
مصنوعی ذہانت کے عہد میں انسان اور انسانیت
تصور کیجیے، ایک باپ کو اپنے بیٹے کا پیغام ملتا ہے:
’’ابو! مجھے احساس ہے کہ آپ نے میرے لیے کتنی قربانیاں دی ہیں۔‘‘
وہ پیغام ایک بار پڑھتا ہے، پھر دوبارہ۔ دل چاہتا ہے کہ بیٹے سے بات ہو، سو فون ملا دیتا ہے۔
دوسری طرف سے جواب آتا ہے: “ابھی ذرا مصروف ہوں۔ اچھا لگا کہ آپ کو پیغام پسند آیا۔ اسے لکھنے میں مصنوعی ذہانت نے میری مدد کی تھی۔”
باپ خاموشی سے فون رکھ دیتا ہے۔ اسے خوب صورت جملوں سے زیادہ اپنے بیٹے کے ساتھ چند سادہ، نامکمل مگر حقیقی لمحے درکار تھے۔
ممکن ہے اس پیغام میں بیٹے کی محبت واقعی شامل ہو۔ مصنوعی ذہانت بلاشبہ ان لوگوں کو الفاظ دے سکتی ہے جو اپنے جذبات آسانی سے بیان نہیں کر پاتے۔ لیکن باپ کی یہ خاموش مایوسی ایک نہایت اہم فرق ہماری نگاہ کے سامنے لے آتی ہے: محبت کا اظہار کرنا اور محبت کا حق ادا کرنا ایک ہی بات نہیں۔ جب ہم اظہار کا کام مشین کے سپرد کر دیتے ہیں تو کبھی کبھی ہمیں یہ گمان ہونے لگتا ہے کہ شاید ہم نے محبت کا حق بھی ادا کر دیا۔
سوال یہ ہے کہ ایسے معاشرے کا کیا بنے گا جہاں ہمدردی کے الفاظ تو بہت ہوں، مگر ہمدردی کو عمل کے سانچے میں ڈھالنے کا حوصلہ کم ہو؟
انسان بننے کا کام کسی اور کے سپرد نہیں کیا جا سکتا
رشتے صرف ہمیں آسودگی نہیں دیتے، وہ ہماری شخصیت بھی بناتے ہیں۔ بوڑھے ماں باپ کی ایک ہی بات بار بار سن لینا صبر سکھاتا ہے۔ کسی دوست کے سامنے یہ مان لینا کہ ہماری کسی بات سے اسے دکھ پہنچا، عاجزی پیدا کرتا ہے۔ اپنی تھکن کے باوجود کسی کی دیکھ بھال کرنا محبت کو محض جذبے سے نکال کر قربانی میں بدل دیتا ہے۔
یہ اوصاف صرف پڑھ لینے سے حاصل نہیں ہوتے۔ معافی پر ایک خوب صورت مضمون پڑھ کر کوئی شخص معاف کرنا نہیں سیکھ لیتا۔ ہم معافی اس وقت سیکھتے ہیں جب دل میں رنج بھی ہو اور پھر بھی ہم یہ فیصلہ کریں کہ اپنے ردِعمل کو کس سمت لے جانا ہے۔
مصنوعی ذہانت یہاں ہمارے سامنے ایک نئی آسانی رکھ دیتی ہے: ہم کسی انسانی عمل کی مکمل صورت تو حاصل کر لیں، مگر اس تجربے سے نہ گزریں جو اسے اخلاقی وزن اور انسانی گہرائی عطا کرتا ہے۔ معذرت ندامت سے پہلے لکھی جا سکتی ہے اور سوچا سمجھا جواب سوچنے سے پہلے تیار ہو سکتا ہے۔ اگر یہ عادت بن جائے تو خطرہ یہ ہے کہ’’ ہم مہربان بننے کے بجائے مہربان دکھائی دینے میں زیادہ ماہر ہو جائیں گے‘‘۔
آزادانہ فکر کو بھی اسی نوعیت کا خطرہ درپیش ہے۔ مائیکروسافٹ سے وابستہ محققین نے پایا کہ جن لوگوں کا’’تخلیقی مصنوعی ذہانت ‘‘پر اعتماد زیادہ تھا، انہوں نے اپنے اندر تنقیدی سوچ کے استعمال کو نسبتاً کم رپورٹ کیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کی ذہانت گھٹ رہی ہے، لیکن یہ ضرور اشارہ کرتا ہے کہ کسی آلے پر بڑھتا ہوا اعتماد اس بات کو بدل سکتا ہے کہ ہم خود کتنا غور کرتے اور کتنا فیصلہ کرتے ہیں۔
اس مسئلے کا سماجی پہلو صرف غلط جواب حاصل کرنے تک محدود نہیں۔ ایک صحت مند معاشرے کے لیے ضروری ہے کہ شہری دلکش دعووں پر سوال اٹھا سکیں، دوسروں کے حالات کو سمجھنے کی کوشش کریں اور اپنی رائے پر بھی نظرِ ثانی کر سکیں۔ اگر کوئی معاشرہ یہ ذمہ داریاں بھی بہت جلد مشینوں کے سپرد کرنے لگے تو وہ دوسروں کے اثر میں آنے کے لیے زیادہ آسان اور سنجیدہ اختلاف کے لیے کم تیار ہو سکتا ہے۔
ہر بات پر تائید کا حصول خودفریبی کے سوا کچھ نہیں
ایک مخلص دوست کبھی یہ بھی کہتا ہے:
’’یار میں جانتا ہوں کہ تم ناراض ہوجاؤگے، مگر فلاں معاملے میں تم نے زیادتی کی ۔‘‘
یہ بات بری لگ سکتی ہے، مگر یہی بات کسی رشتے کو بچانے کا راستہ بھی کھول سکتی ہے۔
اس کے برعکس، ایک حد سے زیادہ موافق اور تسلی دینے والا ’’چیٹ بوٹ‘‘ ہمیں ایسی تکلیف دہ مگر ضروری مداخلت سے محروم کر سکتا ہے۔ اسٹین فورڈ یونیورسٹی کی قیادت میں کیے گئے تجربات سے یہ بات سامنے آئی کہ جب مصنوعی ذہانت لوگوں کے موقف کی ضرورت سے زیادہ تائید کرتی ہے تو وہ اپنی رائے کو پہلے سے زیادہ درست سمجھنے لگتے ہیں۔ نتیجتاً، وہ اختلاف میں دوسرے فریق کو سمجھنے، اپنے موقف پر نظرِ ثانی کرنے اور تنازع کے حل کی طرف بڑھنے کے لیے کم آمادہ رہتے ہیں۔۔
اب اس صورتِ حال کو صرف ایک گفتگو تک محدود نہ رکھیے۔ ایک ایسے گھر کا تصور کیجیے جہاں ہر شخص الگ الگ اپنے ’’مصنوعی ذہانت ‘‘کے معاون سے مشورہ لیتا ہو اوراُن میں سے ہر ایک کا معاون ہر ایک کے موقف کی تائید کرتا ہوتو ایسے ماحول میں ہر فرد خود کو ’’کلیتاً درست موقف پر گرداننا ‘‘ شروع کردیتا ہے اور دوسرے کو سمجھنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتا۔
ایسے ماحول میں انسان آہستہ آہستہ اس یقین میں پختہ ہو سکتا ہے کہ غلطی دوسرے ہی کی ہے اور اس کے اپنے مؤقف میں نظرِ ثانی کی کوئی ضرورت نہیں۔ جب ہر بار اسے اپنے احساسات اور رائے کی تائید ملے تو ناراضگی کے لیے دلیلیں بھی بڑھتی جاتی ہیں، یہاں تک کہ سخت رویّہ بھی اسے جائز محسوس ہونے لگتا ہے۔ پھر اختلاف محض اختلاف نہیں رہتا بلکہ انسان اسے اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی سمجھنے لگتا ہے اور دوسرے کی بات سننا یا اسے رعایت دینا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس رویے کا بنیادی نقصان یہ ہوتاہے کہ ہم حقیقی انسانوں کے ساتھ نباہ کرنے کا حوصلہ کھونے لگتے ہیں۔ حقیقی رشتوں میں دوسرا شخص ہمیشہ ہماری بات نہیں مانتا اور نہ ہی ہر وقت ہماری توقع کے مطابق برتاؤ کرتا ہے۔ اس کی اپنی مجبوریاں، کمزوریاں، ضروریات اور ترجیحات ہوتی ہیں۔ انسانوں کے ساتھ رہنے کے لیے انہی فروق کو قبول کرنا، کبھی خاموشی سے سننا، کبھی درگزر کرنا اور کبھی اپنے مؤقف میں نرمی پیدا کرنا ضروری ہوتا ہے۔کبھی سننا تو کبھی سنانا۔
یقیناً مصنوعی ذہانت کے فائدے بھی ہیں۔ ہارورڈ بزنس اسکول سے وابستہ تحقیق سے معلوم ہوا کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی ساتھی بعض اوقات عارضی طور پر تنہائی کم کر سکتے ہیں، بالخصوص اس لیے کہ انسان کو یہ احساس ہوتا ہے کہ کوئی اس کی بات سن رہا ہے۔ اس فائدے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
لیکن کسی کی تنہائی کچھ دیر کے لیے کم کر دینا باقی انسانوں کو اس کے حقِ رفاقت سے بری الذمہ نہیں کرتا۔ کسی دارالضعفا یا اولڈ ایج ہوم میں چیٹ بوٹ کی موجودگی کو انسانی صحبت کا کافی متبادل نہیں سمجھا جا سکتا۔ اسی طرح خاندان بھی یہ فرض نہیں کر سکتے کہ ایک توجہ سے سننے والی ایپ ان کی اپنی عدم موجودگی کی تلافی کر دے گی۔
مشینوں کی حکومت میں’’ دل کی بے بسی‘‘۔
علامہ اقبال نے بہت پہلے اسی خطرے کو یوں بیان کیا تھا:
ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساسِ مروّت کو کچل دیتے ہیں آلات
اقبال کے ہاں احساسِ مروّت محض ہمدردی کا نام نہیں، بلکہ اس میں نرمی، لحاظ، انسانی تعلق اور کسی مادی حساب کے بغیر دوسرے کے کام آنے کا جذبہ بھی شامل ہے۔
مصنوعی ذہانت کے عہد میں اقبال کا یہ شعر ہمارے سامنے ایک بنیادی سوال رکھتا ہے: کیا ہم مشینوں کو اس لیے استعمال کر رہے ہیں کہ ہمارے پاس تعلق، محبت اور مروّت کے لیے زیادہ وقت بچے، یا ہم اپنی زندگی کو اس طرح ترتیب دے رہے ہیں کہ ان اوصاف کی ضرورت ہی کم محسوس ہونے لگے؟
معاصر اسلامی علمی روایت اس سلسلے میں ایک متوازن اور تعمیری رہنمائی پیش کرتی ہے۔ بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی مصنوعی ذہانت کے استعمال کو اصولی طور پر جائز قرار دیتے ہوئے اس کے لیے چند اخلاقی حدود مقرر کرتی ہے: مقصد جائز اور مفید ہو، حقوق محفوظ رہیں، اور دیانت و شفافیت برقرار رہے۔علما ء اس کے بارے یہ رائے رکھتے ہیں کہ :۔
۔۱۔ مفید ٹیکنالوجی کا استعمال جائز ہے بشرطیکہ انسانی وقار اور اخلاقی ذمہ داری مجروح نہ ہو۔
۔۲۔ علمی تحقیق میں مصنوعی ذہانت کا استعمال جائز بشرطیکہ علمی سرقہ نہ ہو اور علمی اخلاقی دیانت کے اصول مجروح نہ ہوں۔
لیکن اس کے باوجود علماء کرام ’’مصنوعی ذہانت‘‘ کو ’’اہلِ علم کے انسانی اجتہاد اور ذمہ دارانہ شرعی فیصلے‘‘ کا متبادل نہیں سمجھتے۔ اس کی وجہ واضح ہے: علم صرف معلومات تک رسائی کا نام نہیں، علم ذمہ داری بھی چاہتا ہے۔
یہ فرق اسلامی اخلاقیات کی بنیادی اصطلاحات میں بھی نمایاں ہے۔ نیت انسان کے ارادے کو ظاہر کرتی ہے، اخلاص اس ارادے کی پاکیزگی کو، اور صدق قول و عمل کی سچائی کو۔
مصنوعی ذہانت کی مدد سے لکھا گیا محبت بھرا پیغام ان تمام قدروں کے خلاف نہیں، بشرطیکہ بھیجنے والا واقعی اس محبت کو محسوس کرتا ہو اور اپنے عمل سے بھی اسے ثابت کرے۔ لیکن اگر خوب صورت الفاظ صرف محبت کا تاثر دینے کے لیے ہوں، جبکہ حقیقی تعلق اور ذمہ داری سے گریز مقصود ہو، تو زبان کی خوب صورتی اس خلا کو پُر نہیں کر سکتی۔
اسی طرح امانت کا مطلب صرف ذمہ داری قبول کرنا نہیں بلکہ اس کے نتائج کی جواب دہی بھی ہے۔ صبر اور رحمت ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہر فیصلے کے پیچھے ایک حقیقی انسان موجود ہے۔ اگر کسی بچے کی درخواست، کسی مریض کی ضرورت یا کسی شہری کی شکایت کو کوئی خودکار نظام غلط سمجھ لے تو اسکول، ہسپتال یا سرکاری ادارہ یہ کہہ کر بری الذمہ نہیں ہو سکتا کہ ’’فیصلہ سسٹم نے کیا تھا‘‘۔ آخرکار اس فیصلے کی ذمہ داری انسانوں اور اداروں ہی پر عائد ہوتی ہے۔اگر حقیقی ذمہ دار انسان ’’خودکار سسٹم‘‘ پر سارا بوجھ ڈال کر نکل جاتا ہے تو سوچئے ’’خودکار نظام‘‘ نے انسان کی انسانیت کے ساتھ کیا کیا!۔
آخر ہماری زندگی کس مقصد کے لیے ہے؟
یہ خیال بہت دلکش ہے کہ مصنوعی ذہانت ہمارے روزمرہ کے دہرائے جانے والے کام اپنے ذمے لے لے گی، وقت بچے گا، اور ہم وہ وقت خاندان، تخلیق، خدمت اور عبادت کے لیے نکال سکیں گے۔ اصولی طور پر یہ امکان موجود ہے۔ مگر اب ذرا اپنی عملی زندگی اور اپنے معاشرے کو دیکھیے: جن لوگوں نے مصنوعی ذہانت سے وقت بچایا، کیا وہ واقعی اپنے اہلِ خانہ کے لیے زیادہ حاضر ہوئے؟ کیا انہوں نے تخلیق، خدمت یا عبادت کے لیے زیادہ وقت نکالا؟ یہاں ایک اور گہرا سوال پیدا ہوتا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ مصنوعی ذہانت صرف ہمارا وقت ہی نہیں بچا رہی، بلکہ آہستہ آہستہ ہماری عادتوں اور ترجیحات کو بھی نئی شکل دے رہی ہے؟ ترجیحات ہمیشہ شعوری فیصلوں سے نہیں بنتیں۔ بار بار کا استعمال، فوری جواب، مسلسل سہولت اور ہر مشکل کام کے لیے تیار مدد بھی انسان کو ایک خاص اندازِ زندگی کا عادی بنا سکتی ہے۔ ممکن ہے ہم نے یہ طے نہ کیا ہو کہ تعلقات کے لیے کم صبر رکھنا ہے، خاموشی سے سوچنے کے بجائے فوراً جواب لینا ہے، یا ہر ذہنی مشقت سے بچنا ہے؛ مگر مسلسل استعمال ہمیں بے ارادہ اسی طرف لے جائے۔ تب سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ مصنوعی ذہانت نے ہمارا کتنا وقت بچایا۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس بچائے ہوئے وقت کے ساتھ ساتھ اس نے ہمارے اندر کس قسم کی عادتیں پیدا کیں، ہماری ترجیحات کو کس سمت موڑا، اور کہیں ایسا تو نہیں کہ زندگی کو زیادہ انسانی بنانے کے ارادے سے اپنائی گئی ٹیکنالوجی خود ہماری انسانیت کے مزاج کو بدلنے لگی ہو۔
اس لیے مصنوعی ذہانت کی سماجی قدر صرف اس بات سے نہیں ناپی جانی چاہیے کہ وہ کام کتنی تیزی سے مکمل کرتی ہے، بلکہ اس بات سے بھی کہ کیا وہ ہمیں ایک دوسرے کے لیے زیادہ حاضر، زیادہ ذمہ دار اور زیادہ انسان بننے کا موقع دیتی ہے؟
قرآن مجید انسانی زندگی کو ایک جامع سمت عطا کرتا ہے:
قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
“کہہ دیجیے! بے شک میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔”
(الانعام 6:162)
ایک مسلمان کے لیے یہ آیت محض عبادات کا بیان نہیں، بلکہ پوری زندگی کی سمت متعین کرتی ہے۔ ہماری صلاحیتیں، ہمارا علم، ہمارا وقت اور ہمارے تعلقات سب اللہ کے سامنے جواب دہی کے دائرے میں آتے ہیں۔
لیکن یہ سوال صرف مسلمانوں تک محدود نہیں۔ مختلف عقائد رکھنے والے لوگ بھی اس بنیادی سوال کی اہمیت کو سمجھ سکتے ہیں: انسانی زندگی کو اس کی قابلِ پیمائش پیداوار سے آگے کون سی چیز معنی عطا کرتی ہے؟
کسی کے لیے ضروری ہونا، کسی سے کیا ہوا وعدہ نبھانا، کسی کو معاف کر دینا، یا کسی کے غم میں خاموشی سے اس کے ساتھ بیٹھے رہنا—ممکن ہے ان اعمال سے کوئی ایسی پیداوار حاصل نہ ہو جسے مشین گن سکے، مگر یہی وہ چیزیں ہیں جو انسانی زندگی کو گہرے معنی دیتی ہیں۔
اُس باپ کو’’مصنوعی ذہانت‘‘ کی مدد سے لکھا گیا زیادہ خوب صورت یا زیادہ مؤثر یا دلفریب الفاظ پر مبنی پیغام نہیں چاہیے تھا۔
اسے اپنے بیٹے کے منہ سے نکلے حیلے بہانوں میں ڈوبے ٹوٹے پھوٹے الفاظ پر مبنی بے ترتیب جملوں کی ’’خواہش‘‘ تھی کیونکہ وہ جذبات سے سرشار ہوتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت شاید یہ بدل دے کہ انسان کیا کچھ کر سکتا ہے۔
لیکن یہ فیصلہ اب بھی انسان ہی کو کرنا ہے کہ کون سا کام واقعی کرنے کے لائق ہے، ہم اسے کیوں کریں اور ہم کس طرح کے انسان بننا چاہتے ہیں۔
جیسے جیسے مشینیں زیادہ ذہین اور زیادہ باصلاحیت ہوتی جائیں گی، اصل سوال شاید یہی ہوگا:۔
کیا انسان کو یاد رہے گا کہ اُس کی زندگی کس مقصد کے لیے ہے اور وہ کوئی کام کیوں اور کس کے لیے سرانجام دے رہا ہے؟









very insightful 💡