یہ آرٹیکل ہزارہ اسلامیکس میں شائع ہوچکا ہے۔ اس کا حوالہ درج ذیل ہے؛

 

، محمد ابوبکرصدیق، سود کے جواز پر جدید معاشی نظریات اور عقلی توجیہات کا تجزیاتی مطالعہ، ہزارہ اسلامیکس، جنوری تا جون 2018، ص؛13-39

 

Siddique, M.Abubakar, An Analytical Study of Modern Economic Theories and Rationales Behind Interest, Hazara Islamicus, January-June 2018, Volume 7, Issue 1, p: 13-39

 

Its pdf file can be downloaded from following link

https://papers.ssrn.com/sol3/papers.cfm?abstract_id=3230546


سود کے جواز پرجدید معاشی نظریات اورعقلی توجیہات کا تجزیاتی مطالعہ

An Analytical Study of Modern Economic Theories and Rationales Behind Interest

محمد ابوبکر صدیق

لیکچرر (پی ایچ ڈی اسکالر)،سکول آف اسلامک بینکنگ اینڈ فنانس ،انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اکنامکس ، بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی،  اسلام آباد۔

muhammad.abubakar@iiu.edu.pk

Abstract

               The Islamic economic system is built-in ethic based system in which contracts and matters have been raised in a way that the attitudes of trust and sincerity between human beings may prevail. Therefore, where Islam has given orders related to sales, transactions, and other contracts, Islam also prohibited the elements those are disastrous for relations on both National and International levels. Interest is an element that promotes hatred among people as well as Nations. Islam prohibited the interest. Conventional economics, on the contrary, encourages the interest in different ways. Conventional economists presented theories of interest e.g. Waiting theory, Time preference theory, Theory of compensation, Theory of Exploitation, Theory of Production and Classical Theory of Interest. Every theory is the devil advocacy of interest permissibility. All these theories provide economic rationales behind charging the interest. In this article all above mentioned theories along with their economic rationales are briefly analyzed and criticized in the light of socioeconomic rationales. This article also explains the weaknesses and flaws of these theories. Besides these theories this article also discuses the types of interest in brief. In this article it is attempted to make clear the idea why Islam prohibited the interest.

Keywords: Riba, Economic rationales of Interest, Theories of Interest, Commercial Interest, Usury.

تعارف

اسلام کے معاشی نظام میں معاملات کو اخلاقی بنیادوں پر استوار کیا گیا ہے تاکہ معاملات کے ساتھ ساتھ انسانوں کے مابین محبت و اخلاص کے جذبے کوفروغ ملے اور یہی مقصود فطرت بھی ہے۔جبکہ اخلاقی پابندیوں سے عاری نظام میں معاملات نہ صرف بے مقصد ہوکررہ جاتے ہیں،بلکہ وہ انسانوں کے مابین عدم اعتمادپیداکرنے کے ساتھ اُن میں باہم نفرت وعنادکو بھی ہوا دیتے ہیں۔اسی لیےاسلام نے جہاں خرید و فروخت، لین دین اور دیگر عقود سے متعلق احکام دیے ہیں ۔ وہیں اُن عناصر کا سد باب بھی کیاہےجو نہ صرف معاشی سطح پرانسانوں کےباہمی تعلقات کے لیے مضرہیں،بلکہ زندگی کےہرگوشے میں ان کے مابین  بغض و حسدکی تخم ریزی کرسکتےہیں۔سودانہی عناصر میں سے ایک ایسا عنصر ہےجو افراد تو افرادرہےقوموں کے مابین بھی دشمنی کوفروغ دیتاہے۔انسانی گناہوں میں سے شاید ہی کوئی  گناہ ایسا ہو جس کی اتنی مذمت کی گئی ہوجتنی کہ سود کی گئی ہے۔ کیونکہ اللہ جل مجدہ نے اسے اپنے اور اپنے رسولﷺ کے ساتھ محاربت قرار دیا ہے۔خداوندی احکامات سے متعلق  بنی اسرائیل کو ناجائز حیلوں کے راستوں پر لگانے والا ابلیس آج بھی اپنے نت نئے ہتھکنڈوں کے ساتھ موجود ہے۔سرمایہ دارانہ نظامِ معیشت ابلیسیت کا ایسا نظام ہے جوانسان کو   وہ سارے راستے دکھاتاہے جس  پرچلنے کے بعد ہر حرام عمل اُس کی نظر میں جاذب اور ہر ناجائز دولت اُس کے نزدیک جائز ٹھہرتی ہےاور اُس کی عقل پر لالچ کا ایسا  پردہ پڑجاتا ہے کہ وہ  سود جیسے اُس حرام مال کو بھی  مختلف حیلوں اور دلیلوں سے جائز قرار دے کر ہڑپ کرنا چاہتا ہے کہ جس کے کھانے اور  کھلانے  والے پر، جس کی گواہی دینے والے پر  اور جس معاملے کے کاتب پر اللہ اور اُس کے رسول ﷺ نے لعنت بھیجی  ہو۔

موجودہ مقالے میں ابتداءًسود کی اقسام پر اجمالی بحث کی گئی ہے۔ اس مقالے کا بنیادی مقصدجدیدمعیشت دانوں کی جانب سے سود کےجواز پرعقلی دلائل کو بیان کرنا اور پھرقران و سنت کے ساتھ ساتھ عقل  ِخُداد کی روشنی میں  انہی عقلی دلائل کی تحلیل کرنا ہے۔تاکہ قاری پر یہ بات واضح ہوسکے کہ اللہ جل مجدہ کی جانب سے سود کی حرمت عقلی دلائل کی روشنی میں بھی ایک بیّن حکم ہے۔اس مقالے میں سود کی دوسری قسم ربا الفضل پر بحث نہیں کی گئی کیونکہ تمام جدید نظریات کا بنیادی تعلق ربا النسیئہ سے ہے۔

ربا النسیئہ

قاضی ابوبکر الجصاص ؒ کےنزدیک ‘‘قرض کا ایسا معاملہ جس میں ابتداءًیہ شرط عائد کی گئی ہو کہ مقروض  ایک خاص مدت  میں قرض کی ادا ئیگی کے ساتھ ساتھ  طے شدہ زیادہ  مال بھی دے گا، ربا کہلاتا ہے’’[1] سود کی اس قسم کو ربا النسیئہ  کے علاوہ  ربا الجاھلیۃ [2] بھی کہتے ہیں۔

فقہا کے نزدیک صرف اُسی اضافے کو سود کہاجائے گا جو قرض دیتے وقت مشروط ہو ۔یعنی  اگر قرض دیتے وقت اضافی رقم کی شرط عائد نہیں تھی۔لیکن ادائیگی کے وقت مقروض اپنی مرضی سے کوئی اضافی مال یا تحفہ دے دیتا ہے تو اسے سود شمار نہیں کیا جائےگا۔[3] مقروض کا اصل قرض سے زیادہ دینا نہ صرف جائز بلکہ مستحسن اقدام ہے جسے‘‘احسن طریقے سے قرض کی ادائیگی ’’ کہا گیا ہے۔جیسےحضرت ابوہریرہ ؓ  سےمروی ہے :

كَانَ لِرَجُلٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِنٌّ مِنَ الإِبِلِ، فَجَاءَهُ يَتَقَاضَاهُ، فَقَالَ: أَعْطُوهُ ، فَطَلَبُوا سِنَّهُ، فَلَمْ يَجِدُوا لَهُ إِلَّا سِنًّا فَوْقَهَا، فَقَالَ:أَعْطُوهُ، فَقَالَ: أَوْفَيْتَنِي أَوْفَى اللَّهُ بِكَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:إِنَّ خِيَارَكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً[4]

حضورنبی اکرمﷺ  پرکسی شخص کا  اونٹ  بطورقرض  واجب الاداءتھا۔ جب وہ شخص اپنا اونٹ واپس لینے آیا تو آپ ﷺ  نے صحابہ ؓ  کو اس کا اونٹ دینے کا حکم فرمایا۔ صحابہ کرام ؓ نے  اس کے اونٹ کی عمر کا ایک اوراونٹ ڈھونڈھا لیکن نہ ملا ،تاہم اس سے بڑی عمر کا بہتراونٹ مل گیا۔ تو آپﷺ  نے فرمایا کہ وہی دے دو۔اُس شخص نے کہا آپﷺنے مجھے پورا دیا اللہ آپ کو بھی پورا اجر دے۔حضورنبی رحمت ﷺنے فرمایا: وہ شخص تم میں سے بہتر ہے جواپنا قرض اچھی طرح ادا کرے۔
اسی طرح صحیح بخاری کی ایک اور حدیث میں جابر بن عبداللہ ؓسے  مروی ہے

كَانَ لِي عَلَيْهِ دَيْنٌ، فَقَضَانِي وَزَادَنِي[5]

( حضور اکرم ﷺ  پر میرا کچھ قرض تھا ، تو قرض کی  ادائیگی کے وقت آپ ﷺ  نے قرض سے  کچھ زیادہ ادا کیا)

اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اگر قرض دینے سے قبل فریقین کے مابین کسی بھی قسم کے اضافے یا منافع کی شرط طے نہ پائی ہو اور قرض ادائیگی کے وقت مقروض اپنی خوشی سے کچھ اضافی رقم دے دیتا ہے تو وہ اضافہ سود شمار نہیں ہوگا۔

ربا النسیئہ کی اقسام

قبل از اسلام دور ِجاہلیت میں معاشرے میں دو طرح کا سود رواج پذیر تھا جسے سود مفرد اور سود مرکب کہا جاتا ہے۔جدیدمعیشت کی دنیا میں یہ اصطلاحات استعمال کی جاتی ہیں۔ یہ اصطلاحات فقہا کے ہاں لفظاً استعمال نہیں ہوئیں البتہ مفہوماً یہ دونوں اقسام کتب فقہ کے اندر موجود ہیں۔قرآن مجیدمیں جس سود کو أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً [6] کہا ہے وہ در حقیقت سود مرکب ہی ہے۔

 سود مفرد

اگر کوئی شخص ایک  خاص شرح سود پر کسی بھی مدت کے لئے قرض اُٹھا تا ہے اور پھر اپنے مقررہ وقت پر اصل رقم کے ساتھ طے کردہ سود بھی ادا کرتا ہے تو اسے سود مفرد کہا جاتا ہے ۔[7]  اگر  متعین مدت کے بعد اصل رقم مع سود ادا نہیں کرتا اور اُسے پہلی شرح سود پر ہی مزید وقت دے دیا جاتا ہے تو بھی یہ سود مفرد کہلائے گا۔[8]

سودِ مرکب

اگر کوئی شخص متعین  مدت کے لئے ایک خاص شرح سود پر کچھ رقم قرض لے ،  پھر وہ مقررہ وقت پر ادائیگی نہ کرے اور قرض دینے والا کہے کہ ” اب تک تم نے جو‘‘رقم مع سود’’ ادا کرنی تھی ،اُس کی ادائیگی کے لئے میں تمہیں مزید وقت دیتا ہوں لیکن اِس شرط پر کہ ‘‘ اصل رقم مع سود’’ پر تم اتنا سوداضافی ادا کرو گے ’’۔یعنی  پہلےسود کو اصل سرمائے میں شامل کر کے  نیا قرض شمار کیا اور پھر اُس پر مزید سود وصول کیا ۔ اِسے سود در سود وصول کرنا یا سود مرکب کہتے ہیں ۔[9] مثلا ََ زید نے بکر سے ایک ماہ کی مدت کے لئے ٪20 شرح سود پر ایک لاکھ روپے قرض لیا ۔یعنی ایک ماہ بعد زید بکر کو اصل رقم مع سود ایک لاکھ بیس ہزار روپے ادا کرے گا۔ لیکن ایک ماہ بعد زید یہ رقم ادا نہیں کر تا اور بکر سے مزید وقت مانگتا ہے تو بکر اِس شرط پر اُسے مزید ایک ماہ کا وقت دیتا ہے کہ اب وہ  ایک لاکھ بیس ہزار روپے پر ٪20 سود ادا کرے گا جو کہ نئے سود کی رقم چوبیس ہزار روپے ملا کر کل رقم ایک لاکھ چوالیس ہزار روپے بنتی ہے۔ کیونکہ اِس میں سود پر بھی سود لگایا جاتا ہے ، لہذا اسے سود ِ مرکب کہا جاتا ہے جس کے بارے اللہ تعالی نے منع کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:اے ایمان والو! سود کو دوگنا چوگنا کرکے مت کھاؤ۔[10]  کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اگر سود مرکب نہ ہو یعنی دوگنا چوگنا کر کے نہ لیا جائے تو پھر سود لینا حرام نہیں ہے ۔ یہ ان کی خام خیالی ہے جو کسی طرح بھی قرین ِ قیاس نہیں ہے کیونکہ قرآن مجید میں سود کو مطلق طور پر منع کیا گیا ہے خواہ وہ مفرد ہو یا مرکب ، اور جس آیت میں ” دوگنا چوگنا سود ” کھانے کی بات کی گئی ہے وہاں اللہ تعالی نے سود خوروں کے اِس شرمناک طریقے کی مذمت کرنے کے لئے اس کا ذکر کیا ہےکیونکہ اُس وقت  یہ طریقہ بہت ہی زیادہ رواج پذیر تھا ، ورنہ سود تو مطلق طور پر حرام کر دیا گیا ہے۔[11]

قرض کی نوعیت کے اعتبار سے ربا النسیئہ کی تقسیم

انیسویں صدی عیسوی میں جب مغربی دنیا میں صنعتی انقلاب آیا اور تجارت و صنعت نے ترقی کی تو لین دین کے  نت نئے طریقے بھی متعارف ہوئے ۔ یہی وہ زمانہ تھا جب مغرب  سرمایہ دارانہ نظام کے ساتھ دنیا کے کونے کونے پراپنے پنجے گاڑرہاتھا۔ اُس وقت مسلم دنیا اُن کے زیر ِنگیں اور معاشی میدان میں اُن کی دستِ نگر بنی ہوئی تھی۔  اُسی زمانےمیں مغربی ماہرین ِمعاشیات نے  اپنی تجزیاتی تحقیق سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ مغرب کی یہ ترقی صرف اور صرف تجارت و صنعت  اور بینکنگ کی رہین منت ہے۔مزیدیہ کہ  بینکنگ نہ صرف قومی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی بنیادی اہمیت کی حامل ہے ۔اِس طرح انہوں نے بینکنگ کی ایسی  وکالت شروع کر دی کہ جس میں حلال و حرام کی تمیز تک کو بھلا دیا ۔ شاید یہی وجہ تھی کہ جس نے اُنہیں یہ کہنے پر آمادہ کیا  کہ حرام تو صرف مہاجنی یا صرفی  سود ہےجبکہ تجارتی سود تو ایک طرح کا نفع ہے کیونکہ یہ تجارت و صنعت سے کمایا جاتا ہے۔ اگر اِسے بھی حرام قرار دیا گیا تو  تجارت اور صنعت ختم ہو کر رہ جائیں گی۔اس طرح انہوں نے سود کو جائز قرار دینے کے لئے ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا کہ اسلام میں تو بس  صرفی سود کو حرام  کیا گیا ہے نہ کہ تجارتی سود کو۔اِس طرح سود کی دو نئی اقسام صرفی سود اور تجارتی سود سامنے آئیں   جو کہ ربا النسیئہ کی ہی قسمیں ہیں۔ ذاتی ضروریات کے لئے اٹھائے گئے  قرض پردیا جانے والا سود  صرفی سود یا مہاجنی سود کہلاتا ہے۔ یوژری کا لفظ عیسائیت کی تاریخ سے لیا گیا ہے،[12] تاہم اسلامی تاریخ میں اس سود کو بھی ربا ہی کہا گیا ہے۔تجارتی یا کسی نفع آور پیداواری مقاصد کے پیش نظر لیے گئے قرض پرادا کیا جانے والا سود تجارتی سود کہلاتا ہے ۔سودکی یہ تقسیم سرمایہ داریت سے متاثر کچھ مسلم ماہرین معاشیات نے بھی قبول کی اورسود کی حرمت سے متعلق قرآن مجید کی آیات کو اپنے تئیں تاریخی تناظر میں بیان کرکے اپنے موقف کی صحت کو ثابت کرنے کی کوشش کی۔

تجارتی سود جائز ہے یا ناجائز ؟

تجارتی سود کو جائز کہنے والےمفکرین دو گروہوں میں منقسم ہیں۔ جن میں سے ایک گروہ تو یہ کہتا ہے کہ قرآن مجید کے نزول کے وقت معاشرے میں صرف مہاجنی سود  رائج تھا جبکہ تجارتی سود کا توتصور ہی نہیں تھا  لہذا قرآن مجید نے جس سود کو حرام قرار دیا وہ مہاجنی سود ہے نہ کہ تجارتی سود۔[13] لہذا یہ گروہ  صرف عقلی دلائل کی بنیاد پر ہی تجارتی سود کو جائز قرار دیتا ہے ۔ جبکہ دوسرا گروہ مضبوط تاریخی دلائل کی روشنی میں پہلے گروہ کے دلائل کی کمزوری کو واضح کرتے ہیں اور ثابت کرتے ہیں کہ تجارتی سود کے بارے میں یہ تصور  بالکل غلط ہے کہ وہ نزول قرآن کے زمانے میں مروج نہیں تھا۔

قرآن مجید کے نزول کے وقت تجارتی سود رائج تھا یا نہیں ؟

اگر دنیا کا نقشہ ملاحظہ کیا جائے تو معلوم ہو جائیگا کہ ازمنہ وسطیٰ میں مشرق و مغرب کی تجارت خشکی کے راستے سے ہوتی تھی اور تجارتی کاروانوں کی راہ گزر جزیرہ عرب تھا ۔یہ سلسلہ چھٹی صدی عیسوی سے لے کر انیسویں صدی عیسوی کے اخیر تک چلتا رہا۔ یہاں تک کہ نہر سویز کی کھدائی ہو ئی اور بحری جہازوں کے لئے بحیرہ قلزم اور بحیرہ روم کے درمیان آمدورفت ممکن ہوئی۔  مشرق و مغرب یعنی ہندوستان اور اس کے اردگرد کے ممالک کی مصر، براعظم افریقہ اور بلادِ شام سے تجارت جزیرہ عرب کے راستے ہی ہوتی تھی۔ اسی طرح شمال سے جنوب یورپ کی تجارت بھی جزیرہ عرب کے واسطے سے ہوتی تھی۔ عرب کی سرزمین سنگلاخ چٹانوں، ناقابل کاشت ریگزاروں او رلق ودق صحراؤں پر مشتمل تھی۔لہذااہل عرب کا ذریعہ معاش یہی تھا کہ وہ ان تجارتی قافلوں میں اپنا قابل فروخت سامان شامل کرتے تھے یا  پھر انہی مسافرقافلوں پر شب خون مار کر ہی اپنی زیست کا سامان کرتے تھے۔ بعض لوگ انہی قافلوں کو بحفاظت گزارنے کے عوض ٹیکس  وصول کرتےتھے۔ گویا جزیرہ عرب مشرق و مغرب اور شمال و جنوب میں بین ُالاقوامی منڈی بنا ہوا تھا جس میں شہر مکہ کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔  یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک شہر جسے بین الاقوامی تجارت کی منڈی کی حیثیت حاصل ہو اُس کے باشندے تجارت  اور تجارتی لین دین کے معاملات سے نا واقف رہے ہوں!چنانچہ ایک تاریخ کے طالب علم کے لیے یہ تسلیم کرنا ممکن نہیں۔

امام طبریؒ اپنی تفسیر میں ابن جریجؒ سے روایت کرتے ہیں:

وَكَانَتْ بَنُو عَمْرِو بْنِ عُمَيْرِ بْنِ عَوْفٍ يَأْخُذُونَ الرِّبَا مِنْ بَنِي الْمُغِيرَةِ وَكَانَتْ بَنُو الْمُغِيرَةِ يُرْبُونَ لَهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَجَاءَ الْإِسْلَامُ وَلَهُمْ عَلَيْهِمْ مَالٌ كَثِيرٌ، فَأَتَاهُمْ بَنُو عَمْرٍو يَطْلُبُونَ رِبَاهُمْ، فَأَبَى بَنُو الْمُغِيرَةِ أَنْ يُعْطُوهُمُ فِي الْإِسْلَامِ،وَرَفَعُوا ذَلِكَ إِلَى عَتَّابِ بْنِ أُسَيْدٍ، فَكَتَبَ عَتَّابٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَتْ:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، فَكَتَبَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَتَّابٍ وَقَالَ: «إِنْ رَضُوا وَإِلَّا فَآذِنْهُمْ بِحَرْبٍ [14]

 زمانہِ جاہلیت میں  دو قبائل بنو عمرو اور بنو مغیرہ کے درمیان سودی قرضوں کا لین دین تھا۔ جب اسلام نے سود کی حرمت کا اعلان کیا تو بنو مغیرہ کے ذمے بنو عمرو کا بہت سا مال واجب الادا تھا۔ جس کو بنو مغیرہ نے سود کی حرمت نازل ہونے کے بعد ادا کرنے سے انکار کردیا۔اس پر بنو عمرو نے عتاب بن اُسیدؓ (امیرمکہ) کے پاس اپنا دعویٰ دائر کردیا۔ حضرت عتاب ؓنے نبی اکرمﷺ  سے اس سود کے بارے میں پوچھاتو اللہ نے یہ آیت اتار دی:‘‘اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے، اس کو چھوڑ دو، اگر تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو’’۔رسولِ اکرمﷺ  نے یہ آیت لکھ کر عتابؓ (امیرمکہ) کو بھجوائی اور ساتھ یہ ہدایت کی کہ اگر بنو عمرو سود چھوڑنے پر راضی نہ ہوں تو ان کو جنگ کا الٹی میٹم دے دو۔

 حضرت ضحاک سورہ البقرہ کی آیت نمبر 278 کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ اس آیت میں جس ربا کا ذکر کیا گیا ہے

:كَانَ رِبًا يَتَبَايَعُونَ بِهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ [15]

(یہ وہ سود تھا جو جاہلیت میں لوگ تجارتی مقصد کے لئے لیتے تھے)

 امام ابن جریرطبری ؒ سورہ قریش کی تفسیر میں حضرت ابن زیدؓ سے روایت کرتے ہیں کہ

كانت لهم رحلتان الصيف إلى الشام،والشتاء إلى اليمن في التجارة[16]

(قریش دو تجارتی سفر کیا کرتے تھے ، گرمیوں میں ملک ِشام کی طرف اور سردیوں میں یمن کی طرف )

  اور اس بات کی تائید یوں بھی ہوتی ہے کہ ابو سفیان جب تجارتی قافلہ لے کر شام گئے ہوئے تھے تو وہ بھی گرمیوں کا موسم تھا اور جب واپسی پر انہیں مسلمانوں کی طرف سے حملے کا خوف ہوا تو مکہ سے اپنے لئے تحفظ مانگا جو بالآخر غزوہ بدر کا سبب بنا ۔ یہ وہ تجارتی قافلہ تھا جس میں مکہ کے تقریبا  ہر باشندے کا کچھ نہ کچھ سرمایہ لگا ہوا تھا۔[17]

حضرت عباسؓ اور حضرت خالدؓبن ولید زمانہ جاہلیت میں باہمی شراکت سے سودی کاروبار کیا کرتے تھے۔ وہ طائف کے قبیلہ بنو عمیر کو کاروباری مقاصد کے لئے سود دیتے تھے۔ اس آیت کے نازل ہونے پر انہوں نے اپنا اچھا خاصا سود ،جو بنوعمیر کے ذمے تھا، چھوڑ دیا۔ یہ وہی سود تھا جس کا تذکرہ نبی کریمﷺ  نے خطبہ حجۃ الوداع میں ان الفاظ سے کیا;

إِنَّ رِبَا الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ وَأَوَّلُ رِبًا أَضَعُ رِبَا الْعَبَّاسِ فَإِنَّهُ مَوْضُوعٌ كُلُّهُ

(جاہلیت کے تمام سودمنسوخ کر دیئے گئے ہیں اور میں سب سے پہلے اپنے خاندان یعنی عباس بن عبدالمطلب کا سودمنسوخ کرتا ہوں) [18]

خلیفہ دوم حضرت عمر ؓ کے بیٹے عبداللہ ؓاور عبیداللہ ؓایک لشکر میں شامل ہو کرعراق گئے۔ واپسی پر بصرہ کے امیر ابوموسیٰ اشعریؓ سے ملنے گئے تو انہوں نے کہا کہ ”میرے پاس بیت المال کا کچھ حصہ ہے جسے میں امیرالمؤمنین کو بھیجنا چاہتا ہوں

فَأُسْلِفُكُمَاهُ فَتَبْتَاعَانِ بِهِ مَتَاعًا مِنْ مَتَاعِ الْعِرَاقِ، ثُمَّ تَبِيعَانِهِ بِالْمَدِينَةِ، فَتُؤَدِّيَانِ رَأْسَ الْمَالِ إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، وَيَكُونُ الرِّبْحُ لَكُمَا

میں تمہیں  وہ مال قرض دیتا ہوں تم اُسے لے کر عراق سے اس کا سامان خرید لواور مدینہ پہنچ کر منافع پر بیچ دینا،اور اصل رقم امیر المومنین کو ادا کرکے منافع خود رکھ لینا”حضرت عمرؓ کے بیٹوں نے کہاکہ ٹھیک ہے، چنانچہ ایسا ہی کیا گیا

 [19]

ہندؓ بنت عتبہ نے حضرت عمرؓ سے بیت المال سے ۴ ہزار درہم کا قرض (تجارت کے لئے) مانگا جو انہوں نے دے دیا۔ ہند ؓبنت عتبہ کو کاروبار میں خسارہ ہوگیا اور حضرت عمرؓ کو نقصان کے متعلق بتایا:

  فَقَالَ لَهَا عُمَرُ: لَوْ كَانَ مَالِي لَتَرَكْتُهُ لَكِ، وَلَكِنَّهُ مَالُ الْمُسْلِمِينَ

(حضرت عمرؓ  نے فرمایا اگر یہ میرا مال ہوتا تو ضرور معاف کر دیتا لیکن یہ مسلمانوں کا مال ہے )جب حضرت ابو سفیان ؓ کو  اس کاپتہ چلا تو انہوں نے ہندؓ بنت عتبہ کی طرف اتنا مال بھیجا کہ انہوں نے بیت المال کو پورا قرضہ اداکردیا۔[20]

حضرت زبیربن العوّامؓ جو اپنے اعتماد اور ا یمانداری کی وجہ سے عرب معاشرے میں شہرت رکھتے تھے ۔اُن کے متعلق بخاری شریف میں ہے؛

أَنَّ الرَّجُلَ كَانَ يَأْتِيهِ بِالْمَالِ، فَيَسْتَوْدِعُهُ إِيَّاهُ، فَيَقُولُ الزُّبَيْرُ: «لاَ وَلَكِنَّهُ سَلَفٌ، فَإِنِّي أَخْشَى عَلَيْهِ الضَّيْعَةَ [21]

(حضرت زبیرؓ کے پاس جب کوئی آدمی آتا اورعرض کرتا کہ وہ اپنا مال اُن کے پاس امانت رکھنا چاہتا ہے تو آپؓ فرماتے نہیں تمہارا مال میرے پاس قرض ہے۔ کیونکہ مجھے امانت کے ضائع ہونے کا خوف ہے۔حضرت زبیربن العوّامؓ کے اس طریقے سے لوگوں میں اُن کا اعتماد اور پختہ ہو جاتا۔ چونکہ آپ تجارت پیشہ تھے اور خدشہ تھا کہ کہیں لوگوں کی امانتیں دوسری رقوم کے ساتھ خلط ملط نہ ہوجائیں۔ نیز آپ نے لوگوں کی رقوم کو تجارت کی غرض سے  بھی استعمال کرنا ہوتا تھا لیکن شریعت میں امین کے لیے امانت کے استعمال کی ممانعت کے باعث آپ ایسا نہیں کرسکتے تھے۔اس کے لیے آپ نے امانت کی بجائے قرض کاطریقہ اختیارکیا۔چنانچہ آپ لوگوں کی رقوم امانت کی بجا ئے بطورقرض رکھنے کو ترجیح دیتے تھے تاکہ ممکنہ خیانت سے بچا جا سکے۔علامہ ابن حجر عسقلانی ؒ  مندرجہ بالا روایت کی شرح میں لکھتے ہیں:

زَاد بن بَطَّالٍ وَلِيَطِيبَ لَهُ رِبْحُ ذَلِكَ الْمَال[22]

( ابن بطال ؒ نے اس بات کا اضافہ کیا ہے کہ وہ ایسا اس لئے کرتے تھے تاکہ اِس مال سے تجارت کرنا اور نفع کمانا اُن کے لئے جائز ہوجائے)

چنانچہ حضرت زبیرؓ  کی شہادت کے بعد جب ان کے بیٹے نے حساب کیا تو یہ تجارتی قرضے  ۲۲ لاکھ درہم تھے جو ان کی جائیداد سے ادا کئے گئے۔[23]

مذکورہ بالا واقعات کے علاوہ دیگر بیسیوں ایسے شواہد موجود ہیں جو یہ مفروضہ بالکل غلط ثابت کردیتے ہیں کہ عہد ِنبوی میں تجارتی قرضوں کا کوئی تصور نہ تھا اور صرف ذاتی مقاصد کے لئے  قرضے لئے جاتے تھے۔لہذا یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ قرآن مجید کے نزول کے وقت معاشرے میں تجارتی لین دین بھی موجود تھا اور تجارتی مقاصد کے لئے سودی قرضے بھی معروف تھے ۔اس لئے قرآن مجید کا حرمت ِ سودکا حکم عام ہے جو ہر قسم کے سود پر لاگو ہوتا ہے۔

سودسے متعلق ایک غلط فہمی کا ازالہ

                نزول وحی کے زمانے میں سودی کاروبار میں ملوث لوگوں کی دلیل یہ تھی کہ ربا بھی دراصل ایک نفع ہے ، جس طرح آدمی تجارت سے نفع کماتا ہے اسی طرح ربا میں بھی نفع ہی کماتا ہے اس لئے دونوں ایک ہی جیسے ہیں ۔لیکن کیا واقعی ربا اور تجارت پر نفع ایک ہی چیز ہے؟

           اسلام کی نظر میں قرض اور تجارت دو الگ معاملے ہیں ۔تجارت میں نفع کا حصول یقینی نہیں ہوتا ،بلکہ نفع کے ساتھ نقصان کا بھی امکان ہوتا ہے۔جبکہ قرض میں کسی قسم کا منافع جائز ہی نہیں۔ اگر کوئی نفع وصول کرتا ہے تو وہ سود کی صورت میں ملتا ہے جس کے حصول میں کسی رِسک(خطرے ) سے دو چار نہیں ہونا پڑتا۔تجارت کی صورت میں کسی جنس کو نقدی کے بدلے خریدا یافروخت کیا جاتا ہے اور اس جنس کی تیاری میں انسانی قوتیں صرف ہو کر اس کو قابل فروخت بناتی ہیں اور ان کی فروخت میں نفع کے امکان کے ساتھ نقصان کا خطرہ بھی موجود ہوتا ہے ۔لہذاان اشیاء پر حاصل ہونے والا نفع دراصل انسانی کاوشوں کا ثمرہ ہوتا ہے۔ جبکہ قرض پر سود کی صورت میں رقم کا رقم سے سودا ہوتا ہے اور حاصل ہونے والا فائدہ صرف رقم کو مخصوص مہلت کے عوض دینے پر حاصل کیا جاتا ہے اور اس میں نہ تو کسی قسم کے نقصان کا خطرہ ہوتا ہے اور نہ انسانی کاوشوں کا کوئی عمل دخل۔

                اس کادوسرا  جواب یہ ہے  کہ اللہ نے تجار ت کو جائز جبکہ سود کو حرام  قرار دیا ہے۔ جو لوگ یہ نظریہ رکھتے ہیں  کہ ربا اور تجارت  میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ معاملات سے متعلق ان کا تجزیاتی طریقہ کار کاغلط  ہوناہےجس کی تفصیل کچھ یوں ہے  کہ وہ لوگ ربا اور بیع کے نتائج میں مماثلت کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ دونوں معاملات میں کوئی فرق نہیں۔اسے مندرجہ ذیل مثال سے یوں سمجھیے؛

اول:  اگر زید بکر سے دو لاکھ روپے کا قرض لیتا ہے  اس شرط پر کہ زید تیس ہزار روپے سود بھی ادا کرےگا، جس کانتیجہ  یہ ہوا کہ  اسے بمعہ سود دولاکھ تیس ہزارروپے ادا کرنے ہوں گے۔

دوم: اسی طرح اگر وہ  کسی فرد یا  اسلامی بینک سے مرابحہ کی بنیاد پردو لاکھ روپے کی تمویلی سہولت حاصل کرتے ہوئے کوئی چیز خریدتا ہے جس میں چیز کی قیمت پر تیس ہزار روپے کا نفع باہم رضامندی سے طے ہوتا ہےجس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ چیز کی قیمت  بمعہ منافع دولاکھ تیس  ہزارروپے ہی ادا کر ے گا۔

          چونکہ مندرجہ بالاقرض اور تجارت کے معاملے کا نتیجہ‘‘ دو لاکھ تیس ہزار روپے کی ادائیگی ’’ ایک ہی ہے۔ اس لئے وہ لوگ یہ حکم لگا تے ہیں کہ ربا اور بیع (تجارت )کوئی فرق نہیں۔  اگر اس تجزیاتی طریق کار کو درست تسلیم کیا جائے تو پھرسوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر دو معاملات کا نتیجہ ایک ہو تو کیا دونوں کا حکم ایک ہی ہو گا؟ اگر اس کا جواب ہاں میں ہو تو پھر شریعت مطہرہ کے بہت سے حلال کردہ امور حرام ہو جائیں گے ۔ مثلاََاگر زید نے پھلوں کی خرید و فروخت سے ایک ہزار روپیہ کمایا اور بکر نے جوا کھیل کر ایک ہزار روپیہ کمایا ۔ تو کیا یہ کہا جائے گا کہ زید اور بکر کی کمائی ایک جتنی ہے اس لئے زید کی کمائی بھی حرام ہے کیونکہ دونوں کے کام کا انجام اور نتیجہ (ایک ہزار روپے کمانا) ایک ہی ہے ۔ اسی طرح بہت سے امور کی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ اور یہی وہ  بنیادی غلط فہمی کفار کو ہوئی اور کہنے لگے؛

قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا [24]

(بیع بھی تو ربا کی مانند ہے)۔ کیونکہ انہوں نےبیع اور ربا دونوں معاملات میں صرف نتیجے کو ملاحظہ کیااور بول اٹھے کہ ربا اور بیع میں کوئی فرق نہیں۔لہذادونوں ایک جیسےمعاملےہیں۔جبکہ قرآن مجیدنے ان کے اس باطل تجزیاتی طریق کار کومسترد کرتے ہوئے فرمایا؛

وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا [25]

(اللہ تعالی نے بیع کو حلال کیا اور ربا کو حرام کیا)

          حلت و حرمت کا دارو مدار نتائج اور انجام کی بجائے معاملات کے طریقہ کار اور ان کی حقیقت میں تبدیلی پر منحصر ہوتاہے۔ ربا کا طریقہ کار ناجائز اور حرام ہے جبکہ تجارت کا معاملہ تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ  کے نزدیک پسندیدہ ہے ۔حضور اکرم ﷺ  نےتجارت کو انسان  کی مغفرت کے اسباب میں سے ایک سبب بتایا ہے چنانچہ ارشاد فرمایا؛   جس نے اپنے حلال مال سے یا تجارت کی کمائی سے ، یا ورثے میں ملی دولت سے حج کیا تو؛

لَمْ يَخْرُجْ عَنْ عَرَفَةَ حَتَّى تُغْفَرَ ذُنُوبُهُ [26]

(وہ عرفات سے نہیں نکلے گا حتّٰی کہ اس کے گناہ معاف کر دئے جائیں گے)

 ایسے ہی دیانت دار تاجر جنت میں بھی پہلے جائیگا، نبی اکرم ﷺ  نے فرمایا؛

أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ التَّاجِرُ الصَّدُوقُ[27]

(جنت میں جو پہلے داخل ہو گا وہ دیانت دار تاجر ہو گا)۔  ایک اور حدیث مبارکہ میں ہے

 أطيب إِنَّ أَطْيَبَ الْكَسْبِ كَسْبُ التُّجَّارِ الَّذِينَ إِذَا حَدَّثُوا لَمْ يَكْذِبُوا، وَإِذَا ائْتُمِنُوا لَمْ يَخُونُوا، وَإِذَا وَعَدُوا لَمْ يُخْلِفُوا، وَإِذَا اشْتَرَوْا لَمْ يَذُمُّوا، وَإِذَا بَاعُوا لَمْ يُطْرُوا، وَإِذَا كَانَ عَلَيْهِمْ لَمْ يَمْطُلُوا، وَإِذَا كَانَ لَهُمْ لَمْ يُعَسِّرُوا[28]

سب سے زیادہ پاکیزہ کمائی ان تاجروں کی کمائی ہے جو جھوٹ نہیں بولتے، امانت میں خیانت نہیں کرتے، وعدہ خلافی نہیں کرتے،خریدتے وقت چیز میں عیب نہیں نکالتے، بیچتے وقت چیز کی جھوٹی خوبیا ں بیان نہیں کرتے، اور جب ان پر کچھ دین ہوتا ہے تو اس کی ادائیگی میں ٹال مٹول نہیں کرتے اور جب انہوں نے کچھ وصول کرنا ہوتا ہے تو اس میں وہ کسی پر سختی نہیں کرتے ۔

  جس تجارت اور اس کی کمائی کی اتنی فضیلتیں ہوں وہ ربا جیسی حرام کمائی کے برابر کیسے ہو سکتی ہے ۔اہل عقل کے لئے سوچنے کا مقام ہے۔

یہاں کوئی یہ بات کر سکتا ہے کہ  حضرت عائشہ صدیقہ ؓ روایت کرتی ہیں؛

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ؛الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ[29]

(نفع ضمان کے ساتھ ہے) یعنی نقصان کی ذمہ داری کے ساتھ ہی نفع کمایا جا سکتا ہے۔لہذاایک آدمی اپنی پس انداز کی ہو ئی دولت   جب کسی کوبطور قرض دیتا ہے تو وہ نقصان  کا رِسک بھی اُٹھاتا ہے کہ ممکن ہے یہ رقم اُسے واپس ہی نہ ملے لہذا حدیث مبارکی رُو سے اُس کے لئے قرض پر نفع کمانا جائز ہونا چاہیے ۔دوسرا یہ کہ کسی کو قرض دے کر وہ اپنی ضروریات پر دوسرے کی ضروریات کو ترجیح دیتے ہوئے قربانی دیتا ہے، لہذا یہ اُس کا حق ہے کہ وہ اِس بات پر کوئی معاوضہ وصول کرے ۔

اس کا جواب یہ ہے کہ قرض کی صورت میں پایا جانے والے رِسک  وہ رِسک نہیں ہے جس کے بارے میں اسلام کہتا ہے کہ نفع کمانے کے لئے نقصان کا رِسک اُٹھانا ضروری ہےجسے انگلش میں (رسک آف لاس) کہتے ہیں۔ کیونکہ قرض کی صورت میں پایا جانے والا یہ خطرہ کہ ممکن ہے رقم واپس ہی نہ ملے ‘‘ دیوالیہ  ہونے کا خطرہ ’’ کہلاتا ہے جسے انگلش میں  (رسک آف ڈیفالٹ) کہتے ہیں۔اس خطرے پر رہن کے ذریعے قابو پایا جاسکتاہےاور اس کے بعد کوئی رسک باقی نہیں رہتا۔جبکہ نقصان کے رِسک  کی نوعیت ایسی ہوتی ہے کہ جس پر کسی طرح بھی قابو نہیں پایا جاسکتا۔اسلام کے معاشی اصولوں کے مطابق کسی شخص کے لیےنفع کمانے کا استحقاق اُس وقت ثابت ہوتاہے جب وہ نقصان کا خطرہ برداشت کرنے کے لیے راضی ہو ۔ یہ رسک اس لحاظ سے بھی ایک الگ تصور ہے کہ نقصان کے خطرے کے ساتھ نفع کا امکان  بھی موجود ہوتا ہے کیونکہ وہ رقم ایک پیداواری عمل میں لگائی گئی ہوتی ہے ۔ جبکہ قرض دی گئی رقم میں صرف  یہ خطرہ ہوتاہے کہ مقروض اگر دیوالیہ ہو گیا تو میرا پیسہ کیسے وصول ہوگا؟  اس میں کہیں بھی نفع آوری کا تصور نہیں  ہوتا۔ کیونکہ قرض اپنی ذات میں کبھی بھی کاروبار کی مانند پیداوار ی خاصیت کا حامل نہیں ہوتا۔ ممکن ہے مقروض نے صرف گھر کا خرچ چلانے کے لئے قرض لیا ہوتو پھر اُس سے کس بات کا نفع وصول کیا جائے  گا۔ یہاں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ اگر قرض پیداواری مقصد کے لئے لیا گیا ہو تو کیا پھر نفع وصول کیا جا سکتا ہے ، تو جواب ہے ‘‘نہیں ’’۔ کیونکہ مقروض جب وہ رقم پیداواری عمل میں لگائے گا تو اُس وقت اُس رقم کی حیثیت بدل چکی ہوگی وہ اب مقروض کی ملکیت کا سرمایہ تصور ہو گا جس پر وہ نفع ونقصان کا مالک ہو گا۔ اب وہ رقم قرض نہیں رہے گی کہ اُس پر قرض دینے والےکا حق ثابت کیا جائے ، لہذا جس رقم پر اب اُس کا حق ہی نہ رہا تو اُس پر وہ نفع کیسے طلب کر سکتا ہے!پھر یہ بھی ضروری نہیں کہ پیداواری عمل کے آخر میں نفع حاصل ہو، نقصان بھی ہو سکتا ہے ۔

رہی یہ بات کہ مال کے مالک نے  قرض دینے میں  “قربانی اور ایثار” کیا ، تو اگر وہ قرض پر معاوضہ وصول کرے گا تو پھر کیسی قربانی اور کیسا ایثار!  اگر اُس نے ایثار اور قربانی ہی دینی ہی ہے تو پھر اُس کا معاوضہ اللہ تعالی پر چھوڑ دےاور اس احسان کے بدلے اللہ کے احسان کی امید میں رہے ۔اور اگر معاوضے پر ہی بضد ہے تو پھر “قربانی اور ایثار” کی رٹ لگانا چھوڑ دےاور سیدھی طرح سوداگری کرے اور بتائے کہ  وہ قرض کے معاملے میں اصل رقم کے علاوہ ماہانہ ، سہ ماہی ، شش ماہی یا سالانہ طور پر جو خاص رقم وصول کرتا ہے ، آخر وہ کس بنیاد پر اُس کا مستحق بنتا ہے؟ [30]

سود اگر فریقین کی رضامندی سے طے کیا جائے تو جائز ہے

جدید معیشت دانوں کی جانب سے ایک دلیل یہ بھی دی جاتی ہے کہ قرآن مجید کی جتنی آیات بھی سود کی مذمت میں ہیں ان سے یہ بات  عیاں ہے کہ  اصل رقم پر صرف ناجائز اور ظلم کے طریقے سے وصول کیا گیا اضافہ حرام ہے ۔ اگروہ اضافی رقم باہم رضامندی سے لی جائے تو پھر ظلم نہیں ہوگا۔ کیونکہ اسلام بھی باہم رضامندی سے طے کیے گئے معاملے کو قبول کرتا ہے۔

اسلام میں باہم رضامندی کو ایک خاص اصول کی حیثیت میں لیا جاتا ہے،جس کا ایک مخصوص مفہوم ہے۔باہم رضامندی کا یہ اصول قرآن مجید کی اس آیت سے لیا گیا ہے؛

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ [31]

اے ایمان والو!ایک دوسرے کے مال باطل طریقے سے مت کھاؤ ، ہاں اگر تم باہمی رضامندی سے تجارت کرو [تو یہ جائزہے]۔  اس آیت  کریمہ میں مسلمانوں کوبتایا جارہا ہےکہ تجارتی معاملے میں باہمی رضا مندی شرط ہے۔ہم پہلے  یہ بحث کر آئے ہیں کہ تجارت اور سود دونوں میں واضح طور پر فرق ہے اور

 وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا [32]

(اللہ نے تجارت کو حلال کیا اور سود کو حرام کیا ہے)

تجارت اور ربا دونوں میں نتائج کے لحاظ سے اگرچہ واضح فرق نہیں لیکن عمل اور طریقہ کار کے اعتبار سے زمین آسمان کا فرق ہے ۔یہی وجہ ہے کہ شریعت میں جہاںسود کی شدید ترین مذمت آئی ہےوہاں تجارت کی واضح ترغیبات موجود ہیں۔ لہذا باہم رضامندی کو شریعت کے اصولوں کے تحت ہی قبول کیا جائے گا۔ ورنہ فریقین کسی گناہ پر بھی راضی ہوسکتے ہیں تو کیا اسے صرف باہم رضامندی کی بنا پر قبول کر لیا جائے!

اس کے علاوہ عقلی دلائل کی روشنی میں بھی اگر دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہے کہ کوئی شخص خوش دلی سے سود دینے پر راضی  نہیں ہوتا ۔ اگر ایک شخص کو کچھ رقم بطور قرض درکار ہے اور اس کوایک جگہ سے  کم شرح سود کے ساتھ قرض مل رہا ہو لیکن ساتھ ہی دوسری جگہ سے  بلا سود قرض ملنے کی امید بھی ہو تو کون ایسا شخص ہے جو سودی قرض لینا پسند کرے گا۔ لہذا  یہ کہنا محض ایک ڈھونگ کے سوا کچھ نہیں کہ قرض دار اپنی رضا مندی سے سود ادا کرے تو جائز ہے۔کیونکہ  اگر اُسے بلا سود قرض دستیاب ہوسکے تو وہ کبھی سود ی قرض حاصل نہ کرے۔ درحقیقت یہ مقروض کی مجبوری کو رضا مندی سے تعبیر کرنے کا محض ایک فریب ہے۔ جس کی حقیقی مثال اینگلو امریکی قرض  ہے، جو امریکہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانیہ کودیا تھا۔ اس قرض کے معاہدے کے لیے برطانیہ کی جانب سے وفد کی سربراہی مشہور معیشت دان جان مینارڈ کینز نے کی تھی، جس نے امریکہ سے منت سماجت کی کہ اُنہیں  کم شرح سود پر قرض دیا جائے لیکن امریکہ نے انکار کیا اور زیادہ شرح سود پر قرض دینے پر معاہدہ طے پایا اور جان مینارڈ کینز کو مجبورا دستخط کرنے پڑے۔جان کینز واپسی کے وقت امریکی رویے پر  سخت پریشان تھا جس کے سبب اسےراستے میں ہی دل کی تکلیف کا سامناہوا۔[33]جان مینارڈ کینز نے واپسی پر برطانوی دارلامرا  میں امریکہ کے اس  ظالمانہ رویے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا:امریکہ نے ہمارے ساتھ جس بنیے پن کا مظاہرہ کیا ہے وہ ہم کبھی نہیں بھولیں گے۔ اِس موقع پر برطانوی وزیراعظم ونسٹن چرچل  نے کہا : یہ بنئے پن کا جو برتا ؤ ہمارے ساتھ ہوا مجھے اس کی گہرائی میں بڑے خطرات نظر آتے ہیں ۔ سچی بات یہ ہے کہ اس کا ہمارے باہمی تعلقات پر بہت ہی برا اثر پڑا ہے۔[34] یہ معاہد اگرچہ فریقین کے مابین باہم رضامندی سے ہوا تھا لیکن کینز اور چرچل کے الفاظ اس رضامندی کی ساری حقیقت کھول کر رکھ دیتے ہیں۔جبکہ اسلام خدمت ِانسانی ، باہمی ایثارو محبت اور خلوص کے وہ جذبات پیدا کرتا ہے کہ جس کی بدولت  مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی کی ضرورت قرضِ حسنہ کی صورت میں پوری کرتا ہے کیونکہ مسلمان کا تصورِ فلاح اپنے رب کی اطاعت اور حصولِ درجات سے جڑا ہوتا ہے اور وہ اُخروی مقاصد کے تحت ایسا کرتا ہے۔

سود کے جواز پر جدید نظریات، عقلی توجیہات  اور ان کی تحلیل

          قطع نظر اس سے کہ  سود سے متعلق دین یا مذہب  کیا کہتا ہے ۔خالص معاشی نقطہ نظر سے بھی یہ سوال پیدا ہوتا ہےکہ سودی نظام کیوں چل رہا ہے۔ سودی نظام معیشت کے  ماہرین  نے کچھ نظریات پیش کئے ہیں جن کے ذریعے انہوں نے سودکوعقلاً درست ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس بحث میں ان تمام نظریات کاخالص عقلی دلائل کی بنیاد پرتجزیہ کیا گیاہے اوریہ کوشش کی گئی ہے کہ قاری کے لیےیہ واضح کیا جاسکے کہ کیا یہ نظریات عقلی اصولوں پر پورا اترتے  ہیں یا نہیں۔

(Waiting theory)انتظار کا نظریہ

معیشت دان نساؤ ولیم سینئر نے 1836 میں ایک نظریہ پیش کیا تھا جس کے مطابق بچت کا عمل صرف اس وقت ممکن ہوتا ہے جب کوئی شخص اپنے صرفی اخراجات  کو جان بوجھ کر  روکےرکھےاوریہ بھی  ایک حقیقت ہے کہ  کوئی شخص کسی معاوضے کے بغیر خود کو اس مشکل میں مبتلا نہیں کرےگا۔لہذا کسی کو بچت پر آمادہ کرنے کے لیے کچھ معاوضہ دینا لازمی ہے۔معاوضے کی لالچ میں ہر شخص ضروریات کو پس پشت ڈالتے ہوئے اپنی بچت کو دوسرے کے حوالے کرنے اور کچھ عرصہ انتظار کرنے پرآسانی سےراضی ہوجاتاہے۔ اسی  وجہ سے اس نظریے کو صَرفی عمل سے جان بوجھ کر رُکے رہنے کا نظریہ بھی کہتے ہیں۔[35] بعد میں مشہور معیشت دان  الفرڈمارشل نے اسی نظریے کو صرفی عمل سے جوڑنے کی بجائے بچت سے جوڑا اور کہا کہ جب کوئی شخص بچت کرتا ہے تو درحقیقت اسے اپنی ضرورت کوپورا کرنے کے لیے مستقبل کا انتظارکرنا پڑتا ہے اور کوئی بھی شخص کسی معاوضے کے بغیر کیوں انتظار کرےگا۔لہذا اسے سود دینا ضروری ہے۔[36] اسی لیے جان کینزنے کہا کہ  اپنے سرمائے کو  صَرفی عمل   میں لگانے کے ارادے کو ملتوی کرنا انتظارکانظریہ کہلاتا ہے۔[37]

سودسے متعلق یہ نظریہ اپنے دامن میں کوئی مضبوط دلیل نہیں رکھتا۔کیونکہ ‘‘صرفی اخراجات کو جان بوجھ کر  روکےرکھناایک مشکل امرہے’’ کا مفروضہ کسی متوسط یا غریب طبقے کے افراد کے لیے تو درست ہوسکتا ہے لیکن امیر آدمی کے تناظر میں یہ نظریہ غلط ہوجاتا ہے۔ تو کیا یہ فرض کر لیا جائے کہ صرف غریب آدمی کو ہی سود ادا کیا جائے کہ اس نے بچت کرنے کے لیے ایک مشکل کا سامنا کیا۔ جبکہ امیر آدمی کو کچھ نہ دیا جائے کیونکہ اس نے کسی قسم کی مشکل کا سامناہی نہیں کیا۔اس نظریے کی غلطی کو ایک مثال سے یوں بھی  واضح کیا جاسکتا ہے کہ  مثال کے طور پر زید ایک سرمایہ دار ہے۔ اس کے پاس دس لاکھ روپے کا سرمایہ موجود ہے۔اس کے پاس تین راستے ہیں۔ پہلا یہ کہ وہ اسےاپنی ضروریات پر صرف کرے۔دوسرا یہ کہ وہ خود  اس سرمائےسے کوئی کاروبار کر سکتا ہے ۔لیکن اس صورت میں اسے نفع کے ساتھ نقصان اندیشہ بھی ہے۔ تیسراراستہ یہ ہے کہ وہ دس لاکھ روپے عمرو کو بطورقرض دےدے۔ لیکن اس صورت میں اسے اپنے کاروبار کی قربانی دینا ہوگی، تاہم اس کا سرمایہ کسی نقصان سے محفوظ ہوجائے گا۔کیونکہ جب کوئی  شخص کسی کو سرمایہ بطورقرض دیتا ہے تو وہ سرمایہ  اُس کی ضمان (ذمہ داری) سے نکل کر مقروض کی ضمان  میں چلاجاتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ مقروض کے قبضے میں جانے کے بعد اگر وہ سرمایہ  کسی سماوی آفت سے تباہ ہو جائے،چوری ہوجائے یا مقروض کے کاروبار میں ڈوب جائے تو اُس نقصان کی ذمہ داری صرف مقروض پر آئےگی۔لیکن اس کے باوجودانتظار کا نظریہ کہتا ہے کہ زید اپنے کاروبار کی قربانی دے کر کسی دوسرے کو اپنا سرمایہ دے رہا ہے حالانکہ وہ خود اس سے منافع کما سکتا تھا۔ اس لیے عمرو پر لازم ہے کہ وہ زید کو ایک معین مقدار منافع ادا کرےجو کہ واضح استحصال اور ظلم ہے۔

اس نظریے کی غلطی کو مزیدواضح کرنےکے لیےاس سوال کے جواب پر غور کر یں کہ در حقیقیت زید نےکس چیز کی قربانی دی ہے ؟ انتظار کے نظریہ کے مطابق زید نےعمرو کو قرض دے کر اپنے لیے یقینی نفع کی قربانی دی ہے۔گویایہ نظریہ  نفع کو قرض کے مقابلےپر فرض کرتا ہے۔ جبکہ غور کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ زید نےیا تواپنے صرفی عمل یا پھراپنے کاروبار کے ارادےکو قربان کیاہے۔صرفی عمل کی صورت میں اس کی صرف ضروریات پوری ہوتیں اور سرمایہ خرچ ہوجاتا۔جبکہ کاروبار کرتا تو اس کےنفع یا نقصان کی صورت میں دو ممکنہ نتائج ہوسکتے ہیں۔ اس لیے قرض کا حقیقی مقابل نفع کی قربانی نہیں بلکہ صرفی عمل یا  کاروبار کے ارادےکی قربانی کرناہے۔جہاں تک صرفی عمل کا تعلق ہے تو وہ کوئی نفع آور عمل نہیں۔جبکہ کاروبار میں نفع کے ساتھ نقصان کا امکان بھی ہے۔ پھر انتظار کا نظریہ کس معاشی اصول کے تحت کاروبار میں نقصان کے ممکنہ نتیجے کو پس پشت ڈالتے ہوئےصِرف نفع کے امکانی نتیجے کو ترجیح دے کرعمرو سے یقینی نفع کا مطالبہ کرتا ہے۔  کیونکہ ممکن ہے اُس کے سرمائے نے پیداواری عمل میں نقصان اُٹھایا ہو تو پھر وہ کیسے نفع کا طلب گار بن سکتا ہے۔لہذا اُس آدمی کا کیا قصور کہ جس نے کاروبار میں وقت لگایا اوراپنی خدمات بھی دیں نقصان کی صورت میں   وہ نقصان بھی اُٹھائے اورساتھ ہی  سرما ئے کے مالک کو اپنی جیب سے نفع کی ادائیگی بھی کرے۔  جبکہ سرمائے کا مالک جس نے نہ تو کوئی کام کیا، نہ ہی کاروبار میں وقت دیا، نہ ہی کسی قسم کی خدمات مہیا کیں اور نہ ہی نقصان کا خطرہ مول لیا  وہ ہر صورت یقینی نفع وصول کرے ۔ کوئی بھی ذی شعور انسان ایسے استحصالی نظریے کو قبول کرنے  کے لیے تیار نہیں ہوگا۔

  نیزانسان اپنے صرفی عمل کو اس وقت ترک کرتا ہے جب اس کی ضروریات کافی حد تک مکمل ہوچکی ہوں۔لیکن اگر کوئی شخص اپنی ضروریات کو نامکمل چھوڑ کر سرمایہ روک لے تو کیا اس کا یہ عمل نفع آور ہوگا؟ایسی کمزور دلیل پر سودی نظام کا بڑا حامی بوہم باورک  بھی یہ کہنے پر مجبور ہوگیا کہ سرمایہ دار کا صرفی عمل سے محض رک جانا ایک منطقی قسم کی بے وقوفی کےسوا کچھ نہیں اور اس بے وقوفی کومنافع کا سبب نہیں بنایا جاسکتا۔[38] سرمایہ دار اگر اپنے سرمائے کوروکے  رکھنے کی بجائے اُس میں بڑھوتری کا خواہاں ہے تو اُس  کے لئے صرف ایک ہی جائز راستہ کاروبار  ہے کہ جس میں نقصان کا خطرہ مول لے کر وہ منافع کما سکتا ہے۔

یہاں پر یہ سوال بھی اٹھایا جا سکتا ہے کہ زید نے اپنے کاروبار کےارادے کو ترک کرتے ہوئے عمرو کو قرض دیا پھر اس کو ترکِ ارادہ کا کیا فائدہ ملا ؟ تو جواباً  کہا جائے گا کہ اس کا سرمایہ محفوظ رہنے کی صورت میں اسے فائدہ ملا کیونکہ اگر وہ کاروبار کرتا اور نقصان ہوتا تو اس کا سرمایہ ضائع ہوسکتا تھا اور اس طرح وہ اپنی جمع پونجی سے ہاتھ دھو بیٹھتا۔ لیکن قرض دے کر اس نے خود کو ایک ممکنہ نقصان  سےمحفوظ کرلیا۔ یہ محفوظ رہنا ہی زید کا فائدہ ہے جو اُسے صرف قرض کی صورت میں حاصل ہوسکتا ہے۔

(Production theory) نظریہ پیداواریت

بنیادی طور پر یہ نظریہ نیوکلاسیکل معیشت دانوں نے پیش کیا تھا۔ اس نظریے کی رو سے سرمایہ  ایک اہم عامل پیداوار ہے، جس سے ملکی سطح پر اشیاء وخدمات پیدا کی جاتی ہیں۔لہذا جس طرح دیگر عاملین پیدائش زمین، تنظیم اور محنت کو اُن کا معاوضہ دیا جاتا ہے بالکل اسی طرح سرمائے کو بھی سود کی صورت اُس کا معاوضہ دیا جانا چاہیے۔[39]

جدیدمعاشی محققین اشیاء اور سرمایہ میں کوئی تمیز نہیں کرتے۔وہ سرمائے کو بھی ایک ایسی  تصور کرتے ہیں کہ جس کے استعمال پر چیز کے مالک کے لیے کرایہ کا استحقاق پیدا ہوجاتا ہے۔لہذاسرمایہ دارانہ نظام میں سرمایہ کو عامل پیدائش تصور کرتے ہوئے کرائے کی صورت میں اس کے استعمال کا معاوضہ ادا کیا جاتا ہے جسے سود کہا جاتا ہے۔

اس نظریے کی حقیقت اس سوال کے جواب میں مضمر ہےکہ کیا سرمایہ بذاتِ خود عامل پیدائش ہے یا نہیں؟  اس کا جواب یہ ہے کہ جدید معیشت میں ذرائع پیداوار چار ہیں تنظیم  ، زمین،انسانی محنت  ، اور سرمایہ   یہ وہ چار عناصر ہیں جوایک سال کی مدت میں ملکی معیشت میں وہ اشیاء و خدمات پیدا کرتے ہیں جو صارفین تک پہنچتی ہیں  جسے  جدید معیشت کی اصطلاح میں کہا جاتا ہے۔اس پیداوار سے جو آمدنی ہوتی ہے وہ انہی چار عاملین پیدائش میں معاوضے کے طور پر تقسیم کردی جاتی ہے جیسے زمین کو کرایہ، انسانی محنت کو مزدوری، سرمائے کو سود اور تنظیم کو منافع ۔گویاسرمایہ دارانہ نظام “سرمایہ” جو کہ ازخود کسی قسم کی پیداواری صلاحیت نہیں رکھتا،  کو عامل پیدائش  تصور کرتے ہوئے سود کی صورت میں  اسےمعین معاوضہ ادا کرتا ہے ۔

سرمایہ دارانہ نظام معیشت کے برخلاف   اسلامی نظام معیشت میں  سرمائے   کو الگ ذریعہ پیداوار کی حیثیت حاصل نہیں ہے۔بلکہ اسے تنظیم کا حصہ گردانا جاتا ہے۔لہذااسلامی معیشت دانوں کے نزدیک عاملین پیدائش تین ہیں: تنظیم (سرمایہ)، زمین اور محنت۔اس بارے میں اسلامی معیشت دان ڈاکٹر محمد عزیر نے اپنی کتاب میں جو بحث کی ہے اس کا خلاصہ کچھ یوں ہے؛

ہر عامل پیدائش کی دو جہتیں: ظاہری شکل  اور حقیقی عمل داری   ہوتی ہیں۔ زمین ایک عامل پیدائش ہے جس کی بیرونی سطح اُس کی ظاہری شکل ہے کہ جس سے اُس کی پہچان ہوتی ہے۔جبکہ اُس زمین کی زرخیزی، سیرابی کا نظام، موسم، مقام وغیرہ یہ سب چیزیں ایسی خصوصیات ہیں جو زمین کو ایک حقیقی عامل پیدائش بناتی ہیں۔ زمین کی اسی حقیقی خصوصیت کی بنا پر ہی اسے کرائے کی صورت میں معاوضہ دیا جاتا ہے۔اسی طرح دوسرا عامل پیدائش محنت ہےجس کی ظاہری شکل انسانی جسم ہے، لیکن حقیقی عمل داری میں انسان کی تعلیم، عمر، صحت، طاقت، تجربہ، جنس وغیرہ جیسی خصوصیات محنت کو حقیقی عامل بناتی ہیں جس کو مزدوری  کی صورت میں معاوضہ دیا جاتا ہے۔ تیسرا عامل پیدائش تنظیم ہے جو کہ انسان ہی ہوتا ہے، لیکن اس کو محنت سے الگ عامل پیدائش بنانے کے لیے لازمی ہے کہ تنظیم کی ظاہری شکل محنت کی ظاہری شکل سے مختلف ہو۔ تنظیم عمل پیدائش (کاروبار)کی مالک ہوتی ہے اور مالک وہ ہوتا ہے جو سرمایہ لگاتا ہے۔ کاروبار میں سرمائے کے بغیرملکیت کا کوئی تصور نہیں ہوتا۔لہذا سرمایہ تنظیم کی ظاہری شکل ہے اور کاروبار میں تجربہ، وقت اورعمل پیدائش کے دوران سرمائے پرنقصان کاخطرہ یہ سب خصوصیات تنظیم کو حقیقی عامل پیدائش بناتی ہیں اور اسے نفع کا مستحق ٹھہراتی ہیں۔ سرمائے کے بغیر کوئی شخص منافع کا مطالبہ کیسے کر سکتا ہے؟ اس لیے سرمایہ الگ سے کوئی عامل پیدائش نہیں بلکہ تنظیم کا حصہ ہوتا ہے۔تنظیم کواگرسرمائے سے الگ کر دیا جائے تو پھر تنظیم کے پاس نفع کے مطالبہ کا جواز ہی باقی نہیں رہتا۔[40]

اس کو آسان الفاظ میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ فرض کریں ایک معیشت کی سالانہ کل پیداوار  مبلغ 100 روپے ہے۔جس میں سے زمین کو 30 روپے بطور کرایہ، انسانی محنت کو 35 روپے بطور محنت، سرمائے کو 20روپے بطور سود اور تنظیم کو  15 روپے بطور منافع تقسیم کیا جاتا ہے۔ (تفہیم کے لیے اس مثال میں یہ اعدا و شمار کم اور اس انداز میں دیے گئے ہیں)۔ سوال یہ ہے کہ سرمائے کا سود اور تنظیم کا منافع کس کی جیب میں جائے گا؟ تو جواب ملتا ہے یہ دونوں معاوضے منتظم کی جیب میں جائیں گے۔گویا ملکی معیشت کی کل پیداوار 100 روپے میں سے منتظم مختلف مدّات میں 55 روپے اپنی جیب میں رکھے گا اور  باقی کے 45 روپے میں سے زمین کو 30 روپے جبکہ 15 روپے باقی مزدوروں میں تقسیم ہوں گے۔ کیا اس سے مزدور کی معاشی حالت بہتر ہوپائے گی؟ یہی وجہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں غریب کی حالت گزرت وقت کے ساتھ ساتھ ابتر ہوتی جاتی ہے جبکہ دولت مندوں کی دولت میں اضافہ در اضافہ ہوتا جاتا ہے۔

لہذا تنظیم اس وقت تک پیداواری عمل کی مالک ہو ہی نہیں سکتی جب تک کہ وہ عمل پیداوار میں اپنے سرمائے پر نقصان کا خطرہ مول نہ  لے۔ورنہ تنظیم کا یہ مطالبہ نفع کسی وجہ کے بغیر ہونے کی بدولت غیر منصفانہ قرار پاتا ہے۔منتظم دیگر دو ذرائع پیداوار (زمین اور انسانی محنت) کو ایک خاص ترتیب کے ساتھ کام پر لگاتا ہے۔ یہ دونوں  ذرائع پیداوار پیداواری کے عمل کے دوران خرچ نہیں ہوتے اس لئے زمین کا معاوضہ کرائے  اور انسانی محنت  کا معاوضہ مزدوری  کی صورت میں ادا کیا جاتا ہے ۔ رہی بات منتظم کی تو وہ کیونکہ پیداواری عمل کا مالک ہوتا ہے اور مالک اُسی وقت بنے گا جب وہ اُس میں اپنی دولت لگائے گا ،جس سے وہ معاوضے ادا کرے گا، خام مال خریدے گا، اور دیگر اخراجات بھی پورے کرے گا۔ کبھی وہ یہ دولت اپنی جیب سے لگاتا ہے اور کبھی مختلف افراد یاا داروں سے قرض لے کر لگاتا ہے۔ لہذا منتظم اپنی دولت کے ساتھ ایک ذریعہ پیداوار ہوتا ہے۔ دولت الگ طور پر ذریعہ پیداوار نہیں ہو سکتی۔ منتظم چونکہ اپنی دولت پر نقصان کا خطرہ مول لیتا ہے اِس لئے وہ ایک جائز منافع کا حقدار تسلیم کیا جاتا ہے اور اُسے نقصان کے امکانی خطرے کے ساتھ غیر معین منافع کی صورت میں معاوضہ ملتا ہے ۔ لیکن اگر پیداواری عمل میں نقصان ہوتا ہے تو پھر اُسے کسی قسم کا نفع نہیں دیا جاتا بلکہ وہ نقصان برداشت کرتا ہے۔نقد سرمائے کو عامل پیدائش بنائے جانے کی قباحت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شیخ الازہر شیخ محمد عبدہ ؒفرماتے ہیں:جب نقد بذات خود ذریعہ پیداوار بن جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دولت ان لوگوں کے پاس جمع ہوجائے گی، جن کا کام ہی یہ ہوتاہے کہ نقد سے نقد کمایا جائے۔  [41]لہذا کرنسی کی غلط حیثیت  ہی سرمایہ دارانہ نظام میں  طبقاتی تقسیم کی بنیاد ہے  اور آج تک کوئی بھی سلیم الذہن انسان اس کو  عامل پیداوار کی حیثیت میں قبول نہیں کر سکا ۔جب سرمایہ الگ عامل پیدائش ہی نہیں ہے تو اس نظریۂ پیداواریت کا جواز ہی باقی نہیں رہتا۔ اس طرح سرمائے کو سود دیا جائے یا نہ دیا جائے پر بحث ہی ختم ہوجاتی ہے۔

نیز یہ نظریہ سرمائے کے صرف  رسد کے پہلو   کو مد نظر رکھتا ہے۔جبکہ طلب کے پہلو  کو بالکل پس پشت ڈالتا ہے۔ یعنی یہ نظریہ سرمایہ فراہم کرنے والے کو تو ایک متعین معاوضے کا مستحق قرار دیتا ہے،جبکہ اس کے سرمائے کو پیداواری عمل میں لگانے والے فرد کا بالکل خیال نہیں کرتا بلکہ الٹا اُس کے ساتھ ظلم اور استحصال کا رویہ اپناتا ہے۔کیونکہ یہ نظریہ پہلے سے ہی فرض کرتا ہے کہ  کاروبار کرنے والا شخص لازماً منافع ہی کمائے گا،حالانکہ کاروبار کا نتیجہ ہمیشہ مبہم ہواکرتا ہے ۔جب ایسا ہے تو  پھر سرمائے کے مالک کا معاوضہ یقینی اور معین کیسے ہو سکتا ہے جب کہ پیداواری کے اس عمل میں اُس کا کردار صرف ایک قرض فراہم کرنے والے شخص کا ہوتا ہے جس کا حق صرف اتنا ہی ہے کہ وقت مقررہ پر وہ صرف اپنا قرض ہی واپس لے۔نیز اگر ادھار کی رقم کو غیر پیداواری کاموں میں صرف کیا جائے، مثلاً بنیادی ضروریات کی تکمیل میں ، تو پھر منافع کا تصور کیسا! اگر تو اُس کا کردار کاروبار میں ایک متحرک شریک یا غیر متحرک شریک کا ہوتا ہے تو وہ نقصان کی ذمے داری بھی قبول کرے ورنہ وہ شریک کیا جو نقصان کی ساری ذمہ داری  دوسرے شریک کارپر ڈالے اور  خود نفع لے کر اپنے ہاتھ ہلاتا ہوا چل دے۔اس ساری بحث کا یہ  مطلب بھی نہیں کہ اسلام سرمائے کی پیداواریت کا انکار کرتا ہے۔ بلکہ اسلام ان معنوں میں سرمائے کی پیداواریت کا اقرار کرتا ہے کہ کمائے جانے والے منافع میں سرمائے  کا تناسب کے اعتبار سے ایک حق ہے لیکن یہ استحقاق سرمایہ دارکو اُس وقت حاصل ہوگا جب وہ سرمائے پر نقصان کا خطرہ مول لینے پر راضی ہوگا۔

سرمایہ دارانہ نظام پر کارل مارکس نے جو تنقید کی ہے آسان لفظوں میں اُس کا خلاصہ  یہ ہے کہ اگر سرمایہ کو عامل پیدائش تسلیم کرلیا جائے تو پھر استحصال کا دروازہ کھل جاتا ہے کہ امیر کے پاس دولت جمع ہوگی اور وہ امیر تر ہوتا جائے گا۔ایک سرمایہ دار زمین اور سرمائے کا مالک ہوتا ہے وہ مزدور کا استحصال کرتا ہے اور اس کی محنت کا پورا معاوضہ نہیں دیتا۔کارل مارکس نے کہا کہ مزدور کی محنت کی دو جہتیں ہوتی ہیں۔ایک جہت میں وہ اپنی مزدوری کے لیے کام کرتا ہے، جبکہ دوسری میں  وہ خام مال کو اشیاءوخدمات میں بدل کر اس میں زائد قدر پیدا کرتا ہے جسے کارل مارکس نے کا نام دیا۔ کارل مارکس کہتا ہے کہ سرمایہ دار مزدور کو صرف اس کی محنت کی پہلی جہت کی اجرت دیتا ہے اور دوسری جہت کی ساری کمائی اپنی جیب میں ڈالتا ہے۔ حالانکہ دوسری جہت میں خام مال کو اشیاء و خدمات میں بدلنےاور اسے قابل قدر بنانے میں مزدور کی محنت شامل ہے جس کا اُسے حق نہیں دیا جاتا۔[42] یوں کارل مارکس نے سرمایہ دارانہ نظام کی عاملین پیدائش کی اس تقسیم کی استحصالی حقیقت سے پردہ اُٹھایا۔

(Compensation theory) معاوضے کا نظریہ

اس نظریے کے مطابق پیداواری عمل کے لیےبچتیں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔اگر کسی معیشت میں بچت کا رجحان کم ہو تو وہاں کی پیداوار بری طرح متاثر ہوتی ہےجس کی بدولت ترقی کاعمل رک جاتاہے۔اس لیے لوگوں کو بچت پر آمادہ کرنا بہت ضروری ہوجاتاہے۔یہ ایک فطری امر ہے کہ کوئی بھی شخص کسی مادی فائدے کے بغیر بچت کرنے پر آمادہ نہیں ہوگا۔ لہذا جس کے پاس سرمایہ ہے تواسے بچت پرآمادہ کرنے بچت کا معاوضہ دیاجانالازمی ہے اوریہ معاوضہ پیداواری عمل کے نتیجے میں حاصل ہونے والے منافع سے سود کی شکل میں ادا ہو گا۔سرمایہ دارکواگر اس کی بچت پرمعاوضہ نہیں دیا جائے گا تو اس کا نقصان ہوگا کیونکہ جب ایک خاص مدت کے بعد اسے صرف وہی رقم ہی واپس کی جائے گی تو اس کی قوت خرید میں کمی آچکی ہوگی۔ اس لیے اس کے نقصان کا مداوا کیا جانا لازمی ہے۔

 اس کا جواب یوں بھی دیا جاسکتا ہے کہ اگر سرمایہ دار  اپنی بچت سرمایہ کاری کے عمل میں نہ دیتا اور اپنے گھر میں اتنی ہی مدت کے لیے پس انداز کیے رہتا تو کیا اس صورت میں اس کی بچت کی قوت خرید مستحکم رہتی ؟ اگر اس کا جواب نہیں میں ہے تو پھر کس معاشی بنیاد پر کسی شخص کو صرف اس کی بچت کی بنیاد پر معاوضہ ادا کیا جائے؟

نیز یہ نظریہ بچت کے دو پہلووں میں سے صرف رسد کے پہلو  پر بات کرتا ہے اور بچت کی طلب کے پہلو  کو بالکل پس پشت ڈالتا ہے۔ یعنی یہ نظریہ اپنی بچت فراہم کرنے والے کو تو ایک متعین معاوضے کا مستحق قرار دیتا ہے،جبکہ اس کی بچت کو پیداواری عمل میں لگانے والے فرد کا بالکل خیال نہیں کرتا بلکہ الٹا اُس کے ساتھ ظلم اور استحصال کا رویہ اپناتا ہے۔حالانکہ وہ بھی تو مساوی طور پر اہم ہوتا ہے کیونکہ وہ بچتوں کو پیداواری عمل میں صرف کرتا ہے اور اس دوران وہ نقصان کا خطرہ مول لینے کے ساتھ ساتھ اپنی محنت،وقت، تجربہ اورصحت سب داؤ پر لگاتا ہے اور کبھی نفع اٹھاتا ہے تو کبھی نقصان۔ لیکن یہ نظریہ اُس فرد پر یہ لازم کرتا ہے کہ وہ بچتوں کے مالک کو ایک متعین مقدار کا نفع ادا کرےبھلے اُسے خود کو نقصان کا سامنا ہی کیوں نہ ہو۔ یعنی  پیداواری عمل میں عملی کردار اداکرنےوالا نقصان کی صورت میں نقصان بھی برداشت کرے اور اپنی جیب سے سرمائے کے مالک کوسود کی صورت میں نفع بھی ادا کرے۔ تو یہ معاملہ کس معاشی اور اخلاقی اصول کے تحت جائز قرار پاتا ہے؟ اگربچتوں کو طلب کرنے والا موجودہی نہ ہوتا توکیا بچت کرنے والے کو اپنی بچت کاکوئی فائدہ ہوتا؟ سوائے اس کے کہ وہ یا تو اپنی بچت کو ضروریات پر خرچ کرتا یا نقصان کا خطرہ مول لیتے ہوئے خود کوئی کاروبار کرتا ۔ جب وہ اپنی بچت سے کیے جانے والے خودکے کاروبار میں نقصان کا خطرہ اٹھاسکتا ہے تو پھروہ دوسرے شخص کےاسی نوعیت کے  کاروبار میں اپنی بچت لگاتے وقت اُس پر نقصان کا خطرہ کیوں نہیں اُٹھا سکتا؟

(Time Preference Theory) نظریہ وقتی ترجیح

مشہور امریکی معیشت دان  بوہم باورک   نے آگیو نظریہ  پیش کیا تھا۔[43]بعد میں پروفیسر اِرونگ فشر  نے 1930 میں اپنی کتاب سود کا نظریہ میں اسی طرح کا نظریہ پیش کیا کہ انسان فطری طور پر حال کو مستقبل پر ترجیح دیتا ہےکیونکہ حال کی خوشیاں اور راحتیں  مستقبل کے مقابلے میں زیادہ عزیز ہوتی ہیں اور اس طرح حال کی مصیبتیں اور دکھ  بھی مستقبل کے مقابلے میں زیادہ شدید محسوس ہوتے ہیں۔ کیونکہ مستقبل ابھی دور ہوتا ہےجبکہ حال سامنے ہوتا ہے ۔جو رقم آج ہاتھ میں موجود ہے اس کی قدر  کل ملنے والی متوقع رقم  سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ اِس فطری طرز عمل کو اس طرح بدلنے کے  لیے کہ انسان اپنے‘‘  آج ’’ کو کسی دوسرے شخص کے ‘‘  آج ’’ پر قربان کرتے ہوئے اپنا سرمایہ اُس کے حوالے کر دے، ضروری ہے کہ اُس انسان کو مستقبل میں اصل سرمائےکے ساتھ  کچھ اضافی رقم ملنے کی امید اور لالچ دی جا ئے اورسود ہی وہ اضافی رقم ہے جس کے عوض بندہ اپنے موجودہ سرمائےکو دوسرے کے حوالے  کرنے پر تیار ہو جاتا ہے۔ اس لیے آج کے ‘‘سرمائے’’ کو کل حاصل ہونے والے ‘‘سرمائے’’ کے ساتھ سود کے ذریعہ منسلک کیا جاتا ہے۔[44] پروفیسر ارونگ فشر نے اپنی اِسی کتاب میں نظریہ وقتی ترجیح کی بنیادوں پر بحث کرتے ہوئے افراد کی  حال اور مستقبل کی ترجیحات کا تقابلی جائزہ لیاہے۔اس تقابلی جائزے میں ارونگ فشر نے رقم، گھر ،پھل اور صنعت کار کے کپڑا بنانے جیسی مثالوں کے ساتھ افراد کی حال اور مستقبل کی ترجیحات پر بحث کی ہے اور یہ نتیجہ نکالا ہے کہ افراد ان سب چیز وں کو زمانہ مستقبل کی بجائے حال میں لینے کو ترجیح دیتے ہیں ۔اس کے ساتھ ہی  فشر آگے یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ اگر وہ اس ترجیح کو چھوڑ کر مستقبل کو ترجیح دیں تو مستقبل میں اِن اشیاء کی قیمتیں زیادہ ہوچکی ہونگیں اور یہ فیصلہ ان کے لیے نقصان کا باعث بنے گا۔لہذا افراد کو اس دوسری ترجیح پر انگیخت دینے کے لیے سودکی صورت میں ایک معقول  معاوضہ دینا لازمی ہے۔ اسی نظریے کو ٹائم ویلیو آف منی  بھی کہا جاتا ہے۔

 پروفیسر ارونگ فشر کے نظریے کا تجزیہ کرنے سے قبل اس سوال پر غور کرنا ضروری ہےکہ کیا روپے پیسے کو کموڈٹی  کہا جا سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب  سمجھنے کے بعد ہی قاری کے لیے پروفیسر فشر کے نظریے پر تجزیے کو سمجھنا آسان ہوجائے گا۔ بنیادی طور پر کموڈٹی اس چیز کو کہا جاتا ہے کہ جس کی کوئی ‘‘ ذاتی افادیت   ’’  ہو تاکہ اُس سے استفادہ کیا جا سکے۔ جبکہ کرنسی کوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ اس کی کوئی اپنی  ذاتی افادیت ہواوراس سے استفادہ کیا جا سکے ، جیسے گاڑی، گھر وغیرہ کہ ان اشیا کی افادیت  اِن کی اپنی ذات میں ہی  پوشیدہ ہے ۔ اِسے اِس طرح بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ گاڑی اگر نہ بیچی جائے ، نہ کسی کو تحفۃََ دی جائے، نہ ھبہ کی جائے بلکہ  صرف اور صرف وہ اپنے مالک کے پاس رہے تو وہ مالک کو جو فائدہ دے گی وہی اُس گاڑی کی ” ذاتی افادیت کہلائے گی۔ جو کہ کرنسی میں نہیں ہے کیونکہ اگر کرنسی  کسی طرح کی بھی خرید وفروخت یا لین دین میں استعمال نہ کی جائے اور عرصہ دراز تک وہ اپنے مالک کے پاس رکھی رہے تو وہ اپنی ذاتی حیثیت میں کوئی فائدہ دینے کی صلاحیت نہیں رکھتی ،نہ اسے کھایا جاسکتا ہے، نہ پہنا جاسکتا ہے اور نہ اس میں رہائش رکھی جاسکتی ہے۔ کرنسی کا تو ایک ہی مصرف ہے کہ اس سے کچھ خریدا جائے اور اس خریدی ہوئی چیز سے استفادہ کیا جائے۔غرض کرنسی کا بنیادی کام قابل فائدہ ہونا نہیں بلکہ مفید شے کو خریدنے کی صلاحیت رکھنا ہے ۔اِس ضمن میں یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ کرنسی کے بنیادی مقاصد کیا ہیں ؟ اُن سے کیا کام لیا جا سکتا ہے؟  کرنسی کے درج ذیل تین بنیادی مقاصد ہیں اور کرنسی کا تما م ارتقا انہی تین مقاصد کے گرد ہی گھومتا ہے ۔

اول: کرنسی کی مددسے کسی شے کی حقیقی قدر کا تعین کیا جاتا ہے، کرنسی کے اِس بنیادی مقصد کو انگلش میں یونٹ آف اکاونٹ کہا جاتا ہے۔ مثلا کرنسی کے ایک یونٹ جیسے ایک روپے سے کسی شے کے کتنے یونٹ(کلو گرام، لیٹر ، میٹر وغیرہ)  خریدے جا سکتے ہیں۔

دوم: کرنسی کا دوسرا بنیادی مقصد ہے پسندیدہ چیز کے حصول میں” آلہ کار” بنناجسے انگلش میں میڈیم آف ایکسچینج کہا جاتا ہے۔ یعنی جس کے ذریعے انسان اپنی پسند کی چیز حاصل کر سکے ۔کیونکہ مختلف اجناس میں تبادلہ ہر وقت ممکن نہیں ہوتا۔ ہر شخص کو اپنی مطلوبہ جنس وقت پر بآسانی میسرنہیں آتی۔ایک درمیانی ذریعہ یاواسطہ ضروری تھا کہ جس کے عوض اپنی چیز کو فروخت کرکے اپنی مطلوبہ چیز خرید  لی جائے۔

سوم: کرنسی کا تیسرا بنیادی کام یہ ہے کہ وہ دیگر اشیا کی قدر یعنی ویلیو کو اپنے اندر کچھ عرصے کے لئے محفوظ کر لیتی ہے اور آسانی کےساتھ اس قدر کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ کرنسی کی اس خصوصیت کو انگلش میں سٹور آف ویلیو کہا جاتا ہے۔ مثال کےطورپرایک جگہ آدمی اپنا مکان فروخت کرتا ہے۔ تو وہ اُ س کی قدر کو کرنسی کی شکل میں محفوظ کر لیتا ہے اور پھر کچھ عرصے بعد دوسری جگہ اپنی پسند کا مکان یا کوئی دوسری چیز خرید لیتا ہے۔ کیونکہ انسانوں کی ضروریات ایک مخصوص علا قہ میں پوری نہیں ہو تیں ۔بعض علاقے اگر اچھی فصلیں پیدا کرتے ہیں تو دوسرے مقامات پر بہتر ہنر مند ؍کاریگر دستیاب ہوتےہیں ۔ چنانچہ اشیاءکو محفوظ صورت میں منتقل کرنے اور آزادانہ نقل وحمل میں آسانی کیلئے کرنسی کا نظام وجود میں آیا ۔[45]

          ابھی تک انسانی شعور نے ان تین مقاصد کے علاوہ کرنسی کا کوئی چوتھا مقصدمتعارف نہیں کیا۔

          ذاتی افادیت کے تصور کواس سوال کے جواب سے بھی سمجھا  جا سکتا ہے کہ کسی چیز پر نفع کس بنیاد پر کمایا جاتا ہے؟ اس کے لیے عموماً یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ ایک شخص محنت کرنے اور وقت لگانے کی بدولت منافع کماتا ہے۔حالانکہ یہ مکمل جواب نہیں ہے ۔فرض کریں ایک شخص ایک چیز مارکیٹ میں لاتا ہے لیکن حادثاتی طور پر اُس چیز کی افادیت ضائع ہوجاتی ہے اور اُسے نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔سوال یہ ہے کہ  اُسے نفع کیوں نہیں ہوا؟ حالانکہ اُس نے محنت بھی کی اور وقت بھی دیا۔لہذا یہ فرض کرلینا کہ نفعٍ ٍصرف محنت اور وقت کی بنیاد پر ملتا ہے غلط ہے۔ درست یہ ہے کہ محنت اور وقت ایسے تصور ہیں جو کسی شخص کو نفع کمانے کے قابل اور اہل قرار دیتے ہیں۔جبکہ نفع و نقصان کا امکان چیز کی ذاتی افادیت پر منحصر ہوتا ہے۔اگر ذاتی افادیت بڑھ گئی یا برقرار رہی تو منافع ملے گا اور ذاتی افادیت کم ہوگئی یا ختم ہوگئی تو نقصان ہوگا۔اسلام میں اسی اصول کو یوں بیان کیاجاتا ہے کہ نفع کمانے کے لیے نقصان کا خطرہ مول لینا پڑے گا۔لہذا نفع ہمیشہ کسی چیز کی ذاتی افادیت کی بنیاد پر ہی کمایا جاتا ہے ۔ جس چیز میں ذاتی افادیت نہ ہو اُس پر نفع غیر معقول سی بات لگتی ہے۔ مثلا اگر زید ایک سیب 10 روپے میں خریدتا ہے اور15= (5+10) روپے میں فروخت کرتا ہے تو  اِن 15 روپوں میں سے 10 روپے قیمت کے بدلے 10 روپے ہوجائیں گےتو اضافی 5 روپے کس  چیز کے بدلے میں ہوئے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ سیب کی اپنی ایک ذاتی افادیت   ہےجس کے بدلے 5 روپے نفع کمایا گیا ہے۔اگر سیب گل سڑ جائے تو پھرکوئی شخص بھی قیمتِ خرید تو کُجامفت میں بھی نہیں لےگاکیونکہ اب اس کا ذاتی افادہ باقی نہیں رہا۔لہذاسیب کے مالک کو نقصان اٹھانا پڑے گا۔حالانکہ سیب کے مالک کی محنت اور وقت بھی اس سیب کے حصول میں صرف ہوئےتھے۔اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ کسی چیزسے نفع کے حصول میں محنت اور وقت سے زیادہ اہم عنصرچیز کا ذاتی افادہ ہوتا ہے۔اسی طرح اگر زید 10 روپے کسی کو فروخت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اس کے بدلے 15روپے  لوں گا ۔ تو سوال پھر بھی وہی ہوگا کہ  اِن 15 روپوں میں سے 10 روپے کے بدلے 10 روپے ہوجائیں گےتو اضافی 5روپے کس  چیز کے بدلے میں ہوئے ؟ کیونکہ سیب والی صورت میں تو 5 روپے اُس کی ذاتی افادیت  کا بدل تھے ، جبکہ روپے پیسے کی تو ذاتی افادیت ہے ہی نہیں تو پھر یہ 5 روپے  کا نفع کس کا بدل ہے؟اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ روپیہ ایسی چیز ہے جس کا کوائی ذاتی افادہ نہیں ہے اس لیے وہ  سے مختلف اور الگ پہچان رکھتا ہے۔لہذا کرنسی ، روپیہ ، پیسہ کوئی چیز  نہیں ہے کہ اُسے  نفع پر بیچا جائے ۔ صحیح صورت صرف اور صرف یہ ہوگی کہ 10 روپے کے بدلے صرف 10 روپے ہی ہوں گے جتنی زیادتی ہوگی وہ کسی عوض کے بغیر ہونے کی وجہ سے سود قرارپائےگی۔

اس کے جواب میں سود کو جائز قرار دینے والے یہ دلیل دیتے ہیں کہ اگر کرنسی کی خرید وفروخت پر نفع نہیں کمایا جا سکتا تو پھر روپے کے بدلے میں ڈالر ، ڈالر کے بدلے میں پاؤنڈ یا ان کے الٹ جب خرید و فروخت کی جاتی ہے تو پھربرابری کا خیال کیوں نہیں رکھا جاتا ؟ مثلا ایک ڈالر کو 100 روپے کے بدلے فروخت کیا جاتا ہے کیا یہ کرنسی پر نفع کمانا نہیں  ہے جسے سود تو نہیں  کہاجاتا بلکہ جائز سمجھا جاتا ہے ، کیوں ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایک ڈالر کو 100 روپے کے بدلے فروخت کرنے کا مطلب ہے 100 روپے کو 100 روپے عوض تبادلہ کیا گیا ہےجو کہ بالکل ٹھیک ہے۔[46]  کیونکہ ڈالر دوسرے ملک امریکہ  کی کرنسی ہے جس کے ایک یونٹ کی مالیت پاکستانی روپے کے 100 یونٹوں کے برابر ہے ۔ لہذا یہاں کوئی نفع نہیں کمایا گیا ۔ ہاں اگر کوئی ایک امریکی  ڈالر کو دو امریکی ڈالر کے بدلے  فروخت کرے گا وہ ناجائز ہو گا اور اضافی ڈالر سود ہو گا۔ کیونکہ رباالفضل کے اصول کے تحت یہ باہم ہم جنس ہیں اور نقدی ہیں تو یہ تبادلہ ہاتھوں ہاتھ اور برابری کی بنیاد پر ہوگا۔ ڈالر کے بدلے روپے کے تبادلے کی صورت میں مختلف اجناس اور نقدی ہونے کی بنا پر یہ تبادلہ ہاتھوں ہاتھ ہوگا اور برابری کی شرط نہیں ہوگی۔

          مندرجہ بالا بحث میں یہ بات ثابت ہوچکی کہ روپیہ پیسہ کموڈٹی نہیں ہیں۔لہذا پروفیسر ارونگ فشر کاسرمائے کو دیگر حقیقی اشیاء پر قیاس کرتے ہوئے یہ کہنا کہ مستقبل میں اس کی قیمت بھی بڑھ جائے گی جس کا ازالہ سود کی صورت میں کیا جانا چاہیے ایک غلط نظریہ قرار پاتا ہے۔نیزانسان کا فطری رویہ ہی یہ ہے کہ اس کے ذہن میں بچت کا تصور صرف اسی وقت آتا ہے جب اس کے پاس اس کی بنیادی ضروریات و حاجات سے زائد رقم موجود ہو۔ ورنہ ایک غریب انسان کو فاقہ کشی کر کے بچت کرنی چاہیے لیکن وہ نہیں کرتا کیونکہ اس کی ضروریات اس کی آمدن سے اول تو زیادہ ہوتی ہیں یا پھر ضروریات کے برابر۔نیز یہ نظریہ  اس بات کو بھی نظر انداز کرتا ہے کہ نقصان کا خطرہ ہر کاروبار کا ایک لازمی جز ہے۔ جب تک آدمی اس خطرے کو برداشت کرنے کی ہمت نہیں کرتا اور ان دیکھے مستقبل کے گدلے پانی میں چھلانگ لگانے کے لیے تیار نہیں ہوتا، اُس وقت تک کسی قسم کا منافع حاصل نہیں کر سکتا۔ یہ بات عدل کے خلاف ہے کہ ساری کاوش ایک فریق کرےاور نقصان کا خطرہ مول لے، اس امید پر کہ شاید کچھ منافع حاصل ہو گا جو کہ بالکل غیر  یقینی  ہے۔ جبکہ دوسرا فریق صرف اس بنیاد پر یقینی منافع کا مستحق بنے کے وہ سرمایہ کا مالک ہے۔

اس نظریے کے تحت جدید معاشیات میں آج کی رقم  کے بدلے میں ایک خاص شرح سود پر ایک معینہ مدت کے بعد  کتنا رقم ملے گی ،  کے لیے درج ذیل فارمولا استعمال ہوتا ہے ؛

(Saving and Investment Theory of Interest)بچت اورسرمایہ کاری نظریہ

        کلاسیکل ماہرین معاشیات نے سودکوبچت کی قیمت قرار دیا اوریہ نظریہ پیش کیا کہ اگربچت پر  شرح سود زیادہ ملے گی تو لوگ سرمایہ کاری کے لیے زیادہ بچتیں فراہم کریں گے۔اسی طرح کم شرح سود پرکم بچتیں فراہم کریں گے۔تاہم شرح سود کی کم یا زیادہ سطح کا تعین بچت کی فراہمی یعنی رسد اور بچت کی طلب پر منحصر ہوتا ہے۔عموماً  لوگ زیادہ شرح سود پر زیادہ بچتیں فراہم کرنے پر راضی ہوتے ہیں۔ لیکن یہ عین ممکن ہے کہ مارکیٹ میں ان بچتوں کو اتنی زیادہ قیمت پر لینے والے بہت ہی کم ہوں ۔لہذا بچتیں فراہم کرنے والوں کو شرح سود تھوڑا کم کرنے پڑے گا ورنہ ان کی بچتیں غیر مستعمل رہیں گی۔یوں کسی خاص سطح پر بچت کی رسد اور طلب میں برابری آئےگی اورشرح سود کی قابل قبول سطح  کا تعین ہوگا۔[47]

        اس نظریے میں یہ فرض کیا گیا ہے کہ شرح سود زیادہ ہونے کی صورت میں لوگ زیادہ بچتیں فراہم کریں گے۔ لیکن کلاسیکل ماہرین معاشیات اپنے اس نظریے پر کوئی ٹھوس دلیل نہیں  دیتے کہ لوگ کیوں اپنے صرفی عمل کو چھوڑ کر بچت کریں گے؟ یہاں کلاسیکل دو مفروضات کو فرض کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اول یہ کہ لوگوں کی سب ضروریات مکمل ہیں اور وہ بچت کر رہے ہیں لہذا وہ اپنی بچتیں فراہم کرنے کے لیے زیادہ شرح سود کی طرف دیکھ رہے ہیں اور یہ اپنی دانست میں ایک غیردانشمندانہ مفروضہ ہے۔کیونکہ علم ِمعاشیات کی اپنی نظر میں ضروریات و خواہشات لامحدود ہوتی ہیں جو مکمل طور پر کبھی بھی پوری نہیں ہوسکتیں ۔اس کےعلاوہ بھی دیگرمعاشی دلائل ہیں جس کے لیے گرافیکل تجزیے کی ضرورت ہوگی اور یہ اس کا محل نہیں۔

کیونکہ یہ ایک غیر معقول بات ہے کہ ایک آدمی اپنی ضروریات کی فہرست ہاتھ میں تھامے ہو ئے ہو اور راستے میں زیادہ شرح سود پر اس سے کوئی اُس کی رقم طلب کرے تو وہاپنی ضروریات کی فہرست پھاڑ کر یا جیب میں ڈالتے ہوئے  اسے اپنی وہ رقم دے دے ۔

(Exploitation theory) استحصال کا نظریہ

           یہ نظریہ انیسویں صدی کے مشہور فلاسفر اور سوشلزم نظریات کے بانی کارل مارکس کے افکار پر مشتمل ہے۔ کارل مارکس اپنے وقت کے سرمایہ دارانہ نظام معیشت کے سخت مخالف اور ناقد تھے۔ اس نظریہ کے مطابق سرمایہ دار  چار میں سے تین عاملین پیداوار کا خود مالک ہوتا ہے۔ یعنی زمین ، بلڈنگ، اشیا ئےسرمایہ اور کاروبار۔ وہ صرف انسانی محنت کو کرایہ  پرحاصل کرتا ہے۔ لیکن مزدور کو اس کی محنت کا پورا معاوضہ ادا نہیں کرتا۔مزدور اپنی محنت اور لگن سے ایک خام چیز کو قابل استعمال اور مفید چیز میں بدل کر اُسے کارآمد بناتا ہے اور اس میں اضافی قدر پیدا کرتا ہے لیکن اُسے اس کا کوئی بھی صلہ نہیں دیا جاتا اور سرمایہ دار اُس ساری  اضافی قدر  کا مالک بن جاتا ہے۔ یہی اضافی قدر دراصل سود ہے جو مزدور کے خون پسینے سے نکلتا ہے۔لیکن اس استحصالی نظام کے خاتمے کے لیے کارل مارکس نے ایک اور نظام دیا جس میں مزدور سرمایہ دار کا استحصال کرتا ہے ۔[48]

           یہ نظریہ ذی شعور افراد کے لیے کوئی قابل قبول حل نہیں ہے ۔کیونکہ مظلوم کی داد رسی کا نعرہ مستانہ بلندکرتے ہوئےکسی کو یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ خود بھی کسی دوسرے کا استحصال کرنا شروع کردے کہ یہ عین ظلم اور ناانصافی ہے۔ اس کے بر عکس اسلام ایک ایسا معتدل نظام معیشت دیتا ہے جس میں چاروں عاملین پیدائش میں ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے اور کسی کا استحصال بھی نہیں ہوتا بلکہ ایک دوسرے کو اخوت کی لڑی میں اس طرح پرو دیتا ہے کہ  جو  عوامل دیگر نظامہائے معیشت میں ایک دوسرے کے حقوق تلف کرنے پر تُلے رہتے تھے ، وہ ایک دوسرے کے لیے جذبہ ایثار سے سرشار رہتے ہیں۔

کیا سود افراطِ زر کی بدولت رقم کی قوت خرید میں آنے والی کمی کا معاوضہ ہے؟

اس نظریے کے مطابق سود درحقیقت افراطِ زر کی وجہ سے روپے کی قوتِ خرید میں آنے والی کمی  کا معاوضہ ہے۔مثلاً آج زیدکے پاس مبلغ 10000 روپے  ہیں۔ زید اس رقم سے 100 کلو گرام گندم خرید سکتا ہے کیونکہ مارکیٹ میں گندم کی قیمت 100 روپے فی کلو گرام ہے۔لیکن وہ گندم خریدنے کی بجائے وہ رقم بکر کو ایک سال کی مدت کے لیے بطور قرض دیتا ہے ۔جب ایک سال بعد بکر اپنا قرض واپس کرے گا تو اس وقت افراط زر کی شرح 10 فیصد تک پہنچ جانے کی وجہ سے گندم مہنگی ہوچکی ہوگی اور اس کی قیمت110 روپے فی کلو ہوچکی ہوگی، جس کی بدولت زید اس رقم سے تقریبا ً90 کلو گندم خرید سکے گا۔زید کو اضافی 10 کلوگرام خریدنے کے لیے مبلغ 1100 روپے اپنی جیب سے ادا کرنے پڑیں گے۔لہذا زیدکو10 کلوگرام گندم یا 1100 روپے کے برابر ہونے والے نقصان کا مداوا ہونا چاہیے ۔

اس کا جواب دینے سے قبل پہلے افراط زر کا مفہوم سمجھنا لازمی ہے۔ اکنامکس کی زبان میں افراط زر ایک ایسی صورت حال کو کہتے ہیں جہاں قیمتوں کی عمومی سطح میں مسلسل اضافہ ہوتا جاتا ہےاور زرکی قدر میں کمی آجاتی ہے۔اسی طرح قیمتوں کی عمومی سطح میں مسلسل گراوٹ کوتفریطِ زر کہاجاتا ہے۔[49] جب زر کی زیادہ مقدار سے اشیائے صرف کی تھوڑی مقدار خریدی جائے توایسی صورت حال کو تفریطِ زر کہا جاتاہے۔ اور جب زر کی تھوڑی مقدار سے زیادہ اشیائے صرف خریدی جائیں تو اسے تفریطِ زر کہاجاتا ہے۔ایک چیز ذہن میں رکھنا لازمی ہے کہ افراطِ زریا تفریطِ زرکسی ایک شئے نہیں بلکہ عمومی سطح پربہت سی اشیاء  کی قیمتوں میں مسلسل اضافے یا گراوٹ  کا نام ہے۔قیمتوں کی سطح میں واقع ہونے والے سالانہ فیصداضافے کو افراط زر کی شرح کہا جاتا ہے۔[50] معیشت دانوں کے نزدیک ملکی سطح پر شرح سود میں کمی [51]، اجرتوں میں اضافہ، زر کی رسد میں اضافہ، ملکی سطح پر پیداوار میں کمی، آبادی میں اضافہ، غلط معاشی پالیسیاں افراطِ زر کےاہم اسباب ہیں۔[52]

اس مندرجہ بالا وضاحت سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ معاشی ماہرین کے نزدیک افراطِ زر بہت سے عوامل کے مجموعی عمل کا نتیجہ ہوتا ہے جس کا ذمہ دار کسی ایک شخص کو نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ لہٰذا کرنسی کی قوتِ خرید میں کمی کا ذمہ دار بکر  کوٹھہراتے ہوئے اس سے 1100 روپے کا مطالبہ کرنا کسی طور درست نہیں ہے۔ اگر زید  افراطِ زر سے بچنا چاہتا ہے اور گندم کا حقیقی خواہش مند ہے  تو اُسے چاہیے کہ قرض کی فراہمی گندم کی صورت میں کرے اور واپسی بھی گندم وصول کرے۔اس طرح وہ افراطِ زر کی الجھن سے بچ جائے گا۔اس کے علاوہ یہ بھی دیکھا جائے کہ اس ایک سال کی مدت میں افراطِ زرکا سامنا کیا صرف زید کو کرنا پڑا؟ نہیں بلکہ زید، بکر اور پوری معیشت نے اس کا سامنا کیا ہے ہے توپھر اس کا مداوا اکیلے زید کے لیے ہی خاص کیوں؟

دوسرا جواب یہ بھی دیا جاسکتا ہے کہ افراط زر کوئی یقینی ضابطہ بھی نہیں کہ مستقبل میں ہر صورت روپے کی قدر میں کمی ہی  آئےگی ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ روپے کی قدرمیں اضافہ ہو جائے ۔ جب افراطِ زر ایک ظنّی یعنی اندازے والا تصور ہے تو  اُ س کی مد میں کوئی شخص سود کی شکل میں  کیسے ایک یقینی رقم وصول کر سکتا ہے۔مندرجہ بالا مثال کو ہی لے لیں کہ زید قرض دیتے وقت ہی یہ فرض کرلیتا ہے کہ ایک سال بعد افراط زر کی شرح 10 فیصد ہوگی اور اس کی رقم کی قوت خرید میں  1100 روپے کے برابر کمی آچکی ہوگی لہذا بکر مجھے یہ 1100 روپے ادا کرے۔لہذااب بکر پر لازم ہو گیا کہ وہ ایک سال بعد 1100 روپے  واپس کرے خواہ مستقبل میں افراط زر کی شرح10 فیصد کی بجائے 6 فیصد ہو یعنی زید کو اضافی گندم خریدنے کے لیے 1100 روپے کی بجائےصرف 636 روپے کی ضرورت ہو لیکن زیدپھر بھی 1100 روپے ہی وصول کرےگاکیونکہ یہ بات عقد میں پہلے سے طے ہوچکی ہوتی ہے۔اِسی طرح فرض کریں   کہ اگر ایک سال بعد10 فیصد تفریط ِزر ہو  یعنی گندم کی قیمت 90 روپے فی کلو گرام ہوچکی ہواور 100 کلو گرام کی قیمت 9000 روپے ہو ، تو کیا زید 9000 روپے قبول کرے گاکہ  آج کے 9000 روپے ایک سال پہلےکے 10000 روپے کے برابر ہیں ؟ نہیں زید ایسا پھر بھی نہیں کرے گا، حالانکہ اُسے ایسا کرنا چاہیے ۔اس دوسری صورت حال کو جدید معاشی اصطلاح میں  بھی کہتے ہیں۔

اس لیے یہ صرف سود کمانے کا ایک کمزور بہانہ اور دلیل ہے کہ سود درحقیقت رقم کی قوت خرید میں آنے والی کمی کی تلافی کے طور پر وصول کیا جاتا ہے۔ اگر حقیقت حال اس کے برعکس ہوجائے اور قوت خرید میں اضافہ جائے توسودی ذہن رکھنے والا لالچی انسان کبھی بھی اپنے اسی اصول کو تسلیم کرتے ہوئے کم رقم قبول نہیں کرتا۔ لہذاروپے کی قدر میں کمی ایک تخمینی معاملہ ہے جس پر کوئی یقینی رقم چارج کرنا کسی صورت بھی جائز نہیں ہے۔بالکل اسی طرح روپے کی قدر میں اضافے کی صورت میں اصل قرض کی رقم پر ڈسکاونٹنگ بھی جائز نہیں ہے۔ اس لیے مناسب اور جائز طریقہ صرف یہی ہے کہ قرض جتنا لیا تھا اتنا ہی واپس کیا جائے نہ کم نہ زیادہ۔

جدید ماہرین معیشت اِس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ سود بذات خود افراط ِزر   کو کنٹرول کرنےکاایک اہم عنصرہے۔ملک میں افراط زر کی شرح زیادہ ہونے کی صورت میں حکومت سود کی شرح  کو بڑھا دیتی ہے۔جس کی بدولت بینکوں سے ملنے والے قرضے مہنگے ہو جاتے ہیں۔ صنعتیں بینکوں سے  مہنگے قرضے لے کر اشیائے صرف پیدا کرنے میں تامل کرتی ہیں۔ اسی طرح لوگوں کے پاس خرچ کرنے کے لیے پیسہ بھی کم ہوجاتا ہے اور اشیاء مہنگی ہونے کے سبب صارفین کی جانب سے ان کی طلب میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔ اسی طرح سود کی شرح کم کرنے کا نتیجہ افراط زر کی شرح بڑھنے کی صورت میں نکلتا ہے۔[53] لہذا جو چیز افراط ِزر کا کنٹرولنگ عنصر بن رہی ہو،  وہ اُس کا معاوضہ کیسے بن سکتی ہے۔یہ  عقلی توجیہ بجائےخود عقل کے خلاف ہے۔

تاہم یہ ایک مسئلہ تو ہے جس کا حل صرف اور صرف اسلامی نظامِ معیشت ہی فراہم کر سکتی ہے کہ جس  کا مکمل ڈھانچہ عدل پرقائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شریعت نے ان معاملات کو ممنوع قرار دیاہے جو عدل کے منافی ہیں ۔ چونکہ تمام مالی معاملات در حقیقت زرہی کے گرد گھومتے ہیں اورکسی مالی معاہدے کے وقوع اور وقت ادائیگی کے درمیان زر کی قوتِ خرید میں غیر معمولی کمی  یا اضافے سے فریقین کے حقوق متاثر ہوتے ہیں جو تقاضائے عدل کے خلاف ہے۔ چنانچہ اسلامی حکومت کے فرائض میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ مناسب حد تک کرنسی کی قدرکومستحکم رکھے۔ چنانچہ

الموسوعة الفقهیة

میں درج ہے؛

حکومت ِوقت کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ مسلمانوں کے مفاداتِ عامہ کا تحفظ یقینی بنائے ۔مزید یہ کہ وہ زر کی قیمتوں میں استحکام لانے کے اقدامات کرے  تاکہ اس سے اشیائے خورد ونوش  کی قیمتیں نہ بڑھیں اور غربت میں اضافہ نہ ہو۔ اور افراد اس بات سے مطمئن ہوں کہ اُن کا کمایا ہوا مال و زر رائیگاں نہیں جائے گا نیز کوئی خلل اور فساد واقع نہیں  ہوگا۔[54]

خلاصہ بحث

انسانوں کی دنیا میں اگر انسان ہی کوئی نظام وضع کرے گا تو یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ نظام یکساں طور پر دنیا کے تمام افراد اور معاشروں کے حقوق کی پاسداری کرے۔ کیونکہ انسان جب بھی کوئی نظام بناتا ہے تو اس میں علاقائی، قومی اور ذاتی مفادات جیسے مہلک عناصر جزو لاینفک کی طرح بدرجۂ اتم موجود ہوتے ہیں۔سرمایہ دارطبقے  نےجب اپنا نظام معیشت بنایا تواس میں کل دولت کی تقسیم کو اس طرح ترتیب دیاکہ  دولت کے دریاؤں کا رُخ اپنی جیبوں کی جانب موڑاجبکہ زمین اور مزدور جیسےدیگر عاملین پیدائش کا استحصال کیا۔ مغرب زدہ انسانی ذہن نے دولت کو ہی مقصود حیات جانااور اس کےحصول کے لیے ہر ممکنہ طریقہ اختیار کیا خواہ وہ اخلاقی اقدارسے  گرا ہوا کیوں نہ تھا۔سود کو جائز قرار دینے کے لیے مختلف حیلے تلاش کیے۔ چنانچہ انہوں نے کبھی سود کو  بچت کا معاوضہ قراردیا تو کبھی کاروباری قربانی کےتحت اُسے قربانی کا  انعام قرار دیا۔ کبھی اُسےصرفی عمل سے رکے رہنے کی مشقت کو سہنے کا صلہ گرداناتو کبھی کسی دوسرے کے لیے اپنے حال کو قربان کرنے کا اجرشمارکیا ۔کسی نے سرمائے کو عامل پیدائش قرار دے کر مزدوروں کا استحصال کیا تو کسی نے مزدوروں  کےساتھ ظلم اور ان کی استحصالی کا نعرہ مستانہ لگا کرسرمایہ داروں کا استحصال کیا۔ الغرض انسانی ذہن نے جب بھی کوئی نظام دیا اس نے کسی خاص علاقے اور خاص طبقےکے حقوق کا ہی خیال رکھا جبکہ دوسروں کا صرف استحصال کیا۔اس ضمن میں جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ لکھتے ہیں: نظامِ سرمایہ داری اگر انسان کی محنت اور عرق ریزی کوکوئی وقعت نہیں دیتا تو اشتراکی کیمپ بھی انسان کی حریت اور آزادئ فکر کو برداشت نہیں کرتا اور اُسے آہنی زنجیروں میں جکڑ دینے کے درپے ہوتاہے۔اس ہنگامۂ داروگیر میں کہیں امید کی کرن نظر آتی ہے تو وہ سیدکائنات، فخرِ موجودات حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا لایا ہوا دینِ فطرت ہے جسے ہم اسلام کے نام سے پہچانتے ہیں۔[55]

سرمایہ دار ذہن نے سود کے جواز میں  جو عقلی دلائل وضع کیےہیں، اسلامی فکر نے بڑے مضبوط دلائل کی روشنی میں اُن   کے بخیے ادھیڑے ہیں ۔اِس کے باوجود پیغامِ حق سے اُن کی  روگردانی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ واقعی قران مجید نے حق فرمایا ہے کہ سودخور اس پاگل کی مانند ہوتا ہے کہ جس کی عقل کو شیطان نے مس کر کے پگلا دیا ہو کہ انہیں حق دکھائی اور سجھائی ہی نہیں دیتا۔قران و سنت کے قطعی دلائل اور تاریخی واقعات و حالات اور عقلی دلائل  کے تناظر میں یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ جدید معیشت میں سود کی موجودہ تمام شکلیں حرام ہیں۔یہ بات بھی واضح ہوچکی کہ نزول قرآن کے وقت دونوں تجارتی اور صرفی سود مروّج تھے۔ اس لیے سود کی ان اقسام پر کسی نئے  اجتھاد کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ جسے اللہ نے حلال کیا وہ قیامت تک حلال رہے گا اور جسے حرام کردیا وہ قیامت تک حرام رہے گا۔ سود ایک ایسی لعنت ہے کہ جس کے قبیح اثرات سے صرف ایک فرد ہی نہیں بلکہ پورا معاشرہ متاثر ہوتا ہے۔ اس لیے اپنے معاملات میں سود سے بچنا لازمی ہے۔اسلام نے نفع کمانے کا صرف سودی راستہ بند کیا ہے جبکہ اس کے بدلے نفع و نقصان میں شراکت کے اصول پر مبنی شرکت و مضاربت کا نظام دیا ہے۔بیوعات میں مرابحہ، مساومہ ، سلم اور استصناع جیسے اہم عقود متعارف کرائے ہیں۔مالکانہ حقوق اپنے پاس رکھتے ہوئے چیز پر کرایہ کمانے کے لیے اجارہ کی صورت ایک اور اہم عقد دیا ہے۔قرض و دیون  کے ساتھ حوالہ کا تصور دیا۔ تمام عقودکو مزید مؤثر کرنے کے لیے کفالت کا ایک مکمل طریقہ کار دیا ہے۔الغرض اسلام نے منافع کمانے کے کئی جائز اور حلال راستے دکھائے ہیں۔جس کی جانب صرف وہ سعادت مند روحیں ہی راغب ہوتی ہیں جنہیں احکام خداوندی کا پاس ہوتا ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے;

إِنَّ الْإِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوعًا ہ إِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعًا ہ وَإِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوعًا[56]

(بےشک انسان بہت لالچی پیدا کیا گیا ہے۔ جب اسے تکلیف پہنچے تو سخت گھبرا جانے والاہےاور جب اسے دولت ملے تو حد درجہ بخیل ہے)

 ایک اور جگہ پر ارشاد فرمایا:وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيدٌ [57](انسان مال کی محبت میں بہت شدید ہے)۔ ایسی سرشت و فطرت رکھنے والے انسان کے لیے اگر دولت کمانے کے ناجائز راستے بھی کھول دیے جائیں تو پھر اُسے جذبات و احساسات سے عاری معاشی حیوان بننے میں ذرا سی بھی دیر نہیں لگے گی ۔  انسان کاوجود صرف جسمانی ومادّی ہی نہیں، غالب طورپر اخلاقی بھی ہے۔سود انسان کو خود غرض، سخت دل اور بے رحم بناتاہے۔ اسے دولت اور دنیا کا حریص بناتا ہے۔ اُسے معاشرے کے پریشان حال لوگوں کے تئیں اپنی معروف اخلاقی ذمہ داریوں اور اسلامی تعلیمات سے بے نیاز اور بے حس بناتاہے۔ اسلام کے نزدیک اس طرز کی بے اخلاق و خود غرض زندگی کاکوئی تصور نہیں ہے۔ انسان کو امکان کی آخری حد تک سود لینے سے بچناچاہیے اور دینے سے بھی۔ اسلام کو ایسے پیروکارمطلوب ہیں جو آخرت کو دنیاپرترجیح دیں، آزمائشوں میں جن کے پُر عزم حوصلے کسی تشویش میں مبتلا نہ ہوں، جن کے ثابت قدم لڑکھڑاہٹ کا شکار نہ ہوں، جن کی نگاہ میں فائدہ و نقصان اور منافع وخسارہ کے پیمانے، دوسری قوموں سے اعلیٰ وارفع ہوں جو سیلابِ وقت کے تیز دھارے میں نہ بہہ جا ئیں اور جو سود و زیاں کے چکر سے نکل صرف اللہ اور اُس کے رسول کی خوشنودی کو ہی اپنا مقصدِحیات بنا ئیں۔

 

حوالہ جات

 

[1]  الجصاص،  احمد بن علی، احکام القرآن، دار الكتب العلمية بيروت ،  ص1/569

[2]  المنیاوی،  ابو المنذر محمود بن محمد، المعتصر من شرح مختصر الأصول من علم الأصول، المكتبة الشاملة، مصر، 2010، ص342

[3]  البخاری، برهان الدين محمود بن أحمد، المحيط البرهاني، دار الكتب العلمية، بيروت، 2004، ص 7/126

[4]  البخاری، محمد بن اسماعيل، الصحیح بخاری، دار طوق النجاة ، 1422ھ، کتاب فی الاستقراض، باب حسن القضا، ص 3/117

[5]  ایضاً ، کتاب الصلاة، باب الصلاة إذا قدم من سفر،ص 1/96

[6]  آل عمران: 3/130

[7] Hardy, Peter (F.R.S) The Doctrine of Simple and Compound Interest, Annuities, and Reversions, (A.H. Baily & Co. 83, Cornhill, London, 1839), p: 3.

[8]  ریاضی میں سود مفرد معلوم کرنے فارمولا یہ ہے  []

[9] Hardy, p: 4.

[10]  آل عمران: 3/130

[11] ریاضی میں سود مرکب معلوم کرنے فارمولا یہ ہے  [ X اصل زر  = کل قرض]

[12] Yahia Abdul-Rahman, The Art of Islamic Banking and Finance, (New Jersey: John Wiley & Sons, Inc., 2010), p: 18-19.

[13] Sookhdeo, Patrick, Understanding Shariah Finance, (USA: Isaac Publishing, 2008), Chapter:2.

[14]  الطبری، محمد بن جرير، تفسیر ابن جریر طبری، بیروت، مؤسسة الرسالة، 2002،  البقرہ آیت278 ،  ص 5/50

[15]  ایضاً،  سورۃ قریش، ص 5/51

[16]  ایضاً،  سورۃ قریش، ص 24/652

[17]  الطبقات الکبری لابن سعد، بیروت، دار الكتب العلمية ،  باب غزوۃ بدر، ص2/8۔ احمد بن ابو یعقوب، تاريخ اليعقوبي، شركة الاعلمي للمطبوعات، 2010، ص 1/ 363۔

[18]  تفسیر خازن، بيروت ،دار الكتب العلمية ،البقرہ آیت 278، 1/211

[19]  امام مالک، الموطأ ، کتاب القراض، باب ماجاء فی القراض، بیروت،دار إحياء التراث العربي1985، ص 2/687

[20]  الطبری، محمد بن جرير ، تاريخ الطبري ،  بيروت، دار التراث، 1387ھ،  سنة ثلاث وعشرین، ص 4/221

[21] الصحیح البخاری ، کتاب الجهاد، قوله باب بركة الغازي في ماله ، ص 4/87

[22]  عسقلانی، امام ابن حجر ،فتح الباری شرح صحيح البخاری، کتاب الجهاد، قوله باب بركة الغازي في ماله ، بیروت، دار المعرفة 1959، ص 6/229

[23]  ایضاً، ص6/ 231

[24]  البقرہ، 2 :275

[25]  ایضاً

[26]  الهندی، علي بن حسام الدين، كنز العمال في سنن الأقوال والأفعال، مؤسسة الرسالة، 1981، ص 5/27

[27]  ابو بكر بن ابی شيبة، المصنف في الأحاديث والآثار، الرياض، مكتبة الرشد، 1409ھ، ص 7/275

[28]  البيهقي، أبو بكر، شعب الإيمان، الرياض، مكتبة الرشد، 2003، ص 6/488

[29]  أبو داود سليمان بن الأشعث، سنن أبي داود، بيروت، المكتبة العصرية، صيدا، ص 3/284

[30]  مودودی، مولاناابوالاعلی، معاشیات اسلام ، لاہور، اسلامک پبلی کیشنز ، 2013،  ص 192

[31]  النساء4 : 29

[32]   البقرہ2 : 275

[33] Cate, Thomas, An Encyclopedia of Keynesian Economics, (Edward Elgar Publishing Ltd, UK, 2013), Second edition, p: 51.

[34]  قاسم،حکیم ایم ۔اے ، حضرت محمد ﷺ بحیثیت ماہر معا شیات ، علم و عرفان پبلی کیشنز، ص 312

[35] Senior, Nassau William, An Outline of the Science of Political Economy, W. Clowes and Sons, London 1836, p:153.

[36] Wood, John C. (Editor), Alfred Marshall: Critical Assessments, (London: Croom Helm Ltd, 2002), Vol: II, p: 20.

[37]Keynes, John Maynard, General Theory Of Employment , Interest And Money, Harcourt Brace Jovanovich Publisher, London 1964, p: 188۔

[38] Böhm-Bawerk, Eugen von, Capital and Interest: A Critical History of Economical Theory, (London: Macmillan and Co.1890), p: 278.

[39]Mankiw, N. Grogory, Principles of Microeconomics, (South Western Cengage Learning, USA, 2009), 5th Edition, p: 409.

[40]Uzair, Dr. Muhammad, Interest Free Banking, (Ktab Bhawan, India, 2000), p: 5-9.

[41] محمد رشيد بن علي رضا، تفسیر المنار، الهيئة المصرية العامة للكتاب، 1990 ، ص3/91

[42] Marx, Karl, Capital: Critique of Political Economy, (England: Penguin Books, 1982), p: 283-306.

[43] N. B. Ghodke, Encyclopaedic Dictionary of Economics, (India:Mittil Publication,1985), p: 24.

[44] Fisher, Irving, The Theory of Interest, The MacMillon Company, New York, 1930). p: 61-66.

[45] Abel, Andrew B. and Bernanke, Ben S., Macroeconomics, 5th Edition, p: 246-247

[46]  فقہا اصل میں نقود کے باہم تبادلے کو خرید و فروخت سے تعبیر نہیں کرتے کیونکہ اس میں عوضین دونوں کے دونوں ثمن ہوتے ہیں اور مبیع مفقود ہوتی ہے جبکہ خرید و فروخت میں ایک عوض ثمن اور دوسرا عوض مبیع ہوتا ہے۔ جدید معاشیات کرنسیوں کے باہمی تبادلے کوبھی فروخت سے تعبیر کرتے ہیں۔

[47] Satija, Dr. Kalpana , Textbook on Economics for Law Students, (Universal Law Publishing, 2009), p: 273.

[48] Marx, Karl, Capital: Critique of Political Economy, (England: Penguin Books, 1982), p: 283-306.

[49]Abel, Andrew B. and Bernanke, Ben S., Macroeconomics, 5th Edition, p: 6.

[50] Ibid

[51] Grant, Susan and  Vidler, Chris, Economics in Context, (Heinemann Educational Publishers, 2000), p: 167.

[52]  شاہد، عبدالحمید، زری معاشیات و سرکاری مالیات، علمی کتاب خانہ، لاہور2006، ص: 284-287

[53] Grant, p: 167.

[54]  الموسوعة الفقهية الكويتية، الكويت، وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية ، 1487ھ، ص 41/197

[55]  جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری، مقالات ضیاء الامت، لاہور، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، 2015، ص: 212

[56]   المعارج 70: 19-21

[57]   العادیات8 :100

Islamic Economics: What It Is and How It Developed

Umer Chapra,

Islamic Research and Training Institute

Islamic economics has been having a revival over the last few decades. However, it is still in a preliminary stage of development. In contrast with this, conventional economics has become a well-developed and sophisticated discipline after going through a long and rigorous process of development over more than a century. Is a new discipline in economics needed? If so, what is Islamic economics, how does it differ from conventional economics, and what contributions has it made over the centuries? This article tries to briefly answer these questions.

It is universally recognized that resources are scarce compared with the claims on them. However, it is also simultaneously recognized by practically all civilizations that the well-being of all human beings needs to be ensured. Given the scarcity of resources, the well-being of all may remain an unrealized dream if the scarce resources are not utilized efficiently and equitably. For this purpose, every society needs to develop an effective strategy, which is consciously or unconsciously conditioned by its worldview. If the worldview is flawed, the strategy may not be able to help the society actualize the well-being of all. Prevailing worldviews may be classified for the sake of ease into two board theoretical constructs (1) secular and materialist, and (2) spiritual and humanitarian.

The Role of the Worldview

Secular and materialist worldviews attach maximum importance to the material aspect of human well-being and tend generally to ignore the importance of the spiritual aspect. They often argue that maximum material well-being can be best realized if individuals are given unhindered freedom to pursue their self-interest and to maximize their want satisfaction in keeping with their own tastes and preferences.[1] In their extreme form they do not recognize any role for Divine guidance in human life and place full trust in the ability of human beings to chalk out a proper strategy with the help of their reason. In such a worldview there is little role for values or government intervention in the efficient and equitable allocation and distribution of resources. When asked about how social interest would be served when everyone has unlimited freedom to pursue his/her self-interest, the reply is that market forces will themselves ensure this because competition will keep self-interest under check.

In contrast with this, religious worldviews give attention to both the material as well as the spiritual aspects of human well-being. They do not necessarily reject the role of reason in human development. They, however, recognize the limitations of reason and wish to complement it by revelation. They do not also reject the need for individual freedom or the role that the serving of self-interest can play in human development They, however, emphasize that both freedom and the pursuit of self-interest need to be toned down by moral values and good governance to ensure that everyone’s well-being is realized and that social harmony and family integrity are not hurt in the process of everyone serving his/her self-interest.

Material and Spiritual Needs

Even though none of the major worldviews prevailing around the world is totally materialist and hedonist, there are, nevertheless, significant differences among them in terms of the emphasis they place on material or spiritual goals and the role of moral values and government intervention in ordering human affairs. While material goals concentrate primarily on goods and services that contribute to physical comfort and well-being, spiritual goals include nearness to God, peace of mind, inner happiness, honesty, justice, mutual care and cooperation, family and social harmony, and the absence of crime and anomie. These may not be quantifiable, but are, nevertheless, crucial for realizing human well-being. Resources being limited, excessive emphasis on the material ingredients of well-being may lead to a neglect of spiritual ingredients. The greater the difference in emphasis, the greater may be the difference in the economic disciplines of these societies. Feyerabend (1993) frankly recognized this in the introduction to the Chinese edition of his thought-provoking book, Against Method, by stating that “First world science is only one science among many; by claiming to be more it ceases to be an instrument of research and turns into a (political) pressure group” (p.3, parentheses are in the original).

The Enlightenment Worldview and Conventional Economics

There is a great deal that is common between the worldviews of most major religions, particularly those of Judaism, Christianity and Islam. This is because, according to Islam, there is a continuity and similarity in the value systems of all Revealed religions to the extent to which the Message has not been lost or distorted over the ages. The Qur’an clearly states that: “Nothing has been said to you [Muhammad] that was not said to the Messengers before you” (Al-Qur’an, 41:43). If conventional economics had continued to develop in the image of the Judeo-Christian worldview, as it did before the Enlightenment Movement of the seventeenth and eighteenth centuries, there may not have been any significant difference between conventional and Islamic economics. However, after the Enlightenment Movement, all intellectual disciplines in Europe became influenced by its secular, value-neutral, materialist and social-Darwinist worldview, even though this did not succeed fully. All economists did not necessarily become materialist or social-Darwinist in their individual lives and many of them continued to be attached to their religious worldviews. Koopmans (1969) has rightly observed that “scratch an economist and you will find a moralist underneath.” Therefore, while theoretically conventional economics adopted the secular and value neutral orientation of the Enlightenment worldview and failed to recognize the role of value judgments and good governance in the efficient and equitable allocation and distribution of resources, in practice this did not take place fully. The pre-Enlightenment tradition never disappeared completely (see Baeck, 1994, p. 11).

There is no doubt that, in spite of its secular and materialist worldview, the market system led to a long period of prosperity in the Western market-oriented economies. However, this unprecedented prosperity did not lead to the elimination of poverty or the fulfillment of everyone’s needs in conformity with the Judeo-Christian value system even in the wealthiest countries. Inequalities of income and wealth have also continued to persist and there has also been a substantial degree of economic instability and unemployment which have added to the miseries of the poor. This indicates that both efficiency and equity have remained elusive in spite of rapid development and phenomenal rise in wealth.

Consequently there has been persistent criticism of economics by a number of well-meaning scholars, including Thomas Carlyle (Past and Present, 1843), John Ruskin (Unto this Last, 1862) and Charles Dickens (Hard Times, 1854-55) in England, and Henry George (Progress and Poverty, 1879) in America. They ridiculed the dominant doctrine of laissez-faire with its emphasis on self-interest. Thomas Carlyle called economics a “dismal science” and rejected the idea that free and uncontrolled private interests will work in harmony and further the public welfare (see Jay and Jay, 1986). Henry George condemned the resulting contrast between wealth and poverty and wrote: “So long as all the increased wealth which modern progress brings goes but to build great fortunes, to increase luxury and make sharper the contrast between the House of Have and the House of Want, progress is not real and cannot be permanent” (1955, p. 10).

In addition to failing to fulfill the basic needs of a large number of people and increasing inequalities of income and wealth, modern economic development has been associated with the disintegration of the family and a failure to bring peace of mind and inner happiness (Easterlin 2001, 1995 and 1974; Oswald, 1997; Blanchflower and Oswald, 2000; Diener and Oshi, 2000; and Kenny, 1999). Due to these problems and others the laissez-faire approach lost ground, particularly after the Great Depression of the 1930s as a result of the Keynesian revolution and the socialist onslaught. However, most observers have concluded that government intervention alone cannot by itself remove all socio-economic ills. It is also necessary to motivate individuals to do what is right and abstain from doing what is wrong. This is where the moral uplift of society can be helpful. Without it, more and more difficult and costly regulations are needed. Nobel-laureate Amartya Sen has, therefore, rightly argued that “the distancing of economics from ethics has impoverished welfare economics and also weakened the basis of a good deal of descriptive and predictive economics” and that economics “can be made more productive by paying greater and more explicit attention to ethical considerations that shaped human behaviour and judgment” (1987, pp. 78-79). Hausman and McPherson also conclude in their survey article “Economics and Contemporary Moral Philosophy” that “An economy that is engaged actively and self-critically with the moral aspects of its subject matter cannot help but be more interesting, more illuminating and, ultimately, more useful than the one that tries not to be” (1993, p. 723).

Islamic Economics – and How It Differs from Conventional Economics

While conventional economics is now in the process of returning to its pre-Enlightenment roots, Islamic economics never got entangled in a secular and materialist worldview. It is based on a religious worldview which strikes at the roots of secularism and value neutrality. To ensure the true well-being of all individuals, irrespective of their sex, age, race, religion or wealth, Islamic economics does not seek to abolish private property, as was done by communism, nor does it prevent individuals from serving their self-interest. It recognizes the role of the market in the efficient allocation of resources, but does not find competition to be sufficient to safeguard social interest. It tries to promote human brotherhood, socio-economic justice and the well-being of all through an integrated role of moral values, market mechanism, families, society, and ‘good governance.’ This is because of the great emphasis in Islam on human brotherhood and socio-economic justice.

The Integrated Role of the Market, Families, Society, and Government

The market is not the only institution where people interact in human society. They also interact in the family, the society and the government and their interaction in all these institutions is closely interrelated. There is no doubt that the serving of self-interest does help raise efficiency in the market place. However, if self-interest is overemphasized and there are no moral restraints on individual behavior, other institutions may not work effectively – families may disintegrate, the society may be uncaring, and the government may be corrupt, partisan, and self-centered. Mutual sacrifice is necessary for keeping the families glued together. Since the human being is the most important input of not only the market, but also of the family, the society and the government, and the family is the source of this input, nothing may work if families disintegrate and are unable to provide loving care to children. This is likely to happen if both the husband and wife try to serve just their own self-interest and are not attuned to the making of sacrifices that the proper care and upbringing of children demands. Lack of willingness to make such sacrifice can lead to a decline in the quality of the human input to all other institutions, including the market, the society and the government. It may also lead to a fall in fertility rates below the replacement level, making it difficult for society not only to sustain its development but also its social security system.

The Role of Moral Values

While conventional economics generally considers the behavior and tastes and preferences of individuals as given, Islamic economics does not do so. It places great emphasis on individual and social reform through moral uplift. This is the purpose for which all God’s messengers, including Abraham, Moses, Jesus, and Muhammad, came to this world. Moral uplift aims at the change in human behavior, tastes and preferences and, thereby, it complements the price mechanism in promoting general well-being. Before even entering the market place and being exposed to the price filter, consumers are expected to pass their claims through the moral filter. This will help filter out conspicuous consumption and all wasteful and unnecessary claims on resources. The price mechanism can then take over and reduce the claims on resources even further to lead to the market equilibrium. The two filters can together make it possible to have optimum economy in the use of resources, which is necessary to satisfy the material as well as spiritual needs of all human beings, to reduce the concentration of wealth in a few hands, and to raise savings, which are needed to promote greater investment and employment. Without complementing the market system with morally-based value judgments, we may end up perpetuating inequities in spite of our good intentions through what Solo calls inaction, non-choice and drifting (Solo, 1981, p. 38)

From the above discussion, one may easily notice the similarities and differences between the two disciplines. While the subject matter of both is the allocation and distribution of resources and both emphasize the fulfillment of material needs, there is an equal emphasis in Islamic economics on the fulfillment of spiritual needs. While both recognize the important role of market mechanism in the allocation and distribution of resources, Islamic economics argues that the market may not by itself be able to fulfill even the material needs of all human beings. This is because it can promote excessive use of scarce resources by the rich at the expense of the poor if there is undue emphasis on the serving of self-interest. Sacrifice is involved in fulfilling our obligations towards others and excessive emphasis on the serving of self-interest does not have the potential of motivating people to make the needed sacrifice. This, however, raises the crucial question of why a rational person would sacrifice his self-interest for the sake of others?

The Importance of the Hereafter

This is where the concepts of the innate goodness of human beings and of the Hereafter come in – concepts which conventional economics ignores but on which Islam and other major religions place a great deal of emphasis. Because of their innate goodness, human beings do not necessarily always try to serve their self-interest. They are also altruistic and are willing to make sacrifices for the well-being of others. In addition, the concept of the Hereafter does not confine self-interest to just this world. It rather extends it beyond this world to life after death. We may be able to serve our self-interest in this world by being selfish, dishonest, uncaring, and negligent of our obligations towards our families, other human beings, animals, and the environment. However, we cannot serve our self-interest in the Hereafter except by fulfilling all these obligations.

Thus, the serving of self-interest receives a long-run perspective in Islam and other religions by taking into account both this world and the next. This serves to provide a motivating mechanism for sacrifice for the well-being of others that conventional economics fails to provide. The innate goodness of human beings along with the long-run perspective given to self-interest has the potential of inducing a person to be not only efficient but also equitable and caring. Consequently, the three crucial concepts of conventional economics – rational economic man, positivism, and laissez-faire – were not able to gain intellectual blessing in their conventional economics sense from any of the outstanding scholars who represent the mainstream of Islamic thought.

Rational Economic Man

While there is hardly anyone opposed to the need for rationality in human behavior, there are differences of opinion in defining rationality (Sen, 1987, pp. 11-14). However, once rationality has been defined in terms of overall individual as well as social well-being, then rational behavior could only be that which helps us realize this goal. Conventional economics does not define rationality in this way. It equates rationality with the serving of self-interest through the maximization of wealth and want satisfaction, The drive of self-interest is considered to be the “moral equivalent of the force of gravity in nature” (Myers, 1983, p. 4). Within this framework society is conceptualized as a mere collection of individuals united through ties of self-interest.

The concept of ‘rational economic man’ in this social-Darwinist, utilitarian, and material sense of serving self–interest could not find a foothold in Islamic economics. ‘Rationality’ in Islamic economics does not get confined to the serving of one’s self-interest in this world alone; it also gets extended to the Hereafter through the faithful compliance with moral values that help rein self-interest to promote social interest. Al-Mawardi (d. 1058) considered it necessary, like all other Muslim scholars, to rein individual tastes and preferences through moral values (1955, pp. 118-20). Ibn Khaldun (d.1406) emphasized that moral orientation helps remove mutual rivalry and envy, strengthens social solidarity, and creates an inclination towards righteousness (n.d., p.158).

Positivism

Similarly, positivism in the conventional economics sense of being “entirely neutral between ends” (Robbins, 1935, p. 240) or “independent of any particular ethical position or normative judgment” (Friedman, 1953) did not find a place in Muslim intellectual thinking. Since all resources at the disposal of human beings are a trust from God, and human beings are accountable before Him, there is no other option but to use them in keeping with the terms of trust. These terms are defined by beliefs and moral values. Human brotherhood, one of the central objectives of Islam, would be a meaningless jargon if it were not reinforced by justice in the allocation and distribution of resources.

Pareto Optimum

Without justice, it would be difficult to realize even development. Muslim scholars have emphasized this throughout history. Development Economics has also started emphasizing its importance, more so in the last few decades.[2] Abu Yusuf (d. 798) argued that: “Rendering justice to those wronged and eradicating injustice, raises tax revenue, accelerates development of the country, and brings blessings in addition to reward in the Hereafter” (1933/34, p. 111: see also pp. 3-17). Al-Mawardi argued that comprehensive justice “inculcates mutual love and affection, obedience to the law, development of the country, expansion of wealth, growth of progeny, and security of the sovereign” (1955, p. 27). Ibn Taymiyyah (d. 1328) emphasized that “justice towards everything and everyone is an imperative for everyone, and injustice is prohibited to everything and everyone. Injustice is absolutely not permissible irrespective of whether it is to a Muslim or a non-Muslim or even to an unjust person” (1961-63, Vol. 18, p. 166).

Justice and the well-being of all may be difficult to realize without a sacrifice on the part of the well-to-do. The concept of Pareto optimum does not, therefore, fit into the paradigm of Islamic economics. This is because Pareto optimum does not recognize any solution as optimum if it requires a sacrifice on the part of a few (rich) for raising the well-being of the many (poor). Such a position is in clear conflict with moral values, the raison d’être of which is the well-being of all. Hence, this concept did not arise in Islamic economics. In fact, Islam makes it a religious obligation of Muslims to make a sacrifice for the poor and the needy, by paying Zakat at the rate of 2.5 percent of their net worth. This is in addition to the taxes that they pay to the governments as in other countries.

The Role of State

Moral values may not be effective if they are not observed by all. They need to be enforced. It is the duty of the state to restrain all socially harmful behavior[3] including injustice, fraud, cheating, transgression against other people’s person, honor and property, and the non-fulfillment of contracts and other obligations through proper upbringing, incentives and deterrents, appropriate regulations, and an effective and impartial judiciary. The Qur’an can only provide norms. It cannot by itself enforce them. The state has to ensure this. That is why the Prophet Muhammad said: “God restrains through the sovereign more than what He restrains through the Qur’an” (cited by al-Mawardi, 1955, p. 121). This emphasis on the role of the state has been reflected in the writings of all leading Muslim scholars throughout history.[4] Al-Mawardi emphasized that an effective government (Sultan Qahir) is indispensable for preventing injustice and wrongdoing (1960, p. 5). Say’s Law could not, therefore, become a meaningful proposition in Islamic economics.

How far is the state expected to go in the fulfillment of its role? What is it that the state is expected to do? This has been spelled out by a number of scholars in the literature on what has come to be termed as “Mirrors for Princes.”[5] None of them visualized regimentation or the owning and operating of a substantial part of the economy by the state. Several classical Muslim scholars, including al-Dimashqi (d. after 1175) and Ibn Khaldun, clearly expressed their disapproval of the state becoming directly involved in the economy (Al-Dimashqi, 1977, pp. 12 and 61; Ibn Khaldun, pp. 281-83). According to Ibn Khaldun, the state should not acquire the character of a monolithic or despotic state resorting to a high degree of regimentation (ibid., p. 188). It should not feel that, because it has authority, it can do anything it likes (ibid, p. 306). It should be welfare-oriented, moderate in its spending, respect the property rights of the people, and avoid onerous taxation (ibid, p. 296). This implies that what these scholars visualized as the role of government is what has now been generally referred to as ‘good governance’.

Some of the Contributions Made by Islamic Economics

The above discussion should not lead one to an impression that the two disciplines are entirely different. One of the reasons for this is that the subject matter of both disciplines is the same, allocation and distribution of scarce resources. Another reason is that all conventional economists have never been value neutral. They have made value judgments in conformity with their beliefs. As indicated earlier, even the paradigm of conventional economics has been changing – the role of good governance has now become well recognized and the injection of a moral dimension has also become emphasized by a number of prominent economists. Moreover, Islamic economists have benefited a great deal from the tools of analysis developed by neoclassical, Keynesian, social, humanistic and institutional economics as well as other social sciences, and will continue to do so in the future.

The Fallacy of the ‘Great Gap’ Theory

A number of economic concepts developed in Islamic economics long before they did in conventional economics. These cover a number of areas including interdisciplinary approach; property rights; division of labor and specialization; the importance of saving and investment for development; the role that both demand and supply play in the determination of prices and the factors that influence demand and supply; the roles of money, exchange, and the market mechanism; characteristics of money, counterfeiting, currency debasement, and Gresham’s law; the development of checks, letters of credit and banking; labor supply and population; the role of the state, justice, peace, and stability in development; and principles of taxation.I t is not possible to provide comprehensive coverage of all the contributions Muslim scholars have made to economics. Only some of their contributions will be highlighted below to remove the concept of the “Great Gap” of “over 500 years” that exists in the history of conventional economic thought as a result of the incorrect conclusion by Joseph Schumpeter in History of Economic Analysis (1954), that the intervening period between the Greeks and the Scholastics was sterile and unproductive.[6] This concept has become well embedded in the conventional economics literature as may be seen from the reference to this even by the Nobel-laureate, Douglass North, in his December 1993 Nobel lecture (1994, p. 365). Consequently, as Todd Lowry has rightly observed, “the character and sophistication of Arabian writings has been ignored” (See his ‘Foreword’ in Ghazanfar, 2003, p. xi).

The reality, however, is that the Muslim civilization, which benefited greatly from the Chinese, Indian, Sassanian and Byzantine civilizations, itself made rich contributions to intellectual activity, including socio-economic thought, during the ‘Great Gap’ period, and thereby played a part in kindling the flame of the European Enlightenment Movement. Even the Scholastics themselves were greatly influenced by the contributions made by Muslim scholars. The names of Ibn Sina (Avicenna, d. 1037), Ibn Rushd (Averroes, d. 1198) and Maimonides (d. 1204, a Jewish philosopher, scientist, and physician who flourished in Muslim Spain) appear on almost every page of the thirteenth-century summa (treatises written by scholastic philosophers) (Pifer, 1978, p. 356).

Multidisciplinary Approach for Development

One of the most important contributions of Islamic economics, in addition to the above paradigm discussion, was the adoption of a multidisciplinary dynamic approach. Muslim scholars did not focus their attention primarily on economic variables. They considered overall human well-being to be the end product of interaction over a long period of time between a number of economic, moral, social, political, demographic and historical factors in such a way that none of them is able to make an optimum contribution without the support of the others. Justice occupied a pivotal place in this whole framework because of its crucial importance in the Islamic worldview There was an acute realization that justice is indispensable for development and that, in the absence of justice, there will be decline and disintegration.

The contributions made by different scholars over the centuries seem to have reached their consummation in Ibn Khaldun’s Maquddimah, which literally means ‘introduction,’ and constitutes the first volume of a seven-volume history, briefly called Kitab al-‘Ibar or the Book of Lessons [of History].[7] Ibn Khaldun lived at a time (1332-1406) when the Muslim civilization was in the process of decline. He wished to see a reversal of this tide, and, as a social scientist, he was well aware that such a reversal could not be envisaged without first drawing lessons (‘ibar) from history to determine the factors that had led the Muslim civilization to bloom out of humble beginnings and to decline thereafter. He was, therefore, not interested in knowing just what happened. He wanted to know the how and why of what happened. He wanted to introduce a cause and effect relationship into the discussion of historical phenomena. The Muqaddimah is the result of this desire. It tries to derive the principles that govern the rise and fall of a ruling dynasty, state (dawlah) or civilization (‘umran).

Since the centre of Ibn Khaldun’s analysis is the human being, he sees the rise and fall of dynasties or civilizations to be closely dependent on the well-being or misery of the people. The well-being of the people is in turn not dependent just on economic variables, as conventional economics has emphasized until recently, but also on the closely interrelated role of moral, psychological, social, economic, political, demographic and historical factors. One of these factors acts as the trigger mechanism. The others may, or may not, react in the same way. If the others do not react in the same direction, then the decay in one sector may not spread to the others and either the decaying sector may be reformed or the decline of the civilization may be much slower. If, however, the other sectors react in the same direction as the trigger mechanism, the decay will gain momentum through an interrelated chain reaction such that it becomes difficult over time to identify the cause from the effect. He, thus, seems to have had a clear vision of how all the different factors operate in an interrelated and dynamic manner over a long period to promote the development or decline of a society.

He did not, thus, adopt the neoclassical economist’s simplification of confining himself to primarily short-term static analysis of only markets by assuming unrealistically that all other factors remain constant. Even in the short-run, everything may be in a state of flux through a chain reaction to the various changes constantly taking place in human society, even though these may be so small as to be imperceptible. Therefore, even though economists may adopt the ceteris paribus assumption for ease of analysis, Ibn Khaldun’s multidisciplinary dynamics can be more helpful in formulating socio-economic policies that help improve the overall performance of a society. Neoclassical economics is unable to do this because, as North has rightly asked, “How can one prescribe policies when one does not understand how economies develop?” He, therefore, considers neoclassical economics to be “an inappropriate tool to analyze and prescribe policies that will induce development” (North, 1994, p. 549).

However, this is not all that Islamic economics has done. Muslim scholars, including Abu Yusuf (d. 798), al-Mawardi (d. 1058), Ibn Hazm (d. 1064), al-Sarakhsi (d. 1090), al-Tusi (d. 1093), al-Ghazali (d. 1111), al-Dimashqi (d. after 1175), Ibn Rushd (d. 1187), Ibn Taymiyyah (d.1328), Ibn al-Ukhuwwah (d. 1329), Ibn al-Qayyim (d. 1350), al-Shatibi (d. 1388), Ibn Khaldun (d. 1406), al-Maqrizi (d. 1442), al-Dawwani (d. 1501), and Shah Waliyullah (d. 1762) made a number of valuable contributions to economic theory. Their insight into some economic concepts was so deep that a number of the theories propounded by them could undoubtedly be considered the forerunners of some more sophisticated modern formulations of these theories.[8]

Division of Labor, Specialization, Trade, Exchange and Money and Banking

A number of scholars emphasized the necessity of division of labor for economic development long before this happened in conventional economics. For example, al-Sarakhsi (d. 1090) said: “the farmer needs the work of the weaver to get clothing for himself, and the weaver needs the work of the farmer to get his food and the cotton from which the cloth is made …, and thus everyone of them helps the other by his work…” (1978, Vol. 30, p. 264). Al-Dimashqi, writing about a century later, elaborates further by saying: “No individual can, because of the shortness of his life span, burden himself with all industries. If he does, he may not be able to master the skills of all of them from the first to the last. Industries are all interdependent. Construction needs the carpenter and the carpenter needs the ironsmith and the ironsmith needs the miner, and all these industries need premises. People are, therefore, necessitated by force of circumstances to be clustered in cities to help each other in fulfilling their mutual needs” (1977, p. 20-21).

Ibn Khaldun ruled out the feasibility or desirability of self-sufficiency, and emphasized the need for division of labor and specialization by indicating that: “It is well-known and well-established that individual human beings are not by themselves capable of satisfying all their individual economic needs. They must all cooperate for this purpose. The needs that can be satisfied by a group of them through mutual cooperation are many times greater than what individuals are capable of satisfying by themselves” (p. 360). In this respect he was perhaps the forerunner of the theory of comparative advantage, the credit for which is generally given in conventional economics to David Ricardo who formulated it in 1817.

The discussion of division of labor and specialization, in turn, led to an emphasis on trade and exchange, the existence of well-regulated and properly functioning markets through their effective regulation and supervision (hisbah), and money as a stable and reliable measure, medium of exchange and store of value. However, because of bimetallism (gold and silver coins circulating together) which then prevailed, and the different supply and demand conditions that the two metals faced, the rate of exchange between the two full-bodied coins fluctuated. This was further complicated by debasement of currencies by governments in the later centuries to tide over their fiscal problems. This had, according to Ibn Taymiyyah (d. 1328) (1961-63, Vol. 29, p. 649), and later on al-Maqrizi (d. 1442) and al-Asadi (d. 1450), the effect of bad coins driving good coins out of circulation (al-Misri, 1981, pp. 54 and 66), a phenomenon which was recognized and referred to in the West in the sixteenth century as Gresham’s Law. Since debasement of currencies is in sheer violation of the Islamic emphasis on honesty and integrity in all measures of value, fraudulent practices in the issue of coins in the fourteenth century and afterwards elicited a great deal of literature on monetary theory and policy. The Muslims, according to Baeck, should, therefore, be considered forerunners and critical incubators of the debasement literature of the fourteenth and fifteenth centuries (Baeck, 1994, p. 114).

To finance their expanding domestic and international trade, the Muslim world also developed a financial system, which was able to mobilize the “entire reservoir of monetary resources of the mediaeval Islamic world” for financing agriculture, crafts, manufacturing and long-distance trade (Udovitch, 1970, pp. 180 and 261). Financiers were known as sarrafs. By the time of Abbasid Caliph al-Muqtadir (908-32), they had started performing most of the basic functions of modern banks (Fischel, 1992). They had their markets, something akin to the Wall Street in New York and Lombard Street in London, and fulfilled all the banking needs of commerce, agriculture and industry (Duri, 1986, p. 898). This promoted the use of checks (sakk) and letters of credit (hawala). The English word check comes from the Arabic term sakk.

Demand and Supply

A number of Muslim scholars seem to have clearly understood the role of both demand and supply in the determination of prices. For example, Ibn Taymiyyah (d. 1328) wrote: “The rise or fall of prices may not necessarily be due to injustice by some people. They may also be due to the shortage of output or the import of commodities in demand. If the demand for a commodity increases and the supply of what is demanded declines, the price rises. If, however, the demand falls and the supply increases, the price falls” (1961-3, Vol. 8, p. 523).

Even before Ibn Taymiyyah, al-Jahiz (d. 869) wrote nearly five centuries earlier that: “Anything available in the market is cheap because of its availability [supply] and dear by its lack of availability if there is need [demand] for it” (1983, p. 13), and that “anything the supply of which increases, becomes cheap except intelligence, which becomes dearer when it increases” (ibid., p. 13).

Ibn Khaldun went even further by emphasizing that both an increase in demand or a fall in supply leads to a rise in prices, while a decline in demand or a rise in supply contributes to a fall in prices (pp. 393 and 396). He believed that while continuation of ‘excessively low’ prices hurts the craftsmen and traders and drives them out of the market, the continuation of ‘excessively high’ prices hurts the consumers. ‘Moderate’ prices in between the two extremes were, therefore, desirable, because they would not only allow the traders a socially-acceptable level of return but also lead to the clearance of the markets by promoting sales and thereby generating a given turnover and prosperity (ibid, p. 398). Nevertheless, low prices were desirable for necessities because they provide relief to the poor who constitute the majority of the population (ibid, p. 398). If one were to use modem terminology, one could say that Ibn Khaldun found a stable price level with a relatively low cost of living to be preferable, from the point of view of both growth and equity in comparison with bouts of inflation and deflation. The former hurts equity while the latter reduces incentive and efficiency. Low prices for necessities should not, however, be attained through the fixing of prices by the state; this destroys the incentive for production (ibid, pp. 279-83).

The factors which determined demand were, according to Ibn Khaldun, income, price level, the size of the population, government spending, the habits and customs of the people, and the general development and prosperity of the society (ibid, pp.398-404). The factors which determined supply were demand (ibid, pp. 400 and 403), order and stability (pp. 306-08), the relative rate of profit (ibid, pp. 395 and 398), the extent of human effort (p. 381), the size of the labor force as well as their knowledge and skill (pp. 363 and 399-400), peace and security (pp. 394-95 and 396), and the technical background and development of the whole society (pp. 399-403). All these constituted important elements of his theory of production. If the price falls and leads to a loss, capital is eroded, the incentive to supply declines, leading to a recession. Trade and crafts also consequently suffer (p. 398).

This is highly significant because the role of both demand and supply in the determination of value was not well understood in the West until the late nineteenth and the early twentieth centuries. Pre-classical English economists like William Petty (1623-87), Richard Cantillon (1680-1734), James Steuart (1712-80), and even Adam Smith (1723-90), the founder of the Classical School, generally stressed only the role of the cost of production, and particularly of labor, in the determination of value. The first use in English writings of the notions of both demand and supply was perhaps in 1767 (Thweatt, 1983). Nevertheless, it was not until the second decade of the nineteenth century that the role of both demand and supply in the determination of market prices began to be fully appreciated (Groenewegen, 1973). While Ibn Khaldun had been way ahead of conventional economists, he probably did not have any idea of demand and supply schedules, elasticities of demand and supply and most important of all, equilibrium price, which plays a crucial role in modern economic discussions.

Public Finance

Taxation

Long before Adam Smith (d. 1790), who is famous, among other things, for his canons of taxation (equality, certainty, convenience of payment, and economy in collection) (see Smith, 1937, pp. 777-79), the development of these canons can be traced in the writings of pre-Islamic as well as Muslim scholars, particularly the need for the tax system to be just and not oppressive. Caliphs Umar (d. 644), Ali (d. 661) and Umar ibn Abd al-Aziz (d. 720), stressed that taxes should be collected with justice and leniency and should not be beyond the ability of the people to bear. Tax collectors should not under any circumstances deprive the people of the necessities of life (Abu Yusuf, 1933/34, pp. 14, 16 and 86). Abu Yusuf, adviser to Caliph Harun al-Rashid (786-809), argued that a just tax system would lead not only to an increase in revenues but also to the development of the country (Abu Yusuf, 1933/34, p. 111; see also pp. 14, 16, 60, 85, 105-19 and 125). Al-Mawardi also argued that the tax system should do justice to both the taxpayer and the treasury – “taking more was iniquitous with respect to the rights of the people, while taking less was unfair with respect to the right of the public treasury” (1960, p. 209; see also pp. 142-56 and 215).[9]

Ibn Khaldun stressed the principles of taxation very forcefully in the Muqaddimah. He quoted from a letter written by Tahir ibn al-Husayn, Caliph al-Ma’mun’s general, advising his son, ‘Abdullah ibn Tahir, Governor of al-Raqqah (Syria): “So distribute [taxes] among all people making them general, not exempting anyone because of his nobility or wealth and not exempting even your own officials or courtiers or followers. And do not levy on anyone a tax which is beyond his capacity to pay” (p. 308).[10] In this particular passage, he stressed the principles of equity and neutrality, while in other places he also stressed the principles of convenience and productivity.

The effect of taxation on incentives and productivity was so clearly visualized by Ibn Khaldun that he seems to have grasped the concept of optimum taxation. He anticipated the gist of the Laffer Curve, nearly six hundred years before Arthur Laffer, in two full chapters of the Muqaddimah.[11] At the end of the first chapter, he concluded that “the most important factor making for business prosperity is to lighten as much as possible the burden of taxation on businessmen, in order to encourage enterprise by ensuring greater profits [after taxes]” (p. 280). This he explained by stating that “when taxes and imposts are light, the people have the incentive to be more active. Business therefore expands, bringing greater satisfaction to the people because of low taxes …, and tax revenues also rise, being the sum total of all assessments” (p. 279). He went on to say that as time passes the needs of the state increase and rates of taxation rise to increase the yield. If this rise is gradual people become accustomed to it, but ultimately there is an adverse impact on incentives. Business activity is discouraged and declines, and so does the yield of taxation (pp. 280-81). A prosperous economy at the beginning of the dynasty, thus, yields higher tax revenue from lower tax rates while a depressed economy at the end of the dynasty, yields smaller tax revenue from higher rates (p. 279). He explained the reasons for this by stating: “Know that acting unjustly with respect to people’s wealth, reduces their will to earn and acquire wealth … and if the will to earn goes, they stop working. The greater the oppression, the greater the effect on their effort to earn … and, if people abstain from earning and stop working, the markets will stagnate and the condition of people will worsen” (pp. 286-87); tax revenues will also decline (p. 362). He, therefore, advocated justice in taxation (p. 308).

Public Expenditure

For Ibn Khaldun the state was also an important factor of production. By its spending it promotes production and by its taxation it discourages production (pp. 279-81). Since the government constitutes the greatest market for goods and services, and is a major source of all development (pp. 286 and 403), a decrease in its spending leads to not only a slackening of business activity and a decline in profits but also a decline in tax revenue (p. 286). The more the government spends, the better it may be for the economy (p. 286).[12] Higher spending enables the government to do the things that are needed to support the population and to ensure law and order and political stability (pp. 306 and 308). Without order and political stability, the producers have no incentive to produce. He stated that “the only reason [for the accelerated development of cities] is that the government is near them and pours its money into them, like the water [of a river] that makes green everything around it, and irrigates the soil adjacent to it, while in the distance everything remains dry” (p. 369).

Ibn Khaldun also analyzed the effect of government expenditure on the economy and is, in this respect, a forerunner of Keynes. He stated: “A decrease in government spending leads to a decline in tax revenues. The reason for this is that the state represents the greatest market for the world and the source of civilization. If the ruler hoards tax revenues, or if these are lost, and he does not spend them as they should be, the amount available with his courtiers and supporters would decrease, as would also the amount that reaches through them to their employees and dependents [the multiplier effect]. Their total spending would, therefore, decline. Since they constitute a significant part of the population and their spending constitutes a substantial part of the market, business will slacken and the profits of businessmen will decline, leading also to a decline in tax revenues … Wealth tends to circulate between the people and the ruler, from him to them and from them to him. Therefore, if the ruler withholds it from spending, the people would become deprived of it” (p. 286).

Economic Mismanagement and Famine

Ibn Khaldun established the causal link between bad government and high grain prices by indicating that in the later stage of the dynasty, when public administration becomes corrupt and inefficient, and resorts to coercion and oppressive taxation, incentive is adversely affected and the farmers refrain from cultivating the land. Grain production and reserves fail to keep pace with the rising population. The absence of reserves causes supply shortages in the event of a famine and leads to price escalation (pp. 301-02).

Al-Maqrizi (d. 1442) who, as muhtasib (market supervisor), had intimate knowledge of the economic conditions during his times, applied Ibn Khaldun’s analysis in his book (1956) to determine the reasons for the economic crisis of Egypt during the period 1403-06. He identified that the political administration had become very weak and corrupt during the Circassian period. Public officials were appointed on the basis of bribery rather than ability.[13] To recover the bribes, officials resorted to oppressive taxation. The incentive to work and produce was adversely affected and output declined. The crisis was further intensified by debasement of the currency through the excessive issue of copper fulus, or fiat money, to cover state budgetary deficits. All these factors joined hands with the famine to lead to a high degree of inflation, misery of the poor, and impoverishment of the country.

Hence, al-Maqrizi laid bare the socio-political determinants of the prevailing ‘system crisis’ by taking into account a number of variables like corruption, bad government policies, and weak administration. All of these together played a role in worsening the impact of the famine, which could otherwise have been handled effectively without a significant adverse impact on the population. This is clearly a forerunner of Sen’s entitlement theory, which holds the economic mismanagement of illegitimate governments to be responsible for the poor people’s misery during famines and other natural disasters (Sen, 1981). What al-Maqrizi wrote of the Circassian Mamluks was also true of the later Ottoman period (See Meyer, 1989).

Stages of Development

Ibn Khaldun stated the stages of development through which every society passes, moving from the primitive Bedouin stage to the rise of village, towns and urban centers with an effective government, development of agriculture, industry and sciences, and the impact of values and environment on this development ( Muqaddimah, pp. 35, 41-44, 87-95, 120-48, 172-76). Walliyullah[14] (d. 1762) later analyzed the development of society through four different stages from primitive existence to a well-developed community with khilafah (morally-based welfare state), which tries to ensure the spiritual as well as material well-being of the people. Like Ibn Khaldun, he considered political authority to be indispensable for human well-being. To be able to serve as a source of well-being for all and not of burden and decay, it must have the characteristics of the khilafah. He applied this analysis in various writings to the conditions prevailing during his life-time. He found that the luxurious life style of the rulers, along with their exhausting military campaigns, the increasing corruption and inefficiency of the civil service, and huge stipends to a vast retinue of unproductive courtiers, led them to the imposition of oppressive taxes on farmers, traders and craftsmen, who constituted the main productive section of the population. These people had, therefore, lost interest in their occupations, output had slowed down, state financial resources had declined, and the country had become impoverished (Waliyullah, 1992, Vol. I, pp. 119-52). Thus, in step with Ibn Khaldun and other Muslim scholars, al-Maqrizi and Waliyullah combined moral, political, social and economic factors to explain the economic phenomena of their times and the rise and fall of their societies.

Muslim Intellectual Decline

Unfortunately, the rich theoretical contribution made by Muslim scholars up until Ibn Khaldun did not get fertilized and irrigated by later scholars to lead to the development of Islamic economics, except by a few isolated scholars like al-Maqrizi, al-Dawwani (d. 1501), and Waliyullah. Their contributions were, however, only in specific areas and did not lead to a further development of Ibn Khaldun’s model of socio-economic and political dynamics. Islamic economics did not, therefore, develop as a separate intellectual discipline in conformity with the Islamic paradigm along the theoretical foundations and method laid down by Ibn Khaldun and his predecessors. It continued to remain an integral part of the social and moral philosophy of Islam.

One may ask here why the rich intellectual contributions made by Muslim scholars did not continue after Ibn Khaldun. The reason may be that, as indicated earlier, Ibn Khaldun lived at a time when the political and socio-economic decline of the Muslim world was underway.[15] He was perhaps “the sole point of light in his quarter of the firmament” (Toynbee, 1935, Vol. 3, p. 321). According to Ibn Khaldun himself, sciences progress only when a society is itself progressing (p. 434). This theory is clearly upheld by Muslim history. Sciences progressed rapidly in the Muslim world for four centuries from the middle of the eighth century to the middle of the twelfth century and continued to do so at a substantially decelerated pace for at least two more centuries, tapering off gradually thereafter (Sarton 1927, Vol. 1 and Book 1 of Vol. 2). Once in a while there did appear a brilliant star on an otherwise unexciting firmament. Economics was no exception. It also continued to be in a state of limbo in the Muslim world. No worthwhile contributions were made after Ibn Khaldun.

The trigger mechanism for this decline was, according to Ibn Khaldun, the failure of political authority to provide good governance. Political illegitimacy, which started after the end of khilafah in 661 gradually led to increased corruption and the use of state resources for private benefit at the neglect of education and other nation-building functions of the state. This gradually triggered the decline of all other sectors of the society and economy.[16]

The rapidly rising Western civilization took over the torch of knowledge from the declining Muslim world and has kept it burning with even greater brightness. All sciences, including the social sciences, have made phenomenal progress. Conventional economics became a separate academic discipline after the publication of Alfred Marshall’s great treatise, Principles of Economics, in 1890 (Schumpeter, 1954, p.21),[17] and has continued to develop since then at a remarkable speed. With such a great achievement to its credit, there is no psychological need to allow the ‘Great Gap’ thesis to persist. It would help promote better understanding of Muslim civilization in the West if textbooks started giving credit to Muslim scholars. They were “the torchbearers of ancient learning during the medieval period” and “it was from them that the Renaissance was sparked and the Enlightenment kindled” (Todd Lowry in his ‘Foreword’ in Ghazanfar, 2003, p. xi). Watt has been frank enough to admit that, “the influence of Islam on Western Christendom is greater than is usually realized” and that, “an important task for Western Europeans, as we move into the era of the one world, is … to acknowledge fully our debt to the Arab and Islamic world” (Watt, 1972, p. 84).

Conventional economics, however, took a wrong turn after the Enlightenment Movement by stripping itself of the moral basis of society emphasized by Aristotelian and Judeo-Christian philosophies. This deprived it of the role that moral values and good governance can play in helping society raise both efficiency and equity in the allocation and distribution of scarce resources needed for promoting the well-being of all. However, this has been changing. The role of good governance has already been recognized and that of moral values is gradually penetrating the economics orthodoxy. Islamic economics is also reviving now after the independence of Muslim countries from foreign domination. It is likely that the two disciplines will converge and become one after a period of time. This will be in keeping with the teachings of the Qur’an, which clearly states that mankind was created as one but became divided as a result of their differences and transgression against each other (10:19, 2:213 and 3: 19). This reunification [globalization, as it is new called], if reinforced by justice and mutual care, should help promote peaceful coexistence and enable mankind to realize the well-being of all, a goal the realization of which we are all anxiously looking forward to.

References

Abu Yusuf, Ya ‘qub ibn Ibrahim. Kitab al-Kharaj. Cairo: al-Matab‘ah al-Salafiyyah, second edition, 1933/34. (This book has been translated into English by A. Ben Shemesh. Taxation in Islam. Leiden: E. J. Brill, 1969.)

Allouche, Adel. Mamluk Economics: A Study and Translation of Al-Maqrizi’s Ighathah. Salt Lake City: University of Utah Press, 1994.

Baeck Louis. The Mediterranean Tradition in Economic Thought. London: Routledge, 1994.

Blanchflower, David, and Andrew Oswald. “Well-being over Time in Britain and USA.” NBER, Working Paper No. 7487, 2000.

Blaug Mark. Economic Theory in Retrospect. Cambridge: Cambridge University Press, 1985.

Boulakia, Jean David C. “Ibn Khaldun: A Fourteenth-Century Economist.” Journal of Political Economy 79, no. 5 (1971): 1105-18.

Chapra, M. Umer. The Future of Economics: An Islamic Perspective. Leicester, UK: The Islamic Foundation, 2000.

Cline, William R. Potential Effects of Income Redistribution on Economic Growth. New York: Praeger, 1973.

DeSmogyi, Joseph N. “Economic Theory in Classical Arabic Literature.” Studies in Islam (Delhi), (1965): 1-6.

Diener E., and Shigehiro Oshi. “Money and Happiness: Income and Subjective Well-being.” In Culture and Subjective Well-being, edited by E. Diener and E. Suh. Cambridge, MA: MIT Press, 2000.

Dimashqi, Abu al-Fadl Ja‘far ibn ‘Ali al-. Al-Isharah ila Mahasin al-Tijarah, Al-Bushra al-Shurbaji, editor. Cairo: Maktabah al-Kulliyat al-Azhar, 1977.

Duri, A.A. “Baghdad.” The Encyclopedia of Islam, 894-99. Leiden: Brill, 1986.

Easterlin, Richard. “Does Economic Growth Improve the Human Lot? Some Empirical Evidence.” In Nations and Households in Economic Growth: Essays in Honor of Moses Abramowitz, edited by Paul David and Melvin Reder. New York: Academic Press, 1974.

Easterlin, Richard. “Will Raising the Income of All Increase the Happiness of All?” Journal of Economic Behavior and Organization 27, no. 1 (1995): 35-48.

Easterlin, Richard (2001), “Income and Happiness: Towards a Unified Theory” in Economic Journal, 111: 473 (2001).

Essid, M. Yassine. A Critique of the Origins of Islamic Economic Thought. Leiden: Brill, 1995.

Feyerabend, Paul. Against Method: Outline of an Anarchistic Theory of Knowledge. London: Verso, third edition, 1993.

Fischel, W.J. “Djahbadh.” In Encyclopedia of Islam, volume 2, 382-83. Leiden: Brill, 1992.

Friedman, Milton. Essays in Positive Economics. Chicago: University of Chicago Press, 1953.

George, Henry. Progress and Poverty. New York: Robert Schalkenback Foundation, 1955.

Ghazanfar, S.M. Medieval Islamic Economic Thought: Filling the Great Gap in European Economics. London: Routledge Curzon, 2003.

Groenewegen, P.D. “A Note on the Origin of the Phrase, ‘Supply and Demand.’” Economic Journal 83, no. 330 (1973): 505-09.

Hausman, Daniel, and Michael McPherson. “Taking Ethics Seriously: Economics and Contemporary Moral Philosophy.” Journal of Economic Literature 31, no. 2 (1993): 671-731.

Ibn Khaldun. Muqaddimah. Cairo: Al-Maktabah al-Tijariyyah al-Kubra. See also its translation under Rosenthal (1967) and selections from it under Issawi (1950).

Ibn Taymiyyah. Majmu‘ Fatawa Shaykh al-Islam Ahmad Ibn Taymiyyah. ‘Abd al-Rahman al-‘Asimi, editor. Riyadh: Matabi‘ al-Riyad, 1961-63.

Islahi, A. Azim. History of Economic Thought in Islam. Aligharh, India: Department of Economics, Aligharh Muslim University, 1996.

Issawi, Charles. An Arab Philosophy of History: Selections from the Prolegomena of Ibn Khaldun of Tunis (1332-1406). London: John Muray, 1950.

Jahiz, Amr ibn Bahr al-. Kitab al-Tabassur bi al-Tijarah. Beirut: Dar al-Kitab al-Jadid, 1983.

Jay, Elizabeth, and Richard Jay. Critics of Capitalism: Victorian Reactions to Political Economy. Cambridge: Cambridge University Press, 1986.

Kenny, Charles. “Does Growth Cause Happiness, or Does Happiness Cause Growth?” Kyklos 52, no. 1 (1999): 3-26.

Koopmans, T.C. (1969), “Inter-temporal Distribution and ‘Optimal’ Aggregate Economic Growth”, in Fellner et. al., Ten Economic Studies in the Tradition of Irving Fisher (John Willey and Sons).

Mahdi, Mohsin. Ibn Khaldun’s Philosophy of History. Chicago: University of Chicago Press, 1964.

Maqrizi, Taqi al-Din Ahmad ibn Ali al-. Ighathah al-Ummah bi Kashf al-Ghummah. Hims, Syria: Dar ibn al-Wahid, 1956. (See its English translation by Allouche, 1994).

Mawardi, Abu al-Hasan ‘Ali al-. Adab al-Dunya wa al-Din. Mustafa al Saqqa, editor. Cairo: Mustafa al-Babi al Halabi, 1955.

Mawardi, Abdu al-Hasan. Al-Ahkam al-Sultaniyyah wa al-Wilayat al-Diniyyah. Cairo: Mustafa al-Babi al-Halabi, 1960. (The English translation of this book by Wafa Wahba has been published under the title, The Ordinances of Government. Reading: Garnet, 1996.)

Mirakhor, Abbas. “The Muslim Scholars and the History of Economics: A Need for Consideration.” American Journal of Islamic Social Sciences (1987): 245-76.

Misri Rafiq Yunus al-. Al-Islam wa al-Nuqud. Jeddah: King Abdulaziz University, 1981.

Meyer, M.S. “Economic Thought in the Ottoman Empire in the 14th – Early 19th Centuries.” Archiv Orientali 4, no. 57 (1989): 305-18.

Myers, Milton L. The Soul of Modern Economic Man: Ideas of Self-Interest, Thomas Hobbes to Adam Smith. Chicago: University of Chicago Press, 1983.

North, Douglass C. Structure and Change in Economic History. New York: W.W. Norton, 1981.

North, Douglass C. “Economic Performance through Time.” American Economic Review 84, no. 2 (1994): 359-68.

Oswald, A.J. “Happiness and Economic Performance,” Economic Journal 107, no. 445 (1997): 1815-31.

Pifer, Josef. “Scholasticism.” Encyclopedia Britannica 16 (1978): 352-57.

Robbins, Lionel. An Essay on the Nature and Significance of Economic Science. London: Macmillan, second edition, 1935.

Rosenthal, Franz. Ibn Khaldun: The Muqaddimah, An Introduction to History. Princeton, NJ: Princeton University Press, 1967.

Sarakhsi, Shams al-Din al-. Kitab al-Mabsut. Beirut: Dar al-Ma‘rifah, third edition, 1978 (particularly “Kitab al-Kasb” of al-Shaybani in Vol. 30: 245-97).

Sarton, George. Introduction to the History of Science. Washington, DC: Carnegie Institute (three volumes issued between 1927 and 1948, each of the second and third volumes has two parts).

Schumpeter, Joseph A. History of Economic Analysis. New York: Oxford University Press, 1954.

Sen, Amartya. Poverty and Famines: An Essay on Entitlement and Deprivation. Oxford: Clarendon Press, 1981.

Sen, Amartya. On Ethics and Economics. Oxford: Basil Blackwell, 1987.

Siddiqi, M. Nejatullah. “History of Islamic Economic Thought.” In Lectures on Islamic Economics, Ausaf Ahmad and K.R. Awan, 69-90. Jeddah: IDB/IRTI, 1992.

Smith, Adam. An Inquiry into the Nature and Causes of the Wealth of Nations. New York: Modern Library, 1937.

Solo, Robert A. “Values and Judgments in the Discourse of the Sciences.” In Value Judgment and Income Distribution, edited by Robert A. Solo and Charles A. Anderson, 9-40. New York, Praeger, 1981.

Spengler, Joseph. “Economic Thought in Islam: Ibn Khaldun.” Comparative Studies in Society and History (1964): 268-306.

Thweatt, W.O. “Origins of the Terminology, Supply and Demand.” Scottish Journal of Political Economy (1983): 287-94.

Toynbee, Arnold J. A Study of History. London: Oxford University Press, second edition, 1935.

Udovitch, Abraham L. Partnership and Profit in Medieval Islam. Princeton; NJ: Princeton University Press, 1970.

Waliyullah, Shah. Hujjatullah al-Balighah. M.Sharif Sukkar, editor. Beirut: Dar Ihya al- Ulum, second edition, two volumes, 1992. (An English translation of this book by Marcia K. Hermansen was published bu Brill, Leiden, 1966.)

Watt, W. Montgomery. The Influence of Islam on Medieval Europe. Edinburgh: Edinburgh University Press, 1972.

[1] This is the liberal version of the secular and materialist worldviews. There is also the totalitarian version which does not have faith in the individuals’ ability to manage private property in a way that would ensure social well-being. Hence its prescription is to curb individual freedom and to transfer all means of production and decision making to a totalitarian state. Since this form of the secular and materialist worldview failed to realize human well-being and has been overthrown practically everywhere, it is not discussed in this paper.

[2] The literature on economic development is full of assertions that improvement in income distribution is in direct conflict with economic growth. For a summary of these views, see Cline, 1973, Chapter 2. This has, however, changed and there is hardly any development economist now who argues that injustice can help promote development.

[3] North has used the term ‘nasty’ for all such behavior. See the chapter “Ideology and Free Rider,” in North, 1981.

[4] Some of these scholars include Abu Yusuf (d. 798), al-Mawardi (d. 1058), Abu Ya’la (d. 1065), Nazam al-Mulk (d.1092), al-Ghazali (d. 1111), Ibn Taymiyyah (d. 1328), Ibn Khaldun (d. 1406), Shah Walliyullah (d. 1762), Jamaluddin al-Afghani (d. 1897), Muhammad ‘Abduh (d. 1905), Muhammad Iqbal (d. 1938), Hasan al-Banna (d. 1949), Sayyid Mawdudi (d. 1979), and Baqir al-Sadr (d. 1980).

[5] Some of these authors include al-Katib (d. 749), Ibn al-Muqaffa (d. 756) al-Nu‘man (d. 974), al-Mawardi (d. 1058), Kai Ka’us (d. 1082), Nizam al-Mulk (d. 1092), al-Ghazali (d. 1111), al-Turtushi (d. 1127). (For details, see Essid, 1995, pp.19-41.)

[6] For the fallacy of the Great Gap thesis, see Mirakhor (1987) and Ghazanfar (2003), particularly the “Foreword” by Todd Lowry and the “Introduction” by Ghazanfar.

[7] The full name of the book (given in the bibliography) may be freely translated as “The Book of Lessons and the Record of Cause and Effect in the History of Arabs, Persians and Berbers and their Powerful Contemporaries.” Several different editions of the Muqaddimah are now available in Arabic. The one I have used is that published in Cairo by al-Maktabah al-Tijarriyah al-Kubra without any indication of the year of publication. It has the advantage of showing all vowel marks, which makes the reading relatively easier. The Muqaddimah was translated into English in three volumes by Franz Rosenthal. Its first edition was published in 1958 and the second edition in 1967. Selections from the Muqaddimah by Charles Issawi were published in 1950 under the title, An Arab Philosophy of History: Selections from the Prolegomena of Ibn Khaldun of Tunis (1332-1406).

A considerable volume of literature is now available on Ibn Khaldun. This includes Spengler, 1964; Boulakia, 1971; Mirakhor, 1987; and Chapra, 2000.

[8] For some of these contributions, see Spengler, 1964; DeSmogyi, 1965; Mirakhor, 1987; Siddiqi, 1992; Essid, 1995; Islahi, 1996; Chapra, 2000; and Ghazanfar, 2003.

[9] For a more detailed discussion of taxation by various Muslim scholars, see the section on “Literature on Mirrors for Princes” in Essid, 1995, pp. 19-41.

[10] This letter is a significant development over the letter of Abu Yusuf to Caliph Harun al-Rashid (1933/34, pp. 3-17). It is more comprehensive and covers a larger number of topics.

[11] These are “On tax revenues and the reason for their being low and high” (pp. 279-80) and “Injustice ruins development” (pp. 286-410).

[12] Bear in mind the fact that this was stated at the time when commodity money, which it is not possible for the government to ‘create,’ was used, and fiduciary money, had not become the rule of the day.

[13] This was during the Slave (Mamluk) Dynasty in Egypt, which is divided into two periods. The first period was that of the Bahri (or Turkish) Mamluks (1250-1382), who have generally received praise in the chronicles of their contemporaries. The second period was that of the Burji Mamluks (Circassians, 1382-1517). This period was beset by a series of severe economic crises. (For details see Allouche, 1994.)

[14] Shah Walliyullah al-Dihlawi, popularly known as Walliyullah, was born in 1703, four years before the death of the Mughal Emperor, Aurangzeb (1658-1707). Aurangzeb’s rule, spanning a period of forty-nine years, was followed by a great deal of political instability – ten different changes in rulers during Walliyullah’s life-span of 59 years – leading ultimately to the weakening and decline of the Mughal Empire.

[15] For a brief account of the general decline and disintegration of the Muslim world during the fourteenth century, see Muhsin Mahdi, 1964, pp. 17-26.

[16] For a discussion of the causes of Muslim decline, see Chapra, 2000, pp. 173-252.

[17] According to Blaug (1985), economics became an academic discipline in the 1880s (p. 3).

………………………………………………

Reference Link of this article: https://www.elgaronline.com/view/9781783475711.xml

1 Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Post comment