پاکستان کی قرض کہانی : ماضی ، حال اور مستقبل کی امید
(سود سے پاک معیشت اور قومی بحالی کا راستہ)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
FOR ENGLISH VERSION OF THIS ARTICLE – Click Here
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
JUNE 13, 2026
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر محمد ابوبکر صدیق
اسکول آف اسلامک بینکنگ اینڈ فنانس
انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرض اور اس کی تشخیص ؟
پاکستان کا حالیہ بجٹ جب کوئی محب وطن پاکستانی دیکھتا ہے کہ اس کے پیارے ملک کے کل اٹھارہ ہزار سات سو اکہتر (۱۸۷۷۱) ارب روپے یعنی (۱۸.۷۷ کھرب روپے) کے بجٹ میں سے اُس کی قوم نے آٹھ ہزار (۸۰۰۰) ارب روپے صرف سود کی مد میں دینے ہیں اور قرض کی رقم جوں کی توں رہے گی اور جب یہ دیکھتا ہے کہ ملک پاکستان کا کل دفاعی بجٹ تین ہزار (۳۰۰۰) ارب روپے ہے تو اُس کا دل خون کے آنسو روتا ہے کہ ’’ایک طبقے کی عاقبت نااندیشی اور کوتاہیوں‘‘ کا خمیازہ یہ نسل تو بھگت ہی رہی ہے لیکن آنے والی نسل بھی اس سے بچ نہیں پائے گی۔ اس لیے ہمیں ابھی سے مرض کے علاج کی تدبیر کرنا ہوگی۔
پہلے آپ یہ جان لیں کہ آپ کو کیا مرض لاحق ہے اور اس کی بنیادی وجہ کیا ہے تاکہ تشخیص درست ہوجائے تو مرض کا علاج ممکن ہے۔اصل مرض ’’سودی نظام ِ معیشت ہے ‘‘ اور ’’سود‘‘ کا مہلک بیکٹریا اس کا سبب ہے۔
پاکستان کا مسئلہ صرف قرض، مہنگائی، آئی ایم ایف، کم برآمدات یا بجلی کے بلوں تک محدود نہیں۔اِن سب امراض کی اصل اور بنیادی جڑ ’’سودی معاشی نظام ‘‘ ہے۔ سودی نظام کی اصل خرابی یہ ہے کہ وہ پیسے کو حقیقی معیشت سے کاٹ کر یقینی منافع کا حق دار بنا دیتا ہے۔ حکومت خسارہ پورا کرنے کے لیے سودی قرض لیتی ہے؛ بینک محفوظ سرکاری کاغذات میں سرمایہ لگا کر یقینی منافع لیتے ہیں؛ صنعت و زراعت کو مہنگی مالیات ملتی ہے؛ عوام مہنگائی، ٹیکسوں اور بجلی کے بلوں کے نیچے آ جاتے ہیں؛ اور قومی دولت کھیت، کارخانے، برآمدی صنعت، ہنر اور پیداوار کے بجائے قرض کی خدمت میں لگ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان بار باسودی مالیاتی سہارا لیتا رہا، مگر مرض کی جڑ باقی رہی۔
قرآنِ کریم نے ربا (سود)کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف جنگ قرار دیا ہے۔ جب ایک مسلمان معاشرہ اپنے پوری معاشی ڈھانچے ( مالیات، بجٹ، بینکاری، سرمایہ کاری اور سرکاری قرض کو) ایسے نظام کے تابع کر دے جس میں سرمایہ ’’حقیقی پیداوار، محنت، خطرے اور شراکت ‘‘کے بغیر اپنے اوپر یقینی اضافہ چاہتا ہو، تو پھرآسمان سے نعمتوں کی بجائے معاشی بے چینی، بے برکتی، ناانصافی، قرضی دباؤ اور اجتماعی کمزوری کانازل ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں کیونکہ فرمان باری تعالیٰ واضح ہے :
وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِیْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِیْشَةً ضَنْكًا وَّ نَحْشُرُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَعْمٰى(۱۲۴) قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْۤ اَعْمٰى وَ قَدْ كُنْتُ بَصِیْرًا(۱۲۵)
(ترجمہ: اور جس نے میری یاد سے اعراض کیا تو اس کے لیے زندگی کا گھیرا تنگ ہے۔اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا اٹھائیں گے۔ کہے گا اے رب میرے مجھے تو نے کیوں اندھا اٹھایا میں توصاحب ِ بصیرت تھا)۔
پوری قوم کی فلاح و بہبود کے تمام شعبوں — دفاع ، تعلیم، صحت، سڑکیں، بجلی، ریل، صوبائی ترقیات، کسان، مزدور اور غریب کی روٹی — کا پورا سالانہ بجٹ صرف 3897 ارب روپے ہے۔ اور اسی قوم کو صرف سود (ربا) پر 8000 ارب روپے ادا کرنے پڑتے ہیں۔ (نیچے دیا گیا جدول ملاحظہ کریں)
ذرا سوچیں: ایک قوم اپنی بقا، ترقی اور انسانیت کی فلاح پر جو خرچ کرتی ہے، اس سے دو گنا زیادہ صرف سود کی آگ جلا کر بھسم کر رہی ہے۔ کیوں؟ جواب بہت آسان ہے، مگر اس کا بوجھ اٹھانا ناممکن ہے اور وہ یہ ہے کہ : اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف جنگ تمہیں بھاری پڑ رہی ہے۔ یہ کوئی معاشی ناکامی نہیں — یہ اللہ کی طرف سے کھلا اعلانِ جنگ ہے (البقرہ: 279)۔ آج وہ جنگ تمہارے گھر، تمہارے اسکول، تمہارے اسپتال، تمہاری سڑکوں اور تمہاری اولاد کے مستقبل کو کھا رہی ہے۔ ربا نے پوری قوم کو یرغمال بنا لیا ہے۔ جب تک تم سود کے اس پلید نظام سے توبہ نہیں کرو گے، تمہارا ہر نیا منصوبہ، ہر دعا، ہر آنسو — سب سود کی بھینٹ چڑھتا رہے گا
جو قومیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات سے منہ موڑتی ہے تو پھر انہیں عقل و شعور ہونے کے باوجود ’’بصیرت‘‘ سے محروم کردیا جاتا ہے اور شیطان چھو کر انہیں ایسا پاگل کردیتا ہے کہ ’’شرح سود کو بڑھانے کو ہی اپنے لیے علاج سمجھتے ہیں‘‘ اور مرض جوں جوں بڑھتا رہتا ہے۔
تاہم اللہ جل مجدہ نے امت محمدیہ ﷺ کے ساتھ یہ کرم کیا ہے کہ اگر وہ صراط مستقیم کی جانب لوٹ آئیں تو وہ اپنی عنایات کو پھر سے ان پر عام کرتا ہے ۔دیکھتے ہیں کہ ’’ہم کب خدا سے جاری جنگ میں توبہ کے ساتھ واپس پلٹتے ہیں اور سود کا مکمل خاتمہ کرتے ہیں‘‘۔
پاکستان کا اندرونی و بیرونی قرض کتنا ہے؟
:پاکستان کے مجموعی قرضے اور واجبات کے اعداد و شمار کچھ یوں ہیں
پاکستان کا براہِ راست داخلی و خارجی قرض تقریباً اکیاسی اعشاریہ ترانوے (۸۳.۲۸ ) کھرب روپے ہے۔– *-
اس میں اندرونی قرض ستاون (۵۷) کھرب روپے ہے، جو بینکوں، قومی بچت اسکیموں اور مالیاتی اداروں سے لیا گیا ہے۔-*-
جبکہ بیرونی قرض تقریباً چھبیس (۲۶) کھرب روپےہے۔ مجموعی سرکاری قرض ’’قومی آمدن ‘‘ جسے ’’مجموعی ملکی پیداوار‘‘ یا ’’جی ڈی پی ‘‘ کہاجاتا ہے، کے تقریباً ۷۰ سے ۸۳ فی صد کے درمیان بیان کیا جاتا ہے۔-*-
اس ’’سودی بحران ‘‘ کے ہلاکت خیزی کا اندازہ اس سے لگائیں کہ قرض کی اصل رقم پر صرف سودی ادائیگیاں سالانہ تقریبا آٹھ (۸) کھرب روپے ہےجو ملکی آمدن کا بہت بڑا حصہ کھا جاتی ہیں جبکہ پاکستان کا کل دفاعی بجٹ تقریبا تین (۲.۵۵) کھرب روپے ہے۔یعنی سود کی ادائیگی ہمارے دفاعی بجٹ سے تقریبا تین گنا زیادہ ہے۔
جب ریاست کی آمدن کا بڑا حصہ قرضوں کی خدمت میں صرف ہو جائے تو تعلیم، صحت، پانی، زراعت، صنعت، ٹیکنالوجی، روزگار اور عوامی سہولتوں کے لیے گنجائش کم رہ جاتی ہے۔ پھر حکومت ترقی کے لیے بھی قرض لیتی ہے، بجٹ چلانے کے لیے بھی قرض لیتی ہے، اور پرانا قرض چکانے کے لیے بھی نیا قرض لیتی ہے۔ یہی قرضی چکر پاکستان کو بار بار بیرونی مالیاتی اداروں کے دروازے پر لے جاتا ہے۔
کیا واقعی پاکستان قرض کم ہو گیا ہے؟
جواب ہے بالکل : نہیں۔
:خبر یہ نہیں کہ قرض کم ہو گیا ہے، بلکہ یہ ہے کہ قرض بڑھنے کی رفتار کم ہوئی ہے۔کیونکہ مارچ ۲۰۲۶ تک سرکاری قرض کے اعداد و شمار وہی ہیں جو اوپر بیان ہوچکے۔ تاہم
- گزشتہ ۹ ماہ میں قرض میں اضافہ ۳.۴ فیصد ہوا۔
- جبکہ پچھلے سال اسی عرصے میں اضافہ ۶.۷فیصد تھا۔
:یعنی مرض اب بھی بڑھ رہا ہے، لیکن پہلے جتنی تیزی سے نہیں بڑھ رہا۔اس مرض میں اضافے کی رفتار میں کمی کن وجوہات کی بنیاد پر ہوئی وہ یہ ہیں
پالیسی ریٹ (شرح سود) کم ہوا، اس لیے حکومت کے نئے قرض پر لاگت کم ہوئی۔–*–
حکومت نے مہنگے مختصر مدتی قرض یعنی ٹی بلز پر انحصار کم کیا۔–*–
حکومت نے قرض کے ایک حصے کو قلیل مدتی اور بدلتی ہوئی شرحِ سود/مارک اَپ والے ذرائع سے نکال کر طویل مدتی مقررہ شرح والی سرکاری قرضی اسناد میں منتقل کیا، جس سے شرحِ سود میں اچانک اضافے کا فوری خطرہ کم ہوا۔–*–
حکومت نے بعض پرانی اور مہنگی سرکاری قرضی اسناد کو قبل از وقت واپس خرید کر یا نسبتاً کم سود والی نئی اسناد سے بدل کر قرض کی مجموعی لاگت کم کرنے کی کوشش کی۔–*–
شریعت سے ہم آہنگ صکوک کا حصہ بھی ۱.۸ فی صد بڑھا ہے، تاہم مجموعی سرکاری قرض کے مقابلے میں اس کا حجم ابھی تک بہت کم ہے۔ اس لیے ربا فری مالیاتی ڈھانچے کی طرف مزید منظم اور تیز پیش رفت کی ضرورت ہے۔–*–
ذرا خود سوچیں کہ سود کم کرنے سے اگر بہتری آئی ہے تو اس کو مکمل ختم کرنے سے کس قدر بہتری آئے گی ، یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
پاکستان کا حکومتی اثاثہ کتنا ہے اور قرض کتنا ہے؟
پاکستان کے پاس زمینیں، عمارتیں، شاہراہیں، بندرگاہیں، ہوائی اڈے، توانائی کے اثاثے، سرکاری کمپنیاں اور دیگر قیمتی اثاثے موجود ہیں، مگر ان کی مکمل، شفاف، قابلِ اعتماد اور یکجا قومی اثاثہ رجسٹری موجود نہیں۔ اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ حکومت کے کل اثاثوں کی حقیقی بازاری مالیت کتنی ہے۔ یہی خود ایک بڑا انتظامی مسئلہ ہے کہ ریاست کے پاس اثاثے تو ہیں، مگر ان کا مؤثر حساب، قیمت کا درست تعین، پیداواری استعمال اور شفاف انتظام کمزور ہے۔
بعض سرکاری ادارے، جو اصولاً قومی اثاثہ ہونے چاہییں تھے، مسلسل خسارے کے باعث قومی خزانے پر بوجھ بن گئے ہیں۔ قومی فضائی ادارہ، اسٹیل ملز، ریلوے، بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں اور دیگر کئی ادارے اگر درست انتظام، پیشہ ورانہ نگرانی اور پیداواری نظم کے ساتھ چلائے جائیں تو قومی آمدن کا ذریعہ بن سکتے ہیں، مگر کمزور حکمرانی اور سیاسی مداخلت نے انہیں کمزور کر دیا ہے۔ اس لیے پاکستان اثاثوں سے محروم ملک نہیں، بلکہ اثاثوں کے کمزور انتظام کا شکار ملک ہے۔
ربا فری معیشت میں ان اثاثوں کو جلد بازی میں بیچ کر وقتی رقم حاصل کرنے کے بجائے انہیں حقیقی صکوک، اجارہ، مشارکہ، عوامی و نجی شراکت، وقف پر مبنی ترقیاتی ماڈلز اور پیداواری اجارہ کے ذریعے آمدن دینے والے اثاثوں میں بدلنا ہوگا۔ مقصد یہ ہو کہ اثاثہ قومی ملکیت میں رہے مگر اس سے کرایہ، خدمت، پیداوار، روزگار اور عوامی فائدہ پیدا ہو۔
ہم قرضی جال میں کب پھنسے؟
پاکستان قرض کے چکر میں اچانک نہیں پھنسا۔اس کی تاریخ کئی دہائیوں پر محیط ہے۔
۔۱۹۵۸ میں پاکستان نے پہلی بار بیرونی ادائیگیوں کے توازن کے لیے آئی ایم ایف سے رجوع کیا۔
۔۱۹۷۰ کی دہائی میں قومیانے کی پالیسیوں، تیل کی قیمتوں کے جھٹکوں اور بڑھتے ہوئے حکومتی اخراجات نے مالی دباؤ بڑھایا۔
۔۱۹۸۰ کی دہائی میں افغان جنگ، دفاعی ضروریات، بیرونی امداد اور قرضوں پر انحصار نے قرضی مزاج کو مزید مضبوط کیا۔
۔۱۹۹۰کی دہائی میں سیاسی عدم استحکام، کمزور اصلاحات، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ ۔
۔۱۹۹۸کے بعد اقتصادی پابندیوں نے بیرونی مالیات کی ضرورت بڑھائی۔
۔۲۰۰۰کے بعد کچھ قرضی سہولت اور بیرونی ریلیف ملا، مگر اس موقع کو مضبوط اصلاحات، برآمدی صنعت، ٹیکس نیٹ اور پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے پوری طرح استعمال نہ کیا جا سکا۔
۔۲۰۱۰ کے بعد بڑے منصوبوں، توانائی کے اخراجات، درآمدی دباؤ اور بیرونی قرضوں نے بوجھ مزید بڑھایا۔
۔۲۰۱۸ کے بعد روپے کی کمزوری، توانائی لاگت، سودی ادائیگیوں، بجٹ خسارے اور بیرونی ادائیگیوں نے قرضی جال کو مزید گہرا کر دیا۔
ہر دور میں قرض کو زیادہ تر کھپت، درآمدات، جاری اخراجات، سیاسی ترجیحات اور پرانے قرض کی ادائیگی کے لیے استعمال کیا گیا، نہ کہ پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے۔ یوں آہستہ آہستہ پاکستان اس مقام پر آ گیا جہاں نیا قرض لے کر پرانا قرض چکانا معمول بن گیا۔ قرض مسئلے کا حل نہیں رہا، بلکہ خود مسئلے کا حصہ بن گیا۔
اس کی بڑی وجوہات کیا ہیں؟
سودی نظام اور بھاری سودی اقساط
اس کی پہلی اور بنیادی وجہ سودی نظام اور بھاری سودی اقساط ہیں۔ سودی نظام سرمائے کو یقینی نفع دیتا ہے، مگر پیداوار، خطرہ، محنت اور کاروباری نتیجے سے اس کا تعلق کمزور کر دیتا ہے۔ جب حکومت سود پر قرض لیتی ہے تو ہر سال بجٹ کا بڑا حصہ سودی ادائیگیوں میں چلا جاتا ہے۔ جب بینکوں کو حکومت سے محفوظ منافع ملتا ہے تو وہ صنعت، زراعت، چھوٹے اور درمیانے کاروبار، نوجوانوں اور برآمدی کاروبار کو مالی سہارا دینے کے بجائے سرکاری کاغذات میں پیسہ لگا دیتے ہیں۔ اس سے حقیقی معیشت کمزور اور قرضی معیشت مضبوط ہوتی ہے۔
مجموعی طلب اور رسدمیں عدم توازن
دوسری وجہ مجموعی طلب اور مجموعی رسد کا مسلسل عدم توازن ہے۔ درج ذیل مساوات اکنامکس کی دنیا میں مجموعی طلب و رسد کے توازن کو ظاہر کرتی ہے
(GDP) = C + I + G + (X – M)
قومی پیداوار (مجموعی رسد)= خالص برآمدات + سرکاری اخراجات+ سرمایہ کاری +نجی کھپت
قومی پیداوار کو سادہ انداز میں یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ قومی پیداوار نجی کھپت، سرمایہ کاری، سرکاری اخراجات اور خالص برآمدات کے مجموعے سے بنتی ہے۔ خالص برآمدات سے مراد برآمدات منفی درآمدات ہیں۔ اگر نجی کھپت اور سرکاری اخراجات بڑھتے رہیں، مگر مقامی پیداوار، سرمایہ کاری اور برآمدات نہ بڑھیں تو طلب اور رسد کے درمیان خلا پیدا ہوتا ہے۔ پاکستان میں یہی ہوا۔ طلب بڑھی، مگر رسد کمزور رہی، نتیجتاً اس خلا کو درآمدات نے پُر کیا اور درآمدات کے لیے ڈالر درکار ہوئے۔ جب ڈالر کم پڑتے تو قرض لینا پڑتا ہے اور وہی ڈالر درآمدات کی وجہ سے پھر ملک سے باہر چلے جاتے ہیں۔
پاکستان میں نجی کھپت قومی پیداوار کا بہت بڑا حصہ رہی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس کھپت کا بڑا حصہ مقامی پیداوار کے بجائے درآمدی اشیا، درآمدی ایندھن، درآمدی خوراک، درآمدی مشینری، درآمدی خام مال اور نمائشی خرچ سے جڑا رہا۔ جب بھی بیرون ملک سے ڈالر آیا، خواہ قرض کی صورت میں، ترسیلات کی صورت میں یا امداد کی صورت میں، وہ بڑی حد تک کھپت اور درآمدات میں تبدیل ہو گیا۔ اس سے زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط ہونے کے بجائے دوبارہ کمزور ہو گئے۔
سرمایہ کاری کی شرح بھی پاکستان میں کم رہی اور جو سرمایہ کاری ہوئی اس کا بڑا حصہ پیداواری صنعت، برآمدی شعبے، زرعی جدت اور ٹیکنالوجی کے بجائے غیر پیداواری یا کم پیداواری شعبوں میں چلا گیا۔ سودی نظام نے اس خرابی کو مزید بڑھایا۔ بینکوں کے لیے حکومت کو سودی قرض دینا نسبتاً آسان اور محفوظ رہا، اس لیے نجی صنعت، چھوٹے کاروبار، زراعت اور برآمدات کو مطلوبہ مالی سہارا نہ مل سکا۔ اس سے مقامی رسد کمزور رہی، روزگار کم پیدا ہوااور درآمدات پر انحصار بڑھتا گیا۔
سرکاری اخراجات بھی ایک بڑی وجہ ہیں۔ حکومتیں اپنی آمدن سے زیادہ خرچ کرتی رہیں۔ یہ اضافی خرچ عموماً غیر پیداواری ترجیحات جیسے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، انتظامی اخراجات، سبسڈیز، خسارے والے اداروں، سیاسی منصوبوں اور قرض کی ادائیگیوں میں چلا گیا۔ اس سے مجموعی طلب تو بڑھی، مگر مقامی رسد یعنی پیداوار، صنعت، زراعت اور برآمدات میں اتنا اضافہ نہ ہوا۔ جب طلب بڑھتی ہے اور رسد نہیں بڑھتی تو مہنگائی بھی بڑھتی ہے اور درآمدات بھی۔ یہی پاکستان کے ادائیگیوں کے بحران کا بنیادی معاشی انجن رہا ہے۔
برآمدات اور درآمدات کا عدم توازن بھی قرضی جال کی بڑی وجہ ہے۔ پاکستان کی برآمدات محدود رہیں، زیادہ تر چند ٹیکسٹائل مصنوعات پر انحصار کیا گیا، جبکہ درآمدات میں ایندھن، مشینری، کیمیکل، خوراک، خوردنی تیل، گاڑیاں، موبائل فون اور دیگر اشیا شامل رہیں۔ جب برآمدات درآمدات سے کم رہیں تو تجارتی خسارہ پیدا ہوا۔ اس خسارے کو پورا کرنے کے لیے بیرونی قرض لیا گیا۔ پھر قرض پر سود لگا، سود کی ادائیگی کے لیے مزید ڈالر درکار ہوئے، اور یوں قرض کا چکر گہرا ہوتا گیا۔
کمزور حکومتی ڈھانچہ
تیسری وجہ کمزور حکومتی ڈھانچہ ہے۔ مختلف ادوار میں حکومتوں نے آمدن سے زیادہ خرچ کیا، ٹیکس اصلاحات کو مؤخر کیا، طاقتور طبقات کو ٹیکس نیٹ میں پوری طرح نہ لا سکیں، سرکاری اداروں میں سیاسی مداخلت ہوئی، خسارے والے ادارے قرض سے چلتے رہے، اور بہت سے بحرانوں کا حل نئے قرض میں تلاش کیا گیا۔ سیاسی وعدے کیے گئے مگر اقتدار میں آنے کے بعد ان پر عمل ہمیشہ آسان نہ رہا۔ ایوانِ اقتدار تک پہنچنے والوں کی دولت میں اضافہ، کک بیکس، کمیشن، منی لانڈرنگ کے الزامات، کمزور احتساب، جمہوری ڈھانچے کی کمزوری اور مراعاتی کلچر نے عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کو کمزور کیا۔
غیر منصفانہ ٹیکس نظام
چوتھی وجہ غیر منصفانہ ٹیکس نظام ہے۔ ٹیکس کا آسان ہدف تنخواہ دار طبقہ ہے، کیونکہ اس کی آمدن پہلے ہی ریکارڈ میں ہوتی ہے۔ نچلا اور درمیانہ تنخواہ دار طبقہ انکم ٹیکس، بجلی کے بلوں، مہنگائی اور بالواسطہ ٹیکسوں کے نیچے دب جاتا ہے، جبکہ بڑے غیر دستاویزی کاروبار، ریئل اسٹیٹ، بڑی زرعی آمدن، ہول سیل و ریٹیل نیٹ ورک اور بااثر طبقات نسبتاً کم حصہ ڈالتے ہیں۔ جب عوام دیکھتے ہیں کہ ریاست ان سے قربانی مانگتی ہے مگر مراعات یافتہ طبقات پر بوجھ کم ہے تو ٹیکس کے بارے میں اعتماد کمزور ہو جاتا ہے۔
آئی پی پیز اور توانائی کے مہنگے معاہدے
پانچویں وجہ آئی پی پیز اور توانائی کے مہنگے معاہدے ہیں۔ نجی بجلی گھروں کو بجلی کی پیداوار بڑھانے، مقابلہ پیدا کرنے اور سستی بجلی دینے کے لیے لایا گیا تھا، مگر کمزور پالیسی، غیر شفاف معاہدوں، حکومتی ضمانتوں، ڈالر سے منسلک ادائیگیوں، مہنگے درآمدی ایندھن، مسابقتی بولی کے فقدان، کیپیسٹی پیمنٹ، سیاسی سرپرستی، طاقتور گروہوں، مفاداتی رویوں اور بدعنوانی کے الزامات نے اس ماڈل کو قومی خزانے پر مستقل بوجھ بنا دیا۔ بجلی پیدا ہو یا نہ ہو، طلب ہو یا نہ ہو، ادائیگیاں واجب رہتی ہیں۔ اس کا نتیجہ مہنگی بجلی، گردشی قرضہ، صنعتی لاگت میں اضافہ، برآمدات کی کمزوری اور مزید قرض کی صورت میں نکلتا ہے۔
عوامی و سماجی رویے
چھٹی وجہ عوامی و سماجی رویے بھی ہیں۔ ٹیکس چوری کو معمولی سمجھنا، بجلی چوری، غیر دستاویزی کاروبار، درآمدی نمود و نمائش، مقامی مصنوعات سے بے رغبتی، غیر پیداواری خرچ اور بچت کی کمی بھی قومی کمزوری کو بڑھاتے ہیں۔ اگر حکمران اپنا کردار پوری دیانت سے ادا نہ کریں اور عوام بھی ذمہ داری قبول نہ کریں تو معیشت مضبوط نہیں ہو سکتی۔ ریاست اور معاشرہ دونوں کو اصلاح کی ضرورت ہے۔
خلاصہ کلام یہ کہ ’’سودی نظام‘‘ نے اِس عدم توازن کو مزید خطرناک بنا دیا۔ جب تجارتی خسارے کی وجہ سے ڈالر کی طلب بڑھی اور روپیہ کمزور ہوا تو مہنگائی بڑھ گئی۔ مہنگائی روکنے کے لیے مرکزی بینک نے شرح سود بڑھا دی۔ شرح سود بڑھنے سے ایک طرف نجی صنعتوں اور تاجروں کے لیے سرمایہ مہنگا ہوگیا جس کی وجہ سے نجی پیداواری شعبہ ماند پڑگیا۔ دوسری طرف سرکاری قرض کی سودی اقساط میں خوفناک اضافہ ہوا اور بغیر کچھ کیے حکومت کو قرض دینے والے بینکوں کی جیبوں میں اربوں روپے چلے گئے ۔جس سےبجٹ خسارہ مزید بڑھ گیا۔ اِس خسارے کو پورا کرنے کے لیے حکومت نے مزید سودی قرضہ لیا۔ یہی وہ شیطانی چکر ہے جس نے پاکستان کو آئی ایم ایف کے دروازے پر لا کھڑا کیا۔ ربا فری معیشت میں اِس چکر کو توڑنے کی صلاحیت ہے کیونکہ اس میں سرمایہ کاری اور کھپت کا تعلق اثاثوں اور پیداوار سے جڑتا ہے، نہ کہ سود سے پیدا ہونے والی مصنوعی طلب سے۔
پاکستان کو کیا کرنا چاہیے؟ حکومت، حکمران اشرافیہ، طبقہ اشرافیہ، عوام الناس
حکومت کا پہلا کام سود کا مکمل خاتمہ ہے۔ نئے سودی قرض کا دروازہ بند کیا جائے، ٹریژری بلز اور پی آئی بیز پر انحصار کم کیا جائے، اور نئی سرکاری مالیات حقیقی صکوک، اجارہ، مشارکہ، مضاربہ، سلم، استصناع اور منصوبہ جاتی مالیات کے ذریعے کی جائے۔ موجودہ قرض کو بھی جھٹکے سے نہیں بلکہ حکمت، مذاکرات اور مرحلہ وار تبدیلی کے ذریعے شرعی ڈھانچے میں لایا جائے۔ اصل زر محفوظ رہے، مگر سودی حصے کے بارے میں اندرونی اور بیرونی قرض خواہوں سے معافی، کمی، مہلت، دوبارہ ترتیب یا شرعی تبدیلی کے لیے سنجیدہ مذاکرات کیے جائیں۔
حکومت کو قومی اثاثہ رجسٹری بنانی چاہیے۔ ہر سرکاری زمین، عمارت، شاہراہ، بندرگاہ، ہوائی اڈہ، بجلی کا اثاثہ، سرکاری کمپنی اور تجارتی اثاثہ ریکارڈ کیا جائے، اس کی قیمت کا تعین ہواور اس کے پیداواری استعمال کا منصوبہ بنایا جائے۔ ان اثاثوں کو جلد بازی میں بیچنے کے بجائے شریعت کے مطابق صکوک، اجارہ، مشارکہ، وقف، عوامی و نجی شراکت اور اجارہ پر مبنی ماڈلز کے ذریعے آمدن، روزگار اور خدمت کا ذریعہ بنایا جائے۔
حکومت کو مجموعی طلب کو بھی سنبھالنا ہوگا اور مجموعی رسد کو بھی بڑھانا ہوگا۔ غیر ضروری درآمدی کھپت، نمائشی خرچ اور غیر پیداواری سرکاری اخراجات کم کیے جائیں۔ دوسری طرف زراعت، صنعت، ٹیکنالوجی، ہنر، خوراک، ٹیکسٹائل کی قدر افزائی، حلال صنعت، معدنیات، چھوٹے اور درمیانے کاروبار، برآمدات اور مقامی پیداوار کو مالی سہارا دیا جائے۔ مقصد یہ ہو کہ طلب کا رخ درآمدات کے بجائے مقامی پیداوار کی طرف ہو، اور رسد اتنی مضبوط ہو کہ ملک کو ہر ترقی کے بعد بیرونی ادائیگیوں کے بحران کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
حکومت کو آئی پی پیز کے تمام معاہدوں کا آزادانہ اور شفاف جائزہ لینا چاہیے۔ کیپیسٹی پیمنٹ کو حقیقی دستیابی، عملی کارکردگی اور کارکردگی کی بہتر سطح سے مشروط کیا جائے۔ ڈالر سے منسلک ادائیگیوں پر نظرثانی ہو۔ مہنگے درآمدی ایندھن والے منصوبوں کو کم کیا جائے۔ مستقبل کے تمام توانائی منصوبے مسابقتی بولی، مقامی وسائل، قابلِ تجدید توانائی، صنعتی طلب کی منصوبہ بندی اور شرعی مالیات کے تحت دیے جائیں۔ توانائی کا شعبہ قرضی بوجھ نہیں بلکہ پیداوار اور برآمدات کا سہارا بننا چاہیے۔
حکمران اشرافیہ کا پہلا کام عوامی اعتماد بحال کرنا ہے۔ وہ اپنی مراعات، پروٹوکول، غیر ضروری سرکاری سہولتیں، غیر ملکی دورے، سیاسی بھرتیاں اور غیر پیداواری اخراجات کم کرے۔ اعلیٰ عہدیداروں، منتخب نمائندوں، بڑے افسران اور طاقتور طبقات کے اثاثوں کا شفاف اعلان ہو۔ عوام کو یہ یقین دلایا جائے کہ قانون صرف کمزور کے لیے نہیں، طاقتور کے لیے بھی ہے۔ اعتماد تقریروں سے نہیں، عمل سے بحال ہوگا۔
طبقہ اشرافیہ، بڑے کاروباری گروہوں، ریئل اسٹیٹ، بڑی زراعت، ہول سیل و ریٹیل نیٹ ورک اور بڑے صنعت کاروں کو قومی ذمہ داری قبول کرنی ہوگی۔ وہ ٹیکس نیٹ میں آئیں، دستاویزی کاروبار کریں، مزدور کے حقوق ادا کریں، مقامی قدر افزائی بڑھائیں، برآمدات پر توجہ دیں، اور صرف مراعات کے بجائے پیداواری کردار کو اپنا شعار بنائیں۔ اگر وہ ریاست سے مراعات، بجلی، زمین، تحفظ اور پالیسی سہولت لیتے ہیں تو انہیں قومی معیشت میں حقیقی حصہ بھی ڈالنا ہوگا۔
بینکاری اور غیر بینکاری مالیاتی اداروں کو اپنا کردار بدلنا ہوگا۔ ان کا مقصد صرف محفوظ منافع نہیں، بلکہ حقیقی اثاثہ سازی، خطرے کی منصفانہ تقسیم، پیداوار، تجارت، اجارہ، شراکت، زراعت، صنعت، چھوٹے اور درمیانے کاروبار، برآمدات، ٹیکنالوجی اور روزگار کی مالی معاونت ہونا چاہیے۔ اسلامی بینکاری کو مرابحہ یا شرح پر مبنی قیمت کاری تک محدود نہیں رہنا چاہیے؛ اسے مشارکہ، مضاربہ، سلم، استصناع، اجارہ اور حقیقی صکوک کے ذریعے معیشت کو پیداواری بنانا ہوگا۔
عوام الناس کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ عوام ٹیکس چوری، بجلی چوری، غیر دستاویزی کاروبار، درآمدی نمود و نمائش، غیر ضروری خرچ اور مقامی مصنوعات سے بے رغبتی کو کم کریں۔ سادگی، بچت، مقامی پیداوار، حلال کاروبار، ٹیکس ادائیگی، زکوٰۃ، صدقات، وقف، قرض حسنہ، ہنر، تعلیم اور کاروباری سوچ کو اپنائیں۔ عوام واقعی چلنا چاہتے ہیں، مگر انہیں قیادت کی سچائی چاہیے۔ جب حکمران امانت داری دکھائیں گے تو عوام بھی قربانی دیں گے۔
آخر میں پاکستان کو ایک’’ربا فری معاشی بحالی کمیشن‘‘بنانا چاہیے، جس میں شریعہ ماہرین، معاشی ماہرین، وزارت خزانہ، اسٹیٹ بینک، ایس ای سی پی، قانونی ماہرین، بینکار، صنعت کار، صوبے، برآمدی شعبہ، توانائی ماہرین اور عوامی نمائندے شامل ہوں۔ یہ کمیشن نئے سودی قرض کے خاتمے، موجودہ قرض کی شرعی تبدیلی، قومی اثاثہ رجسٹری، حقیقی صکوک، آئی پی پیز اصلاحات، ٹیکس انصاف، حکومتی اخراجات میں نظم، برآمدی مشن، طلب و رسد کے توازن اور نجی شعبے کو پیداواری اسلامی مالیات سے جوڑنے کا وقت بند روڈ میپ دے۔
آئی ایم ایف سے آزادی کا اصل راستہ
آئی ایم ایف سے آزادی کا اصل راستہ یہی ہے کہ پاکستان قرض لے کر کھانا بند کرے اور پیداوار بنا کر کمانا شروع کرے۔ ربا فری معیشت کا مقصد بھی یہی ہے کہ پیسے کو سود، کھپت اور قرض کے چکر سے نکال کر اثاثے، تجارت، پیداوار، روزگار، عدل، خود اعتمادی اور معاشی خود مختاری سے جوڑ دیا جائے۔ جب نجی کھپت مقامی پیداوار کی طرف آئے گی، سرمایہ کاری حقیقی صنعت و زراعت میں جائے گی، سرکاری خرچ پیداواری بنے گا، برآمدات بڑھیں گی اور درآمدات کا دباؤ کم ہوگا، تو پاکستان قرضی جال سے نکلنے کی حقیقی بنیاد حاصل کرے گا۔ یہی راستہ دینی بھی ہے، معاشی بھی، قومی بھی، اور پاکستان کی پائیدار بحالی کا راستہ بھی۔
نیچے دی گئی جدول میں ان ممالک کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے جو ماضی قریب یا تاریخ میں قرضوں کے جال میں پھنسے تھے اور بعد میں انہوں نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے انحصار سے نکلنے کی کامیاب یا نیم کامیاب کوششیں کیں۔ اس جدول میں “دور” سے مراد وہ مدت ہے جب ان ممالک نے قرضوں سے نکلنے کے لیے سخت اصلاحات شروع کیں، اور “دور” کے اختتام تک وہ آئی ایم ایف پروگرام سے باہر آ گئے (البتہ دوسرے ذرائع سے قرض لینا جاری رکھا)۔ یہ جدول عالمی بینک، آئی ایم ایف، اور تعلیمی کیس اسٹڈیز پر مبنی ہے۔
اللہ تعالی صراطِ مستقیم کی جانب ہدایت عطا فرمائے ۔ شیطان کی چالوں کو سمجھنے، اس سے بچنے اور انہیں توڑنے کی توفیق وافر عطا فرمائے اور ہمیں اپنی پناہ میں رکھے۔
اے کریم پروردگارا! ہم اپنی آنکھوں سے مملکت خداد پاکستان میں سودی نظام کا خاتمہ اور اسلامی نظام کا سورج طلوع ہوتا دیکھیں ۔
آمین بجاہ النبی الکریم الامین ﷺ









