۔ کائبور یا آئبور؟ اسلامی بینکاری ’’ایک گرداب میں‘‘۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
FOR ENGLISH VERSION OF THIS ARTICLE – Click Here
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
JUNE 10, 2026
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر محمد ابوبکر صدیق
اسکول آف اسلامک بینکنگ اینڈ فنانس
انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ذرا تصور کیجیے کہ ایک شخص بازار میں اپنی چیز فروخت کر رہا ہے۔ خریدار قیمت پوچھتا ہے تو وہ جواب دیتا ہے: ’’میں اپنی چیز پر اتنا ہی منافع لوں گا جتنا میرے دوست نے ایک شراکتی کاروبار میں کمایا ہے‘‘۔اسی طرح ایک اور جگہ ’’ ایک شخص کسی کاروبار میں شریک ہے اور منافع کےتقرر کے وقت وہ کہتا ہے:مجھے شراکت میں اتنا فیصد ہی نفع چاہیے جتنا فلاں تاجر نے مرابحہ میں اپنی چیز بیچ کر حاصل کیا تھا‘‘۔ کیا آپ کو یہ دونوں مطالبے غیرفطری اور غیر منطقی محسوس نہیں ہوتے۔اگرچہ اپنی دانست میں پہلا طریقہ فقہی اعتبار سے درست ہے لیکن اسے باقاعدہ اصول کے طور پر تو نہیں لیاجاسکتا۔ کیونکہ اِن عقودمیں کوئی باہمی ربط یا جوڑ نہیں ہے کوئی قدر مشترک نہیں۔اس لیے کہ بیع اور شراکت اپنی بنیاد، خطرے، ضمان، نفع کے سبب اور نتیجے کے اعتبار سے الگ الگ عقود ہیں۔ ایک میں نفع قیمت کے تعین کے بعد یقینی صورت اختیار کر لیتا ہے، جبکہ دوسرے میں نفع حقیقی کاروباری نتیجے سے وابستہ رہتا ہے اور نقصان کا امکان بھی موجود ہوتا ہے۔ پھر اِن عقود کے منافع جات ایک دوسرے لیے کسوٹی کیونکر بن سکتے ہیں۔لہذا یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ مختلف عقود کو ایک ہی شرحِ منافع کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ بیع، اجارہ، مشارکہ اور مضاربہ جیسے عقود اپنی نوعیت، محل، خطرے، ذمہ داری اور نفع کے سبب کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اس لیے ان سب کے لیے ایک ہی شرحِ منافع کو معیار بنانا نہ فطری ہے، نہ معاشی طور پر منصفانہ اور نہ اسلامی عقود کی روح سے ہم آہنگ۔
اب اسی اصول کو جدید اسلامی بینکاری ومالیات پر منطبق کیجیے۔ جب بار بار یہ کہا جاتا ہے کہ تمام پروڈکٹس میں منافع کا تعین ’’کائبور‘‘ سے کیا جائے گا۔تو فوراً آوازیں آنا شروع ہوجاتی ہیں کہ ’’کائبور تو شرح سود ہے‘‘ یہ ناجائز و حرام ہے اور ہم یہ مان بھی لیتے ہیں، اس سے پہلے کہ ہم کسی اور سطح پر سوچیں فوراً ہمارے اذہان کو ایک دوسری جانب مصروف کردیا جاتا ہے ’’تم کوئی اسلامی شرح منافع کیوں نہیں بنا لیتے‘‘ پھر ہم کچھ سوچے سمجھے بغیر ہی اس نئے کام پر لگ جاتے ہیں۔
ٹھہریے! ذرا سوچئے کہ ’’کائبور‘‘ کو کس بنیاد پر ’’شرح سود‘‘ کا لقب ملا ہے؟ جب آپ غور کریں گے تو علم ہوگا کہ کائبور بذات خود ’’ہندسے ‘‘ ہیں جو کہ جائز و ناجائز کی بحث سے ہی ماوارا ہیں۔ کوئی عدد کب سود بنتا ہے ؟ شریعت اس کا ایک مکمل اصول و ضابطہ دیتی ہے اور وہ واضح ہے کہ اگر قرض اور دَین پر کوئی بھی عدد اضافی و مشروط ہو وہ سود ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے جملہ معاملات و پروڈکٹس صرف اور صرف ’’قرض‘‘ کی بنیاد پر ہوتے ہیں اور ’’کائبور کا عدد‘‘ اس قرض پر اضافی ومشروط ہوتا ہے ۔ یہ ہےوہ وجہ جو کائبور کو ’’شرح سود‘‘ کا نام دیتی ہے۔ کیا ایک اسلامی عقد بیع میں وہی ’’کائبور‘‘ شرح سود بنے گی ؟ نہیں ۔ کیونکہ اب بنیاد ہی بدل چکی ہے۔ اب یہ عدد قرض پر وصول نہیں ہورہا بلکہ بیع پر وصول ہورہا ہے آپ اسے شرح سود نہیں کہہ سکتے۔
اب ذرا دوسرے پہلوکی جانب توجہ کریں کہ آپ نےایک اسلامی انٹر بینک آفر ریٹ ’’آئبور‘‘ متعارف کروا لیا ۔ ذرا غور کی جیے کہ ’’یہ آئبور کائبور سے کس طرح مختلف ہے‘‘۔ اگر کوئی یہ سوال کردے کہ ’’کیا قرض پر آئبور وصول کیا جاسکتا ہے ؟ ‘‘ تو فوراً یہی ’’اسلامی شرح منافع ‘‘ شرح سود قرار پائے گا۔
یہیں اصل سوال پیدا ہوتا ہے: ’’وہ کون ہے جو ہم سے یہ سوال کرتا ہے کہ ہمیں کائبور چاہیے یا اس کے مقابلے میں آئبور؟ پھر ہماری ساری علمی توانائی اسی محدود دائرے میں صرف ہونے لگتی ہے کہ آئبور ایک جائز، اسلامی اور حلال متبادل ہے۔ہمارے اعلی سے اعلی اذہان ایک نئے معیار کی تخلیق میں مصروف ِعمل ہوجاتا ہے۔ مگر یہاں رک کر سوچنے کی ضرورت ہے کہ یہ سوال ہمیں اسی مخصوص سانچے میں کیوں دیا جا رہا ہے ؟ سرمایہ دارانہ مالیاتی نظام کی ’’فکری ساخت‘‘ یہی ہے کہ وہ انسان کے ذہن کو اپنے بنائے ہوئے دائرے میں قید کر دیتا ہے۔ وہ ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ تمہارے پاس بس دو ہی راستے ہیں: یا موجودہ شرح کو قبول کرو یا اسی طرز کی ایک نئی شرح ایجاد کر لوجس پر تمہارادل مطمئن ہو۔ اس کے بعد پوری بحث اسی دائرے میں گھومتی رہتی ہےپھر مقالات پر مقالات لکھے جاتے ہیں اور سیمینارز پر سیمینارز کا انعقاد کیا جاتا ہے ۔ انسان کو یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ شاید اصل مسئلہ ان دونوں راستوں کے انتخاب میں نہیں، بلکہ اِس سوال کی ساخت ہی میں پوشیدہ ہے جو ہمارے سامنے رکھا گیا ہے۔ اس کو ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ ایک استاد کلاس میں داخل ہوتا ہے، جس کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ بڑا ذہین، چالاک اور سوال بنانے کا ماہر ہے۔ وہ آتے ہی طلبہ سے سوال کرتا ہے:’’ریل گاڑی پٹڑی پر آ رہی ہے۔ آگے دو ٹریک ہیں۔ دائیں ٹریک پر ایک بوڑھا آدمی کھڑا ہے اور بائیں ٹریک پر ایک بچہ۔ ٹریک چینج کرنے کا لیور آپ کے ہاتھ میں ہے۔آپ کس کو بچائیں گے اور کس کی جانب ریل کارُخ موڑ دیں گے ؟” عموماً طلبہ فوراً اس بحث میں الجھ جاتے ہیں کہ بچے کو بچایا جائے یا بوڑھے کو۔ کوئی کہتا ہے بچہ مستقبل ہے، اسے بچانا چاہیے۔ کوئی کہتا ہے بوڑھے کی جان بھی اتنی ہی محترم ہے۔ مگر بہت کم کوئی یہ سوچتا ہے کہ ریل کو روکنے کا امکان سوال سے کیوں خارج کر دیا گیاہے؟ کیا پٹڑی بدلنا ہی واحد حل ہے؟ کیا یہ فرضی سوال خود اخلاقی طور پر درست ہے؟ بند کلاس روم میں انسانوں کو یہ تربیت دینا کہ ہر حال میں کسی ایک انسان کی قربانی کا انتخاب کرو، اعلیٰ اخلاقی اقدار سے انحراف کی مشق نہیں تو اور کیا ہے! یہ ذہن سازی سرمایہ دارانہ نظام کے بڑے مقاصدکی تکمیل کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
سرمایہ دارانہ مالیاتی نظام سوال کو اس انداز میں ترتیب دیتا ہے کہ انسان اصل مسئلے پر غور کرنے کے بجائے دیے گئے محدود اختیارات کے جال میں پھنس جائے۔ اسلامی مالیات کے باب میں بھی یہی کیفیت پیدا ہوتی ہےجب کہا جاتا ہے: کائبور یا آئبور؟ اگر موجودہ شرح سودی ہے تو اسی کی طرح ایک اسلامی شرح متعارف کرا دیجیے۔ اگر موجودہ بینچ مارک پر اعتراض ہے تو ایسا نیا بینچ مارک تلاش کر لیجیے جسے ’’اسلامی بینچ مارک ‘‘ کہا جاسکے۔ اسکالرز کے اذہان اسی جال میں الجھ کر رہ جاتے ہیں اور اصل سوال پس منظر میں چلا جاتا ہے کہ کیا واقعی اسلامی مالیات کو کسی ’’ایک مرکزی شرحِ منافع کی ضرورت بھی ہے یا نہیں؟ یا ’’ہمیں کس امر کی ضرورت ہے کسی واحد معیار کی یا کسی جامع اشاریے کی کہ جس میں ہر عقد کے ساتھ معاشی انصاف ہوسکے؟‘‘۔
یہ بحث محض ایک تکنیکی بینچ مارک کی نہیں، بلکہ ایک گہری فکری ساخت کی ہے۔ سودی مالیات قرض پر منافع کے تصور سے جنم لیتی ہے۔ اس میں سرمایہ دار اصل سرمائے پر ایک متعین، یقینی اور پہلے سے معلوم اضافہ اپنا حق سمجھتا ہے۔ کائبور اسی منطق کا عملی اظہار ہے۔ یہ قرض کی قیمت متعین کرنے کا ایک عددی معیار ہے، جس کے ذریعے سرمایہ فراہم کرنے والا فریق اپنے سرمائے پر ایک متوقع یا متعین واپسی کا حساب لگاتا ہے۔ جب اسلامی مالیات کے نام پر ہم کائبور کی جگہ آئبور متعارف کرانے کی بات کرتے ہیں، تو گویا شعوری یا لاشعوری طور پر اسلامی مالیاتی عقود کے تنوع، ملکیت، ضمان، خطرہ، محنت، منفعت اور شراکت کی مستقل شرعی و معاشی حیثیت کویکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں قرض کی مانند قبول کرتے ہیں ۔ قرض پر مبنی معاملات لاکھوں ہوں، مگر اصولی اعتبار سے اُن کی بنیادِ عقد ایک ہی ہے: قرض۔ اسی لیے سودی نظام میں اُن سب کے لیے ایک شرح سود متعین ہوتی ہے جسے پاکستان میں کائبور تو لندن لائبور کہاجاتا ہے۔ اس کے برعکس اسلامی مالیات کے عقود میں تنوع ہے اگر یہاں بھی ایک شرح منافع متعارف کرائی گئی تو پھر یہ اُسی معاشی ناانصافی اور ارتکاز دولت کو مزید فروغ دے گا جس کا سبب ’’شرح سود-کائبور‘‘ بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فی زمانہ اسلامی بینک ’’کائبور‘‘ کو اگرچہ بطور بینچ مارک ہی استعمال کر رہے ہیں یا کہیں ’’آئبور‘‘ استعمال ہورہا ہے تو دونوں صورتوں میں اسلامی بینکاری نظام تجارت کا حلال طریقہ فراہم کر رہے ہیں۔ لیکن کیا اُس سے معاشرتی و سماجی فلاح کے وہ نتائج بھی برامد ہورہے ہیں جو دین اسلام اپنے معاشی و مالیاتی نظام سے دینا چاہتا ہے۔ اس وقت اسلامی بینکاری نظام پر جملہ تنقید کا بڑا حصہ نتائج کے حوالے سے ہے کہ اس نظام سے فلاح کے وہ نتائج برامد نہیں ہورہے جن کی اُن سے توقع کی جارہی تھی اوراس کی ایک بنیادی وجہ ’’شرح منافع‘‘ کے تعین کا یہی تصور بھی ہے۔
آئبور کے تصور میں ’’ اصل سرمائے پر ایک خاص مقدار ِمنافع کے حصول‘‘ کاوہ فلسفہ قائم رہتا ہےجو ’’شرح سود‘‘ کائبور کے وجود سے پیدا ہوتا ہے۔ صرف سوال کی نوعیت بدل جاتی ہے کہ ’’شرح منافع‘‘سودی ماحول سے آئے گی یا اسلامی ماحول سے؟ حالانکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اسلامی مالیات کا مقصد صرف سودی شرح کو اسلامی نام سے بدلنا ہے یا مالیات کی پوری بنیاد کو ’’سودی نظریے ‘‘سے نکال کر حقیقی عقود، ملکیت، ضمان، خطرہ، محنت، منفعت اور شراکت کی فطرت پر قائم کرنا ہے؟ جب اسلامی عقود کی حقیقتیں مختلف ہیں تو پھر عقلِ سلیم ان سب کے لیے ایک ہی شرحِ منافع کو معاشی عدل کا معیار کیسے قرار دے سکتی ہے۔
اصل اشکال کائبور یا آئبور کے نام کا نہیں، بلکہ اُس ’’ فکری سراب‘‘ کا ہے جس میں ہم اسلامی مالیات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور جس سے اسلامی مالیات کی روح مجروح ہوتی ہے، کیونکہ اسلام نے عقود کو صرف ظاہری ناموں سے نہیں بلکہ ان کی حقیقت، محل، خطرے، ذمہ داری کے ساتھ ساتھ انسانی طبائع پر اُن کے آثار کو بھی مد نظر رکھا ہے کہ عقود سے اجنبی فریقین کے مابین ایک اعتماد کا تعلق قائم ہوتا اور باہمی مودت و اخوت کی فضا قائم ہوتی ہے اور یوں معاشرہ ایک دوسرے سے اخلاص کے تعلق میں بندھنا شروع ہوتا ہے جس کی برکات سے سماج و معاشرہ فلاح کے ثمرات حاصل کرتا ہے۔لیکن ’’کائبور یا آئبور‘‘سے اسلامی مالیات کی مطلوبہ سماجی و اخلاقی جہت کمزور پڑ جاتی ہے اور فریقین کے مابین ’’مادی منفعت کے حصول میں مسابقت‘‘ کی فضا قائم ہوجاتی ہےجس سے دلوں کے اندر حسد و بغض کی تخم ریزی ہوتی ہے اور ارتکاز دولت کے راستے ہموار ہوتے ہیں جو کہ ہورہے ہیں۔ لہذا اگر کائبور معاشی ناانصافی کو روکنے میں ناکام رہا، تو کیا محض آئبور متعارف کرا دینے سے وہ مسئلہ حل ہو جائے گا!
آج ہم جس دوراہے پر کھڑے ہیں یہی وہ مقام اور وقت ہے کہ ہمیں ’’سرمایہ داریت کی غیر محسوس ذہنی تحدید‘‘سے باہر نکل کر سوچنے کی ضرورت ہے۔ ’’کائبور یا آئبور ؟ ‘‘ کے طلسم سے نکل کر تیسری آزاد سمت میں سوچنے کی ضرورت ہے۔ سرمایہ داریت نے معیشت کو اس انداز سے تشکیل دیا ہے کہ ہر مالیاتی سوال کا جواب شرحِ سود یا اُس کے کسی نہ کسی متبادل میں تلاش کیا جاتا ہے۔ لیکن اسلام سود کا متبادل سود نما ڈھانچے کی صورت میں نہیں دیتا۔ اسلام سود کا متبادل نہیں بلکہ سود ہی کا خاتمہ چاہتا ہے اور اُس کی جگہ تجارت، عدل، تعاون، شراکت، احسان، زکوٰۃ، صدقات، وقف، قرضِ حسن اور حقیقی معیشت پر مبنی نظام قائم کرتا ہے۔ سود کا حقیقی علاج کوئی نیا ریٹ نہیں، بلکہ اس ذہنیت سے نجات ہے جو سرمائے کو حقیقی خطرے، محنت، ملکیت اور معاشی سرگرمی سے الگ کر کے یقینی منافع کا حق دار سمجھتی ہے۔
اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ اسلامی مالیاتی صنعت کو کسی قسم کے اشاریوں، رہنما معیارات یا ریگولیٹری فریم ورک کی ضرورت نہیں۔ ضرورت یقیناً ہے۔ لیکن یہ ضرورت ایک واحد شرحِ منافع کی صورت میں نہیں جو تمام عقود پر حاکم ہو جائے۔ اس کے بجائے اسلامی مالیات کو عقود پر مبنی قیمتوں کے فریم ورک کی طرف بڑھنا چاہیے۔ بیع پر مبنی معاملات کے لیے شے کی نوعیت، لاگت، بازار کی قیمت، ادائیگی کی مدت، ملکیت کے خطرے اور تجارتی عُرف کو سامنے رکھا جائے۔ اجارہ کے لیے اثاثے کی منفعت، استعمال کی مدت، بازار کا کرایہ، مرمت و دیکھ بھال، فرسودگی اور ملکیت کے خطرے اور معاشرتی عُرف کو بنیاد بنایا جائے۔ مشارکہ کے لیے سرمایہ، عملی کردار، کاروباری خطرہ، انتظامی ذمہ داری، حقیقی نفع و نقصان اور شفاف حسابات کو معیار بنایا جائے۔ مضاربہ کے لیے رأس المال، مضارب کی مہارت، کاروباری میدان، متوقع خطرہ اور حقیقی حاصل شدہ منافع کی تقسیم کو سامنے رکھا جائے۔ اسی طرح سلم، استصناع، صکوک اور دیگر عقود کے لیے الگ الگ شرعی و معاشی اصول تشکیل دیے جائیں۔
البتہ موجودہ عبوری صورتِ حال کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسلامی بینکاری موجودہ سودی، قانونی اور ریگولیٹری ماحول میں کام کر رہی ہے، اس لیے بعض اوقات کائبور کو محض عددی حوالے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر بیع یا اجارہ حقیقی ہو اور شرعی شرائط پوری ہوں تو صرف کائبور کے حوالہ بننے سے عقد ربوی نہیں ہو جاتا۔ تاہم یہ ایک عبوری مجبوری ہے، مثالی اصول یا مستقل منزل نہیں۔
اسی طرح اگر آئبور کو کائبور کے متبادل کے طور پر صرف ایک اسلامی نام والی مرکزی شرحِ منافع بنا دیا جائے تو یہ فکر ِ ناقص ہے۔ اصل ضرورت ایک شرح کی نہیں، بلکہ ہر عقد کی حقیقت کے مطابق عادلانہ طریقۂ تعیینِ نفع کی ہے۔ بیع کے لیے الگ رہنما اصول، اجارہ کے لیے الگ معیارِ اجرت، صکوک کے لیے اثاثہ جاتی منافع کا نظام، مشارکہ کے لیے حقیقی تقسیمِ نفع، اور مضاربہ کے لیے واقعی حاصل شدہ منافع کی بنیاد پر تقسیم کا طریقہ ہونا چاہیے۔
ریگولیٹر، خصوصاً اسٹیٹ بینک آف پاکستان، اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے اور کر بھی رہا ہے۔ تاہم اصل ضرورت صرف ایک شرحِ منافع جاری کرنے کی نہیں، بلکہ مختلف اسلامی عقود کے لیے الگ الگ شفاف، قابلِ عمل اور شرعی طور پر معتبر طریقہ ہائے تعیینِ نفع تشکیل دینے کی ہے۔ اس عمل میں شریعہ اسکالرز، ماہرینِ معاشیات، بینکاروں، قانونی و حسابی ماہرین، صنعت و تجارت کے نمائندوں اور جامعات کو شامل کیا جانا چاہیے،تاکہ اسلامی مالیات کی عمارت محض ناموں کی تبدیلی کے بجائے عقود کی حقیقی فقہی ساخت پر کھڑی ہو۔
خلاصہ یہ ہے کہ کائبور کا مسئلہ صرف ایک عددی بینچ مارک کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک گہری فکری بحث ہے۔ اگر ہم کائبور کی جگہ آئبور لا کر بھی اسی ذہنیت کو باقی رکھتے ہیں کہ سرمایہ پر ایک مرکزی، عمومی اور سب عقود پر حاوی شرحِ منافع ہونی چاہیے، تو ہم اسلامی معاشیات کےحقیقی فلاح کے اصل مقصد تک نہیں پہنچیں گے۔
اس لیے اسلامی معاشیات بالعموم اور اسلامی مالیات و بینکاری کو محض یہ نعرہ نہیں لگانا چاہیے کہ ہمیں کائبور کے متبادل کے طور پر کوئی اسلامی شرحِ منافع چاہیے بلکہ اصل نعرہ یہ ہونا چاہیے کہ ہمیں سودی قرض پرمبنی فکر سے نکل کراسلامی عقود پر مبنی معاشی عدل، حقیقی اثاثوں، شراکت، تجارت، منفعت، خطرے اور معاشی انصاف پر مبنی نظام چاہیے۔
سود کا حقیقی علاج اس کا متبادل ریٹ نہیں، بلکہ اس کا خاتمہ ہے اور اس کے بجائے ایک ایسے معاشی نظام کا قیام ہے جس میں منافع’’ حقیقی معاشی سرگرمی‘‘ سے پیدا ہو، خطرہ منصفانہ طور پر تقسیم ہو، کمزور فریق کا استحصال نہ ہواور مالیات کا رخ محض سرمایہ دار کے یقینی منافع کے بجائے عدل، فلاح اور حقیقی پیداوار کی طرف ہو۔ یہی اسلامی معاشیات و مالیات کی اصل روح ہےجس کا ماخذ وہ نبوی ﷺ حکم ہے کہ جب آپﷺ کے سامنے اعلیٰ کوالٹی کی کھجوریں لائی گئیں اور بتایا گیا کہ یہ’’ ایک صاع کے بدلے دو صاع ‘‘ کے ذریعے حاصل کی گئی ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا یہ ربا (سود) ہے لیکن ساتھ ہی آپ ﷺ نے امت کی رہنمائی کے لیے ’’مارکیٹ ‘‘ کا راستہ دکھایا ۔ کیوں؟ کیونکہ جو معاملہ وہ پہلے کر رہے تھے وہ کوئی ’’ایسا حقیقی معاشی عمل نہ تھاکہ جس سے معاشرے کو فائدہ ہوتا‘‘ بلکہ وہ ایسا طرز عمل تھا جو آگے چل کر سود کے دروازے چوپٹ کھول دیتا اور لوگ صرف کاغذوں میں تبادلے کرتے اور ’’مارجنل اضافے ‘‘ وصول کرتے ۔ اسلام معاشی نظام میں معاشی عمل کی روح یہ ہے کہ اُس کے حقیقی ثمرات معاشرے تک پہنچیں۔ لہذا موجودہ سرمایہ دارانہ ماحول میں محض کائبور سے آئبور تک کا سفر اسلام کے مطلوبہ معاشی و فلاحی ثمرات پیدا کرنے کے لیے کافی نہیں ہو سکتا۔
اللہ تعالی صراطِ مستقیم کی جانب ہدایت عطا فرمائے ۔ شیطان کی چالوں کو سمجھنے، اس سے بچنے اور انہیں توڑنے کی توفیق وافر عطا فرمائے اور ہمیں اپنی پناہ میں رکھے۔
آمین بجاہ النبی الکریم الامین ﷺ







Masha Allah sir