مفتاح اسماعیل: سوال بجا مگر فیصلہ عجلت پر مبنی — اسلامی بینکاری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
FOR ENGLISH VERSION OF THIS ARTICLE – Click Here
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
JUNE 07, 2026
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر محمد ابوبکر صدیق
اسکول آف اسلامک بینکنگ اینڈ فنانس
انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سابق وفاقی وزیرمحترم جناب مفتاح اسماعیل صاحب کا حالیہ مضمون’’کیا اسلامی بینکاری اسلامی ہے؟‘‘ جو ۶ جون ۲۰۲۶ء کو روزنامہ ڈان میں شائع ہوا، میں ایک اہم اور بروقت سوال اٹھایا گیا ہے۔ پاکستان میں جدید اسلامی بینکاری اپنی پچیس سالہ عمر کے قریب پہنچ رہی ہے، اس لیے اس کا علمی، عملی اور تنقیدی جائزہ نہ صرف مناسب بلکہ ضروری بھی ہے۔ اسلامی بینکاری تنقید سے بالاتر نہیں۔اس کی مصنوعات، عملی طریقۂ کار، شریعہ گورننس اور سماجی اثرات کا مسلسل جائزہ لیا جانا چاہیے۔ تاہم اُن کے مذکورہ مضمون میں اگرچہ بعض ’’اہم خدشات‘‘ کی نشان دہی کی گئی ہے، لیکن اس کا عمومی نتیجہ کہ’’ اسلامی بینکاری محض روایتی بینکاری ہی ہے جس پر عربی اصطلاحات کا پردہ ڈال دیا گیا ہے‘‘، پیش کردہ دلائل کے مقابلے میں بہت وسیع اور عجلت پر مبنی محسوس ہوتا ہے۔
اس نوع کے اعتراضات کی ایک بنیادی وجہ اسلامی مالیاتی عقود کی مختلف اقسام کے درمیان فرق کو نظر انداز کرنااور انہیں سرمایہ دارانہ اکنامکس و فنانس کی روح’’ سودی قرض‘‘ کی مانند سمجھنا ہے۔ اسلامی فقہ میں قرض، بیع، اجارہ اور شرکت کو ایک ہی حکم کے تحت نہیں رکھا جاتا۔ ہر عقد کی اپنی مستقل قانونی حقیقت، شرعی شرائط، حقوق، ذمہ داریاں اور آثار ہوتے ہیں۔ قرض پر قرض خواہ کے لیے پہلے سے مشروط اضافہ ربا ہے، مگر بیع (یعنی خرید و فروخت) میں مؤجل(ادھار) قیمت مقرر کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح بیع اور شرکت کے عقود بھی ایک جیسے نہیں ہوتے۔ بیع میں ملکیت اور ضمان کی صحیح منتقلی کے بعد فروخت کنندہ متعین قیمت کا حق دار ہوتا ہے، جبکہ شرکت میں نفع باہمی معاہدے کے مطابق تقسیم ہوتا ہے اور اس میں ہر فریق کا شرح سرمایہ ہی اس کے لیے شرح منافع کا بینچ مارک ہوتا ہےاور نقصان سرمایہ کے تناسب سے برداشت کیا جاتا ہے۔
اسلامی بینکاری پر بہت سے اعتراضات اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب قرض، بیع، اجارہ اور شرکت جیسے مختلف عقود کو ایک ہی عینک سے دیکھا جاتا ہے۔ یہی فکری خلط مبحث بالآخر اس غلط نتیجے تک پہنچاتا ہے کہ ہر مقررہ منافع سود ہے۔جس طرح کہ کفار نے کہا تھا: (انہوں نے کہا کہ بیع بھی سود کی مانند ہے)[البقرہ۲ :۲۷۵] ۔ لیکن اللہ جل مجدہ نے حقیقی پس منظر کی جانب متوجہ کرتے ہوئے فرمایا :’’ :وَأَحَلَّ اللّٰهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا[البقرہ۲ :۲۷۵] (اللہ نے بیع کو حلال اور ربا کو حرام کیا )۔
اسلامی بینکاری کا اصل سوال یہ نہیں کہ قیمت کے تعین میں کون سا بینچ مارک استعمال کیا گیا ہے ؟ اصل سوال یہ ہے کہ بنیادی عقد کیا ہے؟ کیا وہ قرض ہے جس پر اضافہ مشروط کیا گیا ہے یا وہ ایک حقیقی شرعی عقد ہے مثلاً بیع، اجارہ، شرکت، وکالت یا مضاربہ، جس کے اپنے اصول، ملکیت، ضمان، خطرہ اور منافع کے استحقاق کی بنیاد موجود ہے۔ بیع (یعنی خرید و فروخت )میں مقررہ قیمت ربا(سود) نہیں۔ اجارہ میں مقررہ کرایہ ربا نہیں۔ مرابحہ میں محض مؤجل(ادھار) قیمت کا نقد قیمت سے زیادہ ہونا ربا (سود) کا سبب نہیں بنتا۔ رِباتو اس وقت پیدا ہوتا ہے جب قرض یا دَین پر ممنوع طریقے سے مشروط اضافہ لیا جائے، نہ کہ ہر اس صورت میں جہاں کسی جائز تجارتی عقد میں منافع موجود ہو۔ قرآن کریم نے خود بیع اور ربا کے درمیان فرق قائم کیا ہے۔ اگر ہر پہلے سے متعین منافع کو سود قرار دے دیا جائے تو یہ قرآنی فرق بے معنی ہو کر رہ جائے گا۔
کائبور کو بطور بینچ مارک استعمال کرنے کا سوال قابلِ بحث ضرور ہے، مگر شرعی ماہرین کے نزدیک یہ بذاتِ خود کوئی فیصلہ کن اعتراض نہیں۔ کائبور اپنی ذات میں صرف ایک عددیعنی ہندسہ ہے جو نہ بذاتِ خود حلال ہے نہ حرام۔ شرعی حکم کا دار و مدار اس بات پر ہے کہ اسے کس عقد میں ، کس مقصد کے لیے اور کس انداز میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ اگر اسے قرض پر مشروط اضافے کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ یقینی ربا کا ذریعہ بنتا ہے۔اگر اسے ایک حقیقی بیع یا اجارہ میں قیمت یا کرایہ کے تعین کے لیے محض معیار کے طور پر لے لیا جائے تو اس سے حاصل ہونے والا منافع یا کرایہ اپنی جگہ یقینی طور پر جائز وحلال رہتا ہے، بشرطیکہ متعلقہ عقد کی تمام شرعی شرائط پوری ہوں۔
موجودہ سودی نظام کی حد تک عامی مسلم کے اطمینان کے لیے یہ ضرور کہا جاتا ہے کہ پاکستان کو ایسے مستقل اسلامی بینچ مارکس کی طرف بڑھنا چاہیے جو حقیقی شعبے کی سرگرمی، صکوک کی پیداوار، کرایہ جاتی اشاریوں، اثاثہ جاتی منافع اور شرعی مالیاتی اشاریوں کی بہتر نمائندگی کرتے ہوں۔کیونکہ سودی نظام میں کائبور جیسے ایک ہی بینچ مارک کا استعمال نسبتاً آسان دکھائی دیتا ہے، کیونکہ پورا نظام بنیادی طور پر ایک ہی عقد، یعنی قرض، کے گرد گھومتا ہے۔
اس کے برعکس اسلامی مالیات کسی ایک عقد پر قائم نہیں، بلکہ اس میں بیع، اجارہ، شرکت، وکالہ، مضاربہ، سلم، استصناع اور دیگر متعدد عقود شامل ہیں۔ ان میں سے ہر عقد کی اپنی مستقل قانونی حیثیت، خطرات کی نوعیت، قیمت کے تعین کا اصول، اور نفع کے استحقاق کی بنیاد الگ ہے۔ ایسے متنوع عقدی ڈھانچے میں تمام اسلامی مالیاتی مصنوعات کے لیے ایک ہی یکساں “اسلامی شرحِ نفع” مقرر کرنے کا تصور خود سنجیدہ غور و فکر کا تقاضا کرتا ہے۔
کیا ایک ہی شرح ان تمام مختلف عقود کے ساتھ واقعی انصاف کر سکتی ہے؟ یہ طریقہ نہ موجودہ سودی سرمایہ دارانہ نظام میں حقیقی اقتصادی انصاف فراہم کر سکتا ہے اور نہ خالص اسلامی معاشی نظام میں قابلِ عمل ہو سکتا ہے۔
مختلف اسلامی عقود کو ایک ہی شرح کے پیمانے پر پرکھنا ایسا ہی ہے جیسے ہاتھی سے یہ توقع کی جائے کہ وہ درخت پر چڑھنے کے مقابلے میں شریک ہو اور جیت بھی جائے۔ اصل مسئلہ ہاتھی کی صلاحیت کا نہیں، بلکہ اس معیار کا ہے جو اس کی فطرت ہی سے مناسبت نہیں رکھتا۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ سودی نظام میں رہتے ہوئے اسلامی مالیاتی نظام ہونے کے باوجود اقتصادی انصاف کے فقدان کا سوال پیدا ہوتا ہے۔اس مو ضوع پر مزید تفصیل کے لیے میرا یہ بلاگ ملاحظہ کریں۔ کلک کریں
چلیں فرض کریں کہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اسلامی بینک اپنا اسلامی بینچ مارک بنائیں ۔ تو عرض ہے کہ ایسا بینچ مارک تیار کرنا اسلامی بینکوں کے بس کی بات نہیں۔ یہ بنیادی طور پر ریگولیٹر، بالخصوص اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ شریعہ اسکالرز، اسلامی بینکوں، مارکیٹ ماہرین اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورت کے ذریعے ایک معتبر، قابلِ عمل اور تدریجی اسلامی بینچ مارک وضع کرے(جو کہ نہیں ہوسکتا اور اگر ہوا بھی تو عین انصاف نہیں ہوگا)۔ جب تک ایسا جامع متبادل معیار باقاعدہ طور پر موجود نہیں ہوتا،موجودہ سرمایہ دارانہ سودی نظام کی چھایا چھتری تلے کائبور کو محض قیمت کے تعین کے لیے حوالہ بنانا اسلامی بینکاری کے معاملات کو ازخود ربوی نہیں بنا دیتا۔ شرعی حکم پھر بھی اس عقد کی نوعیت سے متعلق رہے گا جس میں یہ معیار استعمال کیا گیا ہے۔
بیع پر مبنی عقودمثلاً مرابحہ میں کائبور کو صرف قیمت کے تعین کے ایک حوالہ جاتی معیار کے طور پر استعمال کرنے میں شرعاً کوئی بنیادی خرابی نہیں، بشرطیکہ بیع حقیقی ہو، اثاثہ فروخت سے پہلے بینک کی ملکیت میں آئے، اس پر ضمان اور خطرہ بینک پر منتقل ہو، قیمت متعین ہو، اور متعلقہ شرعی شرائط پوری کی جائیں۔ ایسی صورت میں کائبور محض قیمت کا تخمینہ لگانے کا ایک ذریعہ ہے، بینک کے منافع کا شرعی سبب کائبور نہیں بلکہ بیع کا عقد ہے۔ ایک تاجر قیمت مقرر کرتے وقت لاگت، افراطِ زر، مارکیٹ کے حالات، کاروباری خطرات اور رائج تجارتی شرحوں کو سامنے رکھ سکتا ہے۔ اسی طرح ایک موجر کرایہ طے کرتے وقت بازاری اشاریوں کو دیکھ سکتا ہے۔ معاملے کا جواز عقد کی صحت پر موقوف ہے، نہ کہ اس پر کہ قیمت مقرر کرتے وقت کسی بینچ مارک سے مدد لی گئی یا نہیں۔
تاہم یہی استدلال شرکت پر مبنی عقود پر خود بخود لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ مشارکہ کے اصول بیع کے اصولوں سے مختلف ہیں۔ مشارکہ میں نفع باہمی اتفاق سے طے شدہ نسبت کے مطابق تقسیم ہو سکتا ہے، لیکن نقصان لازماً سرمایہ کے تناسب سے برداشت کیا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ جہاں اسلامی بینک عملی طور پر ’’غیر عامل شریک‘‘ کی حیثیت رکھتا ہو اور کاروبار کے نظم و انتظام میں فعال کردار ادا نہ کرتا ہو، وہاں اس کا منافع عموماً اس کے سرمایہ جاتی حصے سے ہم آہنگ رہنا شرعاً لازم ہے۔ اس لیے رننگ مشارکہ میں بینک کے ٹارگٹڈ نفع کے تعین کے لیے کائبور کو بنیادی معیار بنانے کی حقیقی ضرورت محلِ نظر ہے۔ ایسے عقد میں زیادہ مناسب شرعی معیار سرمایہ کا حصہ، حقیقی کاروباری کارکردگی اور عملی شراکتی انتظام ہے، نہ کہ کائبور۔
یہی وجہ ہے کہ رننگ مشارکہ سنجیدہ قسم کی نظرِ ثانی کا تقاضا کرتا ہے۔ میں نے ماضی میں بھی لکھا ہے کہ رننگ مشارکہ کے عملی ڈھانچے میں شرعی اور آپریشنل نوعیت کے مسائل پائے جاتے ہیں۔ اگر کسی پروڈکٹ کا نام مشارکہ ہو، لیکن اس کے نفع کے حساب، نقصان کے تحمل، نگرانی کے نظام، خطرے میں شرکت اور کاروبار سے حقیقی تعلق میں مشارکہ کے تقاضے پوری طرح منعکس نہ ہوں، تو ایسی پروڈکٹ پر نظرِ ثانی اور اصلاح ضروری ہے۔ اسلامی بینکاری کو ہر اس پروڈکٹ کا دفاع نہیں کرنا چاہیے جس پر اسلامی نام چسپاں ہو۔ لیکن دوسری طرف یہ بھی درست نہیں کہ کسی ایک قابلِ اصلاح یا محلِ نظر پروڈکٹ کو بنیاد بنا کر پوری اسلامی بینکاری کو رد کر دیا جائے۔ اسلامی بینکاری صرف رننگ مشارکہ کا نام نہیں، بلکہ اس میں مرابحہ، اجارہ،مشارکہ متناقصہ ، سلم، استصناع، مضاربہ پر مبنی ڈپازٹس، وکالہ اسٹرکچرز، صکوک، تکافل، اسلامی لیکویڈیٹی مینجمنٹ اور دیگر متعدد طریقے شامل ہیں۔ ہر پروڈکٹ کو اس کے اپنے عقدی ڈھانچے، دستاویزات، عملی نفاذ، شرعی تقاضوں اور ریگولیٹری نظم کے تحت الگ الگ جانچنا چاہیے۔
محترم جانب مفتاح اسماعیل صاحب کے کالم میں استصناع کی جو مثال دی گئی ہے وہ بھی وضاحت کی محتاج ہے۔ اسلامی فقہ میں استصناع کسی چیز کو مقررہ اوصاف کے مطابق تیار کروانے، بنوانے یا تعمیر کروانے کا عقد ہے۔ اگر معاملہ صرف کپاس کی خرید و فروخت کا ہو تو وہاں استصناع کا عقد ہو ہی نہیں سکتا اور نہ ہی کوئی اسلامی بینک ایسا کرتا ہے۔ہاں اگر ’’کپاس کی گانٹھیں ‘‘ بنوانا ہے تو اس میں یہ عقد ہوسکتا ہے۔مفتاح صاحب کا یہ کہنا کہ ’’کہ استصناع کے عقد کے بعد اگر کپاس کی قیمت میں تبدیلی آجائے تو قیمت نہیں بدلنی چاہیے‘‘ ۔ یہ بات بالکل درست ہے کیونکہ خرید وفروخت میں شریعت کا اصول ہی یہی ہے کہ عقد مکمل ہوجانے کے بعد یک طرفہ طور پر کوئی بھی چیز کی قیمت نہیں بدل سکتا۔اُن کی تحریر سے لگتا ہے کہ شاید انہوں نے کسی ایسی ٹرانزیکشن کو دیکھا ہے جس میں قیمت بدلتی ہے۔تاہم اس کا کوئی واضح ثبوت نہیں دیا۔
یہ الزام کہ اسلامی بینک حقیقتاً اثاثے خریدتے یا فروخت نہیں کرتے بلکہ محض کاغذی کارروائی کرتے ہیں، ایک سنجیدہ الزام ہے۔ اگر کسی خاص معاملے میں بینک نہ ملکیت حاصل کرتا ہے، نہ ضمان قبول کرتا ہے، نہ اثاثے کا خطرہ اٹھاتا ہے، اور محض دستاویزات کے ذریعے قرض کو بیع کا نام دیتا ہے، تو ایسا معاملہ شرعی اعتبار سے قابلِ قبول نہیں ہو گا۔ لیکن ایسی صورت اسلامی بینکاری کے تصور کی ناکامی نہیں بلکہ نفاذ، نگرانی یا شریعہ گورننس کی کمزوری ہو گی۔ اس کا درست علاج یہ ہے کہ شریعہ گورننس کو مضبوط بنایا جائے، اثاثے کی حقیقی ملکیت یقینی بنائی جائے، خطرے کی بامعنی منتقلی ہو، شریعہ آڈٹ مؤثر ہو، دستاویزات بہتر ہوں، اور ریگولیٹری نفاذ زیادہ سخت اور شفاف ہو۔
مفتاح صاحب کے کالم میں یہ تاثر بھی دیا گیا ہے کہ اسلامی بینکوں کو صارفین کے نقصان سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ بات بھی تفصیل چاہتی ہے۔ مرابحہ جیسے بیع پر مبنی عقد میں جب حقیقی فروخت مکمل ہو جائے تو فروخت کنندہ (اسلامی بینک )متعین ادھار قیمت کا حق دار ہوتا ہے، چاہے خریدار کا کاروبار بعد میں نقصان کا شکار ہو جائے۔ یہ ربا نہیں بلکہ بیع کا قانونی اثر ہے۔ اگر کوئی تاجر سامان ادھار فروخت کرے تو خریدار کے بعد کے کاروباری نقصان سے فروخت شدہ چیز کی قیمت ازخود کم نہیں ہو جاتی۔ اس کے برعکس مشارکہ میں نفع معاہدے کے مطابق تقسیم ہو تا ہے اور نقصان سرمایہ کے تناسب سے برداشت کیا جاتا ہے۔ لہٰذا بیع پر مبنی عقود اور شرکت پر مبنی عقود کو ایک ہی اصول سے نہیں پرکھا جا سکتا۔ ہر اسلامی بینکاری پروڈکٹ سے یہ توقع رکھنا کہ وہ مشارکہ ہی کی طرح کام کرے، خود ایک بنیادی فقہی مغالطہ ہے۔
اس کے باوجود یہ کہنا بھی درست نہیں کہ اسلامی بینکاری کےجملہ امور قبل اطمئنان ہیں ۔ ہرگز نہیں۔ اس صنعت کو حقیقی تجارت، اثاثہ جاتی ملکیت، کاروباری خطرہ، عدل، شفافیت، سماجی اثرات اور حقیقی شعبے سے مضبوط تعلق کی طرف مزید آگے بڑھنا ہو گا۔ زیادہ حقیقی مشارکہ اور مضاربہ پر مبنی مصنوعات تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کی مالی معاونت، زرعی فنانسنگ، وینچر فنانسنگ، اسلامی مائیکرو فنانس، وقف سے مربوط فنانسنگ، اور سماجی مالیات پر زیادہ توجہ دی جانی چاہیے۔ اسلامی بینکوں کو منافع کی تقسیم میں شفافیت، ڈپازٹرز کے اعتماد، صارفین کے اطمینان اور اس تاثر کے خاتمے کے لیے بھی کام کرنا چاہیے کہ اسلامی بینکاری اختیار کرنے کا مطلب غیر ضروری مالی نقصان قبول کرنا ہے۔
مضمون میں ربا اور شراب کی مثال بلاشبہ مؤثر ہے، مگر اس سے اخذ کیا گیا نتیجہ مزید دقتِ نظر کا محتاج ہے۔ یہ بات درست ہے کہ ربا (سود)کا نام بدل دینے سے وہ حلال نہیں ہو جاتا۔ اس اصول سے کوئی عالم تو کُجا کوئی عام مسلمان بھی اختلاف نہیں کر سکتا۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ زیرِ بحث معاملہ واقعی ربا ہے یا ایک صحیح بیع، اجارہ یا شرکت ہے؟ اگر وہ محض قرض ہے جس پر اضافے کو کسی اور نام سے مشروط کیا گیا ہے تو اسے لازماً رد کیا جانا چاہیے۔ لیکن اگر وہ ایک حقیقی شرعی عقد ہے جس میں ملکیت، ضمان، خطرہ اور ذمہ داری کے تقاضے پورے کیے گئے ہیں، تو اسے محض اس بنا پر رد نہیں کیا جا سکتا کہ اس کا مالی نتیجہ بعض پہلوؤں سے روایتی فنانسنگ سے مشابہ ہے۔
ساری بحث کے بعد متوازن نتیجہ یہ ہے کہ اسلامی بینکاری کو بعض انتظامی، عملی یا مخصوص معاملاتی کمزوریوں کی بنیاد پر رد نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہ ایک ایسا ارتقائی ادارہ جاتی عمل ہے جو سودی نظام سے شریعت سے ہم آہنگ مالیاتی نظام کی طرف منتقلی کی کوشش کر رہا ہے، وہ بھی ایک ایسے معاشی ماحول میں جو ابھی تک غالب طور پر روایتی سودی اور سخت ریگولیٹری ڈھانچے کے تحت قائم ہے۔ اس کی خامیوں کی دیانت دارانہ نشان دہی ضروری ہے، لیکن اس کی حقیقی عقدی بنیادوں، ادارہ جاتی کامیابیوں اور اصلاحی امکانات کو بھی تسلیم کیا جانا چاہیے۔ آگے بڑھنے کا راستہ انکار نہیں بلکہ اصلاح ہے۔ ایک جامع اسلامی بینکاری ایکٹ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔اس کے لیے باقاعدہ قانون سازی درکار ہے۔
اسی کے ساتھ یہ اعتراف بھی ضروری ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پاکستان میں اسلامی بینکاری کے فروغ، تنظیم، نگرانی اور ادارہ جاتی ارتقا میں مثبت اور نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ شریعہ گورننس فریم ورک، لائسنسنگ پالیسی، ریگولیٹری ہدایات، معیار بندی کی کوششوں، اسلامی بینکاری ونڈوز اور مکمل اسلامی بینکوں کی تدریجی حوصلہ افزائی کے ذریعے اسٹیٹ بینک نے اس صنعت کو ترقی کے لیے ضروری قانونی اور نگرانی کا ماحول فراہم کیا ہے۔ تاہم صنعت کے پھیلاؤ اور پاکستان میں ربا کے خاتمے کے آئینی ہدف کے تناظر میں اسٹیٹ بینک سے یہ توقع بھی بجا ہے کہ وہ محض قانونی و انتظامی مطابقت کے بجائے حقیقی شرعی اصالت، مصنوعات کی معنوی صحت، مستقل اسلامی بینچ مارکس، مؤثر شریعہ آڈٹ، اور روایتی بینکاری سے غیر ضروری مشابہت کے بتدریج خاتمے پر مزید توجہ دے۔
اس مقصد کے لیے علمی ادارے بھی نہایت اہم معاون کردار ادا کر سکتے ہیں۔اسکول آف اسلامک بینکنگ اینڈ فنانس، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد، بی ایس، ایم ایس اور پی ایچ ڈی کی سطح پر اسلامی بینکاری و مالیات کے لیے تربیت یافتہ انسانی وسائل تیار کر رہا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اس ادارے کے ساتھ تحقیق، پالیسی مشاورت، استعدادِ کار میں اضافہ، شریعہ کمپلائنس ٹریننگ، مصنوعات کے جائزے، اور زیادہ اصیل اسلامی بینکاری طریقوں کی تشکیل کے لیے قریبی تعاون پر غور کر سکتا ہے۔ ایک منصفانہ جائزہ اسی وقت مکمل ہو گا جب ہم اسٹیٹ بینک کے مثبت کردار کو بھی تسلیم کریں اور اس کے ساتھ ساتھ مزید گہری اصلاحات اور علمی و ادارہ جاتی تعاون کی ضرورت کو بھی واضح کریں، تاکہ پاکستان میں اسلامی مالیات زیادہ معتبر، زیادہ اصیل اور شریعت کے حقیقی مقاصد سے زیادہ ہم آہنگ ہو سکے۔
اللہ تعالیٰ پاکستان میں حقیقی طور پر ربا سے پاک، منصفانہ اور اسلامی معاشی اصولوں پر مبنی مالیاتی نظام کے قیام کے لیے ہونے والی تمام مخلصانہ کوششوں کی رہنمائی فرمائے اور ان میں برکت عطا فرمائے۔
آمین بجاہ النبی الکریم الامین ﷺ





