

اسی طرح اگر گزشتہ کسی زمانے میں کسی امام نے کوئی رائے دی ہو جسے امت کے جمہور علما نے قبول نہ کیا ہو اور وہ قول شاذ قرار پایا ہو۔ اور لوگ اسے بھول چکے ہوں اور صدیوں بعد کسی زمانے میں کوئی بندہ اٹھ کر وہی شاذ قول پکڑ کر امت کے جمہور کے خلاف اٹھ کھڑا ہو تو وہاں بھی نئی بات والا ایلیمنٹ ہوتا ہے۔ عقل مند وہاں بھی سوچتا ہے کہ اگر یہ قول مناسب ہوتا تو مجھ سے زیادہ علم و عمل رکھنے والے علما اسے یوں نہ رد کرتے۔ آخر کوئی ایسی وجہ ہوگی کہ علمائے امت نے اسے دھتکار دیا جو آج میرے علم میں نہیں۔

حضرت عیسی علیہ السلام آئیں گے ۔۔۔۔۔ کوئی نئی بات نہیں نیا یہ ہے کہ وہ نہیں آئیں گے۔ انکار کر دیں۔

امام مہدی تشریف لائیں گے ۔۔۔۔ کوئی نئی بات نہیں نیا یہ ہے کہ وہ نہیں آئیں گے ۔

نامحرم مرد و عورت کا ایک ساتھ گھومنا پھرنا مصافحہ کرنا، بوس و کنار کرنا حرام ہے ۔۔۔۔مولوی روز کہتے ہیں ۔۔۔۔ کچھ نیا نہیں نئی اور بریکنگ نیوز یہ ہے کہ کلچر کے نام پر یہ سب جائز ہے۔

نمازیں اور اس کی رکعتیں ۔۔۔۔۔ کوئی نئی بات نہیں۔۔روز سنتے نئی بات یہ ہے کہ نمازیں تو صرف فرض رکعت ہیں باقی سنتیں، وتر، نفل فضول ہیں۔

اس طرح کئی امور ہیں جن میں شعبدہ بازوں نے جمہور امت کے خلاف نئے موقف اختیار کئے تاکہ لوگوں کو کچھ نیا ملے اور انہیں شہرت ملے۔ اور دیکھ لیں آپ کا معاشرہ سب سے زیادہ انہی کو دیکھتا ہے۔

ایک جگہ مجمع لگا ہو جس کی ایک جانب  کوئی  عالم دین کھڑا ہوکر کہے ’’ کتا حرام ہے‘‘، اسی مجمع میں دوسری جانب اگر کوئی آواز دے کہ  ’’ نہیں ۔ کتا حلال ہے‘‘ اور وہ کوئی عالم بھی نہ ہو لیکن رعب ڈالنے کے لئے 10 کتابیں ہاتھ میں اٹھا رکھی ہوں۔۔ تو مجمع حلال والے کے ہی دلائل سنے گا اور اسی کی طرف منہ کرے گا۔ حرام کی رٹ لگانے والے کو بھلا کس نے سننا ہے کہ اس کے پاس کچھ نیا نہیں۔ میں نوجوانوں سے پوچھتا ہوں کہ یہ بات چلی آرہی ہے کہ بلندی سے بغیر پیراشوٹ وغیرہ چھلانگ لگائیں تو بندہ مر جاتا ہے۔ لیکن ایک بندہ آکر کہتا ہے پہلے کے لوگ جاہل تھے۔ وہ دلیل دیتا ہے کہ بلندی سے چیونٹی گرا دیں تو وہ نہیں مرتی۔ تو کیا آپ چھلانگ لگا دیں گے کہ نئی بات ہے اسے قبول کر کے دیکھتے ہیں۔ تو پیارے آپ اگر اس گڑھے میں گر بھی گئے تو بھی اتنا نقصان نہیں کہ جتنا کسی شعبدہ باز کے دھوکے میں آکر دین و ایمان کے حقائق کو چھوڑ کر گمراہی کے گڑھے میں چھلانگ لگانے کا نقصان ہے۔ دین میں اٹھنے والے ان نئے فتنوں سے اپنے ایمان محفوظ رکھئے۔ ایک فتنہ ایسا ہے جو شستہ لہجہ، آلو ورگا داڑھی منڈا چہرہ ہے اور اتمام حجت کا بے اصلا اصول رکھتا ہے۔ دوسرا پگڑی باندھے منہ زور، بدزبان اور بدتمیز لہجہ رکھتا ہے۔  

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں اور سبسکرائب کریں ۔

اسلامی معلومات ، روایتی معاشیات ، اسلامی معاشیات اور اسلامی بینکاری سے متعلق یو ٹیوب چینل
https://www.youtube.com/user/wasifkhansb?sub_confirmation=1

 آپ خود کس جانب کھڑے ہیں؟ 

محمد ابوبکر صدیق

19 -06- 2020

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 اسلام اور مغرب ‘‘ کے مابین تقابل کی گفتگو میں خاص کر جب بات مغربی استعمار کی چل رہی ہو کہ امریکہ، اسرائیل ، برطانیہ اور دیگر اتحادی مسلم ممالک پر چڑھ دوڑے ہیں ظلم کر رہے ہیں تو عموما دیکھا گیا ہے کہ خود کو مفکر و مدبر قرار دینے والے لبرلز سیکولر اور کچھ بھولے کم مطالعہ والے نوجوانوں کا رویہ یہ ہوتا ہے کہ فورا بول پڑتے ہیں ’’جی اہل مغرب بھی تو یہی کہتے ہیں جب تم مسلمان طاقت ور تھے تو تم بھی تو یہی کرتے تھے، کبھی کس ملک پر چڑھ دوڑے تو کبھی کس ملک پر، افغانستان سے کبھی غزنوی نے حملے کئے تو کبھی خلجی نے تخت و تاراج کیا تو کبھی احمد شاہ ابدالی نے دہلی کی اینٹ سے اینٹ بجائی۔ لہذا امریکہ کے پاس بھی جواز ہے کی وہ جہاں چاہے حملہ کرے، انڈیا کے پاس جواز ہے کہ وہ کشمیر پر قابض ہو، اسرائیل کے پاس حق محفوظ ہے کہ فلسطین پر قابض رہیں کیونکہ وہ طاقت میں ہیں جیسے ماضی میں تم مسلمان طاقت میں تھے‘‘ گویا وہ دیسی لبرلز خود کو ’’نیوٹرل‘‘ شمار کر رہے ہوتے ہیں اور اپنے مغربی آقاوں کے ظالمانہ اقدامات کی شیطانی وکالت میں دلیل دے رہے ہوتے ہیں۔  بظاہر تو یہ ایک قوی دلیل لگتی ہے۔ اور بعض اوقات کچھ جذباتی احباب کو اس الزامی جواب پر پس و پیش ہوتے بھی دیکھا۔

 حالانکہ دیکھا جائے تو یہ دلیل  مکڑی کے جالے سے بھی زیادہ کمزور ہے اور وہ ایسے کہ جواباً آپ ایسے احباب سے یہ  کہئے کہ بھائی ’’ پہلے آپ یہ فیصلہ کر لیں کہ آپ خود کس جانب ہیں؟ ‘‘ باقی بحث اس کے بعد کریں گے۔ آپ کے اس سوال کے بعد  اس کے پاس تین آپشن رہ جاتے ہیں کہ وہ ان میں سے کسی ایک کو اپنا جواب بنائے۔

۔1۔ وہ بھی مغرب کی جانب ہے یعنی اسلامی نظریے کے خلاف ہے۔ یاد رہے مغرب سے مراد جغرافیائی مغرب نہیں بلکہ یہود و نصاری کی تہذیبی و تمدنی فکر مراد ہے۔لیکن وہ کبھی بھی اس جواب کو اختیار نہیں کرے گا کیونکہ کوئی بھی مسلمان کم سے کم واضح طور پر خود کو اس حد تک نہیں گراتا کہ وہ اغیار کی فکر کا نمائندہ بن جائے۔ 

۔2۔ وہ اسلام کی جانب ہے۔اس صورت میں ہم  اُس سے کہیں گے کہ  بھائی جب تم اسلام کی جانب ہو تو پھر ہمیں اس سے کیا غرض کہ مغرب کیا کہتا یا سوچتا ہے۔ ہماری نظر میں مغرب کا اقدام ظلم ہے۔ جبکہ ہمارے اسلاف کے اقدام جہاد فی سبیل اللہ عدل و انصاف کے لئے تھا ۔ اس لئے ہمارے اسلاف ٹھیک تھے اور اس بارے میں ہمیں کوئی تردد نہیں ہے اور نہ تمہیں کوئی شک ہونا چاھیے کیونکہ تم بھی اسلام کی جانب ہو۔

۔3۔ جی ’’میں نہ اِدھر ہوں نہ اُدھر‘‘ میں تو غیر جانب دار جج ہوں ۔ تو اس صورت میں ہم اُس سے کہیں گے کہ بھائی تمہیں جج بنایا کس نے ہے ؟  نہ تو ہم تمہیں جج مانتے ہیں اور نہ ہی اہل مغرب۔ ایسی کنفیوزڈ کیفیت میں مبتلا شخص کو اسلامی نظریے میں منافق کہا جاتا ہے  جس کی حالت کے بارے میں قرآن مجید واضح طور پر کہتا ہے 

 مُّذَبْذَبِينَ بَيْنَ ذَٰلِكَ لَا إِلَىٰ هَٰؤُلَاءِ وَلَا إِلَىٰ هَٰؤُلَاءِ ۚ وَمَن يُضْلِلِ اللَّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُ سَبِيلًا (143) النساء

‘‘اس (کفر اور ایمان کے) معاملے میں متذبذب ہیں نہ پورے اِس طرف ہیں اور نہ پورے اُس طرف، اور جسے اللہ گمراہ کر دے اس کے لیے تو ہرگز کہیں راہ نہ پائے گا۔’’

منافقین کی ایسی حالت بیان کرنے کے بعد مومنین کو کہا گیا کہ وہ اپنے لئے واضح پوزیشن اختیار کریں۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے

يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تَتَّخِذُوا الْكَافِـرِيْنَ اَوْلِيَـآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۚ اَتُرِيْدُوْنَ اَنْ تَجْعَلُوْا لِلّـٰهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا مُّبِيْنًا (144)۔

‘‘اے ایمان والو! مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بناؤ، کیا تم اپنے اوپر اللہ کا صریح الزام لینا چاہتے ہو۔’’

اِنَّ الْمُنَافِقِيْنَ فِى الـدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِۚ وَلَنْ تَجِدَ لَـهُـمْ نَصِيْـرًا (145)۔

‘‘بے شک منافق دوزخ کے سب سے نچلے درجہ میں ہوں گے، اور تو ان کے لیے ہرگز کوئی مددگار نہ پائے گا۔’’

 

ہمارے اسلاف کے جہاد کی تاریخ کوئی پوشیدہ نہیں ہے۔ غیر مسلم قومیں دعائیں کرتی تھیں کہ ان کے ہم مذہب حکومتوں کے خلاف مسلمان فتح یاب ہوں کہ مسلمان عدل و انصاف دیتے ہیں ظلم نہیں کرتے۔ آپ ذرا تاریخ کے صفحات کھولنے کی زحمت تو کریں۔ضرت عمر ہی کے زمانے میں جب اسلامی فوجیں حمص (شام) سے ہٹ آئیں تو حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے وہاں کے یہودیوں اور عیسائیوں کو بلاکر کئی لاکھ رقم جزیہ کی یہ کہہ کر واپس کردی کہ اب تمہاری حفاظت نہیں کرسکتے، اس لیے جزیے کی رقم بھی نہیں رکھ سکتے۔ تو وہاں کی عیسائی و یہودی آبادی دعائیں کرتے تھے کہ خدا کرے عیسائی افواج کے خلاف تمہیں فتح نصیب ہو کہ تم عدل و انصاف کرتے ہو۔  ان حقائق کے تناظر میں آپ پہلے یہ فیصلہ کر لیں کہ آپ خود کس جانب کھڑے ہیں باقی بحث اس کے بعد کر لیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں اور سبسکرائب کریں ۔

اسلامی معلومات ، روایتی معاشیات ، اسلامی معاشیات اور اسلامی بینکاری سے متعلق یو ٹیوب چینل
https://www.youtube.com/user/wasifkhansb?sub_confirmation=1

  کورونا ویکسین اور دیسی لبرلز 

 

محمد ابوبکر صدیق

24 -11- 2020

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کورونا کی وجہ سے جب پوری دنیا لاک ڈاؤن کی وجہ سے بند تھی۔ تو دیسی لبرلز نے از راہ تمسخر کہنا شروع کردیا تھا کہ ’’طواف کعبہ کی بحالی اور مساجد میں نماز کی دوبارہ ابتداء اب  اُس ویکسین پر منحصر ہے جو یہودی تیار کریں گے‘‘۔ اس قول سے یہ بات واضح ہوجاتی ہےکہ دیسی لبرلز کس قدر مغربی فکر کے قیدی ہیں اور حقائق کو وہ صرف انہی کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ اسلام سے وہ صرف برائے نام جڑے ہوئے ہیں کہ وہ کسی مسلمان گھرانے میں پیدا ہو گئے۔ ورنہ ان کا سارا طرز حیات و معاشرت سب کا سب مغربی تہذیب کے الحادی رنگ میں رنگا ہوا ہے۔یہ جملہ سن کر ایسے لگتا ہے جیسےیہ بات کرنے والے یا تو خود کو یہودی سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ دیکھو ہم نے تو یہ تیر مار لیا۔یا پھر ایسا کہنے والے لوگ ’’شودے‘‘ ہوتےہیں۔

ان دیسی لبرلز کو شودا  کیوں کہا؟

اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسا جملہ یا نشتر ایک ایسے نوجوان کے ذہن سے نکلتا ہے جس نے اگرچہ اسلامی فضا و ماحول میں تو آنکھ کھولی ہو لیکن وہ اسلامی نصوص کا خاطر خواہ گہرا مطالعہ نہ کرسکنے کی بدولت ان کی تعبیرات کی روح سے آشنا نہ ہوسکا ہو۔ اس لئے میرے نزدیک وہ بے چارا قابل رحم ’’شودا‘‘ ہے۔ اس تیکھے جملے کا مقصد صرف اہل مذہب یا مولوی پر وار کرنا ہے۔ حالانکہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے بعد اسلامی نظام کے پس پشت چلے جانے کی بدولت اور آزادی کے بعد مغربی آقاوں کے نظام پر چلنے والے ملک میں ’’مولوی یا مدرسے‘‘ کا کبھی بھی ’’ سائنسی علوم اور ایجادات‘‘ کا سرے سے دعوی ہی نہیں رہا ۔ صاف ظاہر ہے وہ یہ دعوی کرتے بھی تو کیسے۔ اس کے لئے کافی وسائل درکار تھے۔ اربوں کھربوں کا فنڈ درکا تھا ۔ جبکہ مدارس تو صرف خیرات و صدقات پر ہی اپنا بجٹ پورا کرتے ہیں۔ طالب علم سے فیس تک نہیں لیتے ۔ رہائش اور خوراک کا انتظام بھی مدرسے کے ذمے ہوتا ہے۔ مینجمنٹ کی ڈگری نہ ہونے کے باوجود اتنے بڑے نظام کو وہ ویل مینیج کرتے ہیں۔ معاشرے کے نادارطبقے سے افراد لیتے ہیں اور کسی کو مفتی مفسر محدث اسکالر ، حافظ اور قاری بناتے ہیں وہ بھی بغیر فیس کے۔ یوں وہ نہ صرف معاشرے کے مفید افراد بنتے ہیں بلکہ افراد سازی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جب کہ دوسری طرف جدید علوم کی جامعات ہیں۔ ان کے لئے اربوں کھربوں کے فنڈ الگ سے ۔ طلبا کی رہائش کی فیسیں الگ۔ کھانے کے پیسے الگ وصول کئے جاتے ہیں ۔ فنانس کا پورا ڈیپارٹمنٹ بھاری بھرکم تنخواہیں لیتا ہے لیکن اس کے باوجود یونیورسٹیاں خسارے میں ۔ تحقیق کا حال تو یہ ہے کہ بس نہ پوچھیں ۔ انہی جامعات سے فارغ التحصیل ہوکر نوجوان گلے پھاڑ پھاڑ کر مولوی پر چینختا ہے کہ ترقی کیوں نہیں ہورہی۔ ایجادات کیوں نہیں ہورہی وغیرہ۔ ” چور بھی کہے چور چور” والی کہاوت تو سنی ہوگی۔ شاید وہ ایسا اس لئے کرتے ہیں کہ الٹا کوئی ان سے نہ پوچھ لے بھیا تم بتاو “قوم کا کروڑوں ڈکار کے تم نے کون سا بلب ایجاد کیا ہے”۔

ڈاکٹر محمد مشتاق صاحب نے بالکل بجا کہا ہے کہ ’’کورونا وائرس اہل مذہب کے لئے نہیں بلکہ الٹا لبرلز اور مذہب بیزار طبقے کے لئے چیلنج لایا ہے‘‘ وہ بتائیں کہ دنیا کی اتنی آبادی کیوں مری ۔ بلکہ میرا تو خیال ہے ان لبرلز کو الٹا لٹکا دیں کہ کرپٹ ہیں صرف قومی دولت لوٹی ہے اور بس ۔ جامعات میں تعلیم کے نام پر تعلیم سے زیادہ فحاشی اور الحادی فکر دی ہے۔ ہمارے معاشرے کے نوجوان کو فکری طور پر مفلس کردیا ہے۔ وہ اپنی اصل میراث سے زومبیز کی طرح کٹ چکا ہے۔ نہ تو وہ ہمارا ہے اور نہ ہی وہ اہل مغرب کے کسی کام کا۔ جامعات کا حال تو یہ ہے اردو وہ جانتے نہیں اور انگلش انہیں آتی نہیں۔ 

مولوی نے کمال کر دیا ہے کہ ان حالات میں وہ عوام الناس کو اللہ کی جانب آنے کی فکر دے رہے۔ لوگوں کو صبر و تحمل کا درس دے رہے ہیں ۔ وہ اگر یہ نہ کرتے تو کیا یاس و قنوط میں ڈوبے لوگ جس طرح پینک ہورہے تھے ان لال بجھکڑوں سے سنبھلنے تھے ۔ الٹا ینگ ڈاکٹرز احتجاج کر رہے ہیں کہ وہ علاج نہیں کریں گے۔ ہڑتال کی دھمکیاں دے رہے۔ یہ ہیں جناب آپ کی سائنسی جامعات سے پڑھ کر تیار ہونے والے اعلی ذہن جنہیں شاید بنیادی اخلاق کا بھی علم نہیں کہ نوکری کی آفر قبول کرنے کے بعد ان کے پاس یہ حق اخلاقی طور پر بھی نہیں ہے کہ وہ علاج سے انکار کریں۔ ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ مولوی / ملا پر بہتان نہ لگائیں ۔ اپنے گریبان میں جھانکیں کہ تم نے کیا کیا ہے۔

یہ تو اللہ کا کرم ہوا کہ کورونا ویکسین کی دریافت ایک مسلمان سائنس دان جوڑے نے کی جن کا تعلق ترکی سے ہے۔ ہمیں تو خوشی ہوئی تاہم یہ خبر دیسی لبرلز کے لئے کسی عذاب سے کم نہیں بے چارے منہ دکھانے کے بھی قابل نہیں رہے۔ ویسے انہیں اگر کورونا ہوجائے تو مر جانا چاھئے ویکسین نہیں خریدنی چاھئے۔ ہاں اگر یہ ویکسین یہود و نصاری دریافت کرتے تو ہم مسلمان خرید لیتے کیونکہ ہمارا مذہب ہمیں اس بات کی اجازت نہیں حکم  دیتا ہے۔ 

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں اور سبسکرائب کریں ۔

اسلامی معلومات ، روایتی معاشیات ، اسلامی معاشیات اور اسلامی بینکاری سے متعلق یو ٹیوب چینل
https://www.youtube.com/user/wasifkhansb?sub_confirmation=1

فتنوں اور شیطان کے دھوکے سے کیسے بچیں؟

محمد ابوبکر صدیق

07 -05- 2020

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فتنے یکے بعد دیگرے اتنی تیزی سے نکل رہے ہیں جیسے ٹوٹی تسبیح کے دانے یکے بعد دیگرے بکھرتے  ہیں۔اللہ اپنے حبیب کریم ﷺ کے طفیل ہمارے ایمان کا تحفظ فرمائے۔ ایمان کا تحفظ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت میں ہے۔ اور اس مقدس محبت کی علامت اطاعت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں۔ فی زمانہ فکری و نظریاتی فتنوں اور دھوکوں سے بچنے کے لئے درج ذیل نکات پر عمل کی جئے۔

۔1۔ سب سے پہلے اپنی طبیعت اور رویوں میں وہ عاجزی اور انکساری پیدا کی جئے جو بندہ مومن سے مطلوب ہے۔ خود کو ذاتی انا، تکبر اور ’’ میں ‘‘ کی قید سے آزاد کی جئے۔ اس کے لئے مجرب نسخہ لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین لاحول ولا قوةالا باللہ العلی العظیم کا ورد ہے۔
۔2۔ اگر آپ عالم دین نہیں ہیں۔ اور عامی ہیں بھلے پی ایچ ڈی ہیں۔ ایک بات اپنے ذہن میں ڈال لیں کہ شریعت کے امور میں آپ ایک عام مسلمان ہیں جسے شریعت کے احکام و دیگر امور کے سلسلے میں کسی جید عالم دین کی رہنمائی کی بالکل اسی طرح ضرورت ہے جیسے دوسری فیلڈ کے لوگوں کو آپ کے فن میں آپ کی رہنمائی کی حاجت ہوتی ہے۔

اس کے بعد سوال آتا ہے کہ فتنوں اور شیطان کے دھوکے کی پہچان کیسے ہو؟

نئے فتنوں کے اور شیطانی فریب کے عموما طریقہ واردات یہ ہوتے ہیں:۔

۔1۔ ہم کسی فرقے کی بات نہیں کرتے۔
۔2۔ ہم صرف قرآن کی بات کرتے ہیں۔
۔3۔ ہم صرف علمی کتابی باتیں کرتے ہیں۔
۔4۔ ہم جو بات جہاں سے اچھی ملے لے لیتے ہیں ۔
۔5۔ ہم خود قرآن سمجھو تحریک چلاتے ہیں۔

یہ ہیں وہ سلوگن جن کے ذریعے ہر نیا فتنہ ایک نیا فرقہ بن کر اٹھتا ہے۔ اور نوجوانوں کو اپنی جانب کھینچنے کے لئے پہلے سے موجود امت کے اجماعی امور سے الگ اچھوتی و انوکھی رائے پیش کرتا ہے۔ سب سے اہم یہ کہ خود کو حق پر ثابت کرنے کے لئے کفار و مشرکین اور منافقین کے بارے میں نازل شدہ آیات کو مسلمانوں پر اپلائی کرتے ہیں۔

معاشرتی سیاسی حالات سے نفسیاتی دباو میں الجھا نوجوان فورا نئی تعبیرات قبول کرتا ہے اور سمجھتا پہلے کے علما گمراہ تھے یہ والا بندہ کوئی مجتہد آیا ہے۔ یہ ایک فطری بات ہے کہ جس طرح کا تعلیمی نظام مروج ہے وہاں نئی بات بھلے دینی امور میں ہی کیوں نہ ہو ، خواہ کیسی ہی گمراہ کن کیوں نہ ہو بھلی لگتی ہے۔پرویزی فکر ہو ، غامدیت ہو یا مرزا انجینئر یا دیگر چند افرادی جماعتیں آپ سب کو ان میں ایک چیز مشترک نظر آئے گی کہ یہ سب وہی سلوگن لے کر اٹھے ہیں جو باطل فتنوں کا وطیرہ ہوتا ہے۔آج دیکھ لیں یہ سب خود ایک نیافرقہ بلکہ فتنہ بن چکے ہیں۔ 

امت کے اجماعی امور میں مجتہدین، محدثین ، فقہا کے خلاف اپنی رائے کو حرف آخر قرار دیتے ہیں۔ اسلاف پر زبان درازی میں تو ان کا کوئی ثانی نہیں۔ امت مسلمہ کی اکثریت کی راہ سے الگ راہ اختیار کرتے ہیں ۔قران مجید نے واضح بتادیا :۔

وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا۔ سورہ نساء115.

( اور جو شخص رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت کرے اس کے بعد کہ اس پر ہدایت کی راہ واضح ہو چکی اور مسلمانوں کی راہ سے جدا راہ کی پیروی کرے تو ہم اسے اسی (گمراہی) کی طرف پھیرے رکھیں گے جدھر وہ (خود) پھر گیا ہے اور (بالآخر) اسے دوزخ میں ڈالیں گے، اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہےo)

حق کی پہچان کیسے ہو ؟

حق کے پیغام سے اللہ کے محبوب خاتم الانبیاء و المرسلین ﷺ کی محبت آپ کے دل میں بھرنا شروع ہوجائے گی۔ دل بار بار دیار حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش میں تڑپنے لگے گا۔ اللہ کے بندوں سے آپ کا دل اخلاص و محبت سے بھر جائے گا۔ میں سے میرا بھائی زیادہ عزیز لگنے لگے گا۔ اس کی صورت کو دیکھ کر اللہ کی یاد آئے گی۔جبکہ فتنوں کے پیغام ایسے مبارک اثرات سے خالی ہوتے ہیں ۔ ان کی گفتگو کے بعد عموما یہ اثرات مرتب ہوتے ہیں کہ بندہ سوچتا ہے پہلے سب علما غلط تھے۔ بلکہ زبان علما کی بجائے تضحیک سے ’’ مولوی ‘‘ بولنے لگتی ہے۔ سب مولوی جاہل ہیں یہ ٹھیک کہہ رہا ہے۔ اس کی نگاہ میں باقی سب حقیر ہونے لگتے ہیں اور اس کی اپنی ذات پیاری اور حق پر دکھائی دینے لگتی ہے۔

آپ شاپنگ کرنے جائیں اور کوئی جاننے والا بتائے کہ فلاں دکان پر اگرچہ اصلی مال بھی ہوتا ہے لیکن وہاں دو نمبر مال بھی ملتا ہے۔ وہاں نقلی اشیاء بالکل اصلی کی مانند لگتی ہیں لیکن دو نمبر ہوتی ہیں۔ تو آپ وہاں اس لئے نہیں جاتے تاکہ دھوکہ نہ کھائیں اگرچہ وہاں اصلی مال بھی ہوتا ہے۔ بالکل ایسے ہی نئے فتنے چرب زبانی سے اور ملمع سازی سے اپنا پیغام اس انداز میں دیتے ہیں کہ عام بندہ فورا ان کے دام میں پھنس جاتا ہے۔ اس لئے آپ ایسے فتنوں کے قریب ہی نہ جائیں ، انہیں سننے کے لئے وقت ہی برباد نہ کریں کیونکہ یہ آپ کا ایمان برباد کردیں گے۔
ایمان بچانا ہر مسلمان پر فرض یے۔ جیسے آپ شاپنگ میں اپنے مال کی حفاظت میں فراڈ سے بچنے کے لئے ہر جتن کرتے ہیں ۔ اسی طرح ایمان بچانے کے لئے بھی جتن کی جئے۔

صحیح بخاری میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہےکہ حضور نبی اکرم ﷺ نماز کے بعد یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ 

اَللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا، وَفِتْنَةِ الْمَمَاتِ، اَللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ »

اے اللہ! عذاب قبر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں، مسیح دجال اور زندگی اور موت کے فتنے سے آپ کی پناہ مانگتا ہوں، اے اللہ! میں گناہوں اورقرض سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں

حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی دعا جو قران مجید کی سورہ المتحنہ میں مذکور ہے وہ مانگنی چاھئے۔ 



رَّبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا وَإِلَيْكَ أَنَبْنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّذِينَ كَفَرُوا وَاغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

اے ہمارے رب! ہم نے تجھ پر ہی بھروسہ کیا اور ہم نے تیری طرف ہی رجوع کیا اور (سب کو) تیری ہی طرف لوٹنا ہے ۔ اے ہمارے رب! تو ہمیں کافروں کے لئے سببِ آزمائش نہ بنا (یعنی انہیں ہم پر مسلّط نہ کر) اور ہمیں بخش دے، اے ہمارے پروردگار! بیشک تو ہی غلبہ و عزت والا بڑی حکمت والا ہے۔( سورہ الممتحنہ ۴۔۵)۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں اور سبسکرائب کریں ۔

اسلامی معلومات ، روایتی معاشیات ، اسلامی معاشیات اور اسلامی بینکاری سے متعلق یو ٹیوب چینل
https://www.youtube.com/user/wasifkhansb?sub_confirmation=1

 حق اور دھوکے کی پہچان: ایمان بچائیں تو کیسے ؟

محمد ابوبکر صدیق

17 -04- 2020

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فی زمانہ ہر آن نت نئے فتنے نئی نئی شکلوں اور الگ الگ سلوگن سے نکل رہے۔ ہر کوئی سوشل میڈیا یو ٹیوب پر گھنٹے گھنٹے لیکچر دے رہا ہے۔ نوجوانوں کو اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ نوجوان پریشان ہیں کریں تو کیا۔ ایمانیات کے اعتبار سے انٹرنیٹ جہاں بہتری کا سبب ہے وہیں اس سے کہیں زیادہ ایسے لوگوں کے لئے نقصان کا سبب بھی ہے جن کی دینی بنیاد نہ ہونے کے برابر ہے لیکن دین سے متعلق سننے کے لئے ہر قسم کے بندے کا مواد ایک کلک پر موجود ہے۔ چرب زبان اس قدر ماہر ہیں کہ سادہ لوح کے ایمان متزلزل ہوجاتے ہیں کہ حق کسے کہے اور دھوکہ کسے قرار دے۔ میرے کچھ شاگردوں نے رہنمائی چاھی تو انہیں فردا کچھ تجاویز دیں۔ تاہم مناسب سمجھا کہ یہاں سب نوجوانوں کے لئے شیئر کر دوں۔

 

اللہ تعالی نے قلب ایک ایسا آلہ دیا ہے جو شک کی باتوں پر کبھی بھی قرار نہیں پاتا اور حق بات ہو تو قلب مطمئنہ کی مانند سکون ہوجاتا ہے۔حق و باطل کی پہچان میں  اس دل سے کام لی جئے ۔ لیکن چند باتوں کا خیال بھی رکھیں۔ کسی بھی نئے فتنہ پرور بندے کے حق و باطل پر ہونے کے لئے مندرجہ ذیل امور کی طرف دھیان دیں۔

۔1۔ قران و سنت کو سمجھنے میں اسلاف (صحابہ ، تابعین ، تبع تابعین) کا منہج ہی حق ہے۔ کیونکہ اسلام 1400 سال قبل مکمل ہوچکا۔ جو منہج اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ کو، ان سے تابعین ، ان سے تبع تابعین کو ملا وہی بر حق ہے۔ باطل کی پہچان یہ ہے کہ جب آپ اسلاف کے منہج پر رہنے کی بات کریں گے تو وہ فورا کہیں گے ’’ کفار بھی حضرت محمد ﷺ سے یہی کہتے تھے ہم اپنے آباء کو کیوں چھوڑیں ‘‘ ۔ کم علم کم مطالعہ کا نوجوان لاجواب ہوجاتا ہے۔ حالانکہ آسان جواب یہ ہے کہ ۔۔۔۔ آپ ان سے کہیں ۔۔۔ حضور ﷺ تو اس وقت1400 سال قبل نیا دین برحق لائے تھے جس پر کفار اپنے باطل آباء کے دین پر بضد رہنے کا کہتے تھے۔ اور ہم تو الحمد للہ اسی نبی کریم ﷺ کے دین بر حق پر پہلے سے قائم ہیں جو ہمارے اسلاف کے واسطے سے ہمیں ملا۔ تم چونکہ نئے باطل دین کی دعوت لائے ہو اس لئے ہم اسے قبول کیوں کریں؟ کیونکہ اب کوئی نیا دین نہیں آئے گا ۔ تم چونکہ حق کے طریقے سے گمراہ ہو اس لئے تمہارا راستہ ابلیس کا راستہ ہے۔

۔2۔ اس بندے کی گفتگو اگر دل میں شکوک و شبہات پیدا کرے۔ احکام شریعت سے متعلق نت نئے تصور دے تو سمجھ جائیں یہ ابلیس ہے جو تمہیں قرآن سمجھانے آیا ہے۔ اب ابلیس کیا سمجھائے گا اہل عقل خوب جانتے ہیں۔

۔3۔ اگر ہر بندے کا عربی علوم کے بغیر قران مجید خود سے سمجھنا ممکن ہوتا تو اللہ کتاب نازل کردیتا ۔۔۔ لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی نہ بھیجتا ۔ قرآن مجید کہتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا مقصد یہ تھا تمہیں قرآن مجید کی تعلیم دے۔ اللہ کے نبی ﷺ نے جو تعلیم دی جو حکم سمجھایا اور جیسے سمجھایا اسے سنت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا گیا۔ سنت کے انکار کا مطلب قرآن مجید کی نبوی تعلیم کا انکار ہے۔ جو بذات خود قرآن کا انکار ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ وہ تعلیم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جھوٹ کا شکار ہوگئی اور بدل دی گئی تو پھر معاذ اللہ یہ اللہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر حملہ ہے کہ اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھیجا کہ جاکر لوگوں کو قرآن کے احکام سکھائے لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سکھا چکا تو ان کے بعد اللہ تعالی نے دین کو یتیم کر کے چھوڑ دیا اور اس کی حفاظت ہی نہیں کی۔

عام آدمی کے لئے قرآن خود سمجھو کا جملہ خود جہالت پر مبنی ہے۔ سوچیں جب صحابہ کرام کو قران سمجھنے کے لئے ایک معلم (نبیﷺ ) کی ضرورت پڑی تو آج کون ہے جو کہے کہ وہ معلم کے بغیر سمجھ سکتا ہے۔

۔4۔ بندے کی گفتگو کے موضوع پر دھیان دیں۔ اگر تو وہ ایسے موضوع چھیڑتا ہے جس کا تعلق عملی زندگی کی بھلائی سے نہیں، تعمیر کردار سے نہیں ۔ فکر آخرت سے نہیں۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا کے حصول سے نہیں۔ اللہ کے بندوں کو رشتہ اخوت کی لڑی میں پرانے سے نہیں ۔ بس امت کے حساس موضوعات کو اس انداز سے چھیڑتا ہے کہ لوگوں میں فساد پیدا ہوجائے۔ ایسی انوکھی باتیں کرتا ہے جو اسلاف کی تعلیمات سے دور ہے۔ بولے تو زبان درازی کرے۔ اسلاف کو یکسر غلط قرار دے اور کہے میری تعبیر ہی درست ہے۔ گفتگو کا مقصد محض الفاظ کی جگالی ہو کہ لوگوں پر اس کا رعب و دبدبہ قائم ہوجائے۔ تو سمجھ جائیں یہ ابلیس کے لشکر سے آیا ہے۔ کیوں کہ اہل حق کا ایک سادہ سا جملہ بھی زندگیوں میں انقلاب بپا کردیتا ہے۔ نگاہ اٹھائیں دل کی دنیا بدل کر رکھ دیتے ہیں۔ ان کی محفل سے نکلیں تو ہر آدم خود سے بہتر محسوس ہوتاہے۔ وہ اللہ کے بندوں کو توڑنے کے نہیں جوڑنے کے کام کرتے ہیں۔

 

۔5۔ گفتگو کے نتائج پر دھیان دیں ۔ اگر تو اس کی گفتگو آپ کا اپنے رب سے ٹوٹا تعلق جوڑ دیتی ہے یا پہلے سے قائم تعلق باللہ کو اور زیادہ مضبوط کرتی ہے اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کو بڑھا دیتی ہے اور دل کو نرم کرتی ہے۔ اور اللہ کے بندوں سے متعلق تمہیں نرم خو کرتی ہے، پاکیزہ کردار کے مبارک اسلاف سے محبت پیدا یونے لگتی ہے۔ تو سمجھیں وہ حق پر ہے۔ اگر اس کی گفتگو سے آپ کے دل میں صرف اس کی اپنی شخصیت کا اثر بنتا ہے کہ بڑا بولنے والا ہے قابل ہے وغیرہ۔ لیکن رب سے تعلق نہیں جڑتا یا پہلے سے قائم تعلق باللہ شکوک و شبہات میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ دل سختی مائل ہونے لگتا ہے۔ زبان بے ادبی کی جانب چلنے لگتی ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ ناز سےمتعلق الفاظ کا چناو غیر محتاط ہونے لگتا ہے۔ فکر آخرت کی جانب دھیان ہی نہیں جاتا ۔ اور طبیعت بوجھل ہوجاتی ہے ڈیپریشن بڑھنے لگتا ۔ ایمان کی دنیا کنفیوز ہوجاتی ہے۔ تو سمجھ لیں یہ ابلیس کی دنیا کا بندہ ہے۔ جو قرآن کے نام پر ، دین سمجھا نے کے نام پر تم سے تمہارا ایمان لینے آیا ہے۔ اہل حق کو سنا جائے تو دل کی لوح پر اسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ثبت ہوجاتا ہے کہ پھر دنیا کوئی طاقت بھی اسے کھرچ نہیں سکتی۔

 

یہ ہیں وہ چند مور جن کی طرف توجہ رہے اور ساتھ ہی  دل میں حضور نبی رحمت ﷺ سے محبت اس طرح اجاگر ہو کہ دل ک یقین حاصل ہو کہ اس پاکیزہ محبت کے سوا باقی سب کچھی فضول ہے۔ جو کچھ بھی ہے وہ حضور نبی رحمت ﷺ کے دامن سے وابستہ رہنے سے ہی ہے۔

 

ہو نہ یہ پھُول تو بُلبل کا ترنُّم بھی نہ ہو

چَمنِ دہر میں کلیوں کا تبسّم بھی نہ ہو

یہ نہ ساقی ہو تو پھرمے بھی نہ ہو، خُم بھی نہ ہو

بزمِ توحید بھی دنیا میں نہ ہو، تم بھی نہ ہو

خیمہ افلاک کا اِستادہ اسی نام سے ہے

نبضِ ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں اور سبسکرائب کریں ۔

اسلامی معلومات ، روایتی معاشیات ، اسلامی معاشیات اور اسلامی بینکاری سے متعلق یو ٹیوب چینل
https://www.youtube.com/user/wasifkhansb?sub_confirmation=1

 خود فیصلہ کر لیں

محمد ابوبکر صدیق

10 -05- 2020

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ طبقہ جو مرزا انجینئر جیسوں کو ’’ عالم ‘‘ سمجھتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ مرزا اس لئے ٹھیک ہے کہ وہ کہتا ہے ’’ سب کو سنو اور فیصلہ کرو کہ جس فرقے سے جو اچھی بات ملے قبول کرو‘‘۔

اس مسئلے کے دو پہلو ہیں ایک خارجی (یعنی اسلام سے باہر دیگر مذاہب کے مقابلے میں) اور ایک اندرونی ( اسلام کے اندر دیگر مسالک کے مقابلے میں )۔

خارجی پہلو

 آئیے ذرا اس سوچ کا تجزیہ کرتے ہیں۔ کیا یہ سوچ پہلی بار مرزا نے دی ہے ؟ نہیں بالکل نہیں۔ اسلام کا تو پہلے دن سے ہی اصول یہ رہا ہے کہ پچھلے ادیان سے اچھی چیزوں کو قبول کیا اور رہنے دیا لیکن ان معاملات کو اسلامی اصولوں پر ڈھال دیا تاکہ شرعی اصولوں سے تصادم ختم ہوجائے۔ اور اسلاف فقہائے اسلام نے یہی روش رکھی اور آج تک یہ روش جاری ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ فیصلہ کون کرے گا کہ فلاں چیز فلاں مذہب میں اچھی ہے  ؟ کیا علوم شریعت سے نابلد عام مسلمان کو یہ اجازت دی جاسکتی ہے کہ وہ اپنی عقل پر یہ فیصلہ کرے۔  نہیں بالکل نہیں۔

کیوں ؟ اسے یوں سمجھئے کہ جب بندہ کسی شدید مہلک مرض میں مبتلا ہو تو کیا میڈیکل سے نابلد مریض کو طبیب سے مشورہ کئے بغیر دوائیوں کا انتخاب خود کرنے کی اجازت دیتے ہیں؟ اتنی ساری میڈیسن ہیں وہ خود منتخب کر لے جو اچھی لگے؟ جواب ہے نہیں کیونکہ جان کا معاملہ ہے ممکن ہے وہ غلط میڈیسن یا غیر متعلقہ میڈیسن کا انتخاب کر لے تو جان ہلاکت میں پڑ جائے گی۔ تو جناب  یہ ایمان کا معاملہ ہے اگر اس میں غیر عالم مسلمان کو اس کی ذاتی پسند و ناپسند کی خواہشات پر چھوڑ دیا جائے تو غلط انتخاب کی صورت میں ایمان تو گیا پھر۔ ممکن ہے اُسے عیسائیت و یہودیت اور اسلام میں سے یہودیت پسند آجائے تو پھر کیا وہ یہودی بن جائے اور اُسے حق مذہب قرار دے۔ اگر آپ کہیں کہ نہیں حق و باطل کا یہ اختیار صرف مسلم فرقوں سے متعلق ہیں۔ تو اُس پر ہم کہیں گے جناب ذرا وہ دلیل تو بتائیے جس کی وجہ سےآپ اس فیصلے کا اختیار مختلف ادیان کے معاملے میں نہیں مانتے اور مسلم فرقوں کے لئے تسلیم کرتے ہیں؟ تو ان کی جانب سے لمبا سکوت طاری ہوجاتا ہے گویا ان کی سیٹی گم ہوگئی ہو۔ اگر حق و باطل کا فیصلہ ہر بندے کی اپنی عقل پر چھوڑنا ہی منشائے الہی ہوتا تو پھر نبی ﷺ مبعوث کرنے اور قرآن مجید نازل کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔پھر توحضور نبی اکرم ﷺ کو معلم اخلاق بنا کر بھجنے میں کوئی حکمت ہی نہیں تھی۔ کیونکہ ہر بندے نے اچھے اخلاق کا فیصلہ اپنی عقل کی بنیاد پر کرنا تھا۔ لیکن آپ ﷺ کو بھیج کر قدرت نے واضح کردیا کہ وحی الہی کی ہدایت کے بغیر حق و باطل کا فیصلہ ممکن ہی نہیں اور اس کے لئے کسی نہ کسی معلم کی رہنمائی لازم ہے۔

دوسرا امر یہ بھی ہے کہ ’’ فیصلہ خود کرو‘‘ کی رٹ لگانے والے خود ساختہ مفکرین پھر کس لئے تقاریر کرتے پھرتے ہیں۔مقالہ جات لکھتے پھرتے ہیں۔ وہ لوگوں کو ان کے حال پر کیوں نہیں چھوڑ دیتے  کہ وہ خود فیصلہ کر لیں۔ گھنٹوں یوٹیوب پر لگا کر ریکارڈنگ کرنے والے یہ لوگ کمائی کے لئے کوئی اور کام ڈھونڈیں۔ اس پر وہ کہیں گے ’’ جناب ہم تو لوگوں کی رہنمائی کرتے ہیں کہ خود فیصلہ کیسے کریں‘‘۔ اس پر ہماری بھی یہی گزارش ہے کہ علمائے حق کے لئے بھی یہ حق تسلیم کرلیں کہ وہ لوگوں کو یہ بتائیں کہ ’’ آپ جیسے فتنہ پرور لوگوں کی تقلید کی بجائے حق کی تقلید کریں اور یہ فیصلہ کرنے میں وہ ان کی رہنمائی کریں۔ 

خلاصہ یہ کہ بندے کو اس کی عقل و خواہشات پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔ اگر بندے کو اس کی خواہشات پر چھوڑ دیں تو پھر وہ شریعت کا مطیع نہیں رہے گا بلکہ اپنی خواہشات کا بندہ بن جائے گا۔

اس کے علاوہ یہ سوالات بھی اہم ہیں۔

۔1۔ نوجوان جو علوم شریعہ سے نابلد ہے وہ کس بنیاد پر یہ فیصلہ کرے گا؟

۔2۔’’کون سی بات اچھی ہے اور کون سی بری‘‘۔ انسانی عقل میں یہ طاقت نہیں کہ وہ خود سے یہ فیصلہ کرے کہ کیا اچھا ہے اور کیا برا۔ ممکن ہے جسے وہ اچھا سمجھتا ہے وحی الہی  اسے برا کہے اور اس کے الٹ بھی ہوسکتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ انسانی عقل جسے اچھا یا برا کہے وحی الہی بھی اسے اچھا یا برا کہے۔ اس کا مطلب یہ کہ کسی بھی معاملے کے اچھا یا برا ہونے کا حتمی فیصلہ عقل نہیں کرسکتی۔ عقل شک میں مبتلا رہتی ہے اور ایمان کی بنیاد شک پر رکھی نہیں جاتی۔ اس لئے یقین کامل کا ہونا لازمی ہے۔ یقین تک پہنچنے کے لئے وحی الہی کی ضرورت پڑتی ہے۔ وحی الہی نبوت کے واسطے سے بندوں تک یقین کا علم پہنچاتی ہے۔ نبی اپنی امت تک یہ ’’یقین‘‘ علم و حکمت کے ذریعے پہنچاتا ہے۔ اور علما ہی اس علم نبوت کے وارث ہوتے ہیں جو نبی کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد نسل در نسل علم کے ذریعے یہ سلسلہ جاری رکھتے ہیں حتی کہ اگلا نبی مبعوث ہوجائے۔ اب چونکہ سلسلہ نبوت و رسالت سید الانبیاء و الرسل حضرت محمد مصطفی ﷺ پر ختم کردیا گیا اور آپ کے بعد کسی نبی و رسول نے نہیں آنا۔ اس لئے آپ ﷺ   نے ’’علم نبوت‘‘ کے لئے اپنی امت کے علما کو اپنا وارث قرار دیا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آج بھی اور قیامت تک کسی بھی معاملے کے ’’حسن و قبح‘‘ کا حتمی تعین وحی الہی سے علم نبوت کی روشنی میں ہی کیا جائے گا اور اس کے لئے علم شریعت کی ضرورت ہوگی جو کہ علمائے اسلام ہیں۔ لہذا اس معاملے کو عام مسلمانوں کی عقل پر نہیں چھوڑا جا سکتا کہ وہ خود سے یہ فیصلہ کریں کہ دیگر مذاہب سے انہیں جو اچھا لگے وہ اسے قبول کرلیں ۔

انسانی عقل کو بنیاد بنانے والے اہل مغرب نے انسانی عقل کو بنیاد قرا دیا اور سارے فیصلے اسی کی روشنی میں کئے۔ تو ہوا یہ کہ انہوں نے ’’جوا خانے ، قحبہ خانے ، پورن انڈسٹری، ہم جنس پرستی وغیرہ‘‘ کو اچھا قرار دے کر اپنے اپنے ممالک میں قانونی طور پر لیگل و جائز قرار دے دیا۔ جب کہ وحی ان سب کو برائی سے تعبیر کرتی ہے۔ اس لئے انسانی عقل اس بارے میں ناقص ہے۔ مختصر یہ کہ وحی الہی سے کسی امر کے’’حسن و قبح ‘‘ کا تعین کرنے کے لئے عام انسانی عقل نہیں بلکہ قران و سنت کے جید عالم کا علم چاھئے۔ جب جید علما نے واضح کردیا ہے تو پھر اس انتخاب کا معاملہ عام آدمی پر کیوں چھوڑا جائے کہ وہ خود فیصلہ کر لے۔ یہ تو پھر اس کے ساتھ ظلم ہوگا کہ اگر وہ آگ میں کودنا پسند کرے تو اسے کرنے دیا جائے۔ اگر آپ بضد ہیں کہ نہیں جی عام مسلمان کو یہ اجازت ہونی چاھیے تو پھر کل اگر کوئی یہ راگ الاپنا شروع کردے کہ’’ مسلمان کو اجازت ہونی چاھیے کو وہ اپنی پسند کے مطابق اسلام کے علاوہ کوئی اور مذہب اختیار کرے جو اسے اچھا لگے‘‘ تو آپ اسے کس بنیاد پر روکیں گے کہ وہ ایسا نہ کرے؟۔؟ نیز یہ اختیار پھر صرف مذہب کے معاملے میں ہی کیوں ؟ پھر ہر انسانی فرد زندگی کے ہر معاملے میں فیصلے کرنے کے لئے خود مختار ہونا چاھئے۔ بچہ سگریٹ پسند کرے تو اجازت ہو۔ بیٹا یا بیٹی پورن انڈسٹری جوائن کرے تو اجازت ہو۔ اسی طرح دیگر امور میں ہر فرد کو یہ فیصلے کرنے کی آزادی ہونی چاھئے۔

اندرونی پہلو

 آئیے ذرا اب مسئلے کے اندرونی ( اسلام کے اندر دیگر مسالک کے مقابلے میں ) پہلو کو بھی دیکھ لیں۔ حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی، ظاہری یہ سب سنی مکاتب فکر ہیں۔ فقہ جعفری یہ شیعہ مکتب فکر ہے جس کہ اندر پھر مزید تقسیم ہے۔ چند لوگ کہتے ہیں ’’ جی سب کو دیکھیں جس کی جو چیز اچھی لگے اس پر عمل کرلو قبول کر لو‘پہلا سوال یہ ہے کہ کیا ایسا کرنا بذات خود کوئی قابل ستائش عمل ہے ؟ کیا شریعت کا مقصود بھی یہی ہے ؟ اگر تو واقعی یہ ایک حسین کام ہے جیسا کہ بظاہر جملے سے لگتا ہے تو پھر واقعی کوئی بے وقوف ہی ہوگا جو ایسا نہیں کرے گا یا ایسا کرنے کی مخالفت کرے گا۔ لیکن پہلے ذرا اس نظریے کی چند صورتیں بنا کر دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے۔ پھر اس کا نتیجہ نکالیں گے کہ یہ کام اچھا ہے یا کسی بڑے فتنے کا سبب بنتا ہے۔

۔1۔ ایک آدمی کہتا ہے کہ وہ حنفی مسلمان ہے لیکن فقہ شافعی سے اسے کیکڑے اور کچھوے کھانے کا عمل پسند ہے اس لئے وہ کھانے سے متعلق فقہ شافعی کو پسند کرتا ہے اور یوں وہ کچھوے کھانا شروع کردیتا ہے۔ اس آدمی سے پہلے فقہ حنفی اور شافعی والے اپنے اپنے مسلک پر سکون سے عمل پیرا تھے۔ لیکن اس تیسرے بندے نے جو کام شروع کیا ہے یہ فساد پیدا کردے گا۔ کیونکہ اگر وہ خود کو حنفی کہے گا تو احناف غصے ہونگے کہ کیکڑا و کچھوا حرام ہے لہذا تو حرام خور ہوگیا ہے ہم تمہیں حنفی مانتے ہی نہیں۔ دفع ہوجا۔ وہ شوافع کے پاس جائے گا تو فقہ شافعی والے غصے ہوجائیں گے کہ باقی امور میں تو حنفی ہے ہم تجھے کیسے قبول کرلیں۔

۔2۔ ایک آدمی کہتا ہے وہ مسلمان ہے۔ اس نے وضو کی حالت میں بیوی کو مس کیا۔ تھوڑی دیر بعد اسے کسی وجہ سے منہ بھر قے آگئی۔ لیکن اس نے کہا بیوی کو چھونے سے امام ابو حنیفہ کے نزدیک وضو نہیں ٹوٹتا لہذا میں یہاں حنفی رائے پسند کرتا ہوں اور قے آنے سے چونکہ امام شافعی کے نزدیک وضو نہیں ٹوٹتا لہذا یہاں میں شافعی رائے پسند کرتا ہوں۔ اس لئے میرا وضو تو باقی لہذا وہ نماز پڑھ لیتا ہے ۔ اس کی نماز باطل ہوگی نہ فقہ شافعی میں نماز ہوئی اور نہ فقہ حنفی کی رو سے۔ اس نے حقیقت میں دین کی نہیں اپنی ذاتی خواہش کی پیروی کی ہے۔ جو شریعت میں منع ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے: وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ (اور خواہشات نفس کی پیروی مت کرنا کہ وہ تمہیں اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی)۔ اس لئے لازم ہے کہ مجتہد آئمہ میں سے کسی ایک کی تقلید کی جائے جو قرآن و سنت سے احکام اخذ کرتا ہے اور اس کے اصول وضع کرتا ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے: وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أنابَ إليَّ ( اس شخص کی اتباع کر جس کا رجوع میری جانب ہو) ۔ اس لئے اب جو شخص دین حق پر عمل پیرا ہونا چاھتا ہے وہ حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی میں سے مکمل طور پر کسی ایک حلقے کا انتخاب کرے گا۔ اگر وہ اپنی ضد پر آکر خواہشات نفس کی پیروی میں ملغوبہ طرز اپنائے گا تو وہ ایک فتنے کی بنیاد رکھے گا۔ کیا نیا فرقہ پیدا کرنا اچھی بات ہے؟ اگر اچھی بات ہے تو پھر پہلے والے فرقے کی بات پر عمل کرنا برا کیوں ہوا۔ اور اگر نیا فرقہ بنانا فتنہ پھیلانا ہے تو پھر بہتر ہے کہ  پہلے والے کسی ایک مسلک کو ہی اپنا لیا جائے تاکہ معاشرہ کسی نئے فتنے سے بچ جائے۔ کیونکہ ایسی صورت میں نیا فرقہ ایسی نوعیت کا ہوگا جو آئے روز معاشرے میں کوئی نہ کوئی فساد کھڑا کرے گا۔

ان دو مثالوں سے یہ واضح ہوجاتا ہے۔ کہ ’’ جہاں سے جو اچھا لگے وہی کرو ‘‘ جیسا بظاہر پرکشش سلوگن حقیقت میں کتنے بڑے فساد اور فتنے کو پیدا کرتا ہے۔ آپ ذرا تحقیق کر لی جئے کہ مرزا انجینئر کے نمودار ہونے کے بعد نوجوانوں میں باہم مذہبی نفرت میں اضافہ ہوا ہے یا کمی آئی ہے۔ اللہ کرے گا معاملہ واضح ہوجائے گا۔ اب ذرا ملاحظہ کر لی جئے کہ مرزے کی اڑان تمام مکاتب فکر کے مخالف ہے یا موافق ہے۔ کہیں یہ نیا فتنہ تو نہیں بننے جارہا ۔۔( فتنہ مرزائیت ) ’’ نہ میں فلاں نہ میں ڈھمکاں میں تو علمی و کتابی‘‘ کی وضاحت اسی سلوگن میں ہے کہ میری اڑان ایک اور فرقے کی بنیاد رکھنے کی جانب ہے۔ بے وقوف بنانے کے لئے کہتا کیا ہے ’’ او جی ہم کسی فرقہ واریت میں نہیں پڑتے‘‘ ۔ یا تو وہ خود بے وقوف ہے یا پھر کچھ کو بے وقوف بنا رہا ہے۔ بھیا ذرا سنبھل کے۔

ایک اور زاویہ نظر

آئیے ذرا اب مسئلے کا ایک اور پہلو سے بھی جائزہ لے لیتے ہیں۔

۔1۔ ایک آدمی اہل حدیث مسلک کی مسجد میں جا کر آذان دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اسے آذان سے پہلے صلواة و سلام پڑھنے میں مسلک اہل سنت کی رائے پسند ہے۔ لہذا وہ آذان سے قبل شروع ہوجاتا ہے الصلواة والسلام علیک يا رسول الله ۔ تو سوچئے کیا ہوگا ؟

۔2۔ ایک اہل حدیث آدمی فقہ جعفریہ والوں کی کسی محفل میں چلا جاتا ہے اور وہاں اس کا دل کرتا ہے کہ یزید کو شہزادہ کہے اور رضی اللہ عنہ کہے۔ فقہ جعفری والے کا دل کرتا ہے کہ وہ اہل حدیث کی رائے قبول کرے۔ تو سوچئے دونوں کے ساتھ اہل حدیث و فقہ جعفریہ کیا سلوک کریں گے! اور وہ دونوں کتنے بڑے فساد کا سبب بنیں گے۔

۔3۔ ایک دیوبندی کا دل کرتا ہے کہ وہ اپنی مسجد میں سیدنا غوث اعظم کہے اور ان کی گیارہویں منائے تو سوچیں کیا فتنہ کھڑا جائے گا۔ یہ اور اس جیسے دیگر فتنے جو پیدا ہوسکتے ہیں سب کی بنیاد ہے ’’ مجھے جس مسلک کی جو چیز اچھی لگے قبول کرلوں‘‘ ۔

خود فیصلہ کر ہو یہ درحقیقت ایک ’’ شر‘‘ ہے جس کے دامن میں کوئی خیر نہیں ہے۔ اس ساری بحث کا نتیجہ یہ نکلتا ہے۔ کہ یہ نظریہ ایک اور فرقے کی بنیاد رکھتا ہے۔ اور ایسا فرقہ جو ہر وقت ہر کسی سے فساد میں مبتلا ہوگا۔ نہ میں وہابی، نہ میں دیوبندی نہ میں بریلوی نہ میں شیعہ میں تو بس علمی و کتابی یہ ایک نئے فرقے کا لانچنگ سلوگن یے۔ ابھی تک جو ہوا ہے اور ہو رہا ہے یہ سب اس نئے فرقے کی’’ ان آگریشن سرمنی‘‘ ہے۔ ابھی اس اسٹیج تک ملک کے نوجوانوں میں مذہبی عناد اتنا بڑھ گیا ہے تو سوچیں آگے کیا ہوگا۔ فاعتبروا یا اولی الابصار اللہ کریم ایمان کی سلامتی عطا فرمائے اور فتنوں سے محفوظ فرمائے۔

حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی دعا جو قران مجید کی سورہ المتحنہ میں مذکور ہے وہ مانگنی چاھئے۔

رَّبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا وَإِلَيْكَ أَنَبْنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّذِينَ كَفَرُوا وَاغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

اے ہمارے رب! ہم نے تجھ پر ہی بھروسہ کیا اور ہم نے تیری طرف ہی رجوع کیا اور (سب کو) تیری ہی طرف لوٹنا ہے ۔ اے ہمارے رب! تو ہمیں کافروں کے لئے سببِ آزمائش نہ بنا (یعنی انہیں ہم پر مسلّط نہ کر) اور ہمیں بخش دے، اے ہمارے پروردگار! بیشک تو ہی غلبہ و عزت والا بڑی حکمت والا ہے۔( سورہ الممتحنہ ۴۔۵)

صحیح بخاری میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہےکہ حضور نبی اکرم ﷺ نماز کے بعد یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ 

اَللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا، وَفِتْنَةِ الْمَمَاتِ، اَللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ »

اے اللہ! عذاب قبر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں، مسیح دجال اور زندگی اور موت کے فتنے سے آپ کی پناہ مانگتا ہوں، اے اللہ! میں گناہوں اورقرض سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں اور سبسکرائب کریں ۔

اسلامی معلومات ، روایتی معاشیات ، اسلامی معاشیات اور اسلامی بینکاری سے متعلق یو ٹیوب چینل
https://www.youtube.com/user/wasifkhansb?sub_confirmation=1

ضیاء الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری ؒ کی تاریخ ساز فتح 

محمد ابوبکر صدیق

23 -11- 2020

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حضور ضیاء الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری ؒ کی شخصیت جن کے قلم سے تفسیر ضیاء القرآن ، سیرت النبی پر ضیاء النبی ﷺ ، دفاع ِ سنت پر سنت خیر الانام ﷺ جیسی معرکۃ الآراء تصانیف نکلی ہوں  کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔  آپ ایک عظیم مجاہد ختم نبوت بھی تھے۔ تحریک ختم نبوت میں آپ نے سرگودھا جیل کی اسیری بھی برداشت کی۔لیکن ناموس رسالت مآب ﷺ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا اور علمائے امت کے ساتھ سینہ سپر کھڑے رہے۔ حتی کہ قادیانیوں کو کافر قرار دلوا کر ہی دم لیا۔ 

قادیانی خود پر سے اس ذلت کے داغ کو مٹانے کے لئے ہر دروازے پر گئے مگر مزید ذلت و رسوائی ان کا مقدر ہوئی۔1988 میں قادیانیوں نے جنیوا میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن کی طرف رجوع کیا اور درخواست دی کہ پاکستان میں ان کو کافر قرار دیا گیا ہے، حالانکہ  وہ حضرت محمد ﷺ پر ایمان رکھتے ہیں۔لہذا انہیں مسلمان کہا جائے اور پاکستانی حکومت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔ آئینی طور پر انہیں کافر قرار دے کر انکے انسانی حقوق سلب کیے جا رہے ہیں لہذا انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے جرم میں پاکستان کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کی جائیں۔جنیوا کمیشن نے حکومت پاکستان کو اپنا موقف پیش کرنے کے لئے نوٹس بھیجا۔

اس وقت کے صدر پاکستان جناب صدر ضیاء الحق مرحوم نے اس کام کے لئے علمائے کرام سے مشورہ کیا جس کے بعد جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ کو منتخب کیا گیا کیونکہ آپ جید عالم دین ہونے کی وجہ سے اسلامی قانون کے ساتھ ساتھ انگلش زبان پر بھی دسترس رکھتے تھے۔ لہذا جینوا میں  پاکستانی موقف بیان کرنے کے لیے قبلہ پیر صاحبؒ کو بھیجنے کا فیصلہ ہوا۔ پیر صاحبؒ کو صبح کے وقت صدر پاکستان کا پیغام ملا کہ شام کو آپ نے جنیوا روانہ ہونا ہے۔ پیر صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے کہا جناب والا قادیانیوں کے اعتراضات کیا ہیں جو کمیشن میں اٹھائے گئے۔ تو صدر پاکستان نے کہا وہ آپ کو جنیوا میں پتہ چل جائے گا۔ پیر صاحب فرماتے ہیں اس عظیم ذمہ داری کے لئے میں روانہ ہوگیا۔ جنیوا پہنچا تو کیس کی تفصیل کا پتہ چلا ۔قبلہ پیر صاحب نے پاکستانی ایمبیسی کے تعاون سے مختلف ممالک کے ان سرکردہ افراد سے  فرداً فرداً ملاقات کی جنہوں نے اس کمیشن کے اجلاس میں پیش ہونا تھا۔  قبلہ پیر صاحب نے ملاقات میں ان سب کے سامنے فرداً فرداً یہ بات تفصیل سے یہ بات رکھی :ہم حضرت محمد ﷺ کو آخری نبی مانتے ہیں لیکن ہم عیسی علیہ السلام پر بھی ایمان رکھتا ہیں کہ وہ اللہ تعالی کے سچے نبی تھے۔ چونکہ ہم حضرت سیدنا عیسی علیہ السلام پر ایمان رکھتے ہیں اس لئے ہمیں عیسائی تسلیم کیا جائے ۔ پیر صاحب فرماتے ہیں وہ لوگ بولے کہ ہم آپ کو عیسائی تسلیم نہیں کر سکتے کیونکہ جس نبی پر آپ بنیادی ایمان رکھتے ہیں وہ حضرت محمد ﷺ ہے اس لئے آپ کو مسلمان کہا جائے گا۔ پیر صاحب فرماتے ہیں میں نے کہا : جناب والا اسی وجہ سے ہم قادیانیوں کو مسلمان تسلیم نہیں کرتے کیونکہ وہ جس شخص کے نبی ہونے پر بنیادی ایمان رکھتے ہیں وہ مرزا غلام احمد قادیانی ہے اگرچہ وہ حضرت محمد ﷺ کی نبوت کو بھی تسلیم کرتے ہیں۔ لہذا ہم نے انہیں غیر مسلم قرار دیا ہے۔ اب آپ بتائیں ہم انہیں کیسے مسلمان تسلیم کریں۔ اس کے علاوہ قانون،آئین اور بین الاقوامی قوانیں کی روشنی میں قادیانیوں کے دیگر الزامات کا جواب بھی دیا۔پیر صاحب فرماتےانہوں نے میرے دلائل پر  اطمئنان کا اظہار کیا۔ پھر جب کمیشن میں اس کیس پر بحث ہوئی تو وہاں انہی افراد نے حضور ضیاء الامت کے دلائل پیش کئے جس کی وجہ سے پاکستان کا کیس مضبوط ہوگیا اوراس قانونی جنگ کا نتیجہ 30اگست1988کو سامنے آیا جب اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشن نے قادیانیوں کی درخواست کومسترد کر دیا۔ تقریبا ۱۷ ججز میں سے ۱۵ ججز نے پاکستان کے حق میں فیصلہ دیا اور قادیانیوں کو ذلیل و رسوا کردیا۔ البتہ اس نتیجے سے قبل ہی صدر پاکستان ضیاء الحق شہید ہوچکے تھے۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں اور سبسکرائب کریں ۔

اسلامی معلومات ، روایتی معاشیات ، اسلامی معاشیات اور اسلامی بینکاری سے متعلق یو ٹیوب چینل
https://www.youtube.com/user/wasifkhansb?sub_confirmation=1

نجمِ ہدایت سیدنا حضرت ابوھریرہؓ کا دفاع 

محمد ابوبکر صدیق

19 – 11 – 2020

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 نجوم محمدی ﷺ کے ایک عظیم نجم حضرت ابوہریرہ ؓکے بارے میں زبان طعن دراز ہوتی دیکھی تو ایمانی غیرت سے رہا نہ گیا اس لیے میں اس جگہ اپنے محبوب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عظیم نجم ہدایت کی وکالت کی سعادت حاصل کرہا ہوں۔ یقینا میری زندگی کا یہی ایک عمل ایسا ہوگا جو میری بخشش کا سبب بنے گا۔ المستدرک للحاکم میں ہے:۔  

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: «فَحِرْصُهُ عَلَى الْعِلْمِ يَبْعَثُهُ عَلَى سَمَاعِ خَبَرٍ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ، وَإِنَّمَا يَتَكَلَّمُ فِي أَبِي هُرَيْرَةَ لِدَفْعِ أَخْبَارِهِ مَنْ قَدْ أَعْمَى اللَّهُ قُلُوبَهُمْ فَلَا يَفْهَمُونَ مَعَانِيَ الْأَخْبَارِ، إِمَّا مُعَطِّلٌ جَهْمِيٌّ يَسْمَعُ أَخْبَارَهُ الَّتِي يَرَوْنَهَا خِلَافَ مَذْهَبِهِمُ الَّذِي هُوَ كَفْرٌ، فَيَشْتُمونَ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَيَرْمُونَهُ بِمَا اللَّهُ تَعَالَى قَدْ نَزَّهَهُ عَنْهُ تَمْوِيهًا عَلَى الرِّعَاءِ وَالسَّفِلِ، أَنَّ أَخْبَارَهُ لَا تَثْبُتُ بِهَا الْحُجَّةُ، وَإِمَّا خَارِجِيٌّ يَرَى السَّيْفَ عَلَى أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا يَرَى طَاعَةَ خَلِيفَةٍ، وَلَا إِمَامٍ إِذَا سَمِعَ أَخْبَارَ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِلَافَ مَذْهَبِهِمُ الَّذِي هُوَ ضَلَالٌ، لَمْ يَجِدْ حِيلَةً فِي دَفْعِ أَخْبَارِهِ بِحُجَّةٍ وَبُرْهَانٍ كَانَ مَفْزَعُهُ الْوَقِيعَةَ فِي أَبِي هُرَيْرَةَ، أَوْ قَدَرِيٌّ اعْتَزَلَ الْإِسْلَامَ وَأَهْلَهُ وَكَفَّرَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الْأَقْدَارَ الْمَاضِيَةَ الَّتِي قَدَّرَهَا اللَّهُ تَعَالَى، وَقَضَاهَا قَبْلَ كَسْبِ الْعِبَادِ لَهَا إِذَا نَظَرَ إِلَى أَخْبَارِ أَبِي هُرَيْرَةَ الَّتِي قَدْ رَوَاهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِثْبَاتِ الْقَدَرِ لَمْ يَجِدْ بِحُجَّةٍ يُرِيدُ صِحَّةَ مَقَالَتِهِ الَّتِي هِيَ كُفْرٌ وَشِرْكٌ، كَانَتْ حُجَّتُهُ عِنْدَ نَفْسِهِ أَنَّ أَخْبَارَ أَبِي هُرَيْرَةَ لَا يَجُوزُ الِاحْتِجَاجُ بِهَا، أَوْ جَاهِلٌ يَتَعَاطَى الْفِقْهَ وَيَطْلُبُهُ مِنْ غَيْرِ مَظَانِّهِ إِذَا سَمِعَ أَخْبَارَ أَبِي هُرَيْرَةَ فِيمَا يُخَالِفُ مَذْهَبَ مَنْ قَدِ اجْتَبَى مَذْهَبَهُ، وَأَخْبَارَهُ تَقْلِيدًا بِلَا حُجَّةٍ وَلَا بُرْهَانٍ كَلَّمَ فِي أَبِي هُرَيْرَةَ، وَدَفَعَ أَخْبَارَهُ الَّتِي تُخَالِفُ مَذْهَبَهُ، وَيَحْتَجُّ بِأَخْبَارِهِ عَلَى مُخَالَفَتِهِ إِذَا كَانَتْ أَخْبَارُهُ مُوَافِقَةً لِمَذْهَبِهِ، وَقَدْ أَنْكَرَ بَعْضُ هَذِهِ الْفَرَقِ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ أَخْبَارًا لَمْ يَفْهَمُوا مَعْنَاهَا أَنَا ذَاكِرٌ بَعْضُهَا بِمَشِيئَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ»

ترجمہ اور مفہوم ’’ امام ابوبکرمحمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے متعلق چار طرح کے لوگ بدزبانی اور تنقید کرتے ہیں اول : جہمیہ : جو اللہ تعالٰی کی صفات کے منکر ہے ، جب اپنے کفریہ مذہب کے خلاف حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مرویات سنتا ہے تو عامتہ الناس اور کم عقل لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر سب و شتم اور بہتان طرازی کرنے لگتا ہے ـ یہ باور کرانے کے لیے کہ ان کی احادیث قابل اعتماد نہیں ـ دوم: خارجیہ : جو کسی امام اور خلیفہ کی اطاعت کرنا درست نہیں سمجھتا اور امت مسلمہ میں جنگ و جدال بپا کرنے کی فکر میں رہتا ہے ، ایسا شخص جب اپنے گمراہ مذہب کے خلاف حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ احادیث نبویہ سنتا ہے ، تو اس کے پاس حیلہ باقی رہتا ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر طعن و تشنیع کی جائے ـ سوم : قدریہ جو اسلام اور مسلمانوں سے جدا ہو جاتا ہے اور مسلمان جو قضا و قدر پر ایمان رکھتے ہیں ، ان کو کافر قرار دیتا ہے ، ایسا شخص جب اثبات قدر کے متعلق حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ احادیث سنتا ہے ، تو اپنے کفریہ اور شرکیہ نظریے کی تائید و نصرت کے لیے اسے یہی دلیل نظر آتی ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ احادیث کے ساتھ دلیل پکڑنا جائز اور درست نہیں ۔ چہارم: جاہل فقیہ یعنی جاہل مولوی : جب اپنے بغیر دلیل و برہان اختیار کردہ تقلیدی مذہب اور امام کے خلاف حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ذکر کردہ احادیث سنتا ہے ، تو ان میں طعن کرتا ہے اور اپنے مذہب کے مخالف ان کی بیان کردہ احادیث کو رد کر دیتا ہے حالانکہ ان کی اس طرح کی مخالفت کرنے کے باوجود اپنے مذہب کی تائید میں ان کی احادیث کو دلیل بنا لیتا ہے ! ان کچھ فرقوں نے حضرت ابوھریرہ ؓ کی ایسی روایات کی نکیر کی جن کی مراد انہوں نے سمجھی ہی نہیں ۔ اور اللہ جل مجدہ کی مشیت کے مطابق میں ان میں سے کچھ کی نشاندہی کروں گا۔‘‘۔

 

قاری حنیف ڈار نے المستدرک للحاکم کی ایک روایت ذکر کی:حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے حضرت ابوھریرہؓ بلوا یا اور فرمایا کہ آپ جو حدیثیں بیان کرتے ہیں وہ ہم نے تو نہیں سنیں ۔ جس پر انہوں نے عرض کی کہ “امی جان ! آپ تو شیشہ کنگھی لیے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بناو سنگھار میں مصروف رہتی تھیں جبکہ کسی چیز نے بھی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میری توجہ نہیں ہٹائی۔ ” [ المستدرک للحاکم ، حدیث نمبر 6160] قاری حنیف ڈار نے اس روایت کو انتہائی غلط انداز میں پرویزیت کے طریقے پر پیش کیا جو اس کی علمی بد دیانتی پر دال ہے ۔ نیز اس حدیث کے ترجمے میں انتہائی بے ادبانہ تخاطب کے صیغے استعمال کیے گئے۔ جیسے ام المومنین رضی اللہ تعالی عنہا کے لیے “تو” کا لفظ استعمال کیا ۔ حالانکہ ہر زبان کے اپنے انداز ہوتے ہیں اہل عرب میں” آپ اور تو “کے لیے الگ الفاظ نہیں ہیں جبکہ اردو میں یہ فرق کیا جاتا ہے ۔ اس جگہ دلالت حال بھی یہی بتلا رہی ہے کہ یہاں تخاطب کا ترجمہ “تو” کی بجائے “آپ” کیا جائے۔ کیونکہ حضرت ابوھریرہ ؓنے کلام کاآغاز ” يَا أُمَّاهُ” اے امی جان کہہ کر کیا ۔ ایک بیٹا اپنی ماں کے لیے “تو” کی بجائے آپ کا لفظ استعمال کرتا ہے۔ہمارے معاشرے میں اپنی ماں کو “تو” کہہ کر مخاطب کرنے والے کو انتہائی غیر مہذب کہا جاتا ہے ۔ قاری حنیف ڈار نے اس حدیث میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے لیے حضرت ابوھریرہ ؓ کے الفاظ کو ” طعن تشنیع ” کے انداز میں پیش کرنے کی مذموم کوشش کی ۔ ان الفاظ کو اگر ایک تناظر میں دیکھا جائے تو یہ طعن نہیں بنتے ۔ ایک وفا شعار زوجہ اپنے خاوند کے لیے بناو سنگھار کرتے رہنے کو اپنے لیے فرض اور اعزاز سمجھتی ہے۔ ہمارے معاشرے کی عورتیں اگر ایک دوسرے کو طعنا بھی یہ کہیں کہ ” تم تو ہر وقت اپنے شوہر کے لیے شیشے سے ہٹتی ہی نہیں ہو ” تو وہ اسے طعنہ نہیں سمجھتی بلکہ فخر کرتی ہے کہ ہاں اپنے شوہر کے لیے ایسا کرنا میرا فرض ہے ۔ تو ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ جیس پاکیزہ طیبہ طاہرہ وفا شعار زوجہ کے لیے حضور نبی کریم ﷺ جیسے بے مثل و بے مثال عظیم شوہر کے مبارک قلب و نظر کی تسکین کے لیے سجنے ، شیشے اور سرمہ کی بات طعنہ کیسے ہو سکتی ہے ۔ بلکہ یہ تو ان کے لیے اعزاز ہے ۔ اور اس بات کا ام المومنین نے برا بھی نہیں منایا ۔ لہذا یہ کسی کی بد باطنی ہو سکتی ہے کہ وہ اس گفتگو کو ایک غلط پیرائے میں پیش کرے ۔ دوسرے تناظر میں ان الفاظ سے مراد یہ بھی ہے کہ آپ ہر وقت اپنے مبارک کاشانہ نبوت میں تشریف فرما رہتی ہیں جبکہ میں آپ کی بنسبت حضور نبی کریم ﷺ کی مبارک صحبت زیادہ میں رہتا ہوں۔ اور اس بات کی گواہی بخاری شریف کی یہ روایت ہے

«كُنْتُ أَلْزَمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِشِبَعِ بَطْنِي، حِينَ لاَ آكُلُ الخَمِيرَ وَلاَ أَلْبَسُ الحَرِيرَ، وَلاَ يَخْدُمُنِي فُلاَنٌ وَلاَ فُلاَنَةُ، وَأُلْصِقُ بَطْنِي بِالحَصْبَاءِ،

(میں اپنا پیٹ بھر کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن سے وابستہ رہا کرتا تھا نہ لذیذ کھانے مجھے نصیب تھے نہ عمدہ کپڑا،نہ میرا کوئی خادم اور نوکر تھا،جب بھوک ستاتی تو میں پیٹ کے بل کنکریوں پر الٹا لیٹ جایا کرتا تھا)۔ [الصحیح البخاری، حدیث 5432]۔

 

یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ حضور نبی کریم ﷺ کی صحبت میں رہنے کو ہی ترجیح دیتے تھے جو ان کے کثرت علم حدیث پر دال جس کی بدولت انہوں نے کثرت سے روایت کیا۔

اصحاب ، آئمہ محدثین کی آراء

 حضرت عبداللہ ابن عمرؓ فرماتے ہیں حضرت ابوھریرہ ؓ مجھے سے بہتر ہیں اور میں ان کی روایت سے سیکھتا ہوں۔ [تاریخ دمشق، ابن عساکر، دارالفکر بیروت۱۹۹۸، ۶۷: ۳۵۰]۔

 امام شافعی ؒ فرماتے ہیں حضرت ابوھریرہؓ اپنے زمانے کے معاصرین میں سب سے زیادہ حدیث کو یاد کرنے والے تھے۔ [تذکرۃ الحفاظ، علامہ الذھبی، دارالکتب العلمیہ ، بیروت، ۱۳۱۷ھ، ۱: ۳۶]۔

 امام ابن حجر عسقلانی ؒ فرماتے حضرت ابوھریرہؓ اپنے زمانے میں سب سے زیادہ حدیث کو یاد کرنے والے تھے۔[الاصابہ فی تمییز الصحابہ ، ابن حجرؒ،دارالنہضہ ، مصر، ۱۹۷۰، ۷: ۴۳۸ ]۔

 

 ان کے علاوہ سینکڑوں قد آور اور محترم آئمہ و محدثین نے حضرت ابوھریرہؓ پر زبان طعن دراز کرنے والوں پر ملامت کی ہے۔

حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ فرماتے ہیں: لا اشک ان اباہریرۃ سمع من رسول اللہ مالم نسمع مجھے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ابوہریرہ نے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ احادیث سنی ہیں جو ہم نے نہیں سنیں۔[الاصابۃ ، ۴: ۲۳۹۱]

 علامہ ابن القیم جوزی ؒ نے مفتی صحابہ کا ذکر کرتے ہوتے کہتے ہیں : ان میں زیادہ فتوی دینے والے بھی تھے اور کم فتوی دینے والے بھی۔بعض صحابہ فتوی دینے میں متوسط درجہ کے تھے ،حضرت ابو ہریرہ کو انہوں نے متوسط فتوی دینے والوں اور حضرت ابو بکر و عثمان و ابو سعید خدری وام سلمہ وابوموسی اشعری ومعاذ بن جبل وسعد بن ابی وقاص وجابر رضی اللہ عنہم کے زمرہ میں شامل کیا ہے جو شخص کہے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فقیہ نہ تھےوہ خود فقہ سے عاری ہے۔[اعلام الموقعین ج۱ص۹]۔

کیا ان اصحاب علم و دانش نے اس روایت کو حضرت عائشہ صدیقہ پر طعنہ قرار دیا ! کیا کسی نے بھی اسی بنا پر آپ کے بارے میں کچھ کہا! قطعا نہیں ۔ بلکہ سب نے ان کی تصدیق کی ہے۔

امام حاکمؒ فرماتے ہیں کہ مندرجہ ذیل اکابر صحابہ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیثیں روایت کی ہیں۔ زید بن ثابت،ابو ایوب انصاری، ابن عباس،ابن عمر،عبداللہ بن زبیر،ابی بن کعب،جابر ،عائشہ،مسور بن مخرمہ،عقبہ بن حارث،ابو موسٰی اشعری ،انس بن مالک،سائب بن زید،ابو رافع مولیٰ رسول اللہ ﷺ،ابو عمامہ بن سہل ،ابو طفیل ،ابو نضرہ غفاری ،ابو رہم غفاری ،شداد بن الہاد،ابو حدرد،عبداللہ بن حدرد اسلمی ،ابو رز ین عقیلی،واثلہ بن اسقع،قبیصہ بن ذویب،عمر وبن الحمق ،حجاج اسلمی ،عبداللہ بن عقیل،الاغرالجہنی،شرید بن سوید رضی اللہ عنہم اجمعین۔ یہ ہیں وہ جلیل القدر صحابہ جنہوں نے حضرت ابوھریرہ ؓ سے روایت کیا ۔ [ المستدرک للحاکم ، حدیث نمبر 6160] حضرت عمرفاروق ؓ اور حضرت ابوھریرہؓ حضرت عمرفاروق ؓ نے غلط فہمی کی بنا پر حضرت ابوھریرہؓ کے بارے میں فرمایا تھا ( اے دشمن خدا) تو یہ ایک غلط فہمی کی بنیاد پر تھا جس کے بعد ان کی دیانت داری پر یقین کرتے ہوئے انہیں گورنر بنا کر بھیجا تھا۔ [الإصابة في معرفة الصحابة ،۲: ۳۳]

حضرت ابوھریرہ ؓ کے حافظے کا امتحان : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی کثرت روایت کی وجہ سے بعض لوگوں کے دلوں میں کچھ شکوک وشبہات پیدا ہوگئے تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ مروان نے امتحان کی غرض سے آپ کو بلوایا۔مروان نے اپنے کاتب أبو الزعيزعة کو اپنے تخت کے پیچھے بیٹھا دیا۔ أبو الزعيزعة کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حدیثیں بیان کرتے رہے اور میں لکھتا رہا۔ مروان نے پھر سال کے شروع میں حضرت ابو ہریرہ کو دوبارہ بلوایا اور مجھے پردہ کے پیچھے بیٹھا یا آپ رضی اللہ عنہ سے انہیں حدیثوں کے دوبارہ سنانے کی فرمائش کی ۔آپ رضی اللہ عنہ نے اسی ترتیب سے سنائیں ، کمی کی نہ زیادتی، مقدم کو موخر کیا نہ موخر کو مقدم۔تو میں نے حافظہ کی تصدیق کردی۔[سیر اعلام النبلاء ج3ص522]۔

اس مختصر تجزیے کے بعد یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ حضرت ابوھریرہؓ کی ذات بابرکت ان تمام لزامات سے کہیں بلند و بالا ہے اور کیوں نہ کہ وہ ہمارے نبی کریم ﷺ کے ستاروں میں سے ایک روشن ستارہ ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں اور سبسکرائب کریں ۔

اسلامی معلومات ، روایتی معاشیات ، اسلامی معاشیات اور اسلامی بینکاری سے متعلق یو ٹیوب چینل
https://www.youtube.com/user/wasifkhansb?sub_confirmation=1

پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ

 

محمد ابوبکر صدیق

لیکچرر ، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد

August 30, 2020 – Muharram ul Haram 10, 1442H

………………………………………………………

یہ وہ نعرہ تھا جو تحریک آزادی کی روح تھا۔ ہمارے نظریاتی بزرگوں نے اسے ہماری نسل تک پہنچایا ۔ 80 کی دہائی میں مجھے اپنے بچپن میں 14 اگست کے جشن کے وقت یہ نعرہ یاد ہے۔ یہ نعرہ اپنے اندر پاکستان کے نظریاتی مقاصد کی جھلک رکھتا ہے۔ لبرلز و سیکولرز نے آہستہ آہستہ اس نعرے کو ختم کیا تاکہ اگلی نسلوں تک پاکستان کا اسلامی نظریاتی پیغام نہ پہنچ پائے۔

پاکستان اس لئے نہیں بنا تھا کہ ابلیسی فکر کاشت کی جائے گی۔ شیوخ الحدیث، جید علما و مشائخ، اہل نظر صاحب کردار اسلاف جو انگریزی اور انگریز کی چاکری کے بھی مخالف تھے۔ وہ سوٹ، بوٹ، اور ہیٹ جیسی انگریزی نشانیوں سے بھی نفرت کرتے تھے۔ محدث اعظم نعیم الدین مراد آبادی، پیر سیال ، پیر آف ماننی شریف اور پیر سید جماعت علی شاہ رحمھم اللہ جن کی دست بوسی کو لاکھوں لوگ جمع رہتے تھے۔ انہوں نے برطانیہ پلٹ سوٹڈ بوٹڈ قائد اعظم محمد علی جناح کو ایویں ای اپنا لیڈر مان لیا تھا کہ چلو سیکولر ملک بنائیں جس میں “ابلیسی سیکولر نسلیں” اگائی جائیں گیں۔ نہیں نہیں بلکہ وہ اس لئے آ کھڑے تھے کہ انہیں مسٹر جناح میں للہیت و اخلاص اور امت کا درد نظر آگیا تھا۔ انہیں بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے حکم آگیا تھا کہ محمد علی جناح میرا سپاہی ہے۔

پاکستان کی کہانی 1857 کی جنگ آزادی سے شروع ہوتی ہے۔ اس جنگ آزادی کے روح رواں برصغیر کے علامہ فضل حق خیر آبادی علیہ الرحمہ سمیت دیگر ہزاروں جید علما تھے۔ جو علم و عمل دونوں میدانوں کے عظیم رجال کار تھے۔ آزادی کی شمع لے کر اٹھے اور جام شہادت نوش کیا۔ حتی کہ ان مجاہدین کی لاشوں کا ایک درخت بنایا گیا۔ تاکہ لوگوں میں خوف و ہراس پیدا ہو اور پھر کوئی علم حریت لے کر نہ اٹھے۔بیشتر مجاہدین علما کو توپوں کے دہانے پر باندھ کر گولوں کے ساتھ شہید کیا گیا۔ لاکھوں فرزندان اسلام نے پاکستان کے پودے کی زمین کو ہموار کرنے کے لئے اپنا لہو چھڑکا ہے۔ جب فرزندان توحید اپنے لہو سے آزاد وطن کی کہانی لکھ رہے تھے تو ان موجودہ سیکولرز و لبرلز کے “نظریاتی بزرچمہر بڑے” اس وقت دین و ایمان بیچ کر انگریزوں کے تلوے چاٹ رہے تھے۔ مجاہدین کہاں چھپے ہیں؟ کیا کرنے والے ہیں؟ کون کون ہیں ؟؟ کی خبریں اپنے انگریز آقاوں کو دے کر جاگیریں بنا رہے تھے۔ جتنا بڑا غدار ملت ہوتا تھا انگریز اس کہتے جاو فلاں سے فلاں وقت تک گھوڑا دوڑاو جتنی زمین تک گھوڑا دوڑے زمین تمہاری۔ یہ ہیں مادہ پرست سیکولرز کے مفاد پرست ملت فروش بڑوں کی حقیقت۔

چودہ اگست 1947 کو پاکستان کی نعمت ملی لیکن اس نعمت کا صدقہ بھی لاکھوں ماوں، بہنوں، اور بیٹیوں نے اپنی عزتوں کی قربانی کی صورت دیا ہے۔ فرزندان توحید کے مبارک لاشے اس پر وارے گئے۔ کیا صرف اس لئے کہ ایسا وطن ملے جہاں ابلیسی نظام کا نفاذ ہو اور لچرپن کے حامل سیاہ رو، سیاہ کردار کھل کر مادر پدر آزاد نظام لاسکیں۔ نہیں بالکل بھی نہیں۔ وہ جاں نثار اسلاف، مائیں، بہنیں اور بیٹیاں اس لئے قربان ہوئے کہ خدا کی بستی بسائی جاسکے۔

اپنے عظیم محسنوں کی قربانیوں کو یاد کی جئے۔ اپنے بچوں کو ان مبارک اسلاف کی قربانیوں کی کہانی سنائیے تاکہ ان میں اپنی اگلی نسلوں کے لئے کچھ کر گزرنے کا جذبہ پیدا ہو۔ محسنوں کو بھلا دو گے تو قوم مزید محسن پیدا کرنے سے بانجھ ہوجائے گی۔ اپنے بچوں کی گھٹی میں شامل کی جئے کہ اپنے اسلاف کے مبارک کردار پر نہ خود کیچڑ اچھالیں اور نہ کسی کو اس کی اجازت دیں۔ انہیں نصیحت کی جئے کہ ایسی ہر تحقیق کو دیوار پر دے مارنا جو تمہارے اسلاف کو تمہاری نظر میں ” بونا ” کرنے کی ناپاک جسارت کرے۔ موجودہ دشمن کا یہ اہم ہتھیار ہے کہ وہ گھڑنتو تاریخ کے ذریعے شیطانی وساوس کی بنیاد پر اظہار رائے کی آزادی کی آڑ میں محسنان اسلام و پاکستان کے کردار کو داغ دار کرنے کے لئے پیش پیش رہتا ہے۔ ابلیس نے انہیں یہ اصول دے دیا ہے کہ جتنا بڑا سلف ہو اس پر اتنی بڑی تہمت لگاو اور اسے اتنی بار دہراو کہ بڑا جھوٹ بڑا سچ بن جائے۔ کیوراسٹی کے مارے نوجوان ہر نئی انوکھی بات کو نہ صرف تسلیم کرتے ہیں بلکہ فورا اسے اچھال دیتے ہیں خواہ اس سے ان کا اپنا پیٹ ہی ننگا کیوں نہ ہو۔ اپنے اسلاف کی عظمتوں کی داستانوں کو اپنی نئی نسل میں منتقل کی جئے تاکہ وہ بھی اگلی نسلوں کے لئے خود کو صاحب کردار سلف بناسکیں۔

نئی نسل کو بتائیے پاکستان مفت میں نہیں ملا تھا۔ ان کے اسلاف میں جس نظریے نے قربانیاں دینے کا جذبہ بھرا تھا وہ نظریہ تھا: “”پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ””۔

گلستاں کو جب بھی خوں کی ضرورت پڑی تو گردن ہماری کٹی

پھر بھی کہتے ہیں یہ زاغ و زغن چمن ہمارا ہے تمہارا نہیں

(شاعر سے معذرت کے ساتھ) 

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں اور سبسکرائب کریں ۔

اسلامی معلومات ، روایتی معاشیات ، اسلامی معاشیات اور اسلامی بینکاری سے متعلق یو ٹیوب چینل
https://www.youtube.com/user/wasifkhansb?sub_confirmation=1

 صحابہ کرام  اور اہل بیت اطہاررضوان اللہ علیھم اجمعین کی اہمیت وعظمت

 

محمد ابوبکر صدیق

لیکچرر ، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد

August 30, 2020 – Muharram ul Haram 10, 1442H

………………………………………………………

خاتم الانبیا و المرسلین حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تبلیغ کو گزشتہ انبیاء کی تبلیغ سے کوئی نسبت نہیں دی جاسکتی ۔۔۔ کیونکہ نبوت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کا منہج، اس کا دائرہ کار، سب کچھ یکتا ہے ۔۔۔۔صرف آپ کو ہی الیوم اکملت لکم دینکم کے خطاب سے نوازا گیا ہے ۔۔۔ اور صحابہ وہ ہیں جنہیں تحصیل تکمیل دین کی سند عطا کی گئی اور انہی سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مشن نبوت کی تکمیل کی گواہی لی ۔اور ان میں سے کسی بھی ایک کی اقتداء کامل کو ہدایت قرار دیا۔ یہ عظمتیں تاریخ انسانی میں نبوت کے بعد کسی بھی بشر کو نہیں ملیں۔ اللہ تعالی نے خودیہ فرما کر انہیں عزتوں سے نواز دیا  

 أُولَئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحٍ مِنْهُ وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ أُولَئِكَ حِزْبُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (22) ۔المجادلة

  (یہ وہ (اصحابِ رسولﷺ) ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے (پتھر پر لکیر کی طرح) ایمان لکھ دیا ہے اور نصرتِ غیبی سے ان کی تائید فرمائی اور وہ انہیں ایسے باغات میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں چلتی ہیں،وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے۔ وہ اللہ کا لشکر ہیں اور سن لو اللہ کا لشکر ہی کامران ہونے والا ہے۔)

 

مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا ۔الفتح ۲۹

  (’’محمدؐ، اللہ کے رسول ہیں اور وہ لوگ جو ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر بڑے سخت ہیں اور آپس میں رحم دل ہیں، تو انہیں رکوع اور سجدے کرتے ہوئے دیکھے گا،وہ اللہ کا فضل اور اس کی خوشنودی تلاش کرتے ہیں۔‘‘ )

 

هُوَ الَّذِي أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِينَ (62) وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ إِنَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (63) ۔الانفال

  (ووہی ہے جس نے آپ کو (براہ راست) اپنی مدد کے ذریعے اور اہل ایمان کے ذریعے طاقت بخشی (جو آپ کی پیروی کرتے ہیں)اور (اسی نے) ان (مسلمانوں) کے دلوں میں باہمی الفت پیدا فرما دی۔ اگر آپ وہ سب کچھ جو زمین میں ہے خرچ کر ڈالتے تو (ان تمام مادی وسائل سے) بھی آپ ان کے دلوں میں (یہ) الفت پیدا نہ کر سکتے لیکن اللہ نے ان کے درمیان (ایک روحانی رشتے سے) محبت پیدا فرما دی۔ بیشک وہ بڑے غلبہ والا حکمت والا ہے۔

  (صحابہ کرام کی خطاوں کو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں ہی معاف کردیا گیا بلکہ غزوہ میں خطا ہوئی تو بعد میں بارگاہ لایزال سے معافی کی نوید بھی جبریل امین لائے۔ غزوہ بدر کے قیدیوں سے متعلق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے مشورے پر عمل کیا اگرچہ بعد میں واضح ہوا کہ اللہ جل مجدہ کی رضا سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے مشورے کے موافق تھی لیکن اس کے باوجود رضی اللہ عنھم ورضوا عنہ کی نوید سعید انہیں ہی سنائی گئی۔ یہ سارے معاملات آنے والی امت کے لیے سبق تھے کہ دیکھ لو تم نے جن مبارک ہستیوں کی تقلید کرنی ہے وہ نگاہ ناز صلی اللہ علیہ وسلم کے پروردہ ہیں جنہیں کامیابی کی سند لامکاں سے عطا ہوئی ہے۔ آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی کلاس اور صف اول کے شاگرد صحابہ کرام ہی ہیں جن سے متعلق گمراہی یا دنیا کی رغبت کا صرف وہم و گمان ہی گمراہ کن ہے۔ رحلت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اگر استغفر اللہ العظیم باقی صحابہ پر گمراہی کا داغ لگاتے ہیں تو پھراستغفر اللہ العظیم کسی اور کے راہ راست پر رہنے کی کیا دلیل رہ جاتی ہے۔ جس طرح زبان نبوت سے فضائل حضرت علی شیرا خدا رضی اللہ تعالی عنہ کے ثبوت ہیں اسی طرح اسی مبارک زبان حق ترجمان سے دیگر اصحاب کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے بارے میں انفرادی اور اجتماعی فضائل بھی موجود ہیں۔ اگر صف اول کے صحابہ پر کیچڑ اچھالا جاتا ہے تو یہ درحقیقت خود شان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ ہے۔ حالانکہ یہی وہ صحابہ ہیں جن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجة الوداع کے موقع پر اپنے مبارک مشن کی تکمیل کی شھادت لی تھی اور اپنے کریم رب سے مخاطب ہو کر عرض کی تھی کہ مالک تو گواہ رہنا ۔ جن کی شھادت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کریم رب کو گواہ بنایا گیا اگر وہ ہی گمراہ ہوگئے تھے تو پھر جناب اسلام 1400 سال پہلے ہی ختم ہوچکا تھا معاذ اللہ۔

صحابہ و اہل بیت میں باہم محبت و مودت

تاریخ یعقوبی میں ہے کہ حضرت ابوبکرصدیقؓ،سبط ِ رسولؐ سیدنا حسن بن علی ؓ کو اپنے کندھوں پر بٹھا کر ان سے خوش طبعی کرتے اور فرماتے۔

بأبِيْ، شَبِیْه بِالنَّبِيِّ، غَیْرُ شَبِیْه بِعَلِيٍّ‘‘ (ج۲ ؍ص۱۱۷)۔

  (میرا باپ فدا ہو، یہ تو حضرت نبی کریمﷺ کے مشابہ ہے، حضرت علی کے مشابہ نہیں ہیں

امیر المومنین حضرت عمرؓ نے تقسیم کا حکم دیااور بذاتِ خود حضرت حُسینؓ کو ایک ہزار درہم پیش کئے جبکہ اپنے فرزند عبداللہؓ کو فقط پانچ سو درہم دئے جانے کا حکم دیا۔ عبداللہ ؓ نے عرض کیا کہ اے امیرالمومنین’’میں ایک مضبوط آدمی ہوں۔اُس وقت بھی تلوار سے لڑتا تھا جب سرکار دوعالمؐ حیات تھے اور حُسین ؓ ایک بچہ تھا۔پھر یہ امتیاز کیوں۔‘‘ امیرالمومنین ؓ حضرت عمر ؓ نے فرمایا، ’’حُسین ؓ کی برابری کرنی ہے تو جاو پہلے حُسینؓ کے نانا جیسا نانا لاو، ان کی نانی جیسی نانی لاو، ان کے باپ جیسا باپ لاو، ان کی ماں جیسی ماں لاو، ان کے چچا جیسا چچا لاو، ان کی پوپھی جیسی پوپھی لاو، ان کی خالہ جیسی خالہ اور ان کے ماموں جیسے ماموں لاو۔

‘‘حضرت عمرؓ کے دور ِ خلافت میں جب ایران فتح ہواتو وہاں گرفتار کی گئی ایران کے بادشاہ نوشیروان عادل کی پوتی بی بی شہر بانو کی قسمت کا ستارہ بھی چمک اٹھا۔مال غنیمت کے ساتھ شہر بانو بھی امیر المومنین ؓ کے سامنے پیش کی گئیں۔ بی بی شہر بانو نے ہزار ہا روپے کی مالیت سے بنا ہیرے جواہرات کا لباس زیب تن کیا تھا۔ سب منتظر تھے کہ امیرالمومنین ؓ کے حکم سے یہ حور کس کو ملتی ہے۔ یہاں بھی حضرت عمرؓ نے حُسینؓ کی عظمت کا خیال کیا اور فرمایا، ’’آج تک یہ دنیا کے بادشاہ کی پوتی تھی ، اب میں اس کو دین کی شہزادی بناتا ہوں۔اس طرح حضرت عمر ؓ نے شہر بانو کو حضرت حُسین ؓ کی خدمت میں پیش کیا۔

امیرالمومنین حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے کوفہ کی جامع مسجد میں خطبہ ارشاد فرمایا اور اس میں لوگوں کو مخاطب کرکے پوچھا: أیھا الناس أخبروني من أشجع الناس؟ ”لوگو! مجھے بتاؤ کہ سب سے بڑھ کر شجاع اور دلیر کون ہے؟” اُنہوں نے جواب دیا: اے امیرالمومنین!آپ ہی شجاع ترین انسان ہیں۔ آپ نے فرمایا:جہاں تک میرا معاملہ ہے اس میں اتنی حقیقت ہے کہ ) میرا جس کسی دشمن سے مقابلہ ہوا میں نے حساب برابر کردیا لیکن تم مجھے أشجع الناس کے متعلق بتاؤ کہ وہ کون ہے؟ حاضرین نے کہا : پھر ہم نہیں جانتے، لہٰذا آپ ہی بتائیں کہ وہ کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ابوبکر رضی اللہ عنہ اس کے بعد آپ نے حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کو کفارِ قریش کی گرفت سے چھڑانے کی پاداش میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے المناک انجام اور آپ کے صبر و استقلال کا واقعہ سنایا اور پھر اتنا روئے کہ آپ کی چادر تر ہونے لگی۔ پھر آپ نے کوفی سامعین سے کہا: ”میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ مجھے بتاؤ : ” مؤمن ِآلِ فرعون بہتر تھا … یا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ؟” حاضرین کوئی جواب نہ دے سکے تو آپ نے فرمایا: ”تم جواب کیوں نہیں دیتے، اللہ کی قسم! حضرت ابوبکر رضی اللہ ع

نہ کی یہ گھڑی جس میں اُنہوں نے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کفارِ قریش سے چھڑانے کی پاداش میں خوفناک مار کھائی تھی) آلِ فرعون کے مؤمن سے بہتر ہے،کیونکہ وہ اپنا ایمان چھپائے پھرتا تھااور ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے ایمان کا اعلان کررہا تھا۔” الکنز: رقم

۳۵۶۹۰)

خلاصہ: زبان نبوت صلی اللہ علیہ وسلم سے اگر اہل بیت اطہار کو سمندر میں کشتی کی مانند قرار دیا گیا کہ اسی پر سوار ہوگے تو بچو گے تو

 اسی مبارک زبان حق ترجمان سے صحابہ کو ستارے بھی کہا گیا کہ جنہیں دیکھ کر کشتی سمندر میں منزل کا تعین کرتی ہے اور منزل پر پہنچتی ہے۔ اس لیے اہل بیت اطہار اور صحابہ کرام میں سے کسی ایک کو چھوڑ دینا گمراہی کا سبب ہے۔ حق صرف یہی ہے کہ دونوں کا دامن مضبوطی سے پکڑے رکھو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں اور سبسکرائب کریں ۔

اسلامی معلومات ، روایتی معاشیات ، اسلامی معاشیات اور اسلامی بینکاری سے متعلق یو ٹیوب چینل
https://www.youtube.com/user/wasifkhansb?sub_confirmation=1

فقہاء و صوفیاء اسلاف کی کتب کے ساتھ ظلم

September 01, 2020

تحریر : محمد ابوبکر صدیق

……………………………………

پرانے زمانے میں جب ابھی پرنٹنگ پریس کا تصور نہیں تھا کسی کتاب کے دیگر نسخے ہاتھوں سے قلم و دوات کے ساتھ لکھنے پڑتے تھے۔ دولت کی ہوس میں مبتلا یا کسی عالم سے بغض و حسد رکھنے والے لوگ جید علما کی کتب تحریر کرتے لیکن اس کی قیمت بڑھانے کے لئے یا انہیں بدنام کرنے کے لئے اپنی جانب سے چند باتیں خود سے اضافی لکھ دیتے تھے جو صاحب کتاب نے نہیں لکھی ہوتی تھیں۔ لیکن وہ باتیں بڑے اہم معاملات پر ہوتی تھیں۔ چنانچہ دوسرے شہروں میں جاکر وہ شہرہ یہ کرتے کہ فلاں امام نے فلاں بات لکھی ہے۔ لوگ حیران ہوجاتے کہ امام صاحب ایسی بات کیسے کر سکتے ہیں۔ لوگ کتاب خریدتے۔ اس طرح اس تحریف شدہ کتب کے مزید قلمی نسخے تیار ہوتے۔ تاہم یہ تحریف بس چند اضافی جملوں کی حد تک ہوتی تھی۔ بعد میں جب پرنٹنگ کا زمانہ آیا تو مارکیٹ میں وہی تحریف شدہ نسخے کثرت سے موجود ہونے کی وجہ پرنٹ ہو کر مارکیٹ میں پھیل گئے۔ شیخ ابن عربی کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ چنانچہ علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں۔ خلاصہ “” امام شعرانی علیہ الرحمہ کے حاسدین نے ان کی کتب میں کفریہ کلمات کا اضافہ کرکے ان پر افتراء باندھا۔ اس وقت کے علما امام شعرانی کے پاس جمع ہوئے اور اصلی نسخے کے ساتھ چیک کیا تو پتہ چلا کہ وہ کفریہ کلمات امام شعرانی کے اپنے نسخے میں نہیں تھے۔

امام سیوطی کہتے ہیں کہ اصحاب تصوف جو اصطلاحات استعمال کرتے ہیں وہ فقہاء کرام کی اصطلاحات سے ہٹ کر ہوتی ہیں۔ فقہا کچھ سمجھتے ہیں اوراہل تصوف کچھ اور مراد لیتے ہیں۔ زیادہ تفصیل کے لئے الشيخ الأكبر كے دفاع میں دو کتب: 1۔ الرد المتین علی منتقص العارف محی الدین لسیدی عبد الغنی النابلسی۔ 2۔ تنبيه الغبي بتبرئة ابن العربي للحافظ السيوطي. ملاحظہ کی جئے۔ 

الدرالمختار مع ردالمحتار، 238,239/4, دارالفکر- بيروت

یہ ہے شیخ ابن عربی پر امام ابن عابدین کا تبصرہ ۔ اہل تصوف اس بارے میں زیادہ مظلوم ہوئے ہیں۔ ان کی کتب میں بعض کلمات جو شریعت کے متباین ہیں یا تو بعض یہودیوں نے وہ کلمات ان کی کتب میں داخل کر دیئے یا پھر جاہل و زندیق صوفیاء نے۔ تاکہ اپنا غلط موقف درست ثابت کیا جاسکے یا مخالفین کو چپ کرایا جاسکے۔ چنانچہ یہی ظلم خواجہ خواجگاں حضرت معین الدین چشتی اجمیری علیہ الرحمہ کے ملفوظات کے ساتھ بھی ہوچکا ہے۔ کسی نے فوائد الفواد جو کہ آپ کے ملفوظات پر مبنی کتاب ہے، میں “” چشتی رسول اللہ “” والا واقعہ شامل کردیا ۔ حالانکہ ان ملفوظات کے راوی حضرت نصیرالدین چراغ دھلی ہیں جو شرعی امور میں حد درجہ احتیاط کے عادی تھے حتی کہ اس ان معاملات میں کوئ ان کے شیخ کا حوالہ بھی دیتا تو بلاتکلف فرماتے (اس میں ) قول شیخ حجت نہیں ھے قرآن اور حدیث سے دلیل لاؤ اور ان کے شیخ حضرت نظام الدین اولیاء رح ان کی اس بات پر مسرت اور تصدیق بھی فرماتے یہ کیسے ممکن ھے کہ اتنا محتاط انسان اس ملفوظ کے مضمرات کی طرف متوجہ نہ ھو۔ نیز یہ واقعہ تو اس لئے بھی جھوٹا ہے کہ حضرت معین الدین اجمیری علیہ الرحمہ کی حیات میں “” چشتی سلسلہ کی اصطلاح ابھی معروف ہی نہیں ہوئی تھی” تو آپ کے سامنے کوئی یہ کلمہ کیسے کہہ سکتا ہے ۔ یہ بعد میں کسی بد بخت نے شامل کیا۔ جہاں تک تعلق ھے ملفوظات کی کتابوں کا ان پر تو جامعات کی سطع پر تحقیقات ھو چکی ھیں ۔ ڈاکٹر نثار احمد فاروقی ڈاکٹر حبیب احمد ڈاکٹر خلیق نظامی پروفیسر محمد اسلم اور دیگر کئ ایک محقق ” فواد الفواد” کے علاوہ باقی سب ملفوظات کو جعلی سمجھتے ھیں۔ اس پر مزید تحقیق کے لئے یہ لنک ملاحظہ کریں۔

 خلاصہ یہ کہ جن فقہا نے شیخ اکبر کے خلاف فتوے دئے ان کی بنا فقہی اصطلاحی معانی مراد تھے جو کہ شیخ اکبر کی مراد نہ تھے جیسے امام سیوطی نے لکھا ہے۔ دوسرا کام ان بدباطنوں کا ہے جنہوں نے حسد یا دولت کی لالچ میں کفریہ کلمات کا اضافہ کیا ہے۔ آپ خود سوچیں جو بات ہم جیسے نالائقوں کو ہضم نہیں ہوتی وہ بات اتنا بڑا صاحب نظر عالم کیسے کہہ سکتا ہے۔ اللہ تعالی ہم پر رحم فرمائے۔شیخ اکبر علیہ الرحمہ کو سمجھنے کے لئے ضروری کہ محقق پہلے شیخ اکبر کے  خاص پیراڈائیم کو سمجھے۔ ورنہ وہ ان سے متعلق غلط نتائج پر پہنچے گا۔ ڈاکٹر زاہد صدیق مغل صاحب نے نہایت عمدہ انداز میں شیخ اکبر کے تناظر پر بحث کی ہے۔ اس مضمون کے لئے یہاں کلک کریں۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں اور سبسکرائب کریں ۔

اسلامی معلومات ، روایتی معاشیات ، اسلامی معاشیات اور اسلامی بینکاری سے متعلق یو ٹیوب چینل
https://www.youtube.com/user/wasifkhansb?sub_confirmation=1

 

علمائے حق ، دین بے زار لبرلز اور سائنس

محمد ابوبکر صدیق

لیکچرر ، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد

قسط اول

 

کیا واقعی علما سائنس و ٹیکنالوجی کے خلاف ہیں یا اس اچھوتے علم کو نہیں جانتے ؟ 

یہ مفروضہ لبرلز اور دین بیزار طبقے نے از خود گھڑا ہوا ہے تاکہ وہ علما پر زبان درازی کر سکیں۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

حقیقت کیا ہے؟

سائنس اور ٹیکنالوجی ایک ایسا علم ہے جو بتدریج ترقی کرتا ہے ہر لمحے اس میں بدلاو ہے اور یہی بدلاو اس سے متعلق شرعی احکام میں بدلاو کا سبب ہے۔ اور یہ ایک عقلی بات ہے جو آسانی سے سمجھی جاسکتی ہے۔

لبرل اور دین بیزار کہتے ہیں مولوی پہلے اسپیکر کی مخالفت کرتے تھے لیکن بعد میں مان گئے ۔ اور اس بات کو لیکر ڈھنڈھورا پیٹتے ہیں۔ حقیقت کیا ہے تفصیل آگے آئے گی۔ تاہم سردست اس سوال کو دیکھتے ہین کہ اسپیکر کی ایجاد اتنی دیر سے کیوں ہوئی حالانکہ سائنس تو پہلے بھی موجود تھی ؟ جیسے یہ سوال انتہائی فضول اور جاہلانہ لگتا ہے بالکل ایسا ہی لبرل کا وہ اعتراض فضول اور جاہلانہ ہے۔ ۔۔۔۔ اس بحث سے اصول یہ نکلتا ہے کہ علم میں تدریج ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ امور کی حقیقت کھلتی ہے۔(جبکہ لبرل و دین بیزار طبقہ اس اصول سے جاہل ہے)۔

سائنس و ٹیکنالوجی نے عبادات، جنایات اور معاملات الغرض انسانی زندگی کے ہر باب میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان سب میں اہم اور نزاکت پر مبنی احکام عبادات اور جنایات کے ہیں۔ علمائے حق ان دو معاملات میں سائنس و ٹیکنالوجی کے کردار کو آنکھ بند کر کے قبول نہیں کرتے کیونکہ اس میں عبادات کے رد و قبول کا معاملہ ہوتا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ انسان کی ساری عبادات ضائع جاتی رہیں اور قیامت کے دن نامہ اعمال غارت ملے۔ اس لیے اس میں احتیاط برتی جاتی ہے۔(لبرل یا دین بیزار چونکہ عبادات کو اہم نہیں سمجھتے اس لیے انہیں احتیاط سے بھی کوئی لگاو نہیں ۔ انہیں صرف دنیا کی دولت اور سفلی خواہشات کی نزاکت کا احساس ہے بس۔)

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب سائنس و ٹیکنالوجی کا معاملہ واضح ہوتا جاتا ہے تو اس حساب سے علما سائنس و ٹیکنالوجی کے کردار کو رد و قبول کرتے آئے ہیں۔ مثلا سپیکر ۔۔۔۔ جب لاوڈاسپیکر ایجاد ہوا تو علما نے اسپیکر کی مطلق مخالفت نہیں کی تھی بلکہ علما اس وقت بھی اپنی تقاریر میں اسپیکر کا استعمال کرتے تھے۔ علما نے صرف دو امور آذان اور نماز میں تلاوت اور تکبیرات میں اسپیکر کے استعمال کی اجازت نہیں دی تھی کیونکہ شرعی اصول یہ تھا کہ یہ ایسی عبادت ہے جو انسان کی حقیقی آواز میں ہی درست قرار پاتی ہے۔ مصنوعی آواز میں عبادت کا کوئی تصور نہیں۔ اب سوال یہ تھا کہ اسپیکر سے پیدا ہونے والی آواز کی اصلیت کیا ہے ؟
اس سوال کو لے کر علمائے حق نے علمی بحث کے وہ دروازے کھولے جو خود سائنس کے محققین کے لیے نئے باب تھے۔ علمائے حق نے “آواز اور گلے” سے متعلق جن درج ذیل  پہلووں پر بحث کی اُس پر اُس وقت کے سائنس دان خود سکوت میں تھے۔

What is definition of Voice?
What is difference in the pitches of human real voice and voice generated in loud-Speaker?

Human voice travels in Ordinary waves while loud-speaker voice travels in electric waves. Will both voices be considered same voice?

What are the differences in pitch and vibration of both voices?

Echo and its reality, Analysis of Human Voice

اس بارے میں اس وقت کے درویش صفت علمائے حق نے تو سائنس کے اصولوں پر ٹھیک ٹھاک بحث کی جس سے شاید یہ لبرلز اور دین بیزار آگاہ بھی نہیں ہونگے۔ آواز سے متعلق یہ وہ جہات تھیں  جن سے اس وقت کے سائنس دان خود بھی آگاہ نہیں تھے۔ تاہم  وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب معاملہ واضح ہوا کہ لاوڈ سپیکر سے نکلنے والی آواز اور انسان کی آواز میں صرف پِچ اور وائبریشن   کا فرق ہے۔ اس کے ساتھ دیگر پائے جانے والے فروق عبادات کو متاثر نہیں کرتے لہذا عبادات میں بھی اسپیکر کا ستعمال جائز ہے۔۔۔۔۔۔۔ لیکن کچھ علما نے علمی بنیاد پر یہ اجازت نہیں دی ۔ کیونکہ جن اختلافات کو انہوں نے بنیاد بنایا سائنس دان خود بھی انہی اختلافات میں تقسیم تھے۔

 لبرلز اور دین بیزار طبقے کی علما کے خلاف ہرزہی سرائی کی یہ وہ حقیقت ہے جسے میں نے یہاں مختصر انداز میں قلم بند کیا ہے۔

علمائے حق نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے آلات کو صرف اسی خاص تناظر میں جانچا ہے۔ جتنی علمی اور باریک بینی سے علما نے بحث کی ہے یہ لبرلز تو شاید اس میں استعمال کی اصطلاحات کو بھی نہ پڑھ سکیں ۔۔زیادہ دور نہ جائیں تو اس صدی کے مجدد اعلی حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلی علیہ الرحمہ کی کتاب زمین ساکن ہےکا مطالعہ کر کے اپنا شوق پورا کرلیں کہ جو شاید ان کم عقلوں سے پڑھی ہی نہ جائے۔ لیکن اعلی حضرت عظیم البرکت نے اس میں سائنسی دلائل کا انبار لگا دیا کہ زمین ساکن ہے اور آپ کے بعد کے کئی مغربی ماہرین فلکیات نے بھی یہی موقف اپنایا کہ زمین ورج کے گرد نہین گھومتی۔ یہ کتاب اپنے دور کی معرکۃ الآراء تصنیف تھی کہ جب سائنسی آلات ایجاد بھی نہیں ہوئے تھے لیکن نظام شمسی پر اس قدر دلائل پیش کیے گئے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔۔۔ لیکن ان کی ہٹ دھرمی یہی ہے کہ  علما سائنس کے مخالف ہیں۔

 

……………………………………………………………………………………………………………………………………………………………………….

 

قسط دوم (آخری قسط)۔

قمری کیلینڈر کے معاملے کو لے کر حسب معمول جاہل/کم علم وزرا کا کہنا ہے ” ہمیں علما کو سمجھانا ہوگا کہ ٹیکنالوجی اسلام کے خلاف نہیں ” ……. جن بے وقوف لوگوں کو ابھی تک وجہ نزاع ہی سمجھ نہیں آئی وہ بے وقوف کیا سمجھیں گے اور کیا سمجھائیں گے۔ علمائے حق سائنس و ٹیکنالوجی کا کافی فہم رکھتے ہیں ۔ مسئلہ سائنس کی مخالفت کا ہے ہی نہیں۔

اصل مسئلہ کیا ہے ؟

حقیقی مسئلہ یہ ہے کہ کیا چاند کو دیکھ کر یقینی علم حاصل کرنے کے بعد شرعی حکم پر عمل کیا جائے یا حساب لگا کر ظنی علم کی بنیاد پر عمل کیا جائے؟

علمائے حق کے نزدیک اصل دلیل تو نص ہے کہ حدیث میں رویت کا لفظ آیا ہے جو بدیہی اور صریح لفظ ہے۔ اس کے ساتھ معاون دلیل کے طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ رویت سے یقینی علم حاصل ہوتا ہے اور صرف اسی پر ہی شرعی امر کا دارو مدار ہے۔ قمری کیلنڈر چونکہ شمسی کیلینڈر کی طرح یقینی نہیں ہے بلکہ اس میں اندازہ ہے جس میں غلطی کا امکان ہے۔ اس وجہ سے قمری کیلنڈر کو شرعی احکام کے لیے بنیاد نہیں بنایا جاسکتا۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا قمری کیلینڈر یعنی فلکیات کے حساب کی بنیاد پر گواہوں کی گواہی رد کی جاسکتی ہے؟

اس بارے میں شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل جناب ڈاکٹر محمد مشتاق صاحب کی رائے یہ ہے “ فلکیات کا علم بعض امور میں یقینیات میں داخل ہوچکا ہے تو کئی علما کا موقف ہے کہ کم از کم ان امور میں حسابات سے تعارض حقیقی کی صورت میں گواہ کی گواہی مسترد کی جاسکتی ہے۔ البتہ جہاں ابھی تک فلکیات کا علم ظنیات میں شامل ہے وہاں بدستور گواہ کی گواہی کو فوقیت حاصل ہوگی۔ ہمارے نزدیک یہی موقف درست ہے۔

میری رائے میں اس کے ساتھ ساتھ یہ جہت بھی اہم ہے کہ گواہوں کی گواہی کا فلکی حسابات کے ساتھ فرق کا لیول کیا ہے ؟ معمولی یا غیر معمولی ۔ جیسے چند گھنٹے یا ایک دن یا اس سے زائد کا فرق ۔ علم فلکیات مغربی ممالک کی نسبت مجموعی اسلامی دنیا میں ابھی ترقی پذیر ہے۔ تاہم اسلامی دنیا میں پاکستان میں قدرے بہتر ہے۔اس لیے فلکیات کے حسابات کو بطور قرینہ لیا جاسکتا ہے اور مخالفت کی صورت میں گواہیوں کو رد کیا جا سکتا ہے۔ (یہ اس مسئلے کا سلبی پہلو ہے)۔

جہاں تک ایجابی پہلو کی بات ہے کہ کیا صرف فلکی حساب یا قمری کیلینڈر کی بنیاد پر امر شرعی کا اطلاق کیا جا سکتا ہے؟

تو اس بارے میں علما کا یہ فتوی ہے کہ چاند کو انسانی آنکھ سے دیکھنا لازمی ہے اور ضروری ہے تاکہ یقینی علم حاصل ہوجائے۔ صرف قمری کیلینڈر یا فلکی حساب کی بنیاد پر شرعی حکم کا اطلاق نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ علم بہر حال ظنی ہے اور ظن کی بنیاد پر شرعی امور کا مدار نہیں ہے۔ ماہرین فلکیات خود بھی یقین سے نہیں کہتے کہ یہ ہوگا اور ایسے ہوگا اور اس وقت ہوگا ۔۔۔ بلکہ وہ کہتے ہیں ممکن ہے کہ ایسا ہو فلاں وقت ہو ۔۔۔۔۔ تو اس صورت میں شریعت کے معاملات ظن و تخمین پر نہیں چلائے جا سکتے۔

پاکستان یا دنیا کے کسی بھی ملک میں علم فلکیات کتنی ہی ترقی کیوں نہ کر جائے کہ اس کے حسابات میں ظن غالب ہی رہے گا۔ اور رویت کی اہمیت کبھی بھی کم نہیں ہوگی۔ کیونکہ اسلامی اصولِ رویت نصِ حدیث سے ثابت ہے جو دائمی اصول ہے۔

آج مورخہ ۶ جون ۲۰۱۹ کو فواد چودھری کے اگلے دو ماہ کے چاند سے متعلق پیشین گوئی کے اعلان کو کیسے لیا جائے ؟

مسیلمہ کذاب نے بھی صحرا کے سفر میں اپنے قبیلے  والوں کو ایک پیشین گوئی کی تھی کہ وہ چلتے رہیں  آگے انہیں پانی مل جائے گا۔ اتفاق سے وہ پیشین گوئی پوری ہوگئی اور آگے پانی مل گیا تو اُس کذاب نے اسی کو اپنا معجزہ قرار دے دیا  اور جھوٹی نبوت کا دعوی کردیا تھا۔ بس یہ بھی اسی نوعیت کا معاملہ سمجھیں اور دین بیزار فواد چودھری کے نئے اعلان کو اسی تناظر میں دیکھیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں اور سبسکرائب کریں ۔

اسلامی معلومات ، روایتی معاشیات ، اسلامی معاشیات اور اسلامی بینکاری سے متعلق یو ٹیوب چینل
https://www.youtube.com/user/wasifkhansb?sub_confirmation=1

 

اسلام میں جانوروں کی اہمیت اور ان کے حقوق

محمد ابوبکر صدیق

لیکچرر ، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد

 

اسلام کےمعتدل مذہب ہونے کی بنیادی وجہ اُس کا آفاقی مذہب ہوناہے جیسے اللہ جل مجدہ فرماتا ہے؛

اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا

[السجدة : ۴ ]  (اللہ جل مجدہ وہ ہے جس نے آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں ہے (سب) پیدا کیا)

یہ آفاقی اعلان اس حقیقت سے پردہ اٹھا دیتا ہے کہ حقیقی خالق کون ہے!یہ ایک فطری امر ہے کہ جس نے کوئی چیز خود بنائی ہو تو اسے اپنی تخلیق سے پیار ہوتا ہے ، بالکل اسی طرح اللہ جل مجدہ کو بھی اپنی مخلوق سے محبت ہےجیسا کہ حضور نبی رحمت ﷺ نے ارشادفرمایا؛

الْخَلْقُ عِيَالُ اللَّهِ، فَأَحَبُّ الْخَلْقِ إِلَى اللَّهِ مَنْ أَحْسَنَ إِلَى عِيَالِهِ (1)

ساری مخلوق اللہ تعالیٰ کا گھرانا ہے۔ پس مخلوق میں سے اللہ تعالیٰ کو سب سےپیارا وہ ہے، جو اس کے گھرانے سے اچھا سلوک کرے۔

اسلام ایک ایسا ضابطہ حیات ہےجس میں زندگی گزارنے کے آداب سے لے کر مختلف سطحوں تک کے حقوق سے متعلق بڑی باریک بینی سے رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔اسلام جہاں انسان کو انسانی حقوق سے آگاہی فراہم کرتا ہے تو وہیں اُسے دوسری مخلوق کے حقوق کی تفصیل بھی دیتا ہے تاکہ روئے زمین پر انسانی قیام کوپر امن رکھا جاسکے۔دیگر مخلوقات کی طرح اسلام نے جانوروں کے حقوق بھی متعین کیے ہیں۔ شریعت محمدیہ نے چو پایوں، مویشیوں، پرندوں غرض ہر قسم کے جانوروں کے حقوق بیان کیے ہیں۔
نزول قرآن سے قبل اہل عرب کی شقاوت قلبی کی ان گنت داستانیں تاریخ کا حصہ ہیں ، جن میں سے بعض کاتعلق حیوانات سے ہے۔عرب میں ایک طریقہ یہ بھی تھاکہ جانورکوکسی چیزسے باندھ کراس پرنشانہ لگاتے تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کے جانوروں کے گوشت کوناجائزقرادیااورعام حکم دیاکہ کسی ذی روح چیزکواس طرح نشانہ نہ بنایا جائے۔(2) وہ زندہ جانوروں کا گوشت کاٹ لیتے اور پھر اسے بھون کر کھاجاتے تھے۔ ’’حضرت ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے (تو دیکھا کہ) وہاں کے لوگ زندہ اُونٹوں کی کوہان اور زندہ دُنبوں کی چکیاں کاٹتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: زندہ جانور سے جو حصہ کاٹا جائے وہ مردار ہے۔(3) اس روایت سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ اسلام سے قبل اہل عرب کس قدر سنگ دل ہوا کرتے تھے۔
اہل عرب جانوروں کو اندھا دھند قتل کرنے کو عار نہیں سمجھتے تھے۔دو لوگ شرط لگاتے کہ وہ باری باری اپنا اونٹ ذبح کریں گے جو اونٹ ذبح کرنے سے رک جائے گا وہ شرط ہار جائے گا اور پھر وہی مذبوحہ اونٹ دعوتوں میں اڑادیے جاتے اور ایسے واقعات کا ذکر اہل عرب کی زمانہ جہالت کی شاعری میں کثرت سے ملتا ہے۔المفصل فى تاريخ العرب قبل الإسلام(11:133) میں ہے  کہ ایک دستوریہ بھی تھاکہ جب کوئی مرجاتاتواس کی سواری کے جانورکواس کی قبرپرباندھتے تھے اوراس کودانہ، گھاس اورپانی نہیں دیتے تھے، اوروہ اسی حالت میں سوکھ کرمرجاتا، ایسے جانورکوبلیہ کہتے تھے۔ جس اسلامی دستورکےنزول کی ابتدا غار حرا پر ہوئی تھی اسی دستور کے ذریعے ایسی سنگ دلی کو مٹادیا گیا اور امن، محبت ، اور رحم دلی کے جذبات کوعملاً فروغ دیا گیا۔

قرآن مجید میں جانوروں سے متعلق اہم معلومات

قرآن مجید کی کم و بیش دو سو آیات مبارکہ میں جانوروں کے حقوق اور فوائد اور ان سے متعلق حلال و حرام کے شرعی احکام کا تذکرہ ملتا ہے۔ کہیں جانوروں کے نام ذکر کیےگئے ہیں تو کہیں مطلق جنس کا ذکر کیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں تقریبا پنتیس (۳۵) جانوروں کا ناموں کا ذکر ملتا ہےجن میں پرند، چرند، حشرات اور جنگلی و پالتو جانور شامل ہیں ۔ پرندوں میں سلوی : بٹیر ، ھدھد : ہد ہد ، غراب : کوا، اور ابابیل ۔آبی مخلوق میں نون و حوت : مچھلی، وہیل، ضفادع : مینڈک ۔جن حشرات کا نام قراان مجید میں آیا ہے ان کی تفصیل نیچے ٹیبل میں ملاحظہ کریں۔

آیت سورۃ اردو نام قرآنی نام شمار
6 البقرہ مچھر بعوض 1
73 الحج مکھی ذباب 2
68 نحل شہد کی مکھی نحل 3
41 عنکبوت مکڑی عنکبوت 4
133 اعراف ٹڈی جراد 5
18 نمل چیونٹی نمل 6
4 قارعہ تتلی فراش 7
133 اعراف جوں قمل 8
107 اعراف اژدہا ثعبان 9

اسی طرح جن پالتو جانوروں کے نام قرآن مجید میں مذکور ہیں ان کی تفصیل نیچے ٹیبل میں ملاحظہ کریں۔

حلت و حرمت آیت سورۃ اردو نام قرآنی نام شمار
حرام 8 نحل خچر بغال 1
حلال 143، 146 انعام بکرا و بھیٹر غنم، نعجہ، ضان و معز 2
حلال 65، 40 یوسف، اعراف اونٹ بعیر، جمل 3
حلال 70 بقرہ گائے بقرہ 4
حلال 29 ہود گوسالہ۔ بچھڑا عجل 5
حرام 259، 8 بقرہ، نحل گدھا حمار، حمیر 6
حرام 176 اعراف کتا کلب

7

اسی طرح وہ جنگلی جانور جن کے نام قرآن مجید میں مذکور ہیں ان کی تفصیل نیچے ٹیبل میں ملاحظہ کریں۔

حلت و حرمت آیت سورۃ اردو نام قرآنی نام شمار
حرام 51 مدثر شیر قسورہ 1
نجس العین 173 بقرہ سور خنزیر 2
حرام 1 فیل ہاتھی فیل 3
حرام 65 بقرہ بندر قردہ 4

قرآن مجید کی بعض سورتوں کے نام بھی جانوروں کے نام پر ہیں جیسے سورہ بقرہ : گائے, سورہ فیل : ہاتھی سورہ, نحل : شہد کی مکھی, سورہ عنکبوت : مکڑی اور سورہ نمل : چیونٹی۔

جانوروں کے حقوق

قیامت کے روز اللہ جل مجدہ انصاف فرمائے گا حتیٰ کہ جانوروں کو بھی ان کا حق ادا کیا جائے گا ۔ ’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن تم سے حقداروں کے حقوق وصول کیے جائیں گے، حتیٰ کہ بے سینگ بکری کا سینگ والی بکری سے بدلہ لیا جائے گا۔‘‘ امام احمد کی روایت میں ہے: ’’جس نے اُسے سینگ مارا تھا۔ (4)‘‘
جانوروں کے ساتھ حسن سلو ک کا حکم
حضرت انس بن مالک ؓ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا؛

 (5)«مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا، أَوْ يَزْرَعُ زَرْعًا، فَيَأْكُلُ مِنْهُ طَيْرٌ أَوْ إِنْسَانٌ أَوْ بَهِيمَةٌ، إِلَّا كَانَ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ

جوبھی مسلمان کھیتی لگائے یا پودا لگائے، پھر کوئی انسان یا پرندہ یا چوپایہ اس میں سے کھا ئے گا تو وہ اس کے لیے صدقہ ہوگا۔

یعنی انسان جو فصل کاشت کرتا ہے اور اس سے جو جاندار بھی مستفید ہوتا ہے حتی کہ فصل کا مالک اس سے بے خبر ہوتا ہے کہ کتنے اور کون کون سے جاندار اس کی کھیتی سے مستفید ہوئے لیکن اسے اس عمل پر صدقے کا اجر ملتاہے۔ تو جو انسان جانوروں کو پالتا ہے اور ان کے کھانے پینے کا خیال رکھتا ہے تو اس کا اجر کتنا ہوگا اس کا اندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتا۔اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اللہ کریم نے بے زبان جانوروں کو بھی اپنی رحمت بے کراں سے مالا مال فرمایا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ جانوروں کے ساتھ حسن سلوک پر اجر وثواب کی خوشخبری بھی سنائی گئی۔حضرت سراقہ بن جعشم ؓ کہتے ہیں؛

سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضَالَّةِ الْإِبِلِ تَغْشَى حِيَاضِي، قَدْ لُطْتُهَا لِإِبِلِي، فَهَلْ لِي مِنْ أَجْرٍ إِنْ سَقَيْتُهَا؟ قَالَ: «نَعَمْ، فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ حَرَّى أَجْرٌ  (6)

میں نے حضور نبی رحمت ﷺ سے دریافت کیا: یارسول اللہ ﷺ میں نے بطور خاص اپنے اونٹوں کے لیے ایک حوض بنا رکھا ہے۔ اس پر بسا اوقات بھولے بھٹکے جانور بھی آ جاتے ہیں۔ اگر میں انہیں بھی سیراب کر دوں تو کیا اس پر بھی مجھے ثواب ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآ وسلم نے فرمایا : ”(ہاں ) ہر پیاسے یا ذی روح کے ساتھ حسن سلوک کرنے سے ثواب ملتا ہے۔
اسی طرح مسلم شریف میں ہے؛

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ اشْتَدَّ عَلَيْهِ الْعَطَشُ، فَوَجَدَ بِئْرًا، فَنَزَلَ فِيهَا فَشَرِبَ، ثُمَّ خَرَجَ فَإِذَا كَلْبٌ يَلْهَثُ يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ الْعَطَشِ، فَقَالَ الرَّجُلُ لَقَدْ بَلَغَ هَذَا الْكَلْبَ مِنَ الْعَطَشِ مِثْلُ الَّذِي كَانَ بَلَغَ مِنِّي، فَنَزَلَ الْبِئْرَ فَمَلَأَ خُفَّهُ مَاءً، ثُمَّ أَمْسَكَهُ بِفِيهِ حَتَّى رَقِيَ فَسَقَى الْكَلْبَ فَشَكَرَ اللهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ وَإِنَّ لَنَا فِي هَذِهِ الْبَهَائِمِ لَأَجْرًا؟ فَقَالَ: «فِي كُلِّ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ (7)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا کہ بدکار عورت کی بخشش صرف اس وجہ سے کی گئی کہ ایک مرتبہ اس کا گذر ایک ایسے کنویں پر ہوا جس کے قریب ایک کتا کھڑا پیاس کی شدت سے ہانپ رہا تھا، اور قریب تھاکہ وہ پیاس کی شدت سے ہلاک ہوجائے ، کنویں سے پانی نکالنے کو کچھ تھا نہیں، اس عورت نے اپنا چرمی موزہ نکال کر اپنی اوڑھنی سے باندھا اور پانی نکال کر اس کتے کو پلایا، اس عورت کا یہ فعل بارگاہ الٰہی میں مقبول ہوا،اور اس کی بخشش کر دی گئی۔ٍصحابہ کرامؓ نے عرض کی یارسول اللہ ﷺ کیا ان جانوروں کے ساتھ حسن سلوک میں بھی اجر و ثواب ہے ؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ہر جاندار کے ساتھ حسن سلوک میں اجر ہے۔

امام طبرانیؒ حضرت عبداللہ ابن عمرؓ کی روایت نقل کرتے ہیں؛

مَرَّ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم بِرَجُلٍ يَحْلَبُ شَاةً، فَقَالَ: أَي فُـلَانُ، إِذَا حَلَبْتَ فَأَبْقِ لِوَلِدِهَا، فَإِنَّهَا مِنْ أَبَرِّ الدَّوَابِ (8)

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے جو بھیڑ کا دودھ دھو رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اُس سے فرمایا: اے فلاں! جب تم دودھ نکالو تو اِس کے بچے کے لئے بھی چھوڑ دو یہ جانوروں کے ساتھ سب سے بڑی نیکی ہے۔

فی زمانہ معاشرے میں یہ رویہ بالکل ختم ہوکر رہ گیا ہے۔ دودھ فروخت کرنے والے زیادہ پیسوں کی لالچ میں گائے بھینس کے ساتھ بہت ہی ظالمانہ رویہ رکھتے ہیں۔ دودھ نکالنے سے پہلے اس کا بھچڑا صرف اس کی نظروں کے سامنے اس کے قریب لاتے ہیں یا ایک منٹ تک ساتھ چھوڑتے ہیں تاکہ وہ وہ اپنا دودھ چھوڑے اور پھر اس بچھڑے کو زبردستی الگ کر لیتے ہیں اور اسے اس کے حق سے محروم کر دیتے ہیں۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ گائے بھینس کو ہارمونز کے انجیکشن لگائے جاتے ہیں تاکہ اس کی کھیری میں دودھ کا ایک قطرہ تک باقی نہ رہے ۔ اس انجیکشن سے اس بے زبان جانور کو جس تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے ان شقی القلب دولت کے پجاریوں کو اس کا احساس تک نہیں۔ پھر اسی انجیکشن کے مضر اثرات عوام الناس تک پہنچتے ہیں ۔ خاص طور پر حاملہ خواتین میں حمل کی پیچیدگیاں پیدا ہوجاتی ہیں اور وہ بچہ جو ابھی اس دنیا میں نہیں آیا اسے بھی اس دنیا کے درندوں کے ظلم کے اثرات پہنچ جاتے ہیں جس کی وجہ سے یا تو وہ اس دنیا میں آنے سے پہلے داعی اجل کو لبیک کہہ جاتا ہے یا پھر اس دنیا میں کسی مرض میں مبتلا ہو کر داخل ہوتا ہے۔ خبر نہیں انسان کی یہ لالچ اور کیا کیا دن دکھائے گی! حضور نبی رحمت ﷺ کے مندرجہ بالا فرمان کی نظر میں اس رویے کو دیکھا جائے تو سر شرم سے جھک جاتا ہے کہ انسان لالچ میں درندگی کی سطح کس قدر گرجاتا ہے۔
جانور حضور نبی رحمت ﷺ کو پہچانتے تھے کہ یہی ان کے درد کا درماں ہے یہی وہ پیکر لطف و عنایت ہے جو ان کے لیے امان بن کر تشریف لایا ہےچنانچہ سنن ابو داود شریف میں حضرت عبداللہ بن جعفر ؓ سے مروی ہے؛

فَدَخَلَ حَائِطًا لِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَإِذَا جَمَلٌ. فَلَمَّا رَأَی النَّبِيَّ صلی الله عليه واله وسلم حَنَّ وَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ. فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صلی الله عليه واله وسلم فَمَسَحَ ذِفْرَاهُ فَسَکَتَ فَقَالَ: مَنْ رَبُّ هٰذَا الْجَمَلِ؟ لِمَنْ هٰذَا الْجَمَلُ؟ فَجَاءَ فَتًی مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: لِي، يَا رَسُوْلَ اﷲِ. فَقَالَ: أَفَـلَا تَتَّقِي اﷲَ فِي هٰذِهِ الْبَهِيْمَةِ الَّتِي مَلَّکَکَ اﷲُ إِيَهَا، فَإِنَّه شَکَا إِلَيَّ أَنَّکَ تُجِيْعُهُ وَتُدْئِبُهُ(9)

.
’’حضرت عبد اﷲ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ایک انصاری شخص کے باغ میں داخل ہوئے تو وہاں ایک اُونٹ تھا۔ جب اُس نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو دیکھا تو وہ رو پڑا اور اُس کی آنکھوں سے آنسو بہ نکلے۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اُس کے پاس تشریف لے گئے اور اُس کے سر پر دستِ شفقت پھیرا تو وہ خاموش ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے دریافت فرمایا: اِس اُونٹ کا مالک کون ہے، یہ کس کا اُونٹ ہے؟ انصار کا ایک نوجوان حاضر خدمت ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ میرا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بے زبان جانور کے معاملے میں اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے جس کا اللہ تعالیٰ نے تمہیں مالک بنایا ہے۔ اس نے مجھے شکایت کی ہے کہ تم اسے بھوکا رکھتے ہو اور اس سے بہت زیادہ کام لیتے ہو۔

جانوروں کے ساتھ بدسلوکی اور ایذا رسانی کی ممانعت

اسلام نے جانوروں کو بھی چین سے جینے کا حق دیا ہےاور انہیں اذیت دینے سے منع کیا ہے ۔ حضرت ہشام بن زیاد کا بیان ہے کہ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت حکم بن ایوب کی خدمت میں حاضر ہوا تو اُنہوں نے چند لڑکوں یا نوجوانوں کو دیکھا کہ ایک مرغی کو باندھ کر اُس پر تیر چلا رہے ہیں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جانوروں کو باندھ کر مارنے سے منع فرمایا ہے۔‘‘ (10)کیونکہ ایک جاندار کو باندھ کر صرف نشانہ بازی کی غرض سے اسے مارنا کوئی انصاف نہیں ہے۔ حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: کسی جاندار کو (تیر اندازی کے لئے) ہدف مت بناؤ۔(11) حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما کے ساتھ تھا کہ آپ کا گزر چند لڑکوں یا آدمیوں کے پاس سے ہوا جو ایک مرغی کو باندھ کر نشانہ بازی کر رہے تھے۔ جب اُنہوں نے حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما کو دیکھا تو منتشر ہوگئے اور حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما نے دریافت فرمایا: یہ کام کس نے کیا ہے؟ بیشک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اُس پر لعنت فرمائی ہے جو ایسا کام کرے۔(12) امام سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما کا قریش کے چند جوانوں پر گذر ہوا جو ایک پرندے کو باندھ کر اُس پر تیر اندازی کی مشق کر رہے تھے اور اُنہوں نے پرندے والے سے یہ طے کر لیا تھا کہ جس کا تیر نشانہ پر نہیں لگے گا وہ اُس کو کچھ دے گا، جب اُنہوں نے حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما کو دیکھا تو اِدھر اُدھر ہو گئے۔ حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما نے فرمایا: یہ کام کس نے کیا جو شخص اِس طرح کرے اُس پر اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے، جو شخص کسی جاندار کو ہدف بنائے بلاشبہ اُس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے لعنت کی ہے۔(13)

جانوروں کو زندہ جلانے کی ممانعت

حضور نبی اکرم ﷺ نے جانوروں کو جلا کر عذاب دینے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔چنانچہ سنن ابوداود شریف میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ روایت کرتے ہیں؛

كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِى سَفَرٍفَانْطَلَقَ لِحَاجَتِهِ فَرَأَيْنَا حُمَّرَةً مَعَهَا فَرْخَانِ فَأَخَذْنَا فَرْخَيْهَا فَجَاءَتِ الْحُمَّرَةُ فَجَعَلَتْ تَفْرُشُ فَجَاءَ النَّبِىُّ ﷺ فَقَالَ مَنْ فَجَعَ هَذِهِ بِوَلَدِهَا رُدُّوا وَلَدَهَا إِلَيْهَا وَرَأَى قَرْيَةَ نَمْلٍ قَدْ حَرَّقْنَاهَا فَقَالَ مَنْ حَرَّقَ هَذِهِ قُلْنَا نَحْنُ. قَالَ إِنَّهُ لاَ يَنْبَغِى أَنْ يُعَذِّبَ بِالنَّارِ إِلاَّ رَبُّ النَّارِ(14)

ایک سفرمیں ہم رسول اللہﷺکے ساتھ تھے۔ آپﷺ اپنی حاجت کے لیے باہر تشریف لے گئے۔ ہم نے ایک سرخ پرندہ دیکھا جس کے ساتھ اس کے دوبچے بھی تھے۔ ہم نے ان بچوں کوپکڑ لیا، تو وہ فرط غم سے ان کے گرد منڈلانے لگا۔ اتنے میں نبی کریمﷺ تشریف لائے توآپ نے فرمایا :اس پرندے سے اس کے بچوں کو چھین کر کس نے اسے رنج پہنچایا ؟ اس کے بچوں کو لوٹادو،اس کے بچوں کو لوٹادو۔اور وہیں آپ ﷺ نے چیونٹیوں کا جھنڈ دیکھا جسے ہم نے جلا دیا تھا۔آپ ﷺ نے پوچھا اسے کس نے جلایا تو ہم نے عرض کی کہ ہم نے جلایا۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: آگ کے مالک (رب) کے علاوہ کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ آگ کا عذاب دے۔

چیونٹیوں کے بل کو جلانے سے متعلق امام بخاری و مسلم نے حضرت ابوہریرہؓ سے ایک متفق علیہ روایت نقل کی ہے؛

قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: ” قَرَصَتْ نَمْلَةٌ نَبِيًّا مِنَ الأَنْبِيَاءِ، فَأَمَرَ بِقَرْيَةِ النَّمْلِ، فَأُحْرِقَتْ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: أَنْ قَرَصَتْكَ نَمْلَةٌ أَحْرَقْتَ أُمَّةً مِنَ الأُمَمِ تُسَبِّحُ(15)

” حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ( اللہ کے جو ) انبیاء ( پہلے گزر چکے ہیں) ان میں سے کسی نبی ( کا واقعہ ہے کہ ایک دن ان کو ایک چیونٹی نے کاٹ لیا )، انہوں نے چیونٹیوں کے بل کے بارے میں حکم دیا کہ اس کو جلا دیا جائے ، چنانچہ بل کو جلا دیا گیا ۔ تب اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ وحی نازل کی کہ تمہیں ایک چیونٹی نے کاٹا تھا اور تم نے جماعتوں میں سے ایک جماعت کو جلا ڈالا جو تسبیح کرتی ہے۔

امام قرطبی ؒ اس واقعے کا پس منظر یوں بیان کرتے ہیں؛

<

قال علماؤنا : يقال إن هذا النبي هو موسى عليه السلام ، وإنه قال : يا رب تعذب أهل قرية بمعاصيهم وفيهم الطائع. فكأنه أحب أن يريه ذلك من عنده ، فسلط عليه الحر حتى التجأ إلى شجرة مستروحا إلى ظلها ، وعندها قرية النمل ، فغلبه النوم ، فلما وجد لذة النوم لدغته النملة فأضجرته ، فدلكهن بقدمه فأهلكهن ، وأحرق تلك الشجرة التي عندها مساكنهم ، فأراه الله العبرة في ذلك آية : لما لدغتك نملة فكيف أصبت الباقين بعقوبتها! يريد أن ينبهه أن العقوبة من الله تعالى تعم فتصير رحمة على المطيع وطهارة وبركة ، وشرا ونقمة على العاصي (16)

ہمارے علما کہتے ہیں کہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ نبی حضرت موسی علیہ السلام تھے(تاہم یہ بات یقینی نہیں ہے ممکن ہے کہ وہ کوئی اور نبی ہوں )۔ایک دفعہ انہوں نے بارگاہ رب العزت میں عرض کیا تھا کہ ( پروردگار ! تو کسی آبادی کو اس کے باشندوں کے گناہوں کے سبب عذاب میں مبتلا کرتا ہے اور وہ پوری آبادی تہس نہس ہو جاتی ہے ، درآنحالیکہ اس آبادی میں مطیع و فرمانبردار لوگوں کی بھی کچھ تعداد ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر لیا کہ ان تعلیم کے لیے کوئی مثال قائم کرے ۔ چنانچہ اللہ جل مجدہ نے(ایک سفر کے دوران)اُن پر سخت ترین گرمی مسلط کر دی ۔یہاں تک کہ وہ اس گرمی سے نجات پانے کے لئے ایک سایہ دار درخت کے نیچے چلے گئے ، وہاں ان پر نیند کا غلبہ ہو گیا اور وہ سو رہے تھے تو ایک چیونٹی نے ان کو کاٹا اور انہیں جگا دیا۔اور اس درخت کو جلوادیا جس کے نیچے چینوٹیوں کا بل تھا۔اس واقعے میں اللہ تعالی نے انہیں حقیقت دکھلادی کہ جب انہیں ایک چیونٹی نے کاٹا تو پھر سزا باقیوں کو دی ! اس سے انہیں یہ بات سمجھ آگئی کہ اللہ تعالی کی جانب سے سزا و عذاب عمومی نوعیت کا آتا ہے جو مطیع و فرمانبردار کے لیے پاکیزگی و بخشش کا سبب بنتا ہے اور نافرمانوں کے لیے سزاشمارہوتا ہے۔

عقیدے کی اصلاح : فتنہ انکار سنت اس حدیث پر اعتراض کرتے ہیں کہ ایک نبی سے چیونٹیوں کو جلانے جیسے ظالمانہ فعل کی نسبت عقل کے خلاف ہے لہذا اس سے ثابت ہوجاتا ہے کہ حدیثیں درست نہیں ہیں۔اس اعتراض کاجواب دو طرح سے دیا جاسکتا ہے ۔ پہلا اس طرح کہ اللہ تعالی نے اس واقعے کی نسبت اپنے نبی علیہ السلام کی جانب نہیں بلکہ اپنی طرف کی ہے کہ اس واقعے سے اُس نبی علیہ السلام کی تعلیم کے لیے ایک مثال قائم کرنا مقصود تھا۔ اصول یہ ہے کہ اللہ تعالی جس کام کی نسبت اپنی طرف کرتا ہے وہ عین حق ہوتا ہےاور مبنی بر عدل ہوتا ہے خواہ وہ ہماری عقل کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ لہذا یہاں بظاہر جلانے کا فعل ایک نبی علیہ السلام کی طرف ہے لیکن حقیقت میں یہ کام من جانب اللہ ان سے سرزد کروایا گیا۔لہذا یہ عقیدہ قائم رہتا ہے کہ انبیائے کرام معصوم ہوتے ہیں۔

دوسرا جواب امام قرطبی ؒ کی اس عبارت میں موجود ہے؛

إن هذا النبي كانت العقوبة للحيوان بالتحريق جائزة في شرعه ؛ فلذلك إنما عاتبه الله تعالى في إحراق الكثير من النمل لا في أصل الإحراق(17)

حیوانات کو جلانے کی سزا دینا اُس نبی علیہ السلام کی شریعت میں جائز تھا۔ اسی لیے اللہ تعالی نے انہیں جلانے کے فعل پر عتاب نہیں کیا بلکہ زیادہ چیونٹیوں کو جلانے پر عتاب فرمایا۔
اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ انبیائے علیھم السلام معصوم ہوتے ہیں اور وہ شریعت کی جائز امور سے سرِمو انحراف نہیں کرتے۔

امام قرطبی ؒ کہتے ہیں جو جانور اذیت دے اسے مارنا جائز ہے۔ بلکہ موذی جانور کو اس خوف سے کہ کہیں وہ اذیت نہ پہنچائے مارڈالنا جائز ہے (جیسے بچھو ، سانپ وغیرہ) ۔ (18)شریعت محمدیہ ﷺ میں جانداروں کو جلانا جائز نہیں ہے بلکہ جانداروں کو اذیت دینے پر وعیدیں بھی سنائی ہیں بلکہ حضور نبی کریم ﷺ نے بعض ظالمانہ افعال کرنے والوں پر لعنت بھی فرمائی ہے۔ امام بخاری ؒ حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ کی روایت نقل کرتے ہیں؛

لَعَنَ النَّبِيُّ ﷺ مَنْ مَثَّلَ بِالْحَيَوَانِ(19)

حضور نبی اکرم ﷺ نے اُس شخص پر لعنت فرمائی ہے جو جانوروں کا مثلہ کرے (یعنی اُن کے ناک کان وغیرہ کاٹے)‘‘۔

امام احمد بن حنبل ؒ حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ کی روایت نقل کرتے ہیں کہ اُنہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے کسی ذی روح کا مثلہ کیا اور پھر اِس گناہ سے توبہ نہ کی(اور اسی حال میں مرگیا) تو اﷲ تعالیٰ روزِ قیامت اُس کا مثلہ کرے گا۔(20) حضرت شرید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے کسی چڑیا کو بلا وجہ مار ڈالا تو وہ چڑیا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے چلائے گی اور عرض کرے گی : اے اللہ! فلاںشخص نے مجھے بلا وجہ بغیر کسی فائدہ کے قتل کیا۔(21) حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اﷲ عنھما راوی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے چڑیا یا اُس سے بھی چھوٹا جانور ناحق قتل کیا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس سے اُس کے متعلق بھی پوچھے گا (تو نے یہ جان ناحق کیوں لی)۔ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اُس کا حق کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اس کا حق یہ ہے کہ وہ اُسے ذبح کرے اور کھائے اور (بلا ضرورت صرف شوقِ شکار میں) اُس کا سر کاٹ کر نہ پھینک دے۔‘‘(22)

حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا؛

دَخَلَتِ امْرَأَةٌ النَّارَ فِي هِرَّةٍ رَبَطَتْهَا، فَلَمْ تُطْعِمْهَا، وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الأَرْضِ(23)

رسول الله نے فرمایا کہ ایک عورت کو ایک بلی کے سبب عذاب ہوا تھا کہ اس نے اس کو پکڑ رکھا تھا، یہاں تک کہ وہ بھوک سے مر گئی ،سو نہ تو اس کو کچھ کھانے کو دیتی تھی اور نہ اس کو چھوڑتی تھی کہ حشرات الارض، یعنی زمین کے کیڑے مکوڑوں سے اپنی غذا حاصل کر لے۔

اما م نسائی ؒ روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:

رأيت فيها امرأة من حميرتعذب في هرة ربطتها فلم تدعها تأكل من خشاش الأرض فلا هي اطعمتها ولا هي أسقتها حتى ماتت ولقد رأيتها تنهشها إذا أقبلت وإذا ولت تنهش(24)

میں نے دوزخ میں ایک عورت کو دیکھا، جس کو ایک بلی کے معاملے میں اس طرح عذاب ہو رہا تھا کہ وہ بلی اس کو نوچتی تھی جب کہ وہ عورت سامنے آتی تھی او رجب وہ پشت کرتی تھی تو وہ بلی اس کی پشت کو نوچتی تھی۔

حضرت عبدالرحمن بن عثمان ؓ سے مروی ہے؛

ذَكَرَ طَبِيبٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَوَاءً يُجْعَلُ فِيهِ الضِّفْدَعُ، «فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ الضِّفْدَعِ(25)

ایک طبیب نے حضور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک دوا کا ذکر کیا جس کی تیاری میں مینڈک (کی چربی) استعمال ہوتی ہے، تو حضور نبی کریم ﷺ نے مینڈک کے مارنے سے منع فرمایا۔
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حرام چیزوں سے علاج کرنا جائز ہے؟ اس بات پر تمام فقہا کا اتفاق ہے کہ حرام اشیا سے علاج کرنا جائز نہیں ہے۔ تاہم احناف فقہا کہتے ہیں کہ اگر تحقیق سے یہ بات یقینی ہوجائے کہ علاج اسی حرام کردہ چیز میں ہے تو پھر جائز ہے۔ اس ساری بحث سے واضح ہوجاتا ہے کہ ہر وہ فعل جو جانوروں کے لیے تکلیف کا باعث ہو ناجائز ہے۔حلال جانوروں کے ذبح کرنے میں بھی تکلیف کو کم سے کم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

چنانچہ حضرت شداد بن اوس ؓ روایت کرتے ہیں؛

عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رضی الله عنه قَالَ: ثِنْتَانِ حَفِظْتُهُمَا عَنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم قَالَ: إِنَّ اﷲَ کَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلٰی کُلِّ شَيئٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوْا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوْا الذَّبْحَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُکُمْ شَفْرَتَه فَلْيُرِحْ ذَبِيْحَتَه(26).

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے دو باتیں یاد رکھی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے، سو جب تم کسی شے کا شکار کرو تو اُسے احسن طریقہ سے شکار کرو اور جب تم ذبح کرو تو احسن طریقہ سے ذبح کرو، تم میں سے ہر شخص کو چاہیے کہ وہ چھری تیز کرے اور اپنے ذبیحہ کو آرام پہنچائے۔‘‘

امام طبرانی ؒ حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کی روایت نقل کرتے ہیں؛

مَرَّ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم عَلٰی رَجُلٍ وَاضِعٍ رِجْلَه عَلٰی صَفْحَةِ شَاةٍ، وَهُوَ يَحُدُّ شَفْرَتَه، وَهِيَ تَلْحَظُ إِلَيْهِ بِبَصَرِهَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه واله وسلم : أَفَـلَا قَبْلَ هٰذَا؟ أَوْ تُرِيْدُ أَنْ تُمِيْتَهَا مَوْتَتَيْنِ (27)

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو اپنی ٹانگ بھیڑ کی گردن پر رکھے چھری تیز کر رہا تھا، وہ اُسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ کام پہلے نہیں ہو سکتا تھا؟ (یعنی چھری اس سے پہلے تیز کر لینی چاہئے تھی)، کیا تم اُسے دو موتیں مارنا چاہتے ہو۔

اسی لیے حضور اکرم ﷺ نے ذبح کرنے سے قبل چھریوں کو تیز کرنے کا حکم ارشاد فرمایا ہے۔ ’’حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے چھریوں کو تیز کرنے اور جانور سے اُنہیں چھپانے کا حکم دیا ہے اور مزید فرمایا: جب تم میں سے کوئی (جانور) ذبح کرے تو تیزی سے ذبح کرے۔(28) جانوروں پر یہ رحم انسان کو اللہ کے رحم کا مستحق کردیتا ہے۔ چنانچہ حضرت قرہ بن ایاس ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کیا: یا رسول اﷲ! جب میں بکری کو ذبح کرتا ہوں تو مجھے اُس پر رحم آتا ہے، یا یہ کہا کہ مجھے بکری کو ذبح کرنے سے اُس پر رحم آتا ہے۔ آپ ﷺفرمایا: اگر تجھے بکری پر رحم آتا ہے تو اﷲ تعالیٰ تجھ پر رحم فرمائے گا۔(29) امام طبرانی نے حضرت ابوامامہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: جس نے (کسی چیز پر) رحم کیا خواہ چڑیا کے ذبیحہ پر ہی کیوں نہ ہو اﷲ تعالیٰ قیامت کے روز اُس پر رحم کرے گا۔(30)

جانوروں کو چہرے پر داغنے کی ممانعت

حضرت جابرؓ روایت کرتے ہیں؛

نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الضَّرْبِ فِي الْوَجْهِ، وَعَنِ الْوَسْمِ فِي الْوَجْهِ(31)

حضور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرے پر مارنے اور داغنے سے منع فرمایا ہے۔
ایک روایت میں حضرت جابر ؓ سے مروی ہے؛

أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ مَرَّ عَلَيْهِ حِمَارٌ قَدْ وُسِمَ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ: «لَعَنَ اللهُ الَّذِي وَسَمَهُ (32)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک گدھا گذرا ، جس کے منہ پر داغا گیا تھا، آپ ﷺنے اس کو دیکھ کر فرمایا :اس شخص پر لعنت ہو جس نے اس کو داغا ہے۔

مسلم شریف میں حضرت عبداللہ ابن عباس سے مروی ہے؛

رَأَی رَسُوْلُ اﷲِ ﷺ حِمَارًا مَوْسُوْمَ الْوَجْهِ، فَأَنْکَرَ ذَالِکَ، قَالَ: فَوَاﷲِ، لَا أَسِمُه إِلَّا فِي أَقْصٰی شَيئٍ مِنَ الْوَجْهِ، فَأَمَرَ بِحِمَارٍ لَه فَکُوِيَ فِي جَاعِرَتَيْهِ فَهُوَ أَوَّلُ مَنْ کَوَی الْجَاعِرَتَيْنِ (33)

حضور نبی اکرم ﷺ نے ایک گدھا دیکھا جس کے چہرے کو داغا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اِس عمل کو ناپسند فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی قسم! میں (جانور کے) صرف اُس عضو کو داغتا ہوں جو چہرے سے بہت دور ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے گدھے کو داغنے کا حکم دیا، سو اُس کی سرین کو داغا گیا، اور سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ہی (جانور کی) سرین کو داغا تھا۔

جانوروں پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہ لادیں

جانور پر اس کی طاقت اور قوت سے زیاد ہ بوجھ لادنا جائز نہیں،اس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے منع فرمایا ہے: صحابہ رضی اللہ عنہم کو اس بات کا علم تھا کہ جو شخص جانور پر اس کی طاقت اور قوت سے زیادہ بوجھ لادے گا تو اس کو روز ِ قیامت حساب کتاب دینا ہوگا ، حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے اپنے اونٹ سے کہا : اے اونٹ تم اپنے رب کے یہاں میرے سلسلہ میں مخاصمہ نہ کرنا ، میں نے تم پر تمہاری طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں لادا ۔(34) ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی انصاری کے باغ میں داخل ہوئے، اچانک ایک اونٹ آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں لوٹنے لگا، اس وقت اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کمر پر اور سر کے پچھلے حصے پر ہاتھ پھیرا جس سے وہ پرسکون ہوگیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس اونٹ کا مالک کون ہے؟ تو وہ دوڑتا ہوا آیا ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا:”اس کو اللہ تعالیٰ نے تمہاری ملکیت میں کر دیا ہے، اللہ سے ڈرتے نہیں، یہ مجھ سے شکایت کر رہا ہے کہ تم اسے بھوکا رکھتے ہو، اور اس سے محنت ومشقت کا کام زیادہ لیتے ہو“۔(35)

حضرت سہل ابن حنظلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں؛

مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ ًﷺ بِبَعِيرٍ قَدْ لَحِقَ ظَهْرُهُ بِبَطْنِهِ فَقَالَ : « اتَّقُوا اللَّهَ فِى هَذِهِ الْبَهَائِمِ الْمُعْجَمَةِ فَارْكَبُوهَا وَكُلُوهَا صَالِحَةً(36)

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک اونٹ کے قریب سے گزرے تو دیکھا کہ بھوک و پیاس کی شدت اور سواری وبار برداری کی زیادتی سے اس کی پیٹھ پیٹ سے لگ گئی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان بے زبان چوپایوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور ان پر ایسی حالت میں سواری کرو جب کہ وہ قوی اور سواری کے قابل ہوں اور اور جب یہ تندرست نہ رہیں تو اِنہیں کھا لیا کرو۔

ابنِ ابی شیبہؒ کی روایت میں ہے کہ انھوں نے تین لوگوں کو خچر پر سوار دیکھا تو فرمایا : تم میں سے ایک شخص اتر جائے؛کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے تیسرے شخص پر لعنت فرمائی ہے۔(37) یہ اُس صورت میں ہے؛ جب کہ وہ جانور تین آدمیوں کے بوجھ کو اٹھانے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو، اگر استطاعت رکھتا ہوتو جائز ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جانوروں کو محض اس لیے تمہارے تابع کیا ہے کہ وہ تمہیں ان شہروں اور علاقوں میں پہنچا دیں جہاں تم (پیدل چلنے کے ذریعہ)جانی مشقت ومحنت کے ساتھ ہی پہنچ سکتے تھے یعنی جانوروں سے مقصود ان پر سواری کرنا اور ان کے ذریعہ اپنے مقصد کو حاصل کرنا ہے؛ لہٰذا ان کو ایذا پہنچانا رَوا نہیں ہے۔جس جانور کی خلقت سواری کے لیے نہیں ہوئی جیسے گائے وغیرہ تو ان کی سواری کرنا جائز نہیں۔

حوالہ جات

  1. البيهقي، أبو بكر أحمد بن الحسين، شعب الإيمان، (دار الكتب العلمية – بيروت1410)، 9: 523
  2. الترمذي، أبو عيسى، سنن الترمذي، (مطبعة مصطفى البابي الحلبي، مصر)، باب ما جاء في كراهية أكل المصبورة، 5: 411
  3.  حواله سابق ، کتاب الصيد، باب ما قطع من الحي فهو ميت، 4: 74
  4. النيسابوري، مسلم بن الحجاج ، صحیح مسلم، (دار إحياء التراث العربي – بيروت)، کتاب البر والصلة والآداب، باب تحريم الظلم،4: 1997
  5.  البخاري، محمد بن إسماعيل، صحيح البخاري، (دار طوق النجاة الطبعة: الأولى، 1422هـ)، باب فضل الزرع والغرس إذا أكل منه، 3: 103
  6.  ابن ماجة ،محمد بن يزيد القزويني، سنن ابن ماجه، (دار إحياء الكتب العربية)، باب فضل صدقة الماء، 2: 1215
  7. النيسابوري، صحیح مسلم، باب فضل ساقی البهائم، 4: 1761
  8.  الطبراني، سليمان بن أحمد، المعجم الاوسط،( دار الحرمين – القاهرة)، 1: 271
  9. أبو داود، سنن أبي داود ،کتاب الجهاد، باب ما يومر به من القيام علي الدواب والبهائم، 3 /23
  10. البخاري، الصحيح البخاری،کتاب الذبائح والصيد، باب ما يکره من المثلة والمصبورة والمجثمة، 7: 94
  11. النيسابوري، ، صحیح مسلم، کتاب الصيد والذبائح، باب النهي عن صبر البهائم، 3: 1549
  12. البخاري، الصحيح البخاری،کتاب الذبائح والصيد، باب ما يکره من المثلة والمصبورة والمجثمة، 7: 94
  13. النيسابوري، ، صحیح مسلم، کتاب الصيد والذبائح، باب النهي عن صبر البهائم، 3: 1550
  14. أبو داود، سليمان بن الأشعث، سنن أبي داود، (دار الكتاب العربي ـ بيروت)، باب فى كراهية حرق العدو بالنار، 3: 8
  15. البخاري، صحيح البخاري، إذا حرق المشرك المسلم هل يحرق ، 4: 62
  16. القرطبي، محمد بن أحمد، الجامع لأحكام القرآن، (دار عالم الكتب، الرياض، المملكة العربية السعودية، 2000)، 13: 174
  17. حواله سابق
  18. حواله سابق
  19. البخاري، الصحيح البخاری،کتاب الذبائح والصيد، باب ما يکره من المثلة والمصبورة والمجثمة، 7: 94
  20. أحمد بن حنبل ،  المسند، (مؤسسة الرسالة،2001 م)، 9: 474
  21. ا لنسائي، أحمد بن شعيب،  سنن نسائی، (مكتب المطبوعات الإسلامية – حلب، 1986)، کتاب الضحايا، باب من قتل عصفورا بغير حقها، 7: 239
  22. حوالہ سابق، 7: 206
  23. البخاري، صحيح البخاري، باب خمس من الدواب فواسق يقتلن في الحرم، 4: 130
  24. النسائي، أحمد بن شعيب، السنن الكبرى، (مؤسسة الرسالة)، 1: 574
  25. ابوبكر بن أبي شيبة، مصنف ابن أبي شيبة، (دار الوطن،الرياض،1997م)، 5: 62
  26. الترمذي، سنن الترمذي، کتاب الديات، باب ما جاء في النهي عن المثلة، 4 /23
  27. الطبراني، سليمان بن أحمد، المعجم الکبير،( مكتبة ابن تيمية – القاهرة)، 11: 332
  28. ابن ماجة ، سنن ابن ماجه، کتاب الذبائح، باب إذا ذبحتم فأحسنوا الذبح، 2 /1059
  29. أحمد بن حنبل ،  المسند، 33: 472
  30. الطبراني، المعجم الکبير، 8 /234
  31. النيسابوري، صحیح مسلم، باب النهي عن ضرب الحيوان في وجهه ووسمه فيه، 3: 1673
  32. حواله سابق
  33. حواله سابق
  34. امام غزالی ، احیاء علوم الدین، الباب الثالث فی الآداب، 1: 264
  35.   أبو داود، سليمان بن الأشعث، سنن أبي داود، باب ما يؤمر به من القيام على الدواب والبهائم ، 2: 27
  36. حواله سابق
  37. ابن ابی شبی، مصنف ابن ابی شبیة، من کرہ رکوب ثلالة عل الدابة، حدیث:26380

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں اور سبسکرائب کریں ۔

اسلامی معلومات ، روایتی معاشیات ، اسلامی معاشیات اور اسلامی بینکاری سے متعلق یو ٹیوب چینل
https://www.youtube.com/user/wasifkhansb?sub_confirmation=1

Cosmopolitan Fiqh-فقہ العولمی کیا ہے؟

محمد ابوبکر صدیق

April 4, 2020

…………………………………….

آج عقل ِانسانی جس مقام پرپہنچی ہے اور جس سرعت رفتاری سے ترقی کی منازل طے کر رہی ہے ، ابتدائے آفرینش تا ماضی بعید اس کی مثال نہیں ملتی ۔ عقل کا یہ ارتقاء علم کی مرہونِ منت ہے ۔ عقل نے کائنات کے جن سربستہ اسرار کو طشت ازبام کیا ہے وہ ماضی قریب میں عقدہ لاینحل رہ چکے ہیں۔ فی زمانہ علم اورعقل نے وہ پیچیدہ معاملات تک سلجھا دیے ہیں کہ ماضی بعید کے باشندوں کوجن کی بھنک تک نہیں پڑی ہوگی ۔ گزشتہ ایک صدی سے زمانے کی صراحی سے مئے حوادث قطرہ قطرہ اتنی تیزی سے ٹپک رہے ہیں کہ جنہیں صرف زمانے کی تسبیح روز وشب پر ہی شمار کیا جا سکتا ہے۔ ایجادات کا ایک سیلِ رواں ہےکہ جسے اگرگزشتہ صدی کا انسان دیکھ لے تو ورطہ حیرت میں پڑ جائے کہ ستاروں پر کمند انسان کے لیے کیونکر ممکن ہوا؟ سینکڑوں لائبریریاں ایک چھوٹی سے فیتے یا انگلیوں کے پوروں پر پڑی مائیکرو چپ میں کیسے سما گئیں ؟ مہینوں مسافت کا سفر چند ساعتوں میں کیسے طے ہورہا ہے ؟ شیشے کی اسکرین پر افراد کے اجسام کی تھرتھراہٹ اور دوسری دنیاؤں کے نظارے کیسے ممکن ہوئے؟ تمدن کی اسی ترقی کی بدولت فقہائے اسلام کے لیے بھی عبادات سے لےکر معاملات تک نت نئے چلینجز سامنے آتے گئے ۔لیکن جب صنعتی انقلاب آیا جو بعد میں معیشت و تجارت میں انقلاب کا سبب بناتو بہت سے ایسے مسائل نے جنم لیا جن کا حل اجتہادی آراء پر منحصر تھا ۔

کا مغربی تصور-‘(Globalization)’-عولمیت 

گزشتہ صدی کی استعماری قوتیں اب نئے انداز میں اپنے تصورِ عولمیت کو دنیا پر نافذ کر کے اُن کا استحصال کرنےکی کوشش میں ہیں۔ فی زمانہ یہ کوشش اقتصادیات اور ثقافت کے میدان میں کی جارہی ہےجیسے سرمایہ دارانہ نظام معیشت کے تحت مالیاتی اور بینکنگ اداروں کا قیام ، فلم انڈسٹری اور میٖڈیا ہاؤسز کا قیام وغیرہ ۔نیز اپنے حملے کو مہلک بنانے کے لیے مغرب نے اپنا طرزِحیات اس انداز میں مرتب کیا کہ جس میں انسانی ہوس پرستی کے کوئی اصول مقرر نہیں کیے گئے خواہ اس کا تعلق جنسی تسکین سے ہو یا معاشی تسکین سے۔ انسان کو ہر قسم کی حدود و قیود سے آزاد کردیا گیا ، اس لیےمغرب نے جنسی تسکین کے لیے کسی قانونی بندھن اور معاشرتی تقاضوں کو خاطر میں لائے بغیر کھلی آزادی دے دی صرف ایک قانونی پابندی عائد کردی کہ یہ سب کچھ باہم رضامندی سےہونا چاہیے اور بس۔اس کے علاوہ دیگر پابندیاں تو مذہب نے لگانی تھیں اس لیے مغرب نے مذہب پر ہی پابندی لگادی کہ یہ ہر فرد کا ذاتی معاملہ ہے اس طرح مذہب کو ثانوی حیثیت دے کر زندگی کی ترویج میں اُس کا کردار غیر مؤثر کردیا۔اس طرح مغرب نے ایک انسان کو ہوائے نفس کا قیدی بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔گویا انسان جنسی تسکین کے لیے بھی آزاد کہ جنسی تفریق کے بغیرجس کے ساتھ، جیسے بھی ، جب بھی اور جہاں بھی جی چاہے وہ تعلقات استوار کرلے۔ اسی طرح معاشی تسکین کے لیے بھی آزاد کہ حلال وحرام کی تفریق کیے بغیر سود، جوا، میسر، عصمت فروشی، جیسے جی چاہے اپنے لیے دولت کمائے ۔ لہذا یہ ہے وہ یکسانیت جو مغربی نظام اپنی گلوبلائزیشن کے ذریعے پیدا کرنا چاہتا ہے۔

کے اثرات-‘(Globalization)’- اسلامی تہذیب پر عَوْلَمه

یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ ہر تہذیب کسی نہ کسی حد تک حوداثاتِ زمانہ سے ضرورمتاثر ہوتی ہے، البتہ اُس کے متاثر ہونےکا انداز اُس کی اپنی تہذیبی قوت اور پختگی پر منحصر ہوتا ہے۔چشمِ فلک نے کئی تہذیبوں کو کئی تہذیبیں نگلتے دیکھا ہے اور کچھ ایسی بھی تھیں کہ جنہوں نے حملہ آور تہذیب کو ہی حرفِ غلط کی طرح مٹا دیا۔اس اعتبار سے اسلامی تہذیب انسانی تاریخ کی سب سے زیادہ طاقتورترین تہذیب ثابت ہوئی کہ جس پر کئی تہذیبوں نے حملے کیے لیکن یہ نہ صرف محفوظ رہی بلکہ حملہ آور تہذیب کے باشندوں کو بھی اپنی طرف مائل کر لیا،اور کعبے کے لیےصنم خانے سے ہی پاسبان چن لیے۔ اسلامی تہذیب اس اعتبار سے بھی دائمی اوصاف سے متصف ہے کہ یہ اپنے باشندوں کی تربیت توحیدو رسالت، احتساب، جزا وسزا، انسانی تکریم‘ مساوات‘ تقویٰ‘ عفت اور پاکبازی جیسے مضبوط نصاب کے ذریعے کمال منہج پر کرتی ہےجواُن میں ہر زمانے کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت، ہمت اور قابلیت پیدا کردیتی ہے۔ مستثنیات اپنی جگہ ہیں اور ان کے اسباب بھی کچھ اور ہیں جو یہاں موضوع بحث نہیں۔ چناں چہ اسلامی تہذیب کا ہی یہ کمال ہے کہ اِس کے علما نے معاصر ترقی کی بدولت نوپیدا مسائل کا حل پیش کرنے کے لیے اپنے اسلاف کے اجتہادات سے استفادہ کر تے ہوئے اجتہادکے میدان میں اجتماعی اجتہاد کی روش کو اپنایا اور امت مسلمہ کی رہنمائی میں اپنا کرداراداکیا اور کر رہے ہیں۔

اجتماعی اجتہاد کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ فی زمانہ علم کی دنیا میں فرد کی سطح پر کوئی ایسا فقیہ نہ رہا جسے شرائط ِاجتہاد کا جامع کہا جاسکتا اور جس سے اجتہادکا مطالبہ کیا جاتا۔ مجتہد تو دور کی بات فی زمانہ کوئی بھی فقیہ اصحاب ِتمییز کے منصب پر بھی نہیں کہ جس سے اُمت کی رہنمائی ممکن ہوتی۔لیکن نو پیدا مسائل میں امت کی رہنمائی بھی فقہائے وقت کا فرض منصبی تھا کہ وہ ان مسائل کی نوعیت کو سمجھیں اور کتب فقہ میں منصوص مسائل کی روشنی میں ان کے احکام دریافت کریں۔اسی ضرورت کے پیش ِنظر قومی اور بین الاقوامی سطح پر فقہی تحقیقاتی اداروں کا قیام عمل میں آیا تاکہ امت مسلمہ کے اجتماعی نوعیت کے نَوپیدا مسائل اجتماعی اجتہاد کے ذریعے حل کیے جائیں۔اس سے فقہ اسلامی کا ایک نیا انداز سامنے آیا کیونکہ ان اداروں نے مسائل کے حل کوپوری امت کے لیے قابل ِعمل بنانے کی کوشش کی ہے ، جس سے ایک نئی فقہ کا وجود عمل میں آیا جسے فقہ العولمی کہا جاتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں اور سبسکرائب کریں ۔

اسلامی معلومات ، روایتی معاشیات ، اسلامی معاشیات اور اسلامی بینکاری سے متعلق یو ٹیوب چینل
https://www.youtube.com/user/wasifkhansb?sub_confirmation=1

ربیع الاول شریف اور فتوے

محمد ابوبکر صدیق

April 4, 2020

ربیع الاول اور میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارکباد اور فتوے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محرم ہو یا ربیع الاول یا رجب المرجب جیسے ہی یہ مہینے شروع ہوتے ہیں تو عوام الناس ہر بار ان مہینوں میں ہونے والے امور کے عدم جواز پر نئے عزم کے ساتھ پرانے فتوے انٹرنیٹ سے تلاش تلاش کر کاپی پیسٹ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ میں آج آپ احباب کو ایک سوچ دیتا چلوں کہ ذرا غور کی جئے کہ فتوی فتوی کھیلتے ہم کتنا دور نکل آئے ہیں؟؟؟ فتوی لینا پہلے مشکل کام ہوتا تھا لیکن موجودہ سافٹ ورلڈ میں اب فتوے ڈھونڈنا مشکل نہیں رہا۔ “”مفتی اعظم گوگل”” کے پاس ہر طرح کا فتوی موجود ہے۔ بس کاپی اور پیسٹ کرنے کی زحمت کرنی پڑتی ہے اور اس تلاش میں آپ کا عالم ہونا بھی کوئی لازمی نہیں رہا۔ بس انگلیاں چلائیں فتوی تیار ملے گا۔ آپ نے کبھی سوچا کہ ایک دوسرے کی نکیر میں بات کو شرک و کفر تک پہنچانے کا یہ رویہ، کیا مناسب رویہ ہے؟؟؟ اگر تو فتوی فتوی کا کھیل امت کے بکھرے شیرازے کو یکجا کرسکتا ہے اور امت کی ٹوٹی ہوئی تسبیح کے دانوں کو ایک لڑی میں پھر سے پرو سکتا ہے تو پھر یہ کھیل ضرور کھیلئے۔ ایک امر جو اپنی ذات میں نہ واجب و فرض ہے اور نہ ہی حرام۔ بلکہ وہ اباحت و استحباب کے درجے پر ہے۔تو ایسے امر پر فتوی فتوی کا کھیل سوائے باہمی تنافر و عداوت کے کوئی کار خیر سرانجام نہیں دے رہا اور ماضی کا منافرانہ ماحول اس کا ثبوت ہے۔ تو پھر ہم ایسے امور کو انتہائوں تک لے جانے پر بضد ہوکر کیوں باہم دست و گریباں ہوں۔ خاص کر اس وقت کہ جب دشمن اپنی صفوں کو متحد کرچکا ہے اور ففتھ جنریشن وار شروع کرچکا ہے۔ باہمی اختلافی امور پر ہمارے اسلاف کے رویے کیا رہے؟؟؟ کبھی ان کی پاکیزہ زندگیوں کا بھی مطالعہ کی جئے ۔ یقین جانیے باہمی اختلافی امور پر ہمارے بردبار رویے ہمارے معاشرے کو نیاگان کہن کے اخلاص عمل کی دولت سے مالا مال کرسکتے ہیں۔ لیکن اس کے لئے ہمیں جہاد کرنا پڑے گا اپنی انا سے، اپنی میں سے۔ جب ہم اپنی انا کے بت توڑ کر ایک دوسرے کو خیر الانام صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے دیکھیں گے تو شاید ہم اپنے لئے سب سے بہترین امت ہونے کے اعزاز کو دوبارہ سے بحال کر سکیں گے۔ فرقہ کب بنتا ہے ؟؟؟ انسان کی نظر جب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات سے ہٹ کر کسی دوسری شخصیت پر جم جائے تو پھر فرقہ واریت پیدا ہوتی ہے۔ لیکن نگاہ اگر خیر الانام صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت پر رہے تو امت کی وحدت کا تصور زندہ ہوتا ہے۔ اپنی نگاہ حضور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم پر جمائیے اور ایک دوسرے کے اختلاف رائے کو برداشت کی جئے۔ اللہ کریم ہمیں ہمارے نفس کی محبت کے فریب سے محفوظ فرمائے اور ایک امت بننے کی توفیق عطا فرمائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں اور سبسکرائب کریں ۔

اسلامی معلومات ، روایتی معاشیات ، اسلامی معاشیات اور اسلامی بینکاری سے متعلق یو ٹیوب چینل
https://www.youtube.com/user/wasifkhansb?sub_confirmation=1

 آن لائن جماعت کے لئے  لاؤڈ سپیکر سے استدلال

 

تحریر : محمد ابوبکر صدیق

…………………………………….

آن لائن جماعت کا مسئلہ اپنی نوعیت میں بذات خود ایک ایسا مضحکہ خیز امر ہے کہ کوئی بھی صاحب بصیرت ہنسے بغیر نہیں رہ سکتا۔ گزشتہ ہفتے سوشل میڈیا پر اس معاملے کے جو “لتے” لئے گئے ہیں اسی سے اندازہ لگا لیں ۔ لیکن مجھے یہ پوسٹ لکھنی پڑ رہی ہے کہ غامدی احباب ماضی بعید میں سپیکر کے جواز کے معاملے میں جھوٹ بول بول کر اسلاف علمائے کرام پر کیچڑ اچھالنے ، ان پر الزام لگانے اور انہیں جہالت کی سند دینے میں مصروف ہیں۔اس لئے میں نے اہم سمجھا کہ اپنے قیمتی نوجوانوں کے سامنے کچھ حقائق رکھ کر غامدی صاحب کے فریب کا پردہ چاک کروں ۔ اسلاف علما پر جو سخت زبان غامدی احباب کھولتے ہیں۔ غامدی صاحب پر ہمارے الفاظ تو اس کا عشر عشیر بھی نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ غامدی صاحب بذات خود قیام جماعت کے قائل ہی نہیں وہ صرف اس کی فضیلت کے قائل ہیں ۔ ان کے نزدیک جماعت کا اہتمام صرف حضور نبی اکرم ﷺ کے وقت خاص تھا۔ آپ کے بعد زید بکر کی امامت کی کوئی اہمیت نہیں رہ جاتی ۔ ہاں اگر کروانی بھی ہے تو ریاست کا سربراہ امامت کروائے۔ یہ ہے غامدی صاحب کا موقف ۔۔۔۔۔ جس پر بڑے سوالات اٹھ سکتے ہیں کہ ایک طرف غامدی صاحب کہتے ہیں ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہوتا جبکہ دوسری طرف کہتے ہیں ریاست کا سربراہ مذہبی فریضہ امامت سر انجام دے۔ غامدی صاحب خود ہی ایک بات کرتے ہیں اور دوسرے ہی لمحے اپنے ہی اصول کی درگت بناتے ہیں۔

سپیکر کی اجازت ” کو لے کر آن لائن جماعت کا ڈھونڈورا پیٹا جا رہا ہے۔ کہ ابتداء سپیکر کی مخالفت ہوئی پھر وہی ” مولوی” بعد میں مان گئے۔ اس لئیے آن لائن جماعت میں بھی ایسا ہی ہوگا۔پہلے تو یہ یقین کر لیں ایسا کبھی بھی نہیں ہوگا۔۔۔۔ کیوں ؟ اس کیوں کا جواب میں آگے چل کر دونگا ۔لاؤڈ سپیکر کے معاملے میں غامدی احباب سنی سنائی کے قائل ہیں۔ بے چارے سوشل میڈیا سے باہر تاریخی کتب کا مطالعہ کر تے ہی نہیں ۔ کسی نے جو کچھ بھی کہہ دیا سچ مان لیا صرف شرط یہ ہوتی ہے کہ بس بات علماء کے خلاف ہونی چاھیے ۔

کسی بھی نئے معاملے کے شرعی جواز کے لئے علمائے کرام کا طریقہ کار کیا ہے؟

علمائے کرام اس بارے میں بالکل وہی طریقہ اپناتے ہیں جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا تھا۔ کہ وہ ہر نئے در پیش معالے پر قرآن و سنت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب رجوع کرتے تھے۔ پھر اجماع کی جانب ۔ پھر قیاس ۔۔۔ بالآخر اجتہاد کی جانب ۔ لیکن ہر اصل کی اپنی اپنی شرائط پوری کی جاتی تھیں۔ علمائے کرام بھی بالکل وہی طریقہ اپناتے ہیں۔ کیونکہ فتوی کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے بلکہ ایک شرعی امر پر اللہ کے رسول ﷺ کی نیابت جیسا اہم امر ہے۔ اس میں وقت بھی لگتا ہے اور محنت بھی۔ (البتہ غامدی صاحب کو ہر امر میں مجتہد بننے کی خواہش ہوتی ہے اس لئے وہ کسی بھی شرط کو خاطر میں نہیں لاتے)۔

ماضی بعید میں جب لاؤڈ سپیکر متعارف ہوا تھا تو اس وقت علمائے کرام نے کس معاملے میں سپیکر کی مخالفت کی تھی؟

علمائے کرام نے سپیکر کی مطلق طور پر مخالفت نہیں کی تھی۔ چنانچہ مذہبی اجتماعات میں تقریروں، نعت جیسے امور میں علما ئے کرام خود اس کا استعمال کرتے تھے ۔ علما نے صرف تین امور آذان اور نماز میں تلاوت اور تکبیرات میں اسپیکر کے استعمال کی اجازت نہیں دی تھی کیونکہ شرعی اصول یہ تھا کہ یہ ایسی عبادت ہے جو انسان کی حقیقی آواز میں ہی درست قرار پاتی ہے۔ مصنوعی آواز میں عبادت کا کوئی تصور نہیں ہے۔


کیونکہ سپیکر کے جواز کے معاملے میں انسانی آواز کے حقیقی یا مصنوعی ہونے کا اخفا تھا جس سے یہ شبہ تھا کہ کہیں اگر یہ مصنوعی آواز ہوئی تو شرعی اصولوں سے انحراف کی بدولت کہیں عبادت کی ادائیگی ہی شک میں نہ پڑ جائے۔ اس لئے علمائے کرام نے عبادات کے معاملے کو شک میں ڈالنا پسند نہیں کیا کیونکہ عبادت کی ادائیگی یقین کی حالت میں کی جاتی ہے۔


چنانچہ علمائے کرام نے فزکس کی دنیا میں آواز سے متعلق نت نئے پہلو اجاگر کر دئے جس سے ان علمائے کرام کی علمی شان کا اظہار ہوتا ہے جسے غامدی احباب سمیت دیگر لبرلز “مولوی کی جہالت” سے تعبیر کرتے ہیں۔

اب سوال یہ تھا کہ اسپیکر سے پیدا ہونے والی آواز کی اصلیت کیا ہے ؟

اس سوال کو لے کر علمائے حق نے علمی بحث کے وہ دروازے کھولے جو خود سائنس کے محققین کے لیے نئے باب تھے۔علمائے حق نے “آواز اور گلے” سے متعلق جن درج ذیل پہلووں پر بحث کی اُس پر اُس وقت کے سائنس دان خود سکوت میں تھے۔

What is definition of Voice?

What is difference in the pitches of human real voice and voice generated in loud-Speaker?

Human voice travels in Ordinary waves while loud-speaker voice travels in electric waves. Will both voices be considered same voice?

What are the differences in pitch and vibration of both voices?

Echo and its reality, Analysis of Human Voice

 

اس بارے میں اس وقت کے درویش صفت علمائے حق نے تو آواز کے سائنسی کے اصولوں پر ٹھیک ٹھاک بحث کی جن کی تفصیل اسلاف علما کی کتب فتاوی میں دیکھی جا سکتی ہیں جس سے شاید یہ لبرلز اور دین بیزار آگاہ بھی نہیں ہونگے۔ آواز سے متعلق یہ وہ جہات تھیں جن سے اس وقت کے سائنس دان خود بھی آگاہ نہیں تھے۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب سائنسی تحقیقات سامنے آئیں معاملہ واضح ہوا کہ لاوڈ سپیکر سے نکلنے والی آواز اور انسان کی آواز میں صرف پِچ اور وائبریشن کا فرق ہے۔ اس کے ساتھ دیگر پائے جانے والے فروق عبادات کو متاثر نہیں کرتے ۔ تب جا کر علمائے کرام نے عبادات میں بھی اسپیکر کے استعمال کو جائز قرار دیا۔ لیکن اس کے باوجود کچھ علما نے علمی بنیاد پر یہ اجازت نہیں دی ۔ کیونکہ مندرجہ بالا سوالات جن کو انہوں نے بنیاد بنایا تھا سائنس دان خود بھی ان کے جوابات میں اختلافات رکھنے کی بدولت تقسیم تھے۔لبرلز اور دین بیزار طبقے کی علما کے خلاف ہرزہی سرائی کی یہ وہ حقیقت ہے جسے میں نے یہاں مختصر انداز میں قلم بند کیا ہے۔
اب میں یہ اپنے نوجوان پر چھوڑتا ہوں کہ وہ اپنے اسلاف علما کو علم کے علم بردار مانتے ہیں یا پھر وہ لبرلز والی روش پر جانا چاھتے ہیں۔
اب آتے ہیں اس بحث کی جانب جس پر لبرلز اور دین بیزار احباب نے شور بپا کر رکھا ہے کہ جیسے گزرتے وقت کے ساتھ مولویوں نے لاؤڈ سپیکر کو جائز تسلیم کرلیا بالکل ایسے مستقبل میں یہ مولوی آن لائن جماعت کا جواز بھی تسلیم کر لیں گے۔

کیا آن لائن جماعت کا جواز مستقبل کے علما تسلیم کر لیں جیسے سپیکر کے معاملے میں ہوا ؟

بالکل بھی نہیں ۔۔۔ کیوں ؟ جواب سے پہلے یہ اصول ذہن میں رکھیں کہ “ہر معاملے کے لئے یہ لازمی نہیں ہوتا کہ اُس کے متعلق نتیجہ وہی نکلے جو ماضی میں کسی اور مسئلے کا نکلا ہو”۔نیز یہ کہ ععلما کی نظر اس اجازت کے مضمرات پر ہوتی ہے جو اس وقت لوگوں کے  سامنے نہیں ہوتے۔مثال کے طور پر  اعضا کی منتقلی کی اجازت کے بعد یہ عالمی سطح پر ایک مفید و منافع بخش صنعت و کاروبار بن چکا ہے۔زندہ لوگوں کے اعضا حیلے بہانوں سے نکالے جانے کے واقعات عام ہو چکے ہیں۔آن لائن نماز کی اجازت سے کیا کیا گُل کھلیں گے اہل بصیرت سے مخفی نہیں۔

اب آئیے سوال کے جواب کی جانب 


جیسا کہ بیان ہوچکا کہ سپیکر کے جواز میں کچھ امور کا اخفا تھا جن کا اظہار شرعی جواز کے فتوے سے پہلے لازمی تھا ۔ تاہم اس میں کسی بھی شرعی اصول سے یقینی انحراف نہیں بلکہ انحراف کا شبہ تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ تحقیق کی بدولت جیسے ہی وہ شبہ دور ہوا اور معاملہ واضح ہوا تو علما نے عبادات میں بھی لاؤڈ سپیکر کے جواز کا فتوی دے دیا۔


آن لائن جماعت کا معاملہ لاؤڈ سپیکر سے بالکل الٹ ہے ۔ آن لائن جماعت کے معاملے میں قیام جماعت کے بہت سارےشرعی اصولوں سے یقینی انحراف مو جود ہے۔ جس سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ یہ معاملہ قیامت تک جائز قرار نہیں پائے گا۔ جیسے بہت سارے ماضی کے امور ۱۴۰۰ صدیاں قبل بھی ناجائز تھے ، آج بھی ناجائز ہیں اور قیامت تک ناجائز رہیں گے۔ کیونکہ وہ شرعی اصولوں سے متصادم ہیں۔

آن لائن جماعت میں کیا مسائل ہیں ؟

۔1۔ مقتدی امام سے آگے کھڑا نہ ہو ۔جو مقتدی امام سے ایک قدم بھی آگے کھڑا ہو تووہ امام کی اقتداء سے نکل جائے گا ۔ اس مسئلے پر تمام فقہا متفق ہیں۔ آن لائن جماعت میں یہ کیسے پتہ چلے گا کہ امام آگے ہے یا مقتدی ؟
۔۲۔ جماعت کے قیام کے لئے بنیادی مسئلہ امام و مقتدی کے مابین فاصلے کا ہے۔ حتی کہ اگر ایک شخص اسی مسجد میں جگہ ہونے کے باوجود باہر صحن میں کھڑا ہوجائے تو وہ امام کی اقتداء میں شمار نہیں ہوتا ۔
۔۳۔ دو لوگ جماعت کریں تو امام اور مقتدی اس طرح برابر کھڑے ہوتے ہیں کہ مقتدی کا پاوں امام کے پاوں کی ایڑھی برابر ہو۔ آن لائن جماعت میں امام ایوان صدر میں ہے اور اکیلا ہے ایک مقتدی آن لائن ہے تو وہ کیسے کھڑے ہوں گے ؟
۔۴۔ دو لوگوں کی جماعت ہو رہی ہو اور تیسرا بندہ آجائے تو امام ایک قدم آگے بڑھ جاتا ہے اور مقتدی ایک قدم پیچھے چلا جاتا ہے۔ آن لائن جماعت میں یہ کیسے ہوگا؟
۔۵۔ صفوں کی ترتیب یہ ہوتی ہے کہ مرد پہلی صف پر ۔ بچے دوسری صف پر ، خنثی یعنی خسرے تیسری صف پر اور عورتیں چوتھی صف میں ۔ آن لائن جماعت یہ کیسے ہوگا ؟
۔۶۔ دوران نماز اگر امام کا وضو ٹوٹ جائے تو وہ پیچھے کھڑے شخص کو آگے مصلے پر کھڑا کرتا ہے ۔ آن لائن جماعت میں ایوان صدر کا امام یہ کیسے کرے گا ۔ اگر وہاں امام اکیلا ہو اور باقی سب آن لائن تو پھر امام کسے اور کیسے آگے کھڑا کرے گا؟
۔۷۔ آن لائن جماعت میں انٹرنیٹ کنکشن ہی منقطع ہوگیا پیکج ختم ہوگیا تو وہ کیا کرے گا ؟

یہ سارے وہ مسائل ہیں جو آن لائن جماعت سے پیدا ہوتے ہیں۔ یقین کریں کہ آن لائن جماعت کے یہ مسائل کم اور لطیفے زیادہ ہیں ۔ لبرلز کی جانب سے ان سب کا ایک ہی ممکنہ جوا ب ہو سکتا ہے ۔۔۔اور وہ یہ کہ ۔۔۔ جی آن لائن جماعت سے یہ ساری مشکلیں خود بخود ختم ہوجاتی ہیں ۔ ۔۔ اور اس جواب کے ایک جاہلانہ جواب ہونے میں کوئی شک نہیں ہونا چاھیے۔

آن لائن جماعت سے ایک بنیادی اور اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر گھروں میں بیٹھے بیٹھے جماعت میں شرکت ہوجاتی ہے تو پھر مسجد کی اہمیت ہی کیا رہ جاتی ہے ؟

اس کا جو ممکنہ جواب ہے وہ یہ ہوسکتا ہے : آن لائن جماعت کا اطلاق عام حالات میں نہیں بلکہ موجودہ وبائی حالات کے پیش نظر شرعی رخصت کے تناظر میں ہوگا۔ اس جواب سے پھر ایک اور اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ شرعی رخصت کی تاثیر کیا نوعیت کیا ہے؟

استثنائی حالات میں رخصت ایک شرعی حکم سے مکمل طور پر استثنا ء دیتی ہے ۔ جزوی استثنا ء نہیں ۔ مثلا مرض میں مبتلا یا تو جماعت کے ساتھ نماز ادا کرے یا پھر گھر میں ادا کرے ۔ درمیان کی کوئی صورت حال نہیں ہے۔ جیسے مسجد کا سپیکر آن کرلیں اور گھر بیٹھا مریض آواز کے ذریعے یا سکرین کے ذریعے گھر بیٹھے اقتدا ء کرتا رہے ۔ ورنہ وہی سولات پھر پیدا ہونگے جس کا ذکر ہم پیچھے کر آئے ہیں۔ مسافر ْیا مریض روزہ رکھے یا نہ رکھے رخصت ہے ۔ درمیان کا کوئی راستہ نہیں کہ جب جب بھوک لگے کھاتا رہے اور روزہ بھی قائم رہے۔ اس لئے جماعت سے رخصت کا صرف ایک ہی مطلب ہے کہ یا تو جماعت میں شریک ہوجاو یا پھر شرعی عذر کی بدولت گھروں میں اکیلے پڑھ لو ۔

(موطا امام مالک، مصنف عبدالرزاق ، مصنف ابن ابی شیبہ، مسند احمد ) دیکھ لیں جس میں مختلف اسناد سے مروی احادیث اسی موضوع پر ہیں۔ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحت مبارکہ ناساز ہوئی تو امامت کے لئے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا انتخاب کیا۔ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حجرہ مبارک مسجد نبوی سے متصل تھا اور دروازہ مسجد نبوی میں بھی کھلتا تھا۔ لیکن آپ نے اس کے باوجود گھر میں رہتے ہوئے بستر پر استراحت فرما ہوتے ہوئے بھی امامت نہیں فرمائی اور نہ ہی حجرہ مبارک میں بیٹھے ہوئے جماعت کی اقتداء کی۔ اگرچہ امام کی آواز بھی حجرہ مبارک میں واضح آتی تھی۔صحت ناساز تھی عذر بھی شرعی تھا۔ شارع بھی خود تھے۔ اس سب کے باوجود گھر میں رک کر جماعت نہ کرانے میں اور نہ ہی مسجد کی جماعت میں شامل ہونے میں اہل عقل کے لئے ۔۔ پھر دہرائے دیتا ہوں۔۔۔۔کہ ۔۔۔ صرف اہل عقل کے لئے واضح اشارے ہیں کہ گھروں میں رہتے ہوئے مسجد کی جماعت کے ساتھ شرکت نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کی کوئی دلیل شریعت میں موجود ہے۔

آن لائن جماعت کا قول حقیقت میں شرعی رخصت ہے یا شرعی امور میں جہالت کی بدولت دینی احکام پر غیر مطلوب شدت اختیار کرنا ہے ؟

یہ ہے وہ سب سے اہم نکتہ جس کی جانب احباب کی توجہ دلاتا چلوں ۔ کہ جناب آن لائن جماعت کا تصور در حقیقت دینی احکام میں ایسی جاہلانہ شدت اختیار کرنا ہے جس کی مثال شاید اسلامی تاریخ میں اٹھنے والے باطل فرقوں حتی کہ خوارج کے ہاں بھی نہیں ملے گی۔
اسلام جب وبائی حالات جیسے استثنائی حالات میں جماعت کے ترک کی جانب رخصت دیتا ہےتو غامدی صاحب جماعت کے قیام کا ایسا شدید قول کیوں اختیار کر رہے ہیں کہ جماعت ضرور ہی ہو ۔بھلے اللہ تعالی نے رخصت دی ہے لیکن غامدی صاحب نہیں دینے لگے۔
علما ئے کرام نے بھی یہ فرمایا ہے کہ اکثریت گھروں میں تنہا نماز پڑھے لے بالخصوص بچے ، بوڑھے اور مریض ۔ یا پھر ہر گھر کے افراد اپنے اپنے گھروں میں قیام جماعت کا اہتمام کر لیں ۔ صرف محدود لوگ مسجد کو ویران کرنے سے بچانے کی غرض سے جماعت کا تسلسل جاری رکھیں ۔ اور جماعت کا یہ تسلسل یا جماعت کیوں ضروری ہے اس کی اہمیت پر سنت نبوی ﷺ کا ایک ذخیرہ موجود ہے ۔

ہذا عندی وما توفیقی اللہ باللہ

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں اور سبسکرائب کریں ۔

اسلامی معلومات ، روایتی معاشیات ، اسلامی معاشیات اور اسلامی بینکاری سے متعلق یو ٹیوب چینل
https://www.youtube.com/user/wasifkhansb?sub_confirmation=1

 آن لائن جماعت اور شرعی رخصتیں

April, 1-2020

تحریر : محمد ابوبکر صدیق

…………………………………….

پس نوشت

کورونا صورت حال کی ہیجانی صورت حال کے اندر محترم جناب جاوید احمد غامدی صاحب نے میڈیا کو انٹرویودیتے ہوئے آن لائن جماعت کا تصور پیش کیا۔ اُن کے حلقہ اثر کے احباب نے اُسے غامدی صاحب کا اجتہاد عظیم قرار دینا شروع کردیا اور اس کے لئے سب سے پہلے ’’ لاؤڈ سپیکر ‘‘ کے جواز کو بطور دلیل پیش کرنا شروع کیا۔ جس پر سنجید ہ اہل علم و نظر نے کافی تنقید کی ۔ اس حوالے سے میں نے بھی ’’ آن لائن جماعت اور لاؤڈ سپیکر سے استدلال‘‘ کے نام سے مختصر تجزیہ تحریر کیا۔اس کے بعد ابھی دو دن پہلے جناب غامدی صاحب کی نئی ویڈیو سامنے آئی ہے ۔ جس میں انہوں نے اپنے موقف کی تفصیل اور دلائل ذکر کئے ہیں۔ اس ویڈیو کی ابتداء میں کیمرے کے پیچھے اُن کا کوئی شاگرد اُن سوالات میں سے صرف چند سوالات پیش کرتا ہے جو جناب ڈاکٹر مشتاق صاحب اور میں نے اپنی اپنی گزشتہ تحریر میں اٹھائے تھے۔ پھر حسبِ عادت پوری ویڈیو میں غامدی صاحب نے اُن سوالات میں سے کسی ایک سوال کا بھی جواب دینے کی طرف توجہ نہیں دی ۔ بلکہ نئے کمزور دلائل پر اپنی آن لائن جماعت کا جواز ثابت کرنے کی کوشش کی۔ اس بار اللہ کا کرم یہ ہوا کہ ’’ لاوڈ سپیکر‘‘ کی جان بخشی ہوئی اور اپنے موقف کے لئے اُسے بطور دلیل پیش نہیں کیا۔


اپنی نئی ویڈیو میں جناب غامدی صاحب نے جن رخصتوں کو بطور دلیل ذکر کیا ہے اور اپنے ناقدین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ” اپنی فقہاہت ” کی روشنی میں اُن پر غور کریں۔اس پر عرض ہے کہ جناب ہم تو پہلے دن سے جانتے تھے کہ آپ انہی نماز و روزہ کی رخصتوں کو بطور دلیل لائیں گے اور جواب بھی اُسی وقت ہمارے پاس موجود تھے بس آپ کی جانب سے ان رخصتوں کو بطور دلیل پیش کرنے کے منتظر تھے۔ پیش بندی کا یہ فقہی فن ہم نے اپنے اسلاف فقہا سے ہی سیکھا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نماز اور روزہ کی رخصتوں پر قیاس کرتے ہوئے آن لائن جماعت کا جواز کشید نہیں کیا جاسکتا۔ ۔۔۔۔۔ کیوں ؟

غامدی صاحب نے  نماز اور روزے کی رخصت پر قیاس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بالکل اسی طرح آن لائن جماعت کی رخصت بھی کشید ہوتی ہے۔ اگرچہ ہم اسے رخصت کی بجائے شرعی احکام میں غیر مطلوب شدت قرار دیتے ہیں۔ تاہم اگر غامدی صاحب اسے رخصت قرار دینے پر ہی مُصِر ہیں تو اس حوالے سے ہم ان کے قیاس کا تفصیلی تجزیہ پیش کرتے ہیں۔ ۔

۔1۔قصر نماز کی رخصت پر قیاس

قصر نماز میں صرف نماز کی رکعتیں کم ہوتی ہیں۔ نماز تنہا ہو یا باجماعت اس کی بقیہ ساری متعلقہ شرائط ویسے ہی لازم رہتی ہیں جیسے عام حالات میں اُن کے بغیر نماز ادا نہیں کی جاسکتی ۔ لیکن آن لائن جماعت کا تصور تو باجماعت نماز کی ساری شرائط کو ہی ختم کردیتا ہے۔

نتیجہ: آن لائن جماعت “باجماعت نماز” کی بنیادی شرائط کی نفی پر مبنی ہے۔ لہذا یہ کیس قصر نماز سے بالکل مختلف بن جاتا ہے۔ دونوں میں کوئی مشابہت نہیں کہ قیاس کی گنجائش نکلے ۔ اس لئے یہ قیاس باطل ہے۔

قصر نماز کی اجازت کب ہوتی ہے ؟ عملا سفر کی حالت میں۔ سفر کی حالت کب شروع ہوتی ہے ؟ جب انسان اپنے شہر کی حدود سے نکلے۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے:جب آدمی کو غالب گمان ہو یا دل میں قوی ارداہ بنے کہ وہ کسی دوسرے شہر کا سفر کرے گا لیکن ابھی یقین نہ ہو کہ جائے گا تو کیا وہ شخص نماز قصر کرسکتا ہے ؟ “
جواب ہے بالکل بھی نہیں۔ یعنی شرعی رخصت صرف اور صرف عملی اور یقینی کیفیت میں حاصل ہوتی ہے نہ کہ صرف وہم و گمان سے ۔ اور غامدی صاحب سے پوچھ لیں ان کا اپنا فہم ( فقاہت نہیں کیونکہ وہ عموما فقہ کے قائل ہی نہیں ) بھی یہی جواب دے گا جو میں نے دے دیا ہے۔
لہذا ۔۔۔ غامدی صاحب آن لائن جماعت کی رخصت جن لوگوں کو دے رہے ہیں کیا وہ یقینی طور پر مسافر کی مانند عملا وائرس میں مبتلا ہیں ؟ جس کا جواب واضح ہے نہیں ۔۔۔کیونکہ غامدی صاحب کا بنیادی موقف ہی ” وائرس پھیلنے کا صرف خدشہ ہے “۔

نتیجہ : اگر صرف غالب گمان کی صورت میں شریعت نماز قصر کی اجازت نہیں دیتی تو صرف وائرس لگنے کے خدشے کی بنیاد پر آن لائن جماعت کا جواز بھی کشید نہیں کیا جاسکتا ۔

۔2۔ مریض کی نماز والی رخصت پر قیاس

مریض کی نماز والی رخصت پر بھی قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہونے کی وجہ سے قیاس باطل ہے۔ اس لئے کہ وہ فرد کے لئے حکم ہے۔ اگر اجتماعی حکم ہوتا تو پھر باقاعدہ ” مریضوں کی جماعت ” کا حکم ہونا چاھیے تھا لیکن یہ شرعا غیر مطلوب تھا ۔ آن لائن جماعت فرد کا نہیں اجتماعی حکم ہے۔

نتیجہ: فرد کے حکم اور اجتماع کے حکم کے مابین کوئی قیاس نہیں۔ اس لئے یہ دلیل بھی باطل ہے۔

نیز شریعت اسلامیہ مختلف امراض کے مریضوں کو حقیقی عذر جسے عذر شرعی کہا جاتا ہے کی بنیاد پر رخصت دیتی ہے جیسے رکوع سے عجز، سجدے سے عجز ، اور قیام سے معذوری ۔ یہ سب معذوریاں حقیقی ہوں تو تب جاکر شریعت بندے کو رکوع و سجود اور قیام سے رخصت دیتی ہیں۔ آن لائن جماعت کی رخصت جس عذر سے کشید سے کی جارہی ہے کیا وہ عذر بالفعل حقیقی ہے یا ظنی ہے ؟ یا یہ صرف حقیقی معذوروں کے لئے ہی رخصت ہے ؟ اگرتو ظنی ہے پھر تو یہ قیاس ہی باطل ہے کہ بالفعل یقینی صورت حال پر ظنی صورت کو کیسے قیاس کیا جاسکتا ہے ۔ اور اگر یہ رخصت صرف حقیقی معذوروں کے لئے ہے تو بھی باطل رخصت ہے کیونکہ شریعت نے ان سے معذوری کی بابت جماعت کا سرے سے مطالبہ ہی نہیں کیا۔ تو غامدی صاحب کس حیثیت میں اس رخصت کے ذریعے معذور افراد سے باجماعت نماز کا مطالبہ کرتے ہیں!

نتیجہ: آن لائن جماعت کے جواز کے لئے مریض کی نماز والی رخصت پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہونے کی وجہ سے باطل ہے ۔ اس لئے آن جماعت باطل ہے۔

نوٹ :کسی غالب خدشے کی بابت جو بندہ مسجد نہیں آسکتا اس پر جماعت کا لزوم ویسے ہی ساقط ہے تو پھر آن لائن جماعت کے تصور کا سرے سے تک ہی نہیں بنتا ۔

۔3۔ نماز میں راکب کو دی گئی شرعی رخصت پر قیاس

راکب کی نماز میں دی جانے والی رخصتوں پر قیاس کرتے ہوئے آن لائن جماعت کی رخصت کشید کرنے کا قیاس بھی باطل قیاس ہے۔۔ کیوں ؟


نوٹ:( اس نکتے پر بات کرتے ہوئے غامدی صاحب طنزا جی طنزا ۔- اخلاقیات والے ویڈیو دیکھ لیں جو کہتے ہیں غامدی صاحب طنز نہیں کرتے ۔ طنزا کہتے ہیں کیا آپ سواری پر کھڑی ہوجائیں گے۔ اور اس مجلس میں جناب کے احباب باقاعدہ ہنستے بھی ہیں۔ ) یہ نوٹ اخلاقیات والوں کے لئے خاص ہے۔اب سوال کے جواب کی طرف آئیے :۔ راکب کی نماز کی دو جہتیں ہیں۔ 1۔ شخصی جہت 2۔ اجتماعی جہت

شخصی جہت کی مثال

راکب ( سوار) جب سواری جیسے بس، گھوڑا ، کار ، کشتی یعنی ایسی سواری پر سوار ہو جس پر بیٹھے ہوئے قیام و سجدہ کرنا ممکن نہ ہو تو اسے قیام و سجدے کی رخصت ہوتی ہے کہ وہ یہ ارکان ادا نہ کرے۔

اجتماعی جہت کی مثال

بحری جہاز پر باجماعت نماز اجتماعی جہت کی مثال ہے۔ (غامدی صاحب نے شخصی والی مثال دے کر تاثر ایسا دیا کہ جیسے اجتماعی والی صورت میں بھی وہی رخصت حاصل ہو)۔
کیا صرف “شخصی جہت ” پر قیاس کرتے ہوئے غامدی صاحب بتائیں گے کہ بڑے بحری جہاز کے مسافر سمندر میں سفر کے دوران جب نماز ادا کریں گے تو وہ بھی قیام و سجدے کے بغیر نماز ادا کریں گے؟ کیونکہ سوار شخص کو سجدہ نہ کرنے کی رخصت ہے اور بحری جہاز کا سوار بھی راکب ہے ؟ اوہو دیکھیں غامدی صاحب سواری پر سوار لوگ کھڑے بھی ہوگئے اور سجدہ بھی کر رہے ہیں۔ آپ کاکہنا نہیں مان رہے۔اب کہاں گیا سواری پر آپ کا مطلق قیاس ؟؟؟؟

نتیجہ:شخصی رخصت کی بنیاد پر آن لائن جماعت کی رخصت جو کہ ایک اجتماعی نوعیت کا امر ہے، کو قیاس نہیں کیا جاسکتا ۔ ویسے بھی غامدی صاحب کا اپنا اصول بھی یہی ہے کہ شخصی حکم کو اجتماع پر لاگو نہیں کیا جاسکتا ۔ لہذا اس پر قیاس کرتے ہوئے آن لائن جماعت غامدی صاحب کے اپنے اصول کے تحت باطل قرار پاتی ہے۔ اب غامدی صاحب کی مرضی چاھے اصول بدل لیں یا پھر ۔۔۔۔۔

۔4۔ مسافر کے روزے کی شرعی رخصت پر قیاس

غامدی صاحب نے روزے کی رخصت پر بھی آن لائن جماعت کی رخصت کے جواز کے لئے قیاس کیا ۔یہ قیاس بھی باطل قیاس ہے۔ قیاس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ ایک مثال اِدھر سے لی ایک اُدھر سے لی اور قیاس جَڑ دیا۔ اس کی الگ شرائط ہیں کچھ اصول ہیں۔
سفر میں روزے کی رخصت وجوبی نہیں بلکہ اختیاری ہے۔ نیز اگر کوئی اختیار کرے گا تو روزہ نہیں رکھے گا۔ یہ نہیں کہ کھاتا پیتا بھی رہے اور روزہ بھی رہے۔ اسے اختیار ہے چاھے روزہ رکھے اور چاھے روزہ ترک کرے۔ نیز یہ رخصت اس مسافر کے لئے ہے جو بالفعل مسافر ہو۔ اس لئے اسے اجازت ہوتی ہے کہ وہ راستے میں افطار کرے۔
نماز کی جماعت میں رخصت کا صرف ایک ہی مطلب ہے کہ نماز یا جماعت ہو یا نہ ہو۔ آن لائن جماعت کا تصور بذات خود شرعی رخصت کے خلاف ہے۔ یعنی شریعت جن حالات میں جن افراد کو ترکِ جماعت کی اجازت دیتی ہے غامدی صاحب انہیں رخصت دینے کی بجائے آن لائن جماعت کا کہتے ہیں۔

نتیجہ:آن لائن جماعت کی صورت اور مسافر کے روزے کی صورت میں کوئی مشابہت نہیں کہ قیاس کیا جاسکے۔ نیز آن لائن جماعت بذات خود شرعی احکام میں ایک شدت ہے جو شرعی رخصت کی حقیقی روح کے ہی خلاف ہے۔ اس لئے آن لائن جماعت کا جواز اس سے کشید نہیں ہوتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

التماس: آن لائن جماعت اور مساجد کو تالا لگانے کا موقف رکھنے والے احباب سے گزارش ہے کہ شرعی رخصتوں پر قیاس کرنے سے پہلے خدارا قیاس کی اصولی مباحث کا مطالعہ ضرور کر لیں۔

 

روشن خیالی کے شوقین چند اہل علم احباب جو یہ کہتے ہیں کہ اگر یہی آن لائن جماعت والا فتوی روایتی ملاؤں کے اپنے کسی امام نے دیا ہوتا تو وہ اسے عظیم اجتہاد قرار دیتے ، اب چونکہ غامدی صاحب نے یہ فتوی دیا ہے اس لئے ان سے برداشت نہیں ہو رہا !۔

اس پر ہماری مؤدبانہ عرض صرف اتنی ہے کہ ہمارے اسلاف ایسا فضول فتوی دیتے ہی کیوں ؟ آپ کہتے ’’اگر دیتے تو ۔۔۔۔‘‘۔ ہم کہتے ہیں جناب والا ’’ ہمارے اسلاف کی علمی ثقاہت خود اس بات پر شاہد ہے کہ ان کے بارے میں تو یہ بات’ فرض ‘ بھی نہیں کی جاسکتی کہ وہ ایسا کہتے‘‘ کیونکہ ان کے فقہی ذخیرے میں اجتہاد تو بڑی بات ایک ایسا قول بھی نہیں جسے فضول کہا جاسکے جو بنیادی شرعی اصولوں کا بھی خیال نہ رکھے ۔

ہذا عندی وما توفیقی اللہ باللہ

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں اور سبسکرائب کریں ۔

اسلامی معلومات ، روایتی معاشیات ، اسلامی معاشیات اور اسلامی بینکاری سے متعلق یو ٹیوب چینل
https://www.youtube.com/user/wasifkhansb?sub_confirmation=1

1 Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Post comment